عباداتمذہبمنطق و فلسفہ

کیا اسلام کا تصور قربانی دیگر مذاہب سے اخذ کیا گیا ہے؟

علی عباس جلال پوری و دیگر ملحدین کا اعتراض اور اس کا تاریخ، جینیٹکس اور آرکیالوجیکل حقائق سے جواب۔

ڈاکٹر احید حسن

ملحدین کا ایک اور چٹکلہ سننے میں آیا ہے جو کہ ایک دوست نے ان باکس کیا۔ وہ دوست کہتا ہے کہ ایک ملحد کا دعوٰی ہے کہ اسلام کا تصور قربانی دیگر مذاہب سے اخذ کیا گیا ہے نعوذ بااللہ اور دنیا کے کئی دیگر مذاہب میں بھی قربانی کا تصور موجود ہے۔

کیا واقعی ایسا ہے ؟آئیے اس پہ تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔ آشوری( جن کی تاریخ 2500 قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام لگ بھگ 2300 قبل مسیح میں پیدا ہوئے)  اپنے آباؤ اجداد کی قبروں پر چھڑکاؤ کرتے تھے۔ ہندوؤں(ہندو مذہب کے آغاز کی تاریخ 1500 قبل مسیح سے 500 قبل مسیح ہے، یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش کے آٹھ سو سال بعد)  کے ہاں بھی تطہیر اور پاکی کے لیے یہ کا م انجام دیا جاتا تھا۔ زیادہ تر عرب سامی اقوام( سامی اقوام کی تاریخ 3000 قبل مسیح سے بھی پہلے کی ہے) کی طرح اپنی قربانیوں کے خون کا چھڑکاؤ کرتے تھے یا پھر فنیقیوں( فونیقیوں کی تاریخ 2500 قبل مسیح سے 539 قبل مسیح کی ہے) کی طرح دودھ کاچھڑکاؤ کرتے تھے۔ بعض لوگ خون کے بجائے شراب کا چھڑکاؤ کرنے لگے اور وہ اسے انگور کا خون قرار دیتے تھے۔ بعض قوموں میں خود خداؤں کی قربانی کا بھی رواج رہا ہے۔ ہندوؤں کی بعض قدیم کتابوں کے مطابق خدا قربانی دے کر بہشت حاصل کرتے تھے۔

دومۃ الجندل کے لوگ ہر سال خاص انداز سے ایک شخص کا انتخاب کرتے اور اپنے خداؤں اور بتوں کے حضور اسے قربان کر دیتے پھر اس کا جسم قربان گاہ کے قریب دفن کر دیتے۔

عبدا لصبور شاکر اپنے ایک مقالے ’’مذاہب عالم میں قربانی کا تصور‘‘میں مختلف ملکوں اور قوموں کے ہاں قربانی کے تصور کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

۔۔۔ افریقا، جنوبی امریکا( آثار قدیمہ کے مطابق انسان آج سے پندرہ ہزار سال قبل براعظم امریکہ میں پہنچ چکے تھے)، انڈونیشیا،جرمنی اور سکینڈے نیویا کے بعض قبائل اپنے دیوتاؤں کے غضب سے بچنے، ان کی خوشنودی حاصل کرنے، کسی نئی عمارت، پُل یا بادشاہ کی موت، یا ناگہانی آفت کے وقت انسانوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق قدیم یونانی بھی انسان کی قربانی کے قائل تھے جس کی تصدیق ان ہڈیوں سے ہوتی ہے جنھیں آثار قدیمہ کے ماہرین نے کھدائی کے دوران برآمد کیا ہے۔ کریٹ کے قلعے سے ملنے والی بچوں کی ہڈیاں اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ انھیں ذبح کیا گیاتھا۔

کہا جاتا ہے کہ چوتھی صدی قبل مسیح میں روم میں کنسولی کامیل کے زمانے میں سینٹ اور عوام میں اختلاف کے خاتمے پر جشن برپا کیا گیا اور تمام عبادت گاہوں میں خداؤں کے شکرانے کے لیے قربانیاں پیش کی گئیں۔

مغربی ایشیا کے سامی بادشاہوں میں سے ایک کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ موآب(جو شام کا علاقہ تھا) کے بادشاہ نے جب اپنی سلطنت کو بنی اسرائیل سے خطرے میں محسوس کیا تو اپنے بڑے بیٹے کو خداؤں کے حضور فدیہ کردیا۔ یہ اس کا وہی بیٹا تھا جسے اس کا جانشین ہونا تھا۔ بادشاہ کے حکم پر اسے شہر کی قربان گاہ پر لے گئے جہاں اسے فدیہ کے نام پر قتل کردیا گیا اور اس کے جسم کو جلا دیا گیا۔

عرب کے بہت سے قبیلے جب کسی جنگ میں کامیاب ہو جاتے تو مغلوب قوم کے اموال لوٹ لیتے اور ان کے لوگوں کو قیدی بنا لیتے۔ اس فتح کے شکرانے میں وہ جو کام انجام دیتے ان میں سے ایک یہ تھا کہ قیدیوں میں سے خوبصورت ترین شخص کو اپنے بتوں کے حضور قربان کر دیتے۔ اس کے خون کو کامیابی کے تسلسل کے لیے اپنے سر اور چہرے پر ملتے۔

بعض قدیم ادیان میں غیر خونی قربانی کی سلسلہ بھی رائج رہا ہے مثلاً پھلوں، سبزیوں، اناج کے دانوں، مائعات خصوصاً پانی اور شراب کو قربانی کے عنوان سے پیش کیا جاتا تھا۔ چیزوں اور حیوانوں کو قربانی کے لیے وقف کردیا جاتا تھا ۔ فرائڈ کا کہنا ہے کہ نباتات کی قربانی تازہ اتارے گئے پھلوں کو ہدیے کے طور پر پیش کرنے سے شروع ہوئی۔ یہ زمین کے مالک کی طرف سے ایک طرح کی مالی قربانی یا ٹیکس کی ادائیگی شمار ہوتی تھی۔

قبل ازاسلام کے مصری لوگ دریائے نیل کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ایک خوبصورت اور کنواری دوشیزہ کی قربانی دیتے تھے جسے زیورات وغیرہ سے سجا سنوار کر دریا کے عین وسط میں چھوڑ دیا جاتا جس کے بعد دریائے نیل رواں ہو جاتا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض ادیان میں جانور کی قربانی اصلاً ممنوع ہے۔ مثلاً بدھ مت اور ہندومت کے ہاں جانور کی قربانی منع ہے۔ بدھ مت میں تو اب بھی یہی تصور پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زرتشت کے ہاں بھی جانور کی قربانی کا تصور نہ تھا اور بعد میں ان کے ماننے والوں کے ہاں درآیا۔

ہندوؤں کا مسئلہ بہت عجیب ہے کہ ان کے ہاں جہاں ایک طرف جانور کی قربانی منع ہے وہاں انسانوں کی قربانی کا تصور اب بھی پایا جاتا ہے۔ ستی کی رسم تو کچھ عرصہ پہلے تک رائج رہی ہے۔ اس کی کچھ وضاحت ہم وکی پیڈیا سے پیش کرتے ہیں:
ہندو عقیدے کے مطابق شوہر کے مرنے پر بیوہ کا شوہر کی چتا میں جل کر مرنا ستی کہلاتا ہے۔ جو ہندو مردے کو جلانے کی بجائے دفن کرتے تھے وہ بیوہ کو بھی زندہ دفن کرکے ستی کی رسم ادا کرتے تھے۔ جب شوہر کی موت کہیں اور ہوتی تھی اور لاش موجود نہ ہوتی تھی تو ستی کی رسم ادا کرنے کے لیے بیوہ کو شوہر کی کسی استعمال شدہ چیز کے ساتھ جلا دیا جاتا تھا۔
ہندوستان میں ستی کا رواج بنگال میں زیادہ عام تھا۔ ستی ہونے والی خاتون کو ماتمی لباس کی بجائے شادی کے کپڑے پہنائے جاتے تھے اور ستی کی کافی ساری رسمیں شادی کی رسومات سے ملتی جلتی ہوتی تھیں۔ سمجھا جاتا تھا کہ ستی ہونے سے جوڑے کے تمام گناہ دھل جائیں گے، انھیں نجات حاصل ہوگی اور وہ موت کے بعد بھی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔
ستی کی رسم مذہب میں کیسے داخل ہوئی اس پر ایک بہت قابل توجہ پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ اس زمانے میں امیر اور با اثر عمررسیدہ لوگ جوان اور خوبصورت لڑکیوں سے شادی کرنے میں تو کامیاب ہو جاتے تھے مگر انھیں ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ان کی جوان بیوی کاکسی ہم عمر مرد سے معاشقہ نہ ہو جائے اور بیوی شوہر کو زہر نہ دے دے۔ ستی کی اس رسم کو مذہبی رنگ دینے سے بیوی اپنے شوہر کو کبھی بھی زہر دینے کی جرأت نہیں کرے گی تاکہ خود بھی جل مرنے سے محفوظ رہے۔(حوالہ نامعلوم)

حلال جانور کو بہ نیتِ تقرب ذبح کرنے کی تارِیخ حضرت آدَم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل وقابیل کی قربانی سے ہی شروع ہوجاتی ہے، یہ سب سے پہلی قربانی تھی، حق تعالیٰ جلَّ شانُہ کا اِرشاد ہے:

”وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ م اِذْقَرَّ بَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ“۔(۱)

ترجمہ:۔”اور آپ اہلِ کتاب کو آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ صحیح طور پر پڑھ کر سنا دیجیے، جب ان میں سے ہرایک نے اللہ کے لیے کچھ نیاز پیش کی تو ان میں سے ایک کی نیاز مقبول ہوگئی، اور دُوسرے کی قبول نہیں کی گئی“۔

علامہ اِبن کثیر رحمہ اللہ نے اِس آیت کے تحت حضرت اِبن عباس رَضی اللہ عنہ سے رِوایت نقل کی ہے کہ ہابیل نے مینڈھے کی قربانی کی اور قابیل نے کھیت کی پیداوار میں سے کچھ غلہ صدقہ کرکے قربانی پیش کی، اُس زمانے کے دستور کے موافق آسمانی آگ نازل ہوئی اور ہابیل کے مینڈھے کو کھا لیا، قابیل کی قربانی کو چھوڑ دِیا۔(۲)

اِس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا عبادت ہونا حضرت آدَم علیہ السلام کے زمانے سے ہے اور اس کی حقیقت تقریباً ہرملت میں رہی؛ البتہ اس کی خاص شان اور پہچان حضرت اِبراہیم و حضرت اِسماعیل علیہما السلام کے واقعہ سے ہوئی، اور اسی کی یادگار کے طور پراُمتِ محمدیہ پر قربانی کو واجب قرار دیا گیا۔

سابق انبیاء کرام علیہم السلام کی شریعتوں میں قربانی کا تسلسل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت تک پہنچتاہے، جس کا طریقہ یہ تھا کہ قربانی ذبح کی جاتی اور وقت کے نبی علیہ السلام دُعا مانگتے اور آسمان سے خاص کیفیت کی آگ اُترتی اور اُسے کھاجاتی جسے قبولیت کی علامت سمجھا جاتا تھا، قرآنِ کریم میں ہے:

۴:- ”اَلَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ عَھِدَ اِلَیْنَآ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّیٰ یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْکُلُہُ النَّارُ“۔(۵)

ترجمہ:۔”یہ لوگ ایسے ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں حکم دے رکھاہے کہ ہم کسی رسول کی اُس وقت تک تصدیق نہ کریں؛ جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لائے کہ اُس کو آگ کھاجائے“۔

علامہ ابن کثیر ؒ نے بہ روایت ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں نقل فرمایا کہ ہابیل نے ایک مینڈھے کی قربانی پیش کی اور قابیل نے اپنے کھیت کی پیداوار سے کچھ غلہ وغیرہ صدقہ کرکے قربانی پیش کی۔ حسب دستور آسمان سے آگ نازل ہوئی ہابیل کے مینڈھے کو کھاگئی اور قابیل کی قربانی کو چھوڑ دیا۔ قربانی کے قبول ہونے یا نہ ہونے کی پہچان پہلے انبیائے کرامؑ کے زمانے میں یہ تھی کہ جس کی قربانی اللہ تعالیٰ قبول فرماتے تو ایک آگ آسمان سے آتی اور اس چیز کو جلا دیتی تھی۔ سورۃ آل عمران میں اس کا ذکر آیا ہے کہ قربانی جس کو آگ کھا جائے۔ اس زمانے میں کفار سے جہاد کے ذریعے جو مال غنیمت ہاتھ آ تا تو اس کو بھی آسمان سے آگ نازل ہوکر کھا جاتی تھی اور یہ جہاد کے مقبول ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ امت محمدی ؐ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی انعام ہو ا کہ قربانی کا گوشت اور مال غنیمت ان کے لیے حلال کر دیے گئے۔

قربانی ایک عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں بھی اس کو عبادت سمجھا جاتا تھا مگر وہ بتوں کے نام پر قربانی کرتے تھے۔ اسی طرح آج تک دوسرے مذاہب میں قربانی مذہبی رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہے جو بتوں کے نام پر یا مسیح کے نام پر قربانی کرتے ہیں۔ سورۃ کوثر میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جس طرح نماز اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہوسکتی اسی طرح قربانی بھی اسی کے نام پر ہونی چاہیے۔

اس سے ایک بات تو ثابت ہوگئی کہ انسانی نسل کی تمام نمایاں تہذیبوں میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی طرح موجود رہا ہے۔ لیکن ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر اسلام نے قربانی کا تصور نعوذ بااللہ دیگر مذاہب سے اخذ کیا تو ان مذاہب نے بزات خود قربانی کا تصور کہاں سے اخذ کیا۔ آشوری یعنی قدیم شامی جن کی تاریخ آج سے ساڑھے چار ہزار سال قبل یعنی 2500 قبل مسیح کی ہے انہوں نے یہ تصور کہاں سے اخذ کیا اور انہوں نے جس سے اخذ کیا ان لوگوں نے یہ تصور کہاں سے اخذ کیا اور پھر ان لوگوں نے کہاں سے اخذ کیا اور پھر ان لوگوں نے کہاں سے اخذ کیا اور قدیم امریکی لوگ جن کے بارے میں آثار بتاتے ہیں کہ وہ وسط ایشیا سے آج سے پندرہ ہزار سال قبل آبنائے بیرنگ کے راستے سے الاسکا اور براعظم امریکہ پہنچے ان لوگوں نے قربانی کا تصور کہاں سے اخذ کیا جب کہ وہ تو پوری دنیا سے الگ تھلگ ایک براعظم میں مقیم تھے جو پندرہ ہزار سال باقی دنیا سے الگ رہا۔ معلوم انسانی تاریخ اس کا جواب دینے سے قاصر ہے اور اس معلوم تاریخ کے جانے بغیر یہ الزام بالکل نہیں لگایا جا سکتا کہ فلاں نے فلاں سے یہ تصور نقل کیا۔ اور اگر اس بات پہ غور کیا جائے کہ کیوں یہ تصور انتہائی دور دراز ان انسانی تہذیبوں جیسا کہ قدیم امریکیوں میں بھی موجود ہے جو پندرہ ہزار سال باقی تمام انسانوں سے الگ تھلگ رہے۔ کیا کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ان سب مذاہب اور تہذیبوں میں قربانی کا تصور ان انسانوں کے اجداد میں سے ایک ہی ذریعے سے آیا ۔ یہ وہ امکان ہے جس کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن ملحد مورخین اور ماہرین آثار قدیمہ اس کو یکسر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح مذہب کو جھٹلا دیا جائے۔

جب ان ملحدین کے پاس تمام انسانی تاریخ میسر ہی نہیں اور تاریخی امکانات یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ تمام انسانوں نے قربانی کا تصور اپنے اجداد میں سے ایک ہی ذریعے سے لیا جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا تو پھر کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ فلاں نے فلاں سے اخذ کیا۔

آشوری، ہندو مذہب، سامی اور حامی اقوام جو کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام اور حام کی اولاد ہیں، ہندو تہذیب،قدیم رومی و یونانی تہذیبیں سب کی تاریخ آج سے محض 2500 سے تین ہزار قبل مسیح تک جاتی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام 2300 قبل مسیح میں گزرے۔ اس پہ کوئی کہ سکتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی تعلیمات کی بنیاد پہ اسلام نے قربانی کا تصور بعد میں دیا جب کہ انسانوں میں قربانی کا تصور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود تھا لیکن اس پہ ہم ایک سوال کریں گے اور وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو 2300 قبل مسیح میں گزرے لیکن حضرت نوح علیہ السلام آج سے دس سے پچاس ہزار سال قبل گزر چکے ہیں( انسانی جینوم پہ کی گئی تحقیقات کے مطابق انسانی نسل میں دو Human population bottle neck ملتے ہیں جن میں سے ایک آج سے دس ہزار سال قبل اور ایک آج سے پچاس ہزار سال سے باون ہزار سال قبل جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان وقتوں میں انسانی نسل مٹنے کے قریب ہوگئی تھی اور طوفان نوح کا ممکنہ وقت یہی تھا) اور ان کی الہامی تعلیمات بھی وہی اور اسی رب کی طرف سے ہیں جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھیجا اور وہ قربانی بھی کیا کرتے تھے تو پھر یہ کیوں نہ کہا جائے کہ ابراہیمی مذاہب اور اسلام کا قربانی کا تصور باقی مذاہب سے بھی زیادہ قدیم ہے ۔ لہذا اب بات الٹ ہوتی ہے یعنی اسلام اور دیگر ابراہیمی مذاہب نے قربانی کا تصور اور مذاہب سے نقل نہیں کیا بلکہ ان مذاہب نے حضرت نوح علیہ السلام اور مذہب کی تعلیمات سے اخذ کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ قربانی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود نوع انسانی کی۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل نے قربانی کی تھی جس کا ذکر خود قرآن میں ہے۔ محمد فرید وجدی کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام نے ایک مذبح بنایا تھا جس میں وہ بہت سارے حیوانات اﷲ پاک کے نام پر قربان کرتے تھے۔ اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی جانوروں کی قربانی کیا کرتے تھے، توریت میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی قربان گاہ کا تذکرہ ملتا ہے، شریعت موسویہ میں قربانی کی اتنی اہمیت حاصل رہی ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی اور اہم اور افضل عبادت ہے ہی نہیں۔اس کے علاوہ دنیا کی دیگر تمام ہی اقوام و ملل میں قربانی کا رواج رہا ہے۔ فرید وجدی صاحب کے بیان کے مطابق تو بعض اقوام نے قربانی میں اتنا غلو کیا کہ انسانوں کو ذبح کرنے لگے۔ چنانچہ اہل فارس، اہل روما، اہل مصر، فینقیوں، کنعانیوں کا یہی طریقہ رہا ہے۔ بعد میں ساتویں صدی عیسوی کے بعد یورپ میں ”روحانی شیوخ کمیٹی” کو اس کے ابطال کا حکم صادر کرنا پڑا۔

معلوم ہوا کہ قربانی کا طریقہ محض چند ہزار سال پہلے ایجاد ہونے والی رسم نہیں، بلکہ اس کا رشتہ قدیم تریم مذہبی عبادات سے جڑتا ہے جو دنیا میں آنے والی تقریباً ہر قوم کا ایک مذہبی فریضہ رہا ہے۔

اس سے یہ ثابت ہوا کہ قربانی مذہب ہی کا تصور ہے اور یہ حضرت آدم علیہ السلام سے ہی شروع تھی جس کو بعد میں دیگر تہذیبوں نے بگاڑ کر انسانی و دیگر طرح کی قربانیوں میں تبدیل کر دیا۔ اس  پہ ملحدین یہ دعوٰی کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نعوذ بااللہ تاریخ کی فرضی شخصیت تھے جب کہ جدید جینیاتی سائنس ثابت کر چکی ہے کہ تمام انسان ایک مرد یعنی وائے کروموسوم آدم اور ایکس کروموسوم حوا کی اولاد ہیں۔ جب جینیٹکس ان کو اس طرح جھوٹا ثابت کرتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام تاریخ کے پہلے فرد نہیں ہیں لیکن اس کا بھی تفصیلی جواب میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔

ملحدین کی مثال پنجرے کے اس جانور کی سی ہے جسے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا تو پنجرے سے ہی اپنا سر پٹختا رہتا ہے اور ہماری یہ پیش کردہ ساری تفصیل ظاہر کرتی ہے کہ یہ اعتراض کہ اسلام نے قربانی کا تصور دیگر مذاہب سے اخذ کیا، تاریخی جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے جس کو علی عباس جلال پوری جیسے آجکل دانشور اپنی تصانیف میں پیش کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آنکھیں اور کان کھول کر جیو۔ ان جاہلوں سے خبردار رہو۔
ھذا ما عندی۔ واللہٰ اعلم بالصواب۔ الحمدللہٰ

حوالہ جات:

http://www.suffahpk.com/qurbani-ki-tarekh/
http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/03-Qurbani%20Ka%20ManaOmafhum_MDU_10_Oct_15.htm
https://www.google.com/amp/s/www.express.pk/story/915813/%3famp=1?espv=1

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close