عباداتمذہب

وہ بدنصیب ہے جو آخری عشرہ میں بھی محروم رہے

اگر اس دوزخ کی سزا سے بچنے کا یقین دلا دیا جائے تو کیا رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں یہ دس دن بازار کے بجائے مسجد میں نہ گزارے جائیں

حفیظ نعمانی

رمضان المبارک کا عشرۂ رحمت اور مغفرت ختم ہوتے اب آخری عشرہ ’’دوزخ سے نجات‘‘ شروع ہورہا ہے۔ یہ وہ عشرہ ہے جس میں بہت بڑے گناہگار خطرناک مجرم اللہ قادر مطلق کے کھلے نافرمان بھی اگر سچے دل سے توبہ کریں اور توبہ کے بعد باقی زندگی اپنی توبہ پر قائم رہیں تو اُن کو بھی دوزخ کی سزا سے نجات مل جائے گی۔

30 ویں پارہ کے آخر میں جو چھوٹی چھوٹی سورتیں ہیں ان میں ایک چھوٹی سورۃ ’’الہمز‘‘ ہے اسے جب جب پڑھتا ہوں لرز جاتا ہوں اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں ۔

بڑی خرابی اور بربادی ہے ہر ایسے شخص کے لئے جو ہنسی اُڑاتا اور تمسخر کرتا ہے اور عیب جوئی اور بدگوئی کرتا ہے، جو مال جوڑتا اور اس کو گنتا رہتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کا یہ مال اس کو ہمیشہ باقی رکھے گا۔ ایسا ہرگز نہیں وہ یقیناًپھینکا جائے گا۔ حطمہ میں اور تم کیا جانو کہ وہ حطمہ کیا ہے۔ آگ ہے اللہ کی بھڑکائی ہوئی وہ چڑھ دوڑے گی دلوں پر وہ اُن پر بند کردی جائے گی لمبے لمبے ستونوں میں۔

ہمز اور لمز یہ دونوں قریباً ہم معنیٰ لفظ ہیں ہماری اُردو زبان کے کسی ایک لفظ میں ان کا ترجمہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہمز کے معنیٰ ہیں کسی کی ہنسی اُڑانا، تمسخر و استہزا کرنا بھپتی کسنا غیبت کرنا نقل اُتارنا تحقیر آمیز اشارے اور حرکتیں کرنا یہ سب خواہ زبان سے ہوں یا ہاتھ اور آنکھ کے اشارے سے ہمز کے مفہوم میں یہ سب صورتیں شامل ہیں ۔ اخبارات اور رسالوں میں جو کارٹون بنائے جاتے ہیں وہ بھی ہمز کی ہی ترقی یافتہ شکل ہے۔

اور ’’لمز‘‘ کے معنیٰ ہیں کسی کی عیب جوئی اور بدگوئی کرکے اس کی تحقیر اور تذلیل کرنا۔ ہمزہ اور لمزہ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں ۔ ان کا مطلب ہوا بہت زیادہ ہمز اور لمز کرنے والے اور ان دو کے بعد تیسری بڑی خصلت سرمایہ پرستی اور اس سے دلچسپی اور اس میں غیرمعمولی انہماک کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا گیا ہے۔ ’’الّذی جمع مالا وعددہُ‘ یحسب ان مالہ اخلدہ‘‘ یعنی وہ آدمی جو مال جمع کرتا اور اس کو ہر وقت گنتا رہتا ہے۔ اور خیال کرتا ہے کہ اس کا یہ مال اس کو ہمیشہ باقی رکھے گا۔ یہ حال ان دولت پرستوں کا ہے جو آخرت سے بالکل غافل اور بے فکر ہوتے ہیں ۔ بلاشبہ ہمز اور لمز کی طرح یہ دولت پرستی، کافرانہ اور منافقانہ خصلت ہے۔

جس زمانہ میں مکہ معظمہ میں یہ سورت نازل ہوئی اس وقت اس کا خاص مصداق کفار و مشرکین تھے جو کافر ہونے کے ساتھ کمینے اور موذی بھی تھے وہ اہل ایمان کو تمسخر و استہزا کا نشانہ بناتے پھبتیاں کستے اشارے بازی ان کی عیب جوئی و بدگوئی کرکے دُکھ پہونچاتے اور ان کا دل دُکھاتے تھے یہی ان ظالموں اور بدبختوں کا تفریحی مشغلہ تھا اسی کے ساتھ ان کا حال یہ تھا کہ آخرت کی طرف سے غافل اور بے فکر ہوکر بس دنیا کمانے اور مال جوڑنے میں لگے رہتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ مال ہی ہم کو ہر بلا سے محفوظ رکھے گا۔ ان کے اس زعم باطل کی تردید میں پہلے تو فرمایا گیا ’کلّا‘ ہرگز ایسا نہیں ہوگا بلکہ وہ ’حطمہ‘ میں پھینک دیئے جائیں گے۔

’الحطمہ‘ کے لفظی معنیٰ ہیں چور چور اور ریزہ ریزہ کردینے والی اور یہاں اس سے مراد آتش دوزخ ہے۔ آگے اس حطمہ کی غیرمعمولی حیثیت کو بیان کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ’وماادراک مامحطمہ‘ اور ’تم کیا جانو کہ حطمہ کیا ہے؟ اور کیسی ہے؟‘‘ یہ اسی طرح فرمایا گیا ہے جیسے دوسری سورتوں الحاقہ اور القارعہ میں کہا گیا ہے۔ جب کسی چیز کی انتہائی شدت اور ہولناکی بیان کرنا مقصد ہوتا ہے تو استفہامیہ انداز میں خطاب کیا جاتا ہے۔چنانچہ ’الحطمہ‘ کی انتہائی ہولناکی کی شدت بیان کرنے کے لئے اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔ ’وماادراک مامحطمہ‘ تم کیا جانو کہ ’الحطمہ‘ کیا ہے اور کیسی ہے؟ آگے خود ہی اس کی آخری درجہ کی ہولناکی اُن الفاظ میں بیان کی گئی کہ مطلب یہ کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی اور بنائی ہوئی ایک خاص قسم کی دہکتی ہوئی آگ ہے ظاہر ہے کہ اس سے مراد دوزخ کی آگ ہے جو اللہ تعالیٰ کے قہر و جلال کا خاص مظہر ہوگی اسی خصوصیت کی وجہ سے اس کو نارِ اللہ اللہ کی آگ کہا گیا ہے۔ آگے اس آگ کی غیرمعمولی خصوصیت بیان فرمائی گئی ہے کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ چڑھ دوڑے گی اور پھاڑ ڈالے گی مجرموں کے دلوں کو اس کا خاص نشانہ ان کے دل ہوں گے۔ جس کے تمام اعضاء میں دل سب سے نازک عضو ہے اور یہ آگ سب سے زیادہ دل کو بھونے گی۔

اس دنیا میں اگر کوئی آدمی آگ میں ڈال دیا جائے تو اس کی کھال اور اس کا جسم پہلے جلے گا اور اس سے زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا دل تک آگ کے پہونچنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ لیکن جہنم کی آگ کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ اس کا پہلا نشانہ دل ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کفر اور شرک اور تمام بداعمالیوں کی جڑ دل میں ہی ہوتی ہے اس لئے دوزخ کی آگ کا نشانہ دل ہی ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ۔ پھر وہ آگ ان ظالموں پر بند کردی جائے گی۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ آگ اگر بند کردی جائے تو اس بند دائرے میں اس کی تپش اور حدت کہیں زیادہ ہوجاتی ہے۔ جس کا اندازہ اینٹ پکانے والے بھٹوں کی بند آگ اور کولر سے کیا جاسکتا ہے۔ اب ذرا تصور کیجئے کہ موٹے موٹے ستون لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مجرم اور اس احاطہ میں آگ دہکاکر بند کردی جائے گی تو اس کا تصور کرکے ہی انسان کانپ جائے کہ جس میں ایک سکنڈ نہ رہا جاسکے اس میں لاکھوں برس رہنا ہے اور ہر کوئی موت مانگ رہا ہوگا لیکن موت کا تصور بھی نہیں ہوگا۔

اگر اس دوزخ کی سزا سے بچنے کا یقین دلا دیا جائے تو کیا رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں یہ دس دن بازار کے بجائے مسجد میں نہ گزارے جائیں جس میں جتنا ممکن ہو جاگ کر اپنے مولا سے معافی مانگی جائے اور وعدہ کیا جائے کہ آئندہ نافرمانی نہیں ہوگی۔ ہمز اور لمز جسے چگی بازی بھی کہا جاسکتا ہے کون کہہ سکتا ہے کہ وہ نہیں کرتا؟ اور جب اس عشرہ کی ایک رات وہ ہے جس میں 83 برس کی عبادت کا ثواب ہے وہ کسی خاص قسم کے مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ ہم سب کے لئے ہے۔ اس کے بعد بھی اگر ہم مسلمان اتنی تعداد میں دس دن مسجدوں میں نہ رہیں کہ مسجدیں تنگ پڑجائیں تو ہم سے بڑا بدنصیب کون ہوگا۔ خدا کیلئے عید کی تیاری میں وقت برباد نہ کرو دوزخ کی آگ سے بچنے کی فکر کرو اور دن رات ’اشہد ان لاالہ الااللہ و اشہد ان محمداً عبدہٗ و رسولہٗ اسئل اللہ لالجنۃ و اعوذ باللہ من النار‘ جتنی بار پڑھ سکتے ہو پڑھتے رہو اور اللھم انک عفو لحب العفو فعف عنی زبان پر رہے۔ اور سب ایک دوسرے کے لئے دعا کریں اور کوشش کریں کہ اسی سال جنت کی کوٹھی الاٹ ہوجائے۔

مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close