عباداتمذہب

نماز کا مقصد اور فوائد (چوتھی قسط) 

عبدالعزیز

 ضبطِ نفس:

بقائے زندگی کیلئے غذا کی طلب، بقائے نسل کیلئے صنفِ مقابل سے رغبت اور کھوئی ہوئی طاقت کو بحال کرنے کیلئے آرام کی خواہش انسانی زندگی کے فطری مطالبات ہیں اور ان کی طرف طبیعت کا میلان قرآن مجید کی اصطلاح میں ’ہویٰ‘ (خواہش و حرص) کہلاتا ہے۔ عربی زبان میں ہویٰ کے لغوی معنی ہیں گرنا، اور چونکہ یہ خواہشات خواہش پرست انسان کو لے گرتی ہیں اس لئے اسے ہویٰ کہا گیا ہے۔

  اب اگر انسان اپنے نفس کی خواہشات کو شرعی حدود کے اندر رہ کر پورا کرے تو عین اسلام ہے اور اگر وہ اپنی خواہشات کا غلام بن جائے تو پھر اس کا ابدی دشمن شیطان اسے کمزور ہمت پاکر اس پر سوار ہوجاتا ہے، اور لگام دے کر جدھر چاہے دوڑائے پھرتا ہے۔

 قرآن مجید میں ایسے خواہش پرست کو کتے سے تشبیہ دی گئی ہے:

 ’’اور وہ دھرنا مار کر زمین پر بیٹھ رہا اور خواہشات کے پیچھے پڑگیا تو اس کی مثال کتے کی سی ہے‘‘ (پ9، ع 12)۔

 کتا وہ جانور ہے جس کی ہر وقت لٹکی ہوئی زبان اور ٹپکتی ہوئی رال ایک نہ بجھنے والی آتشِ حرص اور کبھی نہ سیر ہونے والی طبیعت کا پتہ دیتی ہے اور اس کا جنسی رجحان سب کو معلوم ہے۔ اردو زبان میں بھی ایسے شخص کو جو دنیا کی حرص میں اندھا ہورہا ہو ’’دنیا کا کتا‘‘ کہتے ہیں۔ ایسا شخص ہدایت نہیں پاسکتا۔ ہدایت پانا تو درکنار ایسا شخص اخلاقی طور پر انسانیت کے مقام سے گرکر حیوان سے بھی بدترمخلوق قرار پاتا ہے۔

 قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: ’’کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر غور کیا جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ کیا تم اس شخص کا ذمہ لے سکتے ہو اور کیا تمہارا خیال ہے کہ اکثر ان میں سے سن یا سمجھ سکتے ہیں؟ یقینا یہ لوگ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گمراہ تر‘‘(پ19، ع3)۔

  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جب تک کسی شخص کی تمام خواہشات میری شریعت کے تابع نہ ہوجائیں وہ مومن نہیں ہوسکتا‘‘ (الحدیث) ۔

  انسانی تاریخ کے مطالعہ سے یہ چیز صاف نظر آتی ہے کہ انسان کو گمراہ کرنے کیلئے شیطان کا داؤ زیادہ تر خواہشات کے ذریعے چلتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے جو عبادتیں فرض کی ہیں ان میں درجہ بدرجہ ضبط نفس کی تربیت کا خاص اہتمام فرمایا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں بڑے درجہ کے کام وہی انسان سر انجام دے سکتے ہیں جو نفس کی خواہشات کو اپنے قابو میں رکھ سکتے ہیں اور ان قوتوں کو جو اللہ تعالیٰ نے ان میں ودیعت کی ہیں اپنے ارادے کے مطابق استعمال کرسکتے ہیں۔

  انسانی زندگی کی اصلاح میں ضبط نفس کی اہمیت واضح ہوجانے کے بعد اب دیکھئے کہ دن رات میں پانچ وقت نماز سے کس طرح اس کی تربیت حاصل ہوتی ہے۔

  صبح کا وقت ہے۔ گرمی کے موسم میں اس وقت مزے کی نیند آرہی ہے۔ مؤذن اپنی اذان میں اعلان کرتا ہے کہ ’’اٹھو؛ نماز کی طرف آؤ۔ نیند سے نماز بہتر ہے‘‘۔ آرام طلب نفس اٹھنے سے جی چراتا ہے، لیکن نمازی نفس کی خواہش کو ٹھکرا دیتا ہے اور اٹھ کر خدا کے حضور میں حاضر ہوجاتا ہے۔

سردی کا موسم ہے اور صبح کے وقت سردی کی شدت ہے۔ غسل کی حاجت ہے۔ پانی گرم نہیں مل رہا ہے۔ آرام طلب نفس غسل کرنے سے گھبراتا ہے، لیکن نمازی اپنے نفس پر غالب آخر غسل کرتا ہے اور وقت پر نماز ادا کرتا ہے۔

گرمی کا موسم ہے۔ گرمی کی وجہ سے دن کے پہلے حصہ میں زیادہ کام کیا۔ تھکاوٹ کو دور کرنے کیلئے غسل کیا۔ دوپہر کا کھانا کھایا اور آرام (قیلولہ) کرنے کیلئے لیٹے ہی تھے کہ مسجد ظہر کی اذان ہوئی۔ آرام طلب نفس تھکاو اور سخت گرمی کا عذر پیش کرتا ہے، لیکن نمازی اس کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے ظہر کی نماز کیلئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

دن ختم ہونے کو ہے، ہر شخص سورج غروب ہونے سے پہلے اپنا کام سمیٹنے میں مصروف ہے۔ دکانوں پر ضروریاتِ زندگی کی خرید و فروخت کا زور ہے۔ بعض لوگوں کیلئے تفریح و شغل کا وقت ہے۔ دن کے اس مصروف حصہ میں نمازِ عصر کا وقت آتا ہے۔ نفس کو مصروفیات و مشاغل کا عذر ہے، لیکن نمازی اپنے نفس کی خواہش پر قابو پاکر نمازِ عصر وقت پر ادا کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔

دن بھر کی مصروفیات و مشاغل سے فارغ ہوتے ہی نمازِ مغرب کا وقت آتا ہے۔ نفس تقاضا کرتا ہے کہ بھوک لگ رہی ہے، تھکے ماندے ہیں، گھر جاکر کھانا کھائیں اور آرام کریں، لیکن نمازی نفس کی اس خواہش پر بھی قابو پاکر گھر آنے سے پہلے نمازِ مغرب ادا کرتا ہے۔

نماز مغرب کے بعد کھانا کھانے سے طبیعت بوجھل سی ہوجاتی ہے۔ دن بھر کی محنت کا بھی تقاضا ہے کہ آرام کیا جائے۔ اس وقت گھر کے نجی معاملات بھی زیر بحث آتے ہیں۔ دوسرے دن کے کاموں کے پروگرام پر بھی غور و فکر کیا جاتا ہے۔ ادھر مسجد سے نمازِ عشاء کی اذان سنائی دیتی ہے۔ نمازی ان سب دلچسپیوں کو چھوڑ کر ادائے فرض کیلئے چل دیتا ہے۔

 نمازی سفر میں ہے۔ سفر کی مشکلات نماز کی راہ میں حائل ہوتی ہیں۔ کبھی طہارت و وضو کیلئے پانی دستیاب نہیں ہوتا۔ موٹر یا گاڑی میں نماز کیلئے جگہ نہیں ملتی۔ نفس مشکلات کا عذر پیش کرتا ہے، لیکن نمازی ان مشکلات پر قابو پاکر حالات کے مطابق نماز ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔

 بیماری کی حالت میں نفس نماز سے چھٹی پانے کی خواہش کرتا ہے۔ کبھی تکلیف کا عذر پیش کرتا ہے۔ کبھی کمزوری کا اور کبھی بدن و لباس کی ناپاکی کا بہانہ کرتا ہے، لیکن نمازی نفس کے ان عذرات کی پروا نہیں کرتا۔ وضو یا غسل نہ کرسکے تو تیمم سے، کپڑے پاک نہ کرسکے تو انھیں بدل کر، اور کھڑا ہوکر نماز ادا نہ کرسکے تو بیٹھ کر یا لیٹ کر اشاروں سے نماز ادا کرلیتا ہے۔

   مختصر یہ کہ زندگی کی دوڑ دھوپ میں انسان کانفس ہر وقت کسی نہ کسی مشغولیت، فائدے، نقصان، لطف، لذت اور تکلیف کے بہانے بناتا ہے اور موقع ڈھونڈتا رہتا ہے کہ ذرا انسان کے اندر کمزوری پیدا ہو اور یہ اس پر سوار ہوجائے، مگر نماز ہر موقع پر انسان کیلئے تازیانہ بن کر آتی ہے اور اس کی اونگھتی ہوئی قوتِ ارادی کو جگاتی ہے اور اس سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ نفس کی خواہشات کو رب کے حکم کے تابع بنائے۔ اس کا غلام بن کر رہ جائے۔ نفس کی طلب اور نماز کی پکار کے مابین یہ کشمکش ہر روز پیش آتی ہے۔ مختلف حالتوں اور مختلف صورتوں میں پیش آتی ہے۔ کبھی سفر میں، کبھی حضر میں، کبھی گرمی میں، کبھی سردی میں، کبھی آرام کے وقت، کبھی کاروبار کے وقت، کبھی تفریح کے موقع پر اور کبھی رنج و غم اور بیماری کے موقع پر۔ اگر نمازی نے نفس کی بات مان لی تو وہ شکست کھاگیا اور نفس جو اس کا غلام تھا اس کا آقا بن گیا اور اگر ہر حالت اور ہر صورت میں اس نے نماز کے مطالبہ کو پورا کیا تو پھر نمازی میں تدریجاً اور غیر محسوس طور پر وہ طاقت پیدا ہوجائے گی جس نفس کو قابو میں رکھ کر وہ شریعت کی حدود کو قائم رکھ سکے گا۔

  برعکس اس کے جو لوگ اپنی خواہشات کے غلام بن کر نمازوں کو ضائع کر دیتے ہیں، وہ اسلام کے دوسرے فرائض کو اس سے بڑھ کر ضائع کرنے والے ہوتے ہیں اور اس طرح شیطان کے فریب میں اگر کج روی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

  ’’پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے پڑگئے، لہٰذا عنقریب وہ گمراہی (کے نتائج) سے دوچار ہوں گے‘‘ (پ16، ع7)۔

  حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے غالباً اسی آیت پاک کی وعید سے بچنے کیلئے اپنے عہد خلافت میں تمام عمّال کو نماز کی پابندی کے سلسلے میں ایک مشترکہ پیغام بھیجا تھاجس کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے:

  ’’نماز کے وقت تمام کام چھوڑ دو؛ کیونکہ جس شخص نے نماز کو ضائع کیا وہ دوسرے فرائض اسلام کا سب سے زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا‘‘۔ (سیرت عبدالعزیزؒ، مصنفہ مولانا عبدالسلام ندوی)۔

 اخلاص:

تمام نیک اعمال کا سر چشمہ اور جڑ محض اخلاص فی الدین ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی عبادات و استعانت کو پورے اخلاص کے ساتھ خدا سے مخصوص کردے۔

    یاد رہے کہ لفظ عبادت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ مختصراً اس کے معنی غلامی ، اطاعت اور پرستش کے ہیں۔ خدا کیلئے عبادت مخصوص کرنے کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کی دوڑ دھوپ میں غلامی ہو تو صرف خدا کی۔ فرماں برداری ہو تو صرف خدا کی۔ اور پرستش (پوجا پاٹھ) ہو تو صرف خدا کی۔ پرستش میں سجدہ، رکوع، دست بستہ قیام، طواف، نذر و نیاز اور قربانی وغیرہ کے مراسم کے علاوہ کسی کو عالم اسباب پر ذی اقتدار خیال کرکے اپنی حاجتوں میں اس سے دعا مانگنا بھی شامل ہے۔

  قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے دین کو اللہ کیلئے خالص کرو۔ چند آایات کے معانی ملاحظہ ہوں:

’’اور انھوں نے اپنے دین کو اللہ کیلئے خالص کردیا‘‘ (پ4، ع146)۔

  ’’پس تو دین کو اللہ کیلئے خالص کرکے صرف اس کی بندگی کر۔ خبردار اللہ ہی کیلئے ہے بندگی خالص‘‘ (پ23، ع15)۔

  ’’کہو مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کیلئے خالص کرکے اسی کی بندگی کروں‘‘ (پ23، ع16)۔

   قرآن مجید کی زبان میں لفظ دین سے مراد پورا نظام زندگی ہے اور اللہ کیلئے دین کو خالص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے تمام معاملات میں حاکمیت، فرماں روائی، حکمرانی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی تسلیم نہ کرے۔ اس کی تمام وفاداریاں، اس کی ساری دلچسپیاں، محبتیں اور عقیدتیں اللہ کے سوا کسی اور سے وابستہ نہ ہوں۔ اور دنیا کی کسی چیز سے، حتیٰ کہ اپنی جان کے ساتھ بھی ایسا لگاؤ باقی نہ رہے کہ اللہ کی رضا کیلئے اسے قربان نہ کیا جاسکتا ہو۔ اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

  ’’اللہ تعالیٰ کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ خالص اس کی خوشنودی و رضا کیلئے نہ کیا جائے‘‘ (الحدیث)۔

 ان ارشادات سے صاف پایا جاتا ہے کہ انسان کے جو اعمال خالی از اخلاص ہوں وہ اللہ کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتے۔ حد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کا بول بالا کرنے کیلئے جنگ کرنا سب سے بڑی عبادت ہے، لیکن اس میں شرکت اگر خالصتاً اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے نہ ہو تو اس میں بھی اپنی جان قربان کرنے والے کا مقام دوزخ ہی ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close