عباداتمذہبمذہبی مضامین

نیکیوں کا موسم بہار

یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ اللہ نے ہمیں دوبارہ یہ موقع نصیب فرمایا کہ ہم اس میں اپنےبھولے ہوئے سبق کو یاد کرلیں ، قیام وصیام اور ذکرواذکار  کے  ذریعہ اپنے پروردگار کو راضی اور خوش کرلیں۔

عبدالباری شفیق السلفی

الحمداللہ !ماہ رمضان کی پربہار گھڑیاں ہمارے سروں پر سایہ فگن ہیں جس کا ایک ایک لمحہ نہایت ہی قیمتی اور خیروبرکت سے مالا مال ہے، یہی وہ مہینہ ہے جس میں رب ذوالجلال کی طرف سے رحمتوں وبرکتوں کی خصوصی برکھا برستی ہے اسے سال کے تمام مہینوں جو فضیلت و برتی اور تفوق وامتیاز حاصل ہے وہ کسی دوسرے مہینے کو حاصل نہیں ، یہ تمام مہینوں کا سردار ہے جس میں رب العالمین کا سب سے مقدس کلام تمام راتوں کی سردار اور تمام انبیاء کے قائد اعظم خاتم النبین سرور کونین پر نازل کیا گیا۔ یہ مہینہ خیروبرکت کی عظیم یادگار اور خداپرستوں کا سرچشمہ اور رحمت الہٰی کا منبع ومخزن ہے، یہ صبروتحمل، ایثار وقربانی،  غمخوار اور اخوت ومحبت کا مہینہ ہے جس میں جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کردیئے جاتے ہیں نیز مردود جن وشیاطین کو پابہ زنجیر کردیا جاتاہے اور حکم الہٰی سے ایک منادی آواز لگاتاہے کہ ’’یا باغی الخیر اقبل ‘‘ اے بھلائیوں کے چاہنے والے آگ بڑھ، اور ’’یا باغی الشر اقصر ‘‘ اے برائیوں کے متلاشی رک جا۔

اس عظمت وتقدس والے مہینے کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ کتا ب وسنت کے شیدائی اور صحابہ وسلف صالحین کی حیات مبارکہ کا گہرائی وگیرائی سے مطالعہ کرنے والے صاحب بصیرت افراد بخوبی جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس ایک مہینہ کا روزہ سابقہ امتوں کی طرح ہم امت محمدیہ پر بھی فرض کیا ہے اور نبی کریم نیز آپ کے جانثار صحابہ اس ماہ مبارک میں کتنی محنتیں کیا کرتے تھے اور سلف صالحین چھ ماہ قبل ہی اس ماہ کو پانے کے لئے اپنے پروردگار سے گریہ وازاری کیا کرتے تھےاور اس کے گذرجانے کے بعد اپنے قیام وصیام اور ذکر واذکار کی قبولیت کے لئے آنسو بہایا کرتے تھے کہ اے اللہ تو ہماری ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو قبول فرما۔

چنانچہ اس ماہ کے روزے کی حکمت ومصلحت کے بارے میں اللہ نے فرمایا ’’لعلکم تتقون‘‘ یعنی میرے بندوں ہم نے تم پر اوپر روزہ اس لئےفرض کیا ہے تاکہ تمہارےدلوں میں اس کا ڈر، خوف، تقویٰ وپرہیزگاری کا جذبہ مزید پیدا ہوجائے، اوراگر ابھی تک ہم خواب خرگوش میں بدمست تھے تو سنبھل جائیں کہ اس نے دوبارہ ہمیں یہ عظیم اور بہترین موقع دیا ہے کہ توبہ واستغفار، فرائض کے ساتھ ساتھ کثرت سے نوافل کا اہتمام نیز تلاوت قرآن اور ذکر واذکار کے ذریعہ اپنے مالک حقیقی کو راضی وخوش کرسکیں ۔ رسول اکرم ﷺ کی پیاری حدیث اس بات پر دال ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایسے بندوں سے بہت خوش ہوتا جن سے اگر کوئی غلطی ہوجاتی ہے تو وہ فورا س کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنے دامن کو پھیلا کر گریہ وازاری اور سربسجود ہوکر روتے وگڑگڑاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ کئی باراللہ نے اپنے مقدس کلام کے اندر فرمایا : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللہ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ ﴾’’ اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو قریب ہے کہ تمہارا تمہارے گناہ دور کردے ‘‘اورفرمایا ﴿ وَتُوبُوا إِلَى اللہ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾اور اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پائو۔ نیز اللہ کی ذات سراپا غفور الرحیم ہے اس کا فرمان ہے﴿إِنَّ اللہ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾بلاشبہ اللہ تعالیٰ زیادہ سے زیادہ توبہ کرنے والوں اور پاک وصاف رہنے والوں کو پسند فرماتاہے۔

اللہ تعالی کی شان کریمی دیکھئے کہ اس نے اپنانام ہی” التواب “یعنی بندوں کی توبہ قبول کرنے والا بتایاہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾ ”اورمیں توبہ قبول کرنے والااوررحم کرم کرنے والاہوں “۔ وہ چوبیس گھنٹے اپنے بندوں کی توبہ کامنتظررہتاہے، اورصبح وشام اپناہاتھ پھیلاتاہے، تاکہ معافی کے طلبگار توبہ کرلیں ، صحیح مسلم کی روایت ہے، ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان اللہ یبسط یدہ باللیل لیتوب مسیءالنھار، ویبسط یدہ بالنھار لیتوب مسیءاللیل حتی تطلع الشمس من مغربہا” اللہ تعالی رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کو برائی کرنے والا(رات کو)توبہ کرلے اوردن کوپھیلاتاہے تاکہ کوگناہ کاارتکاب کرنے والا (دن کو)توبہ کرلے (یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا )جب تک سورج غروب سے طلوع نہ ہو “۔ وہ اپنے گنہگار بندوں کو رحمت وشفقت بھرے لہجے میں پکارتاہے:﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللہ  يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴾”اے میرے وہ بندو!جواپنی جانوں پر زیادتی کربیٹھے ہو، اللہ کی رحمت سے ہرگزمایوس نہ ہونا، یقینااللہ تمہارے سارے گناہ معاف فرمادے گا، وہ بہت ہی معاف فرمانے والا اورنہایت مہربان ہے، اورتم اپنے رب کی طرف رجوع ہوجاؤاوراس کی فرمانبرداری بجالاؤ اس سے پہلے کہ تم پر کوئی عذاب آجائے اورپھرتم کہیں سے مددنہ پاسکو“۔

رب کریم کی رحمت انسانی تصورسے بالاترہے، سمندرکے چھاگ سے زیادہ گناہ کرنے والا بھی جب اپنے گناہوں پر شرمسار ہوکر اس کے سامنے جھکتاہے تواللہ تعالی اس کی بات سنتاہے اوراسے اپنے دامن رحمت میں پناہ دیتاہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہمارے آخری نبی محمد رسول اللہ جو معصوم عن الخطا ء جن کے اگلے او رپچھلےتمام خطائووں کو اللہ نے اسی دنیا کے اندر ہی معاف کردیا تھا پھربھی آپ (۷۰) اور دوسری روایت کے مطابق سو (۱۰۰)سے بھی زائد مرتبہ اپنے پرودگار سے توبہ واستغفارکرتے تھے۔ لیکن آج ہم اسی نبی اسی قرآن اور اللہ کو ماننے والے ہیں کہ ہمیں دن ورات میں ایک مرتبہ بھی اللہ سے توبہ واستغفار کی توفیق نہیں ہوتی۔ یہ نیکیوں کا موسم بہار ہمارے لئے نہایت ہی قیمتی اور اہمیت کاحامل ہےاور یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ اللہ نے ہمیں دوبارہ یہ موقع نصیب فرمایا کہ ہم اس میں اپنےبھولے ہوئے سبق کو یاد کرلیں ، قیام وصیام اور ذکرواذکار  کے  ذریعہ اپنے پروردگار کو راضی اور خوش کرلیں۔

 چنانچہ یہ مبارک مہینہ جس کے پورے ایام کے روزے ہر عاقل وبالغ،  مقیم مردوخواتین پر فرض کیے گیے ہیں جس میں بندوں کو اس بات کی ٹرینگ دی جاتی ہے کہ جس طرح ایک مالدار بھوک وپیا س کی شدت کو برداشت کرتاہے اسی طرح ایک غریب ومزدور بھی بھوک کی پریشانیوں کو جھیلتااور برداشت کرتاہے لہٰذا صاحب ثروت افراد کو اپنے ان غریب بھائیوں کی پریشانیوں کا خیال کرتے ہوئےاپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہئے اور اپنے زکوٰۃ وخیرات اور خصوصی تعاون کے ذریعہ ان  کا مالی تعاون کرناچاہئے تاکہ ان کے گھروں میں بھی خوشحالی آئے اور وہ بھی سکون سے اللہ کی عبادت کرسکیں۔

اسی طرح یہ مبارک مہینہ ہمارے ان بھائیوں کے لئے بھی ایک نعمت غیر مترقبہ ہے جو نمازوں (فرائض ونوافل )سے غافل تھےکہ وہ سحری کے بعد نماز فجر اور صلاۃ عشاء کے بعدتراویح کا خصوصی اہتمام کریں ، اور اس مہینہ میں رب کی رضاجوئی کے لئے ان تمام فواحش ومنکرات سے اجتناب کریں جو ہمارے روزوں کی قبولیت میں حائل ہورہے ہوں ، اور یہ روزے ہمیں اس بات کی بھی ٹرینگ دیتے ہیں کہ اے لوگو! تم جس طرح اس ماہ مبارک میں دن بھر بھوکے اور پیاسے صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطر رہتے ہو اور اپنے ان تمام قبیح عادات سے باز رہتے ہوجس کو تم دیگرمہینوں میں نہایت ہی دھڑلےسے  سرعام انجام دیتے ہومثلا :پان، بیڑی، تمباکو، گٹکھا، سگریٹ نوشی، مہ نوشی،  جوا، تاش،  شراب، جھوٹ، بے ایمانی، گالی گلوچ اور دیگر عادات قبیحہ سے باز رہو۔ اور نیکیوں کے اس موسم بہار میں کثرت سے نیکیوں کو اکٹھا کرلو۔ جوقبر میں منکر نکیر کے سوالوں سے بچائواور قیامت کے دن میدان محشر میں تمہارے کام آنے والی ہیں جہاں کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہوگا نفسی نفسی کا عالم ہوگا لوگ ایک ایک نیکی کے لئے ترس رہے ہوں گے وہاں نہ باپ بیٹے کا نہ بیٹا باپ کے کام آئے گا نہ ماں بیٹی کے نہ بیٹی ماں کے کچھ کام آسکے گی نہ بیوی شوہر اور نہ ہی شوہر بیوی کا پرسان حال ہو گا وہاں نہ دولت نہ جاہ ومنصب اور نہ ہی عزیز ترین دوست اور اعزہ واقرباء کچھ کام آئیں گے بلکہ ایک دوسرے کو دیکھ کر دور بھاگیں گے کہ میرا باپ میری ماں میری بیوی مجھ سے ایک نیکی نہ مانگ لے اور میری نیکیوں میں کمی آ جائے، لوگو! اگر وہاں تمہارے کچھ کام آسکتی ہیں تو یہی تمہاری دنیاوی نیکیاں اور اعمال حسنہ جسے تم اس درافانی کے اندر حقیر سمجھتے ہو یہی نمازیں ، روزے، تلاوت قرآن، صدقات وخیرات، ذکرواذکار، حج وعمرہ اور نوافل وغیرہ ہی کام آئیں گی جس سے تم بھاگتے اور کتراتے ہو۔ یاد کرو اس قبر اور اس کی سختی اور میدا ن محشر کو جس کی سختی سے انبیاء وصلحاء بھی پناہ مانگتے تھے۔ غرض مسلمانوں ابھی وقت ہے سنبھل جائواس سے قبل کہ ہمارے پاس موت کا فرشتہ پروانہ اجل لے کرحاضر ہوجائے، اس موقع ومہینہ کو غنیمت کو جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ توشہ ا ور زاد راہ اکٹھا کرلو۔ اور اپنے آپ عابدین اور صالحین میں شمار کرالو۔

اللہ ہمیں اخلاص کے ساتھ پورے مہینہ کا روزہ رکھنے اور قیام کرنے کی توفیق عطا فرما اور بعدہ اس کے اچھے اور صالح اثرات ہماری زندگیوں پر برقرار رکھ۔ تو ہی ہمارا حامی اور ناصر ہے۔

مزید دکھائیں

عبدالباری شفیق

مضمون نگار ماہنامہ مجلہ ’’النور‘‘ (ممبئی) کے ایڈیٹر ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close