کیا اللہ تعالی عرفہ کے دن آسمان دنیا پرنزول کرتا ہے؟

مقبول احمد سلفی

یوم عرفہ کی بڑی فضیلت وخصوصیت آئی ہےکیونکہ اس دن حجاج میدان عرفات میں وقوف کرتے ہیں، اس منظر پہ اللہ تعالی فرشتوں کے درمیان فخرکرتا ہے، اسی لئے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : الحج عرفہ یعنی اصل حج تو عرفہ ہی ہے۔ (صحیح النسائی :3016)۔غیر حجاج کے لئے اس دن کا روزہ مشروع ہے جوکہ دوسال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ مگرلوگوں میں جویہ بات مشہور ہے کہ اللہ تعالی عرفہ کے دن آسمان دنیاپر نزول کرتا ہے یہ ثابت نہیں ہے۔ اس تعلق سے مجمع الزوائد،  ابن حبان، الترغیب والترھیب اور ابن خزیمہ وغیرہ میں ایک روایت  موجود ہے کہ اللہ تعالی یوم عرفہ کو آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے مگر وہ روایت سندا ًضعیف ہے۔ روایت اس طرح سے ہے۔

ما من أيامٍ عند اللهِ أفضلُ من عشرِ ذي الحجةِ قال : فقال رجلٌ : يا رسولَ اللهِ ! هن أفضلُ أم عدَّتُهنَّ جهادًا في سبيلِ اللهِ قال : هنَّ أفضلُ من عِدَّتهنَّ جهادًا في سبيلِ اللهِ وما من يومٍ أفضلُ عند اللهِ من يومِ عرفةَ،  ينزل اللهُ تبارك وتعالى إلى السماءِ الدنيا،  فيباهى بأهل الأرضِ أهلَ السماءِ،  فيقول : انظُروا إلى عبادي جاءوني شُعْثًا غُبْرًا ضاحين،  جاؤا من كلِّ فجٍّ عميقٍ،  يرجون رحمَتي،  ولم يرَوا عذابي،  فلم يُرَ يومٌ أكثرَ عتيقًا من النَّارِ من يومِ عرفةَ(ضعيف الترغيب:738)

ترجمہ: اللہ کے نزدیک عشرہ ذی الحجہ سے افضل کوئی دن نہیں ہے، راوی نے کہا کہ ایک آدمی نے سوال کیا اسے اللہ کے رسول ! یہ دن افضل ہیں یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے افضل ہے۔ اور اللہ کے نزدیک عرفہ کے دن سے زیادہ کوئی افضل دن نہیں ہے۔ اس دن اللہ تعالی آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے پس آسمان والوں کے سامنے  زمین والوں پر فخر کرتے ہوئے کہتا ہے : میرے ان بندوں کو دیکھو میرے پاس گردوغبار سے نمایاں طورپراٹے ہوئے آئے۔ دور دراز راستوں سے میری رحمت کی آس لئے ہوئے آئے۔ ، انہوں نے میرا عذاب نہیں دیکھا۔ عرفہ کے دن سے زیادہ جہنم سے آزاد ہونے والاکوئی دن نہیں دیکھا گیا۔

شیخ البانی نے ضعیف الترغیب کے علاوہ اسے السلسلۃ الضعیفہ میں 679 کے تحت، صحیح ابن خزیمہ میں 2840، مشکوۃ المصابیح کی تخریج میں 2533 کے تحت ضعیف قرار دیا ہے۔

ہیثمی نے کہا کہ اس میں محمد بن مروان العقیلی ہے جس کی ابن معین اور ابن حبان نے توثیق کی ہے اور اس کے متعلق کلام بھی ہے۔ بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ (مجمع الزوائد: 3/256)

ایک روایت میں عرفہ کی شام نزول کرنے کا ذکر آیا ہے،  اس روایت کا ایک ٹکڑا اس طرح سے ہے۔

ما من أيامٍ أعظمَ عندَ اللهِ من عشرِ ذي الحِجةِ،  إذا كان عشيةُ عرفةَ نزل عزَّ وجلَّ إلى السماءِ الدنيا .

ترجمہ: اللہ کے نزدیک عشرہ ذی الحجہ سے عظیم کوئی دن نہیں ہے۔ جب عرفہ کی شام ہوتی ہے تو اللہ تعالی آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے۔

یہ روایت منکر ہے۔ دیکھیں 🙁 الکامل فی ضعفاء الرجال: 9/125)

امام ذہبی نے کہا کہ اس میں یحی بن سلام البصری ہیں جنہیں دارقطنی نے ضعیف کہا ہے اور ابن عدی نے کہا کہ ان کی احادیث ضعف کے ساتھ لکھی جائیں گی۔ (میزان الاعتدال : 4/381)

اسی معنی کی ایک روایت اس طرح مروی ہے۔

إذا كانَ عشيَّةُ عَرفةَ هَبطَ اللَّهُ عزَّ وجلَّ إلى السَّماءِ الدُّنيا فيطَّلعُ إلى أَهلِ الموقِفِ

ترجمہ: جب عرفہ کی شام ہوتی ہے تو اللہ آسمان دنیا پر اترتا ہے اور اہل موقف کی طرف دیکھتا ہے۔

اس روایت کو شیخ البانی نے موضوع کہا ہے۔ (السلسلۃ الضعیفہ :770)، ابن عساکر نے منکر کہا ہے۔ (تاریخ دمشق : 13/145)، علامہ شوکانی نے باطل کہا ہے۔ (الفوائد المجموعہ :447)

ایک اثر ام سلمہ سے مروی ہے جسے دارقطنی نے اپنی کتاب النزول میں ذکر کیا ہے۔

حَدَّثَنَا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَاتِبُ،  ثنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ،  أنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،  عَنِ الأَعْمَشِ،  عَنْ أَبِي صَالِحٍ،  عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،  قَالَتْ : ” نِعْمَ الْيَوْمُ يَوْمُ يَنْزِلُ اللَّهُ فِيهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا،  قَالُوا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ،  وَأَيُّ يَوْمٍ هُوَ ؟ قَالَتْ : يَوْمُ عَرَفَةَ ” .(النزول للدارقطني: 79)

ترجمہ: ام سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا سب سے اچھا دن وہ ہے جس دن اللہ تعالی آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے،  لوگوں نے پوچھا اے ام المومنین ! وہ کون سا دن ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ عرفہ کا دن ہے۔

مجھے اس اثر کے ایک راوی یزداد بن عبدالرحمن کے متعلق جرح وتعدیل نہیں ملی باقی رجال سب ثقہ ہیں اور  اس اثر کی کہیں سے مکمل تائید نہیں ہوتی ہے، جس کی بنیاد پر اس پر عمل کیا جاسکے اتنی بات تو صحیح ہے کہ عرفہ کا دن بہت اہم ہے مگر آسمان دنیا پر نزول الہی کا ثبوت کسی صحیح حدیث سے نہیں ملتا ہے۔ صحیح احادیث کی روشنی میں عرفہ کے دن اللہ تعالی فرشتوں کے درمیان  اہل عرفہ پر فخر کرتا ہے۔

عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إنَّ اللهَ تعالى يُباهِي ملائِكتَهُ عشِيَّةَ عرَفةَ بأهلِ عرَفةَ،  يقولُ : انظُروا إلى عبادِي،  أتوْنِي شُعْثًا غُبْرًا(صحيح الجامع:1868)

اللہ تعالی یوم عرفہ کی شام فرشتوں سے میدان عرفات میں وقوف کرنے والوں کےساتھ فخرکرتے ہوئے کہتے ہیں میرے ان بندوں کودیکھو میرے پاس گردوغبار سے اٹے ہوئے آئے ہیں .

رہی یہ بات کہ اللہ تعالی عرفہ کے دن عصر سے مغرب کے وقت میں نزول کرتا ہے سو اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اسی طرح ایک بات شیعہ کے یہاں پائی جاتی ہے کہ اللہ تعالی عرفہ کےدن اونٹ پر سوار ہوکر پہلے زوال کے وقت زمین پر نازل ہوتا ہے اس لئے مسلمان شیعہ کی اس بات پہ مطلع رہے اور اس بات سے اسلام کو بری سمجھے۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ عرفہ کے دن یا شام اللہ کے نزول کی بابت کوئی صحیح حدیث نہیں ہے اس لئے کوئی مسلمان یوم عرفہ کو اللہ کے نزول کا عقیدہ نہ رکھے،  ہاں جس طرح اللہ تعالی  ہررات کے آخری  تہائی حصے میں آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے اس میں عرفہ کی رات بھی شامل ہے، دن نہیں شامل ہے، بس یہی عقیدہ رکھے جیساکہ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يَنْزِلُ ربُّنا تباركَ وتعالى كلَّ ليلةٍ إلى السماءِ الدنيا،  حينَ يَبْقَى ثُلُثُ الليلِ الآخرِ،  يقولُ : من يَدعوني فأَستجيبُ لهُ،  من يَسْأَلُنِي فأُعْطِيهِ،  من يَستغفرني فأَغْفِرُ لهُ .(صحيح البخاري:1145)

ترجمہ: ہمارا پروردگار بلند برکت ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والاہے کہ میں اس کو بخش دوں ۔



⋆ مقبول احمد سلفی

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

میرے عظیم محسن و مربی شیخ محمد ابوالقاسم فاروقی حفظہ اللہ

2003 میں بچوں کے میگزین المنار کا ایڈیٹر تھا۔ یہ موقع بھی آپ سے سیکھنے، سمجھنے، بننے، کرنے، پھلنےاور پھولنے کابہترین موقع میسر ہوا۔ سال بھر مضامین، مقالے اور تحریری رہنمائی کے علاوہ آپ کی کئی خوبیوں سے فیضیاب ہونے کا سنہرا موقع دستیاب ہوا۔ یہ دو مواقع ایسے تھے جہاں نہ صرف سیکھنے کا موقع ملا بلکہ یہ سمجھنا بھی آسان بنادیا کہ استاد کسے کہتے ہیں، استادی کا ہنر کیا ہے، استاد کی رہنمائی کیا رنگ لاتی ہے اور کیسے استاد طلبہ میں تعمیرفکروفن کی روح پھونک سکتے ہیں ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے