عباداتمذہب

یوم عرفہ: رب کریم کی کرم نوازیوں اور عنایتوں کا دن

حدیث کے مطابق تمام ایام میں افضل یومِ عرفہ ہے۔  اس دن جودو سخا اور مغفرت کا دریا جوش میں ہوتا ہے۔

محمد ریاض علیمی

ذی الحجہ کا پہلا عشرہ بہت فضیلت و عظمت والا ہے۔ لیکن اس عشرہ میں سب سے عظمت اور بزرگی والادن ’’ عرفہ‘‘ کا دن ہے۔ اس دن حجاج کرام میدان عرفات میں قیام کرکے حج کا رکن اعظم ادا کرتے ہیں۔ یوم عرفہ کئی خصوصیات اور فضائل کا حامل ہے۔ یہاں تک کہ احادیث مبارکہ میں اس دن کو سب سے افضل دن قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمام ایام میں افضل یومِ عرفہ ہے۔ (الاتحاف)۔ اس محترم اور مقدس دن کو رب کائنات نے دین کی تکمیل اور نعمتوں کے اتمام کے لیے چنا۔ عرفات میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت مبارکہ تلاوت فرمائی۔ ترجمہ: ’’آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کردیااور تم پر اپنی نعمتوں کا اتمام کردیا۔ ‘‘ (سورۃ المائدۃ: ۳)

عرفہ کا ایک معنی پہچاننے اور شناخت کے ہیں۔ یوم عرفہ رب کائنات کی معرفت اور پہچان کا دن ہوتا ہے۔ اس دن بندوں کو خاص طور پر عبادت اور اطاعت کی دعوت دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دن خاص طور پراحسان و کرم کی نوازشیں فرماتا ہے۔ اس دن جودو سخا اور مغفرت کا دریا جوش میں ہوتا ہے۔ عرفات کے میدان میں حجاج کرام دو چادروں میں لپٹے ہوئے کھلے آسمان تلے اپنے رب کی رحمتوں کو سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔ عبادات اور اطاعت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کررہے ہوتے ہیں۔ اس دن لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور جود و سخا سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ اس دن بندے اپنے حقیقی معبود کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں تاکہ خالق کی معرفت کا جام پی سکیں۔ یوم عرفہ اللہ تعالی کی پہچان، معرفت اور محبت کا مظہر ہے۔

احادیث مبارکہ کے مطابق اس دن اللہ رب العزت کی رحمت جوش میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کی وجہ سے شیطان غم و غصہ میں ہوتا ہے۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یوم عرفہ سے زیادہ کسی اور دن شیطان کو اس قدر غم اور غصہ میں نہیں دیکھا گیا ما سوا یومِ بدر کے ‘ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ گناہوں کو معا ف فرمارہا ہے۔ (مؤطا امام مالک: ۹۸۲)۔ عرفہ کے دن ایمان والوں کی بخشش کردی جاتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں : میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن اپنے بندوں کی طرف نظر فرماتا ہے تو جس بندے کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہو اس کو بخش دیتا ہے۔ (غنیۃ الطالبین)۔ عرفہ کے دن حجاج کرام پر خاص طور پر رحمت و رضوان کی بارش برسائی جاتی ہے اور ان کے گناہوں کو معا ف کردیا جاتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب عرفہ کا دن آتا ہے تو اللہ تعالیٰ حجاج کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے اور فرماتا ہے: میرے بندوں کی طرف دیکھو، ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور یہ گردو غبار سے اٹے ہوئے ہیں، یہ دور دراز سے فریاد کرتے ہوئے میرے پاس آئے ہیں۔ میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یومِ عرفہ سے زیادہ کسی دن دوزخ سے لوگ آزاد نہیں کیے جاتے۔ ( شعب الایمان: ۳۷۷۴)۔

ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے اور حاجیوں کے لیے فرشتوں پر فخر کرتا ہے۔ اے فرشتو! میرے بندوں کو دیکھو کس طرح بکھرے ہوئے بالوں اور غبار آلود چہروں کے ساتھ دور دراز علاقوں سے آئے ہیں۔ میری رحمت کی امید رکھتے ہیں اور میرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ جس شخص کی ملاقات کے لیے کوئی آتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ آنے والے کی عزت کرے، مہمان کی عزت کرنا میزبان کا فرض ہے۔ تم گواہ ہوجاؤ میں نے انہیں بخش دیا او ر جنت کو ان کی مہمان نوازی کی جگہ قرار دیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے عرض کرتے ہیں : اے میرے رب ان میں فلاں متکبر مرد اور عورت بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان کو بھی بخش دیا سو عرفہ کے دن سے بڑھ کر جہنم سے آزادی کا کوئی دن نہیں ہے۔ (غنیۃ الطالبین)۔ عرفہ کے دن خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے زمین پر اتر تے ہیں جنہیں گواہ بناکر اللہ رب العزت اپنے بندوں کی مغفرت فرماتا ہے اور جہنم کی آگ سے آزاد فرماتا ہے۔ حجا ج کرام کی عظمت اور ان کی حاضری کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ وہ میدانِ عرفات میں اللہ تعالیٰ سے جو کچھ بھی مانگیں عطا کیا جاتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کی شام جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں کھڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور تین بار فرمایا: یہ لوگ جوبھی مانگیں عطا کیا جاتا ہے۔ دنیا میں ان کے رزق میں برکت دی جاتی ہے اور آخرت میں ہر درہم کے عوض ایک ہزار کا ثواب ملتا ہے۔ کیا میں تم کو خوشخبری نہ دوں ؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عرفہ کی شام ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے پھر فرشتوں کو حکم دیتا ہے، وہ زمین پر اتر تے ہیں۔ وہ اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ اگر ایک سوئی کی مقدار کے برابر بھی کوئی چیز پھینکی جائے تو وہ بھی فرشتوں کے سر پر ہی گرے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! میرے بندوں کی طرف دیکھو وہ میرے پاس گرد آلود چہرے اور بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ دنیا کے کونے کونے سے آئے ہیں۔ کیا تم سنتے ہو جو کچھ وہ مجھ سے طلب کرتے ہیں ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب وہ تجھ سے مغفرت کا سوال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا، اللہ تعالیٰ یہ تین بار فرماتا ہے تو تم اپنے مقام سے اس طرح لوٹو کہ تمہارے گناہ بخش دیے گئے۔ (غنیۃ الطالبین)

عرفہ کادن رحمت، برکت اور مغفرت والا دن ہے۔ اس دن کا روزہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیاٍ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کاکفارہ بن جاتا ہے۔( مسلم: ۱۱۶۲)۔ ایک اور روایت میں عرفہ د ن کے روزے کو دوسال کے گناہوں کا کفارہ قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یوم عرفہ کا روزہ دوسالوں یعنی ایک سال گذشتہ اور ایک سال آئندہ کا کفارہ ہے۔ (غنیۃ الطالبین)۔ اس دن خاص طور پر ذکر اللہ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی عرفہ کے دن کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کے دن کثرت کے ساتھ لا إلہ إلا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر  پڑھتے تھے۔ (مسند احمد: ۶۹۶۱)

الغرض ’’یوم عرفہ‘‘ اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت کا دن ہے۔ اس دن خاص طور پر اللہ کی عبادت اور اس کا ذکر کثرت سے کرنا چاہیے۔ یہی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل رہا ہے۔ ہمیں اس کی پیروی کرنی چاہیے تاکہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں شامل ہوکر اس کی نعمتوں اور رحمتوں سے سرفراز ہوسکیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close