عبادات

مصارف زکات – (قسط 3)

فی الرقاب

قرآن حکیم میں زکات کے کل آٹھ مصارف بیان کئے گئے ہیں، جن میں سے چار کاتذکرہ آچکاہے، بقیہ چار قسموں میں سے سب سے پہلے ’’الرقاب‘‘ کا بیان ہے، ’’الرقاب‘‘ سے مراد جمہور ائمہ کے نزدیک وہ غلام ہے جسے کو آقا نے آزاد کرنے کے لئے کچھ مال کا مطالبہ کیا ہو، جسے فقہ کی اصطلاح میں’’مکاتب‘‘ کہا جاتا ہے، زکات کی رقم سے ایسے غلام کی مدد کی جائے گی تاکہ اس کی آزادی کی صورت پیدا ہوسکے، امام مالک اور امام احمد سے ایک روایت یہ ہے کہ اس سے مراد زکات کی رقم سے غلام خرید کر آزاد کرنا ہے، امام زہری کہتے ہیں کہ آیت کے مفہوم میں دونوں شامل ہیں لہٰذا مکاتب کی آزادی میں بھی اس رقم سے تعاون کریں اور مالکوں سے غلام خرید کر آزاد بھی کرسکتے ہیں ۔(46)
چونکہ اب غلامی کا مسئلہ ختم ہوچکا ہے اس لئے دلیل اور مزید تفصیل کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اسی سے ملتا جلتا ایک دوسرا مسئلہ قابل توجہ ہے کہ کیا اس مد سے بے قصور مسلم قیدیوں کو آزاد کرایا جاسکتا ہے؟ حنبلی فقہاء کے یہاں صراحت ملتی ہے کہ ایسا کیا جاسکتا ہے، چنانچہ دبستان فقہ حنبلی کے ترجمان علامہ ابن قدامہ حنبلی کہتے ہیں:
مشرکین کے قبضہ سے کسی مسلم قیدی کو زکات کی رقم سے خریدنا جائز ہے، کیونکہ یہ عمل قید سے ایک گردن کو آزاد کرانا ہے لہٰذا یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرانا، نیز اس میں اعزاز دین بھی ہے لہٰذا یہ مولفۃ القلوب پر خرچ کرنے کی طرح ہے، اور اس لئے بھی کہ قیدی کو اپنی گردن چھڑانے کے لئے دیا جاتا ہے،لہٰذا یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ کسی مقروض کو قرض کے بار سے اس کی گردن کو آزاد کرانے کے لئے دیا جاتا ہے۔ (47)

فقہاء مالکیہ کے یہاں اس مسئلہ میں اختلاف رائے ہے، اصبغ اسے درست قرار نہیں دیتے، اس کے برخلاف ابن حبیب پرزور طریقہ پر اس کی حمایت کرتے ہیں (48) ….. فقہ حنفی کی جو کتابیں اس وقت پیش نظر ہیں ان میں متوقع جگہوں پر اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے یہی صورت حال فقہ شافعی کی کتابوں میں ہے، اصولی طور پر فقہ حنفی میں بھی اس کی اجازت ہونی چاہئے، کیونکہ فقہاء حنفیہ مصارف زکات میں عامل کے سوا تمام قسموں میں فقر وحاجت کی شرط لگاتے ہیں، لہٰذا اگر کوئی قیدی تنگدست اور حاجت مند ہے تو اسے بھی زکات کی رقم دے سکتے ہیں تاکہ اس کی رہائی ہوسکے، واللہ اعلم بالصواب۔

غارم
’’غارم‘‘ بمعنیٰ مقروض، قرض دو طرح کے مقصد کے لئے لیا جاتا ہے، ایک ذاتی مقصد اور مصلحت کے لئے، مثلاً گھر کا خرچ چلانے، مریض کا علاج کرنے، غلطی سے کسی کا سامان ضائع کردیا ہو اس کا تاوان دینے کے لئے قرض لینا، اسی کے دائرے میں وہ قرض بھی آتاہے جو کسی سماوی حادثہ (سیلاب،زلزلہ،قحط سالی وغیرہ) کی وجہ سے لیا گیا ہو یا کاروباری خسارے کی وجہ سے قرض کے نیچے دب گیا ہو، ان تمام صورتوں میں قرض لینے والے کے قرض کی ادائیگی زکات کی رقم سے کی جاسکتی ہے، بلکہ عام فقراء کے مقابلہ میں ایسے لوگوں کو دینا زیادہ بہتر ہے۔ (49) چنانچہ حضرت قبیصہ بن مخارق کی روایت کا ایک ٹکڑا یہ ہے:
رجل اصابتہ جائحۃ اجتاحت مالہ فحلت لہ المسئلۃ حتی یصیب قواما من عیش۔
ایک وہ آدمی جس پر کوئی آفت آپڑی ہو جس نے اس کے مال کو ضائع کردیا تو اس کے لئے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ گذارے کے بقدر حاصل کرلے۔ (50)
اور حضرت ابوسعید خدری سے منقول ہے کہ
اصیب رجل فی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ثمار ابتاعہا فکثر دینہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تصدقوا علیہ فتصدق علیہ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص کے خریدے ہوئے پھل آفت کا شکار ہوگئے جس کی وجہ سے اس پر بہت زیادہ قرض ہوگیا(قرض کی ادائیگی کے لئے) اللہ کے رسول نے فرمایا کہ اسے صدقہ دو،تو لوگوں نے ان پر صدقہ کیا (51)
اور جلیل القدر مفسر حضرت مجاہد کا بیان ہے کہ
تین آدمی غارم میں سے ہیں،ایک وہ آدمی جس کا مال سیلاب کی نذر ہوگیا ہو، دوسرا وہ جس کا مال آگ لگنے کی وجہ سے تباہ ہوگیا ہو، تیسرا وہ جو صاحب عیال ہو لیکن خرچ چلانے کے لئے اس کے پاس مال نہ ہو تو وہ قرض لے کر اپنے اہل وعیال پر خرچ کرسکتاہے ۔(52)
حقیقت یہ ہے کہ نظام زکات ایک طرح سے انشورنس ہے، جس کے ذریعہ سے آفت زدہ اور مصیبت کے مارے اور حاجت مندوں کی اشک شوئی کی جاتی ہے،معاشرہ کے کماؤ اور لائق افراد کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل بنایا جاتا ہے، انھیں گرنے اور تباہ ہونے سے بچایا جاتا ہے چنانچہ شیخ یوسف قرضاوی کہتے ہیں:
انشورنس کے جدید طریقے رائج ہونے سے بہت پہلے اسلام نے اسے رائج کیا اور اسلام کا رائج کردہ انشورنس کا طریقہ مغربی طرز کے انشورنس سے کہیں اچھا اور بہتر ہے، کیونکہ مغربی طرز انشورنس میں اس شخص کی مدد کی جاتی ہے جس نے بیمہ کمپنی کو اس کی طرف سے مقرر قسط کو ادا کیا ہو، نیز جمع کردہ رقم کے اعتبار ہی سے اس کا تعاون کیا جاتا ہے اس کے نقصان اور ضرورت کو نہیں دیکھا جاتاہے، لہٰذا کسی نے بڑی رقم کا بیمہ کرایا ہوگا تو اسے زیادہ معاوضہ ملے گا اور جس نے چھوٹی رقم کا بیمہ کرایا ہوگا اسے تھوڑا معاوضہ ملے گا خواہ وہ کتنے بڑے حادثہ سے دوچار ہوا ہو اور اس کی ضرورت کتنی زیادہ ہی کیوں نہ ہو، اس کے برخلاف اسلام کے اس نظام انشورنس میں پہلے کچھ رقم ادا کرنے کی شرط نہیں ہے، نیز آفت زدہ کو اس کی ضرورت کے مطابق دیا جاتا ہے کہ اس کے ذریعہ نقصان کی تلافی ہوسکے اور وہ مصیبت کے بھنور سے چھٹکارا پاسکے۔ (53)
ذاتی مصالح کے تحت قرض لینے والے کے قرض کی ادائیگی زکات سے ادا کرنے کے لئے شرط یہ ہے کہ:
الف: قرض کی ادائیگی کے لئے اس کے پاس مال نہ ہو یا اتنا مال ہو کہ قرض ادا کرنے کے بعد وہ صاحب نصاب نہ رہے، ضروریات زندگی کے سامان اس سے مستثنیٰ ہیں، لہٰذا کسی کے پاس، زمین وجائداد، سازوسامان، یا گاڑی وغیرہ ہے جسے فروخت کرکے وہ قرض ادا کرسکتاہے پھر بھی اسے زکات کی رقم دی جائے گی اور مذکورہ چیزوں کو فروخت کرنے کا پابند نہیں بنایا جائے گا (54)، چنانچہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ قرض داروں کے قرض کو ادا کرو، انھوں نے ان سے دریافت کیا:
قرض داروں میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس مکان، نوکرچاکر اور گھوڑا موجود ہے، گھریلو ساز وسامان کے مالک ہیں،کیا ایسے لوگوں کی قرض کی ادائیگی کی جائے؟
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جواب لکھا:
ایک مسلمان کے لئے رہنے کا مکان، کام کاج کے لئے نوکر اور دشمن کے مقابلہ کے لئے گھوڑا ضروری ہے، نیز گھر میں کچھ سازو سامان ناگزیرہے، لہٰذا ان لوگوں کے قرضے بھی ادا کئے جائیں ۔(55)
ب: کسی نیک اور جائز مقصد کے لئے قرض لیا گیا ہو،معصیت اور برائی…مثلاً شراب نوشی اور جوا کھیلنے… کے لئے نہ لیا گیا ہو، اس لئے اگر کوئی معصیت اور برائی کے کام کی وجہ سے مقروض ہوگیا ہے تو اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے زکات کی رقم نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ ایک طرح سے معصیت میں تعاون اور غلط کاری کی حوصلہ افزائی ہے …. فضول خرچی اور اسراف کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ یہ بھی معصیت میں شامل ہے، چنانچہ ارشادِربانی ہے:
کلوا واشربوا ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفین۔
کھاؤ اور پیو مگر اسراف نہ کرو کیونکہ اللہ اسراف کرنے والے کو پسند نہیں کرتاہے۔ (56)
نیز ارشاد ہے:
ولا تبذر تبذیراً ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین وکان الشیطان لربہ کفوراً۔
اور مال کو بے موقع نہ اڑا،بیشک بے موقع اڑانے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے ۔(57)
لیکن اگر کوئی شخص معصیت سے توبہ کرلے اور گمان غالب ہو کہ توبہ کے سلسلہ میں مخلص ہے تو معصیت کے قرض کی ادائیگی بھی زکات کی رقم سے کی جاسکتی ہے، لیکن اس پر نگاہ رکھنا چاہئے کہ محض قرض کی ادائیگی کے لئے تو اظہار توبہ کررہاہے اور اس کے بعد پھر وہ معصیت کے لئے قرض اس امید پر لینے لگے کہ توبہ کرکے پھر زکات کی رقم لے کر ادا کردوں گا۔
ج: اس قرض کا تقاضا کسی انسان کی طرف سے ہو، لہٰذا اگر ایسا قرض اور دَین ہے جس کی ادائیگی کا تقاضا شریعت کی طرف سے ہے جیسے دین کفارہ، دین نذر وغیرہ تو اس کی ادائیگی کے لئے زکات کی رقم نہیں دی جائے گی ۔(58)
2: قرض کی دوسری قسم وہ ہے جو مسلمانوں کے آپس کے جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے حاصل کیا گیا ہو، مثلاً دو فریقوں کے درمیان خوں بہا کے مسئلہ کو لیکر آویزش کا اندیشہ ہے اور کوئی شخص درمیان میں پڑ کر اپنی طرف سے رقم ادا کرنے کی ذمہ داری لے کر صلح کرادے۔
اسلام سے پہلے بھی عربوں میں اس کا رواج تھا چنانچہ ان کے درمیان کسی مالی مطالبہ مثلاً خوں بہا وغیرہ کے لئے جھگڑا برپا ہوتا تو ایک شخص اٹھتا اور جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے اس کی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کرلیتا اور جب لوگوں کو معلوم ہوتاہے کہ کسی شخص نے اس طرح کی ذمہ داری قبول کرلی ہے تو بڑھ چڑھ کر اس کا تعاون کرتے یہانتک کہ وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجاتا، اور اگر اس کے لئے لوگوں سے مانگنے کی ضرورت آپڑتی تو اس کے لئے یہ ناگوار نہ ہوتا، اور نہ اس کی عزت میں کمی آتی بلکہ اسے باعث فخر سمجھاجاتا، اس طرح کی ذمہ داری قبول کرنے کو’’حمالہ‘‘ کہا جاتا ہے، اسلام نے بھی اس کو باقی رکھا اور اس مقصد کے لئے مانگنے کو جائز قرار دیا (59)، چنانچہ حضرت قبیصہ بن مخارق سے مروی ہے کہ
تحملت حمالۃ فاتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسالہ فیہا فقال اقم حتی تاتینا الصدقۃ فنامر لک بہا ثم قال یا قبیصۃ ان المسالۃ لا یحل الا لاحد ثلثۃ رجل یحمل حمالۃ فحلت لہ المسالۃ حتی یصیبہا ثم یمسک۔
میں نے ایک مال کی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کرلی تھی اس لئے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس سلسلہ میں مدد کی درخواست لے کر گیا تو آپ نے فرمایا انتظار کرو یہانتک کہ ہمارے پاس کوئی صدقہ آئے تو ہم اس میں سے تمہیں دینے کا حکم دیں گے، پھر آپ نے فرمایا قبیصہ! مانگنا صرف تین ہی آدمی کے لئے جائز ہے،ایک وہ آدمی جس نے کوئی ذمہ داری قبول کرلی ہو تو اس کے لئے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کے بقدر مال حاصل کرلے پھر رک جائے ۔(60)
جوآدمی اس طرح کی ذمہ داری کو قبول کرتاہے اسے زکات کی رقم سے اس وقت امدادکی جائے گی جبکہ وہ خود ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو لہٰذا اگر کوئی شخص اتنا مالدار ہے کہ اپنی طرف سے ادا کرکے اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوسکتاہے اور ادائیگی کے باوجود وہ نصاب کا مالک ہے تو اسے زکات کی رقم نہیں دی جائے گی، یہ حنفی فقہاء کا نقطۂ نظر ہے، چنانچہ ان کی ترجمانی کرتے ہوئے علامہ ابن ھمام رقم طراز ہیں:
ہمارے نزدیک ایسا مقروض اسی وقت زکاتلے سکتا ہے جبکہ قرض کی ادائیگی کے بعد اس کے پاس نصاب کے بقدر مال نہ بچتاہو(61)
دیگر فقہاء کے نزدیک مالدار ہونے کے باوجود ایسے شخص کو ذمہ داری سے سبکدوش کرنے کے لئے زکات کی رقم دی جائے گی…. اس سے متعلق بعض تفصیلات اور دلائل کا تذکرہ آئندہ ہوگا۔
میت کے قرض کی ادائیگی
اگر کوئی شخص ناداری کی وجہ سے قرض ادا نہیں کرپارہاہے کہ اسی حالت میں فرشتے نے پیغام اجل سنا دیا تو کیا مرنے کے بعد زکات سے اس کے قرض کو چکایا جاسکتاہے؟ امام ابوحنیفہ اور احمدبن حنبل کے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے، امام شافعی کی ایک روایت بھی یہی ہے، فقہاء مالکیہ کے نزدیک اور امام شافعی کی دوسری روایت کے مطابق زکات کی رقم سے میت کے قرض کو چکایا جاسکتاہے بشرطیکہ ادائیگی کے لئے اس نے کچھ مال وجائداد وغیرہ نہ چھوڑا ہو، کیونکہ آیت عام ہے اور زندہ مردہ ہر طرح کے مقروض کو شامل ہے، نیز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔
انا اولی بکل مؤمن من نفسہ من ترک مالافلاہلہ ومن ترک دینا او ضیاعا فالی وعلی۔
میں ہر مومن کے اس کی ذات سے بھی زیادہ قریب ہوں، لہٰذا جوکوئی مال چھوڑ کر مرے تو اس کے وارثوں کے لئے ہے اور جو کوئی قرض چھوڑ کر مرے وہ میرے ذمہ ہے۔(62)
جو لوگ اسے نادرست کہتے ہیں ان کے پیش نظر یہ بات ہے کہ زکات کے لئے تملیک شرط ہے اور وہ یہاں موجود نہیں ہے اس لئے نادرست ہے۔

حواشی: 

(46)البدائع 2/153، المجموع 6/200، نیل الاوطار 4/167، الفقہ الاسلامی 2/873(47) المغنی 9/321۔ 322، مسئلہ 1090

(48)احکام القرآن لابن العربی 2/956

(49)تاتارخانیہ2/270

(50)رواہ مسلم نیل الاوطار 4/168(51)صحیح مسلم 3/1191حدیث 207(52)مصنف ابن شیبہ 3/207

(53)فقہ الزکات /423۔424(54)المجموع 6/208، البدائع 2/154
(55)کتاب الاموال /556(56)الاعراف/31(57)الاسراء /27

(58)المجموع 6/208(59)المغنی 9/324، نیل الاوطار 4/168

(60)رواہ احمد و مسلم والنسائی وابوداؤد، نیل الاوطار 4/168(61)فتح القدیر 2/205

(62)متفق علیہ

مزید دکھائیں

ولی اللہ مجید قاسمی

مولانا ولی اللہ مجید قاسمی معروف عالم دین ہیں اور جامعتہ الفلاح، اعظم گڑھ میں فقہ و حدیث کےاستاذ نیز دار الافتاء کے ذمہ دار بھی ہیں۔

متعلقہ

Close