عبادات

نماز تہجد

مولانا ولی اللہ مجید قاسمی
آخری رات کے پرسکون اور کیف آور ماحول میں جب کہ اللہ کی خاص رحمت، بندوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے، قدسی صفات بندے اپنے رب سے راز و نیاز میں مصروف ہوجاتے ہیں، خدا کی معرفت کے ادراک سے ان کی روح سرشار ہوجاتی ہے، ایک لگن ،شوق اورچبھن پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسی چسک پڑھاجاتی ہے کہ اس کے بغیرپوری دنیا اُجڑی، اجڑی سی لگتی ہے۔ اپنے پروردگار کے حضور سجدہ شوق کانذرانہ پیش کئے بغیر چین نہیں ملتا، رب کائنات بھی ایسے چنندہ بندوں کا تذکرہ کچھ ایسے انداز سے کرتا ہے کہ کام ودہن ایک انوکھے لذت سے شاد وسرشار ہوجاتا ہے ، جب مثالی مومنوں کا تذکرہ آتا ہے تو بات پوری نہیں ہوتی جب تک کہ اس طرح کے الفاظ نہ آجائیں کہ:
الذین یبیتون لربھم سجداً وقیاما (1)
وہ جو اپنے رب کیلئے پوری رات سجدہ و قیام میں گزاردیتے ہیں
تتجافٰی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفاوطمعا (2)
ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں اپنے رب کو خوف و امید کے ساتھ پکارتے ہیں۔
کانو قلیلا من اللیل مایھجعون (3)
وہ راتوں کو بہت کم سویاکرتے تھے۔
اپنے پیارے رسول محمدﷺکو تہجد کا حکم دیتے ہوئے فرمایا :
ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک عسی ان یبعثک ربک مقاما محموداً (4)
اوررات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھو ،تمہارے لئے بطور نفل ہے، ممکن ہے کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کردے۔
اس آیت میں تہجد کے حکم کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو ’’مقام محمود ‘‘ کی امید دلائی گئی ہے۔ ’’مقام محمود‘‘ آخرت میں ’’شفاعت کبری‘‘ کا منصب ہے (5) کہ جس گھڑی نفسی نفسی کا عالم ہوگا اس موقع پر رسول کریم ﷺ رب کائنات کے حضور سجدہ ریز ہوکر شفاعت کی درخواست کریں گے اور آپکی شفاعت قبول کی جائیگی، بعض حضرات کا خیال ہے کہ جنت میں بلند ترین مرتبہ کا نام ’’مقام محمود ‘‘ ہے۔ دنیا میں ’’مقام محمود ‘‘ کیا ہے؟ اس سلسلہ میں مولاناابوالکلام آزاد لکھتے ہیں:
’’حسن و کمال کا ایک مقام جہاں پہونچ کر خلائق کی عالمگیر اور دائمی مرکزیت حاصل ہوجائے گی ، کوئی زمانہ ہو، کوئی نسل ہو، کوئی ملک ہو لیکن کڑوڑوں دلوں میں اس کی ستائش ہوگی، ان گنت زبانوں پر اس کی مدحت طرازی ہوگی ۔۔۔ یہ مقام انسانی عظمت کی انتہا ہے، اس سے بڑھ کر انسانی رفعت کا تصور نہیں کیاجاسکتا ، انسان کی سعی و ہمت ہرطرح کی بلندیوں تک اڑ کر جاسکتی ہے لیکن یہ بات نہیں پاسکتی کہ روحوں کی ستائش اوردلوں کی مداحی کا مرکز بن جائے ۔‘‘ (6)
مذکورہ آیت میں ’’مقام محمود‘‘ کا تذکرہ تہجد کے ساتھ کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازتہجد اور ’’مقام محمود ‘‘ میں ایک گونہ نسبت اور تعلق ہے، اور امتیوں میں سے بھی جو لوگ اس نماز کو پڑھتے رہیں گے انہیں ’’مقام محمود ‘‘ میں کسی درجہ کی اللہ کے رسول ﷺ کی رفاقت میسر ہوگی۔حدیث میں فرض نماز کے بعد سب سے افضل اسی نماز کو قرار دیا گیا (7) نیز آپ ﷺ کاارشاد ہے تم رات کی نماز کو اپنے لئے لازم کرلو کیونکہ وہ تم سے پہلے کے نکو کار لوگوں کا طریقہ رہا ہے اور اللہ سے نزدیکی کاذریعہ ہے، گناہوں کو مٹانے اوربرائیوں سے روکنے والی ہے (8)
ایک دوسری حدیث میں ہے
اقرب مایکون الرب من العبد فی جوف اللیل الآخرفان استطعت ان تکون ممن یذکر اللہ فی تلک الساعۃ فکن (9)
اللہ اپنے بندہ سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری درمیانی حصہ میں ہوتا ہے۔ اس لئے اگر تم سے ہوسکے کہ ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ جو اس وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں توضرورایسا کرو
ایک موقع پر آپ ﷺنے فرمایا :
یا ایھاالناس افشوالسلام واطعموالطعام وصلواالارحام وصلواباللیل والناس نیام تدخل الجنۃ بسلام (10)
لوگو! سلام کو رواج دو ، کھانا کھلاؤ، رشتہ داریوں کو جوڑو،اور جب لوگ سورہے ہوں اس وقت نماز پڑھو جنت میں بہ سلامت دخل ہوجاؤ گے۔
نماز تہجد سے خود نبی کریم ﷺ کو کس قدر شغف تھا؟ اس کا اندازہ ذیل کی حدیث سے لگایاجاسکتا ہے:
عن عائشہؓ قالت کان النبی ﷺ یقوم من اللیل حتی تتفطر قدماہ فقلت لہ لم تصنع ھذا یارسول اللہ وقدغفرلک ماتقدم من ذنبک وماتاخر قال افلااکون عبداً شکوراً (11)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں رات میں آپﷺ اس قدر طویل نماز پڑھتے کہ اس کی وجہ سے قدم مبارک پھٹ جاتے۔ آپﷺ سے عرض کیا گیاکہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ حالانکہ آپکی اگلی اور پچھلی تمام لغزشیں معاف کردی گئیں ہیں، رسول مقبول ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا ؛ کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں۔
آنحضور ﷺ اس نماز کے اس قدر دلدادہ تھے کہ سفر میں ہوں یا گھر پہ کبھی بھی ترک نہ فرماتے (12) کسی وجہ سے رات میں نہ پڑھ سکتے تو دن میں قضا کرلیتے (13) تہجد صحابہ کرام کی شناخت اور پہچان بن چکی تھی، چنانچہ بادشاہ روم ہر قل کے سامنے صحابہ کرام کا تعارف ان لفظوں میں کرایا گیا، فی اللیل رحبان وفی النھارفرسان ۔یعنی رات میں عبادت گذار اور دن میں شہسوار ہیں، تہجد اولیاء کرام اور بزرگان دین کا معمول رہا ہے، صوفیا کا کہنا ہے کہ تہجد کے بغیر کوئی درجہ ولایت کونہیں پہونچ سکتا، واقعہ ہے کہ تہجد ایک عظیم نعمت ہے، روحانی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ ، قرب الٰہی کا وسیلہ، اور دل کو تروتازہ ، شگفتہ اور گرم رکھنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ جسے اس لذت کا ادراک ہوجائے اس کے سامنے ساری دنیا کی دولت ہیچ ہے۔ اس کیلئے اس وقت آرام کی نیند سونا کا نٹے کے بستر پر سونے کے مترادف ہے۔
ابتداء اسلام میں یہ نماز فرض تھی بعد میں یہ حیثیت ختم کردی گئی (14) اس لے اب یہ نماز فرض نہیں لیکن نبی کریم ﷺ کی اس نماز پر ہمیشگی اورقرآنی انداز بیان نیز صحابہ کرم کے طرز عمل کے پیش نظر اس کی قانونی حیثیت سنت موکدہ سے کم نہیں (15)
وقت
تہجد کا وقت عشاء کے بعد سے صبح صادق تک ہے، البتہ جو شخص رات کا ایک تہائی حصہ تہجد میں گذارنا چاہے اس کیلئے افضل اوربہتر ہے کہ رات کے تین حصے کرکے درمیانی حصہ میں تہجد پڑھے اور اول وآخر حصہ میں آرام کرے، اگر آدھی رات عبادت میں گزارنا ہو تو آخری نصف میں تہجد پڑھنا اچھا ہے، بعض حضرات کی رائے میں رات کے چھ حصے کرکے اول کے تین حصوں میں آرام مناسب ہے، چوتھا او ر پانچواں حصہ نماز میں مشغول ہو اور پھر چھٹے حصہ میں آرام کرے۔(16) اس کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ :
احب الصلاۃ الی اللہ صلاۃ داود واًحب الصیام الی اللہ صیام داود کا ن ینام نصف اللیل ویقوم ثلثہ وینام سدسہ ویصوم یوماً ویفطر یوماً ۔
اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز داؤد (علیہ السلام)کی نماز ہے اور سب سے محبوب روز ہ داؤد (علیہ السلام)کا روزہ ہے، وہ آدھی رات تک سوتے اور تہائی رات نماز پڑھتے پھیر چھٹے حصے میں سوتے تھے اور ایک دن ناغہ کرکے روزہ رکھا کرتے تھے۔ (17)
سنت یہ ہے کہ عشاء پڑھ کر سورہے اس کے بعد اٹھ کر تہجد پڑھے، تہجد سے متعلق عملی طور پر آنحضور ﷺ سے یہی منقول ہے تاہم اگر آنکھ نہ کھلنے کا اندیشہ ہوتو عشا کی نماز کے بعد دویا دو سے زائد رکعتیں تہجد کی نیت سے پڑھ کے سورہے اور رات میں اٹھ کر تہجد پڑھنے کا پختہ عزم بھی ہو، اگر نیند ٹوٹ جائے تو بہتر ہے ورنہ تو کوئی بات نہیں،رات میں قیام کا ثواب انشاء اللہ ملے گا، حدیث میں ہے کہ :
ان ھذا السفر جھدوثقل فاذااوتراحدکم فلیرکع رکعتین فان استیقظ واِلَّا کانتا لہ (18)
’’سفر مشقت اور گرانی کا نام ہے۔ اس لئے جب تم وتر پڑھ لو تو اس کے بعد دورکعت بھی ادا کرلو، پس اگر رات میں اٹھ جاؤ تو بہتر ہے ورنہ یہ رکعتیں کافی ہوجائیں گی۔‘‘

تعداد رکعت 
تہجد کم سے کم دورکعت ہے، زیادہ کی کوئی حد نہیں (19) حدیث میں ہے کہ :
اذا ایقظ الرجل اھلہ من اللیل فصلیا اوصلی رکعتیں جمیعا کتبا فی الذاکرین والذکرات (20)
جب کسی نے رات میں اپنی بیوی کو جگایا اور دونوں نے دورکعت نماز پڑھ لی تو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والوں میں ان کا شمارہو گا ۔
تاہم عملی طور سے رسول کریم ﷺ سے کم از کم چار رکعت اور زیادہ سے آٹھ رکعت پڑھنا ثابت ہے (21) لہذا کم سے کم چار رکعت اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعت پڑھنا مسنون اور بہتر ہے۔
قراءت 
رات کی نماز میں آواز سے قرأت کرنا بھی جائز ہے اورآہستہ پڑھنے کی بھی اجازت ہے (22) حضرت عائشہؓ سے دریافت کیا گیا کہ اللہ کے رسول ﷺ رات میں کیسے قرآت کرتے تھے؟ فرمایا : کبھی آہستہ پڑھتے اور کبھی آواز سے (23) لیکن عام حالات میں جب کہ کسی کو تکلیف نہ ہو درمیانی آواز سے قرات کرنا بہتر ہے، نہ زیادہ پست اور آہستہ اور نہ زیادہ تیز ، حضرت ابوقتادہ راوی ہیں کہ ایک رات اللہ کے رسول ﷺ باہر نکلے دیکھا کہ حضرت ابوبکر بالکل ہلکی آواز میں پڑھ رہے ہیں اور حضرت عمر بلند آواز میں ،یہ دونوں حضرات جب آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپؐ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ میں رات تمہارے پاس سے گذرا تو دیکھا کہ تم پست آواز میں قرآن پڑھ رہے ہو، انہوں کہا : اللہ کے رسول! جس سے میں سرگوشی کررہا تھااسے سنادیا۔ رسول مقبول ﷺنے فرمایا اپنی آواز کو تھوڑا بلند کرو، پھر حضرت عمر سے مخاطب ہوئے اور کہا عمر! میں نے تمہیں خوب بلند آواز سے قرأت کرتے دیکھا انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں بلند قرأت کے ذریعہ غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنا اور شیطان کو بھگانا چاہتا ہوں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنی آواز کو قدرے پست کرلو۔(24)
جماعت
اس مسئلہ پر تفصیلی بحث آئندہ ’’نفل کی جماعت ‘‘ کے عنوان سے ہوگی، موقع کی مناسبت سے مجدد الف ثانی کی ایک چشم کشاتحریر پیش ہے، وہ فرماتے ہیں:
افسوس صد افسوس کچھ ایسی بدعتیں جن کا دوسرے ’’سلاسل‘‘ میں نام و نشان تک نہیں ملتا اس عظیم المرتبت سلسلہ (نقشبندیہ) میں رواج پاگئی ہیں، نماز تہجد جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں، اطراف و جوانب سے اس وقت تہجد کیلئے لگ جمع ہوتے ہیں اور اکھٹے ہوکر نماز پڑھتے ہیں، یہ عمل مکروہ تحریمی ہے، فقہا کی ایک جماعت جن کے نزدیک مکروہ ہونے کیلئے لوگوں کو بلانا (تداعی) شرط ہے ان کے یہاں بھی ضروری ہے کہ وہ جماعت مسجد کے کسی گوشہ میں ہو اور تین آدمیوں سے زیادہ نہ ہوں اس لئے کہ تین آدمیوں سے زیادہ کی نفل بہ جماعت باتفاق مکروہ ہے۔(25)
اذکارودعائیں
رات کے آخری حصہ میں اللہ کی رحمت خاص اپنے بندوں کیطرف متوجہ ہوتی ہے ۔ دعاؤں کی قبولیت کی گھڑی ہے اس لئے اس وقت دعا واستغفار کااہتمام کرنا چاہئے، اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو اس وقت مغفرت کی دعا کرتے ہیں (26) اورحدیث میں ہے کہ:
ینزل ربنا تبارک وتعالیٰ کل لیلۃ الی السماء الدنیا حین یبقی ثلث اللیل الاخر یقول من یدعونی فاستجیب لہ من یسالنی فاعطیہ من یستغفرلی فاغفرلہ (27)
ہمارے رب رات کے آخری تہائی حصہ میں آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں، اور کہتے ہیں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کرلوں، کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں نوازدوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے اور میں اسے معاف کردوں۔
’’اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں ‘‘ اس جملے کی تشریح میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، بعض حضرات کی رائے ہے کہ اس کی کیفیت سے صرف اللہ تعالیٰ ہی آگاہ ہیں، ہماری عقل وفہم اس کیفیت کے ادراک سے قاصر ہے، اکثر اسلاف کا یہی رجحان ہے، کچھ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ ’’نزول ‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنی رحمت خاص کے ساتھ بندوں کی طرف متوجہ ہونا ہے۔(28)
حضرت عبادہ بن صامتؓ ، اللہ کے رسول ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو کوئی رات میں اٹھ کر یہ کلمات کہے۔
لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وھوعلی کل شئ قدیر، وسبحان اللہ والحمد للہ ولاالہ الااللہ ، واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الاباللہ۔
اللہ کے سوا کوئی معبو د نہیں ۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں، سلطنت اس کی ہے اور اسی کے لئے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ ہر عیب سے پاک ہے اور حمد اللہ ہی کے لئے ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اور طاقت و قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
پھر مغفرت طلب کرے (اللھم اغفرلی پڑھے) یا دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اگر وضو کرکے نماز پڑھے تو مقبول ہوتی ہے۔ (29)
تہجد کی پابندی 
کسی بھی اچھے عمل کو شروع کرنے کے بعد اس پر مداومت اور ہمیشگی بہتر ہے، خاص کر نماز تہجد کی کوشش بھر پابندی کرنی چاہئے ، رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن عمر والعاص کو مخاطب کرکے فرمایا:
یاعبداللہ لا تکن مثل فلان کان یقوم من اللیل فترک قیام اللیل ۔
عبداللہ! تم اس شخص کی طرح نہ ہوجاؤ جو رات میں نماز پڑھا کرتا تھا مگر پھر چھوڑدی۔ (30)
تہجد کیلئے پختہ عزم اور بیدار ہونے کی تمام تدبیریں کرلیناچاہئے، اس کے باوجود کسی وجہ سے آنکھ نہ کھلی تو تہجد پڑھنے کا ثواب ملے گا چنانچہ حضرت ابودرداء رسول اکرم ﷺ کاارشاد نقل کرتے ہیں:
من أتی فراشہ وھوینوی ان یقوم فیصلی من اللیل فغلبتہ عینہ حتی یصبح کتب لہ مانوی وکان نومہ صدقۃ علیہ من ربہ (31)
جوکئی رات میں نماز پڑھنے کی نیت کرکے سوئے پھر اس کی آنکھیں نہ کھلیں یہاں تک کہ صبح ہوگئی تو اس کیلئے وہی لکھا جائے گا جس کی اس نے نیت کی ہے، اور اس کی نیند اللہ کی طرف سے صدقہ ہے۔
قضا
نیند نہ کھلے یا کسی بیماری کی وجہ سے تہجد چھوٹ جائے تو فجر اورظہر کے درمیانی حصہ میں قضا کرلینا مسنون ہے، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کی رات کی نماز بیماری یا نیند کی وجہ سے رہ جاتی تو آپ دن میں بارہ رکعت پڑھ لیا کرتے تھے (32) حضرت عبداللہ بن عمرؓ رسول اللہﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ:
من نام عن حزبہ او عن شئ منہ فقرء ہ فیما بین صلاۃ الفجر وصلاۃ الظھر کتب لہ کانما قرؤہ من اللیل (33)
جو کوئی نیند کی وجہ سے اپنے مقررہ وظیفہ کو نہ پڑھ سکا یااس کو مکمل نہ کرسکا پھر فجر اورظہر کے درمیانی حصہ میں پڑھ لے تواسے اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ رات میں پڑھنے پر ملتا۔
واضح رہے کہ طلوع فجر کے بعد نماز فجر سے پہلے اور ایسے ہی نماز فجر کے بعد تہجد کی قضا مکروہ ہے، البتہ اگر طلوع فجر سے پہلے شروع کیااورمکمل طلوع کے بعد کی تواس کی گنجائش ہے۔ بلکہ افضل ہے کہ نماز مکمل کرے (34)
گھروالوں کو جگانا
کسی خوشی کے موقع پر تمام گھروالے شریک ہوں تو یہ مسرت جشن میں تبدیل ہوجاتی ہے ، اس موقع پر اگر کوئی محروم رہ جائے تو کس قدر تکلیف ہوتی ہے، لاکھ جتن کرکے تمام گھروالوں کو شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تہجد کے سلسلہ میں بھی رسول مقبول ﷺ نے یہی درس اور یہی پیغام دیا ہے کہ ممکن حد تک ہر ایک کو اس خدائی انعام اور نوازش وبرکات میں شامل کرناچاہئے، ارشاد ہے۔
رحم اللہ رجلاقام من اللیل فصلی وایقظ امراتہ فصلت فان ابت نضح فی وجھھا الماء ،رحم اللہ امرأۃ قامت من اللیل فصلت وایقظت زوجھا فصلی فان ابی نضحت فی وجھہ الماء، (35)
اللہ اس مرد پر رحمت نازل کرے جو رات کو اٹھا، نماز پڑھی اپنی بیوی کو بھی بیدار کیااور اس نے بھی نماز پڑھی ، اگر بیدار ہونے سے انکار کرے تو اس کے منہ پر ہلکا پانی چھڑک دیا، اللہ اس عورت پر رحمت نازل کرے جس نے رات میں اٹھ کر نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو بیدار کیااوراس نے بھی نماز پڑھی اوراگر اٹھنے سے انکار کیاتو اس کے منہ پر پانی کا ہلکا سا چھینٹا دے کر بیدار کیا۔
واضح رہے کہ تہجد کیلئے دوسروں کو جگانا اسی وقت درست ہے جب کہ معلوم ہو کہ وہ اس عمل سے خوش ہوگا، اسے کوئی گرانی نہیں ہوگی، کسی قسم کی کشیدگی اور ناگواری کا باعث نہ ہو۔(36)
تہجد پڑھتے ہوئے نیند آنے لگے
جب تک ذوق وشوق ہو، بدن میں چستی اور نشاط ہو تہجد میں مشغول رہناچاہئے، اگر اکتاہٹ محسوس ہو،طبیعت سست پڑجائے تو کچھ دیر بیٹھ کر آرام کرلیناچاہئے، دوبارہ نشاط پیداہوجائے تو تہجد شروع کردے ورنہ تو سوجائے، حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا : جبتک نشاط باقی رہے نماز پڑھناچاہئے اور جب سستی چھاجائے تو چاہئے کہ بیٹھ جائے۔(37)
نیند کا غلبہ ہو، پلکیں بندہوجائیں، اونگھنے لگے تو اس وقت بھی جاکر سوجانابہتر ہے حدیث میں ہے کہ :
اذا نفس أحدکم فی صلاتہ فلیر قد حتی یذھب عنہ النوم فان احدکم اذاصلی وھو ناعس لعلہ یذھب یستغفراللہ فیسب نفسہ(38)
جب نماز پڑھنے میں تمہیں اونگھ آنے لگے تو جاکر سوجاؤ یہاں تک کہ نیند دورہوجائے، کیونکہ اگر اونگھتے ہوئے نماز پڑھو گے تو بجائے استغفار کے (غفلت کی وجہ سے ) خود کو بددعا دینے لگوگے۔
نبی ﷺ کی تہجد کی بعض تفصیلات 
آنحضورﷺ جب رات میں تہجد کیلئے بیدار ہوتے تو پہلے مسواک اور وضوکرتے ، وضوء کے دوران یا پہلے سورہ آل عمران کی یہ آیت ان فی خلق السموٰت والارض ‘‘ ختم سورہ تک پڑھ جاتے (1) حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پہلے آپ نے اللہ اکبر ، اللہ اکبر، اللہ اکبر ذوالملکوت والجبروت والکبریاء والعظمۃ کہا اس کے بعد نماز شروع کی ،(2)
نماز تہجد کی ابتداء دو مختصر رکعتوں سے کرتے ،(3) اوراسی کا حکم بھی دیا ہے (4) ہر دورکعت پر سلام پھر دیاکرتے (5) اوراسی طرح نماز تہجد پڑھنے کو پسند فرماتے (6) ۔
تہجد میں بہت طویل قرأت آپ سے منقول ہے، حضرت حذیفہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ چار رکعتوں میں آپ نے سورہ بقرہ، آل عمران، نساء ، مائدہ، یاانعام پڑھی، اس طور پر کہ سجدہ، رکوع وغیرہ بھی قرأت ہی کیطرح طویل کیا کرتے،(7) دوران قرأت اگر رحمت کی آیت آجاتی تو ٹھہر کر رحمت کی دعا کرتے اور جہاں عذاب کی آیت ہوتی وہاں اس سے پناہ مانگتے، بعض روایتوں میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضور ﷺ رات کی نماز میں صبح تک ایک ہی آیت پڑھتے رہے، وہ آیت یہ ہے۔
ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیزالحکیم (8)

اگر آپ انہیں عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں (اور اس کے سزاوارہیں) اوراگر معا ف کردیں تو بلاشبہ آپ غالب اور حکمت والے ہیں۔

حواشی:

1۔ فرقان ؍ 64
2۔ سورہ سجدہ
3۔ سورہ ذاریات
4۔ سورہ بنی اسرائیل ؍ 79
5۔تفسیر ابن کثیر 2؍95۔292
6۔ترجمان القرآن 4؍308
7۔ افضل الصلاۃ بعد صلاۃ المکتوبۃ الصلوۃ فی جوف اللیل ،رواۃ الجماعۃ الالبخاری (نیل الاوطا3؍56)
8 ۔ رواہ الترمذی وابن خزیمہ (اعلاء السنن 7؍ 38)
9۔ رواہ الترمذی وابن خزیمہ وقال الترمذی حسن صحیح (ترغیب للمنذری 1؍434)
10۔ رواہ الترمذی عن عبداللہ بن سلام (وقال حسن صحیح (ترغیب 1؍423)
11۔متفق علیہ ریاض الصالحین 2؍462
12۔ صحیح بخاری 1؍ 194
13۔ صحیح مسلم 1؍ 256
14۔ حوالہ سابق
15۔ فقیام اللیل سنۃ موکدۃ تطابقت علیہ دلائل الکتاب والسنۃ واجماع الامۃ (شرح مھذب 4؍ 44)
16۔ ر دالمحتار 1؍ 506
17۔ صحیح بخاری ومسلم سنن ابوداؤد ، نسائی، ابن ماجہ ( الترغیب 1؍ 427)
18۔ اخرجہ الطحاوی والدارقطنی، وفی التعلیق المغنی: اسنادہ جید (اعلاء السنن 6؍105)
19۔دیکھئے معارف السنن 4؍ 132 ، ردالمختار 1؍ 506)
20۔ رواہ ابوداؤد باسناد صحیح ریاض الصالحین 467
21۔ دیکھئے معارف السنن 4؍ 133۔ 130
22۔ دیکھئے معارف السنن 4؍158
23۔ ربماأسربالقرأت وربما جھرسنن ترمذی 1؍ 100 وقال صحیح غریب ، نیل 3؍59
24۔ سنن ابوداؤد 1؍ 188
25۔ مکتوبات 131 ،دفتراول
26۔ وبالاسحار ھم یستغفرون
27۔ صحیح مسلم 1؍ 258 صحیح بخاری 1؍153
28۔ معارف السنن 4؍ 138 ومابعدہ

29۔ صحیح بخاری 1؍155 ، جامع ترمذی 2؍ 178 کتاب الدعوات
30۔ بخاری 1؍154
31۔ نسائی، ابن ماجہ، باسناد صحیح علی شرط مسلم ( شرح مھذب 4؍47)
32۔ وکان اذانام من اللیل اومرض صلی من النھار ثنتی عشرۃ رکعۃ (مسلم 1؍256)
33۔ رواہ الجماعۃ الاالبخاری (نیل الاوطار 2؍294)

34۔ ردالمحتار 1؍276
35۔ ابوداؤد ، نسائی ، باسناد صحیح (شرح مھذب 4؍46)
36۔ ولایخفی تقییدہ بما اذا علم من حال النائم انہ یفرح بذالک اولم یثقل علیہ ذالک، (حاشیۃ السندی ، علی ابن ماجہ 1؍401)
37۔ متفق علیہ ، مشکوۃ المصابیح 1؍110
38۔ صحیح بخاری و مسلم (مشکوۃ 1؍110)
39۔ صحیح مسلم 1؍ 261۔260
40۔ سنن ابوداؤد
41۔ کان النبی اذا قام من اللیل یصلی افتتح صلوتہ برکعتین خفیفتین (مسلم 1؍262)
42۔ اذاقام احدکم من اللیل فلیفتح صلوتہ برکعتین خفیفتین (حوالہ سابق)
43۔ کان یصلی ؐ مثنی مثنی مسلم 1؍ 257
44۔ ان رجلا سال عن صلوۃ اللیل فقال صلوۃ اللیل مثتی مثتنی (حوالہ سابق)
45۔ صحیح مسلم ریاض الصالحین 466
46۔ نسائی ،ابن ماجہ

مزید دکھائیں

ولی اللہ مجید قاسمی

مولانا ولی اللہ مجید قاسمی معروف عالم دین ہیں اور جامعتہ الفلاح، اعظم گڑھ میں فقہ و حدیث کےاستاذ نیز دار الافتاء کے ذمہ دار بھی ہیں۔

متعلقہ

Close