عباداتمذہب

مرحبا صدمرحبا پھر آمد ِرمضان ہے!

عبدالرشیدطلحہ نعمانی ؔ

اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا احسان وانعام ہے کہ ایک بار پھر ماہ مقدس ہم پر سایہ فگن ہونے والاہے اور اس کےانوارو برکات ہماری طرف متوجہ ہیں ،ہم کس زبان اور کن الفاظ سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمارے دلوں کی بنجر زمین کو سرسبز و شاداب کرنے کے لئے ایک بار پھر رحمت و برکت کی گھٹائیں بھیج دیں ،جو بلاامتیاز ہر ایک پر چھم چھم برسےگی اور ہر شخص اپنی ہمت و استعداد کے مطابق ان سے مستفید ہوگا،کچھ خوش نصیب وہ ہوں گےجو اس آبِ زلال سے بھر پور نفع اٹھا ئیں گےاور اس کو نعمت عظمی سمجھ کر قدردانی کی بھرپور کوشش کریں گے؛جبکہ کچھ حرماں نصیب اور تیرہ بخت ایسے بھی ہوں گے جو ”چراغ تلے اندھیرا“ کے مصداق اس ربانی  بخشش و انعام سے محروم ہوں گے۔

 جن خوش نصیبوں اور سعادت مندوں نے رمضان المبارک،اس کی رحمتوں ،برکتوں اور مقدس ساعتوں کی قدر کی، ان کو کارآمد بنایا، سابقہ غلطیوں پرندامت وپشیمانی کے ساتھ توبہ کی، آئندہ کے لئے گناہوں سے اجتناب کا عزم مصمم کیا اور نیکیوں پر کمربستہ ہوگئے،بلاشبہ ایسے لوگوں کے لئےرمضان ،رحمت کا وسیلہ،مغفرت کا ذریعہ اور جہنم سے نجات کا پروانہ ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے اپنی روش بدلی نہ گناہ چھوڑے، نہ سابقہ گناہوں پر پشیماں ہوئے‘ نہ توبہ کی اور نہ ہی ان لمحات کی قدر کی،وہ محروم رہے اور محروم ہی رہیں گے۔

چناں چہ نبی اکرم ﷺخطبے کے لیے تشریف لائے تو منبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا، آمین ۔ دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا آمین اور اسی طرح تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے بھی آمین فرمایا، اس کے بعد آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور جب منبر سے اتر کر نیچے تشریف لائے تو قدرے تجسس کے ساتھ صحابہ کرام نے عرض کیا:’’یا رسول اﷲ! آج آپ نے تین بار آمین فرمایا، اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، آپ کس بات پر آمین فرمارہے تھے؟‘‘

نبی اکرم  ﷺنے فرمایا:’’حضرت جبرائیل تشریف لائے تھے، جب میں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہلاک ہو جائے، برباد ہو جائے وہ شخص جو اپنے بوڑھے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو اپنی زندگی میں پائے اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوسکے تو بلاشبہ اس کے لیے ہلاکت و بربادی ہے؛اس لئےمیں نے آمین کہا ۔ جب میں دوسری سیڑھی پر پہنچا تو جبرائیل نے یہ فرمایا کہ ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے نبی اکرم ﷺ کا نام نامی لیا جائے اور وہ پھر بھی آپ پر درود نہ بھیجے؛ اس پر میں نے آمین کہا۔ پھر تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو جبرائیل نے فرمایا کہ ہلاک ہوجائے، برباد ہوجائے وہ شخص جو رمضان کی برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ پائے اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہو سکےاس پر بھی میں نے آمین کہا۔‘‘(رواہ الطبرانی)

    جب رمضان آتا ہے تو جنت کے در وازےکھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے در بند کر دیئے جاتے ہیں شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے اور اللہ کی رحمتوں کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں ؛ اس کے نتیجے میں گناہ گاروں کی غفلت کا نشہ اتر جاتا ہے ،مومن نیکیاں لوٹنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور غافل توبہ کر کے نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے رمضان کا مہینہ اسی لئے بنایا ہےتاکہ اپنے گنہ گار بندوں کی مغفرت کریں اور نیکو کاروں کے  درجات بلند کریں اس طرح یہ مہینہ انسان کی روحانی ترقی کے لیے نہایت موزوں اور مناسب ہے ۔

مزیدبرآں اللہ جل شانہ نے ہماری آسانی کے لیے اپنی نبی ﷺکی زبان مبارک سے بعض ایسے ہدایتیں ہمیں عطافرمائی  ہیں جوہمارے لیے اس روحانی ترقی میں مزیدمعاون ثابت  ہوتے ہیں اور عملی مشق کے اعتبار سے ر مضان کی ان ساعتوں کو وصول کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

حضرت سلمان فارسی سے مروی ہےکہ ماہِ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک اہم خطبہ دیا؛جس میں فرمایا:

 ‘‘لوگو! ایک زبر دست اور با بر کت مہینہ تم پر سا یہ فگن ہے، ایسا مہینہ جس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر اوربڑھ کر ہے،اللہ پاک نے اس مبارک مہینہ کے دنوں میں اپنے بندوں پر روزہ فرض کیا ہے اورراتوں میں قیام یعنی تروایح کو نفل اورزائد عمل قرار دیا ہے اور اس ماہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں اگر کوئی کار ِخیر کر ے تو اس کو اتنا ثواب ملتا ہے جتنا دوسرے دنوں میں فرض کام کر نے پر ملتا ہے ،اور فرض کا ثواب دوسر ے دنوں کے ستر فر ضوں کے برابر ملتا ہے،اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے،اور یہ مہینہ غمخواری کا ہے،اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق منجا نب اللہ بڑھا دیا جاتا ہے، مزید یہ کہ اگر کسی شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کر ادیا تو اس کواس روزہ دار کے ثواب میں کمی کئے بغیر اس کے روزہ کا ثواب بھی دیاجا تاہے،اور یہ عمل افطار کرا نے والے کی مغفرت ِ ذنوب کا سبب بن جاتا ہے،اس پر صحا بہ کرام ؓنے عرض کیا یا رسول اللہؐ! ہم میں سے ہرشخص اس کی استطا عت نہیں رکھتا کہ رو زہ دار کو کھا نا کھلا دے ، آپؐ نے فر ما یا: جس اجرکی میں خبر دے رہا ہو ں وہ اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ لسّی یا ایک کھجور؛بلکہ پانی کے ایک گھونٹ پر بھی عطا فر ما دیں گے، اس کے لئے کوئی بڑے اہتمام اور خاص مصارف کی بھی حاجت نہیں ، البتہ جس نے کسی روزہ دار کو خوب سیر کرکے کھلایا تو اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض سے پانی پلائیں گے،جس کے بعد جنت میں داخلہ تک پھراس کو پیا س نہیں ستائے گی، یہ ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت درمیا نی مغفرت اور آخری حصہ جہنم سےگلو خلا صی کا ہے؛جس شخص نے اس ماہ میں اپنے خادموں کا بو جھ ہلکاکر دیا اللہ پاک اس کی مغفرت اور جہنم سےنجات کا فیصلہ فرمادیتے ہیں ۔’’(رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

رسول اللہﷺ کا یہ خطبہ رمضان کی تیاری اور استقبالِ رمضان کے حوالے سے قیامت تک آنے والے تمام افرادکے لیے انتہائی اہم اورنہایت موثر ہے، رمضان شریف کی آمد پر نبی رحمت ﷺ کے مذکورہ خطبہ سے اس موسم بہار کی درج ذیل خصوصیات واضح ہوتی ہیں :

(1)اس مہینہ کا عظیم اور بابر کت ہونا ۔

(2)اس میں ایسی رات کا پا یا جا نا جو شب ِقدر کہلاتی ہے اورجو ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔

(3)روزوں کا اس میں فرض کیا جانا ۔

(4)اس کی راتوں میں ایک زائد خصوصی نماز یعنی تروایح کا دیا جا نا۔

(5)نفل کا موں کے اجر کو فرض کے اجر تک اور فرضوں کے اجر کو ستر فرضوں کے اجر تک بڑھایا جا نا۔

(6)ایسے اعمال کا دیا جانا جن میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے اوراس صبر کے ذریعہ جنت کا موعود ہونا ۔

(7)اس میں ایک دوسرے خصوصاً غربا ء وفقراء کی ہمدردی وغمخواری کے جذبہ کا عام کیا جا نا۔

(8)مسلما نوں کی روزی کا بڑھایا جا نا۔

(9)دوسرے روزے داروں کو افطار کرانے پر ان کے ثوابوں میں کمی کئے بغیر افطار کرا نے والے کوبھی اتنا ہی ثواب عطاہونا ۔

(10)اس کے ابتدائی ،در میا نی اور آخری حصوں کو علی الترتیب باعث ِرحمت ، وسیلۂ مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ قراردیا جا نا۔

(11)اپنے خادموں اور نوکروں کے کاموں اور ذمہ داریوں میں تخفیف یعنی کمی کر نے پرمغفرت کا وعدہ فر ما نا وغیرہ۔

یہ صرف وہ فضائل وخصائص ہیں جو ایک حدیث کی روشنی میں ہمارے سامنے آرہے ہیں ، ان کے علاوہ بیسیوں اور حدیثیں فضائل ِ رمضان اور اس کی خصوصیات کے بیان پر مشتمل موجودو مشہور ہیں ، ان سب کو سامنے رکھنے اور ان میں غور کر نے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ پاک نے اس ماہ کو تر قی ِباطن وتز کیۂ نفس کا موسم ِبہار بنا دیا ہے ۔

ماہ مبارک کی آمد سے پہلے پہلے اس کے مقام ،اس کی عظمت، اس کی فضیلت،اس کے مقصد اوراس کے پیغام کو اپنے ذہن میں تازہ کریں تاکہ اس کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھاسکیں اوراس بات کا پختہ ارادہ کریں کہ ہم اس ماہ مبارک میں اپنے اندر تقوی کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو روزہ کا ماحصل ہے۔

ان معمولات کی تحدید کرلیں جو حقوق اللہ سے متعلق ہیں ،ان معمولات کی بھی تحدید کرلیں جو حقوق العباد سے متعلق ہیں ،پھر ان معمولات کی بھی فہرست بنالیں جنہیں رمضان المبارک میں ادا کرنے ہیں ، اگرآپ کے ساتھ ڈیوٹی کے تقاضے ہیں اورعبادت کے لیے خودکوبالکلیہ فارغ نہیں کرسکتے تو پھر یہ دیکھیں کہ کن کن کاموں کورمضان کی خاطر چھوڑ سکتے ہیں اور کن کن مصروفیات کو مو خرکر سکتے ہیں ۔اگر فہرست نہیں بنا سکتے تو کم از کم ذہن میں ایک خاکہ ضرور تیار کر لیں ۔

ماہ رمضان کا یومیہ پروگرام یہ بنائیں کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ وقت عبادات میں صرف کرنا ہے ،فرض کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی بکثرت اہتمام کرنا ہے۔اس کے لیے یومیہ پروگرام ترتیب دیں جس میں درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں :

 (الف)فجرسے پہلے کے کام : تہجدکا اہتمام: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: یا وہ جومطیع وفرماں بردارہے رات کے پہرمیں سجدہ اور قیام کی حالت میں ہوتا ہے اوراپنے رب سے رحمت کی امید لگاتا ہے۔  (الزمر)

(ب) سحرگاہی کا اہتمام:نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: سحری کا اہتمام کیاکروکہ اس میں برکت ہے۔(متفق علیہ)

 فجرکی سنت کا اہتمام : نبیﷺ نے فرمایا: ’ فجرکی دورکعت دنیا اوراس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ ( مسلم)

(ج) دعا اوراذکارمیں اپنا وقت لگائیں خاص طورسے اذان اورنماز کے درمیان ِ اوقات میں ، اس لیے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:اذان اور نماز کے درمیان کے وقت دعائیں ردنہیں کی جاتیں ۔(متفق علیہ)

 (د)فجرکے بعد سے طلوع شمس تک ذکر اور تلاوت قرآن کے لیے مسجدمیں قیام کو لازم پکڑلیں : نبی کریمﷺ فجرکی نمازکے بعدطلوع شمس تک اپنے مصلے پر بیٹھے رہتے تھے۔(مسلم)

 ایک جگہ ارشادہے:فجرکی نماز کے بعد طلوع شمس تک اللہ کا ذکرکرتارہا پھردورکعت نماز ادا کی اس کا اجرایک مکمل حج اورعمرے کے مانند ہے۔ (ترمذی)

 (ہ)ظہرکی نماز کی تیاری کرے ،فراغت کے بعد بدن کو تھوڑی راحت دے۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:سحری کھا کر روزے پر اور قیلولہ (دوپہرکے وقت سونے ) کے ذریعے رات کی نماز پر مددحاصل کرو۔ (ابن ماجہ )

 (و) اگرصاحب حیثیت ہیں اور خدانے مال ودولت سے نوازا ہے توغرباءپر مال خرچ کریں اورانھیں افطار کرانے کا نظم کریں ۔ کیوں کہ یہ عمل اللہ کو بے حد پسندہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان رحمتوں سے مستفید ہونے کا موقع نصیب فرمائے۔اور شعبان اور رمضان کے اوقات کی قدر نصیب فرمائے! جتنی محنت کرلیں گے اتنی روحانی ترقیات ہوں گی، یہ نیکیوں کا سیزن ہے ، اس سیزن میں جتنا ذخیرہ کر لیں گے اتنا ہی ضرورت کے وقت فائدہ ہوگا۔

مرحبا صد مرحبا پھر آمد رمضان ہے

کھل اٹھے مرجھاۓ دل تازہ ہوا ایمان ہے

ہم گنہگاروں پہ یہ کتنا بڑا احسان ہے

یا خدا تو نے عطا پھر کر دیا رمضان ہے

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close