رب کہتا ہے “مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا”۔

اللہ تعالیٰ اپنی کتاب مقدس میں  فرماتا ہے: آسمانوں  اور زمین کا پیدا کرناانسان کو پیدا کرنے کی بہ نسبت یقینا زیادہ بڑا کام ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں  ہیں۔  اور یہ نہیں  ہوسکتا کہ اندھا اور بینا یکساں  ہوجائے اور ایماندار و صالح اور بدکار برابر ٹھہریں  مگر تم لوگ کم ہی کچھ سمجھتے ہو، یقینا قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، اس کے آنے میں  کوئی شک نہیں  مگر اکثر لوگ نہیں  مانتے۔

تمہارا رب کہتا ہے ’’مجھے پکارو، میں  تمہاری دعائیں  قبول کروں  گا، جو لوگ گھمنڈ میں  آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں،  ضرور وہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں  داخل ہوں  گے‘‘ (آیت: 57-60)۔

 مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے المؤمن کی 57 تا 60 کی آیتوں  کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: اوپر کے ساڑھے تین رکوعوں  میں  سردارانِ قریش کی سازشوں  پر تبصرہ کرنے کے بعد اب یہاں  سے خطاب کا رخ عوام کی طرف پھر رہا ہے اور ان کو یہ سمجھایا جارہا ہے کہ جن حقائق کو ماننے کی دعوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم کو دے رہے ہیں  وہ سراسر معقول ہیں،  ان کو مان لینے ہی میں  تمہاری بھلائی ہے اور نہ ماننا تمہارے اپنے لئے تباہ کن ہے۔ اس سلسلے میں  سب سے پہلے آخرت کے عقیدے کو لے کر اس پر دلائل دیئے گئے ہیں  کیونکہ کفار کو سب سے زیادہ اچنبھا اسی عقیدے پر تھا اور اسے وہ بعد از فہم خیال کرتے تھے۔

  یہ امکان آخرت کی دلیل ہے۔ کفار کا خیال تھا کہ مرنے کے بعد انسان کا دوبارہ جی اٹھنا غیر ممکن ہے۔ اس کے جواب میں  ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ جو لوگ اس طرح کی باتیں  کرتے ہیں  وہ در حقیقت نادان ہیں۔  اگر عقل سے کام لیں  تو ان کیلئے یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہ ہو کہ جس خدا نے یہ عظیم الشان کائنات بنائی ہے، اس کیلئے انسانوں  کو دوبارہ پیدا کر دینا کوئی دشوار کام نہیں  ہوسکتا۔

یہ وجوبِ آخرت کی دلیل ہے۔ اوپر کے فقرے میں  بتایا گیا تھا کہ آخرت ہوسکتی ہے، اس کا ہونا غیر ممکن نہیں  ہے۔ اور اس فقرے میں  بتایا جارہا ہے کہ آخرت ہونی چاہئے، عقل اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہو، اور اس کا ہونا نہیں  بلکہ نہ ہونا خلاف عقل و انصاف ہے۔ آخر کوئی معقول آدمی اس بات کو کیسے درست مان سکتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں  اندھوں  کی طرح جیتے ہیں  اور اپنے برے اخلاق و اعمال سے خدا کی زمین کو فساد سے بھر دیتے ہیں  وہ اپنی اس غلط روش کا کوئی برا انجام نہ دیکھیں  اور اسی طرح وہ لوگ بھی جو دنیا میں  آ نکھیں  کھول کر چلتے ہیں  اور ایمان لاکر نیک عمل کرتے ہیں  اپنی اس اچھی کارکردگی کا کوئی اچھا نتیجہ دیکھنے سے محروم رہ جائیں ؟ یہ بات اگر صریحاً خلافِ عقل و انصاف ہے تو پھر یقینا انکارِ آخرت کا عقیدہ بھی عقل و انصاف کے خلاف ہی ہونا چاہئے  کیونکہ آخرت نہ ہونے کے معنی یہ ہیں  کہ نیک و بد دونوں  آخر کار مر کر مٹی ہوجائیں  اور ایک ہی انجام سے دو چار ہوں۔  اس صورت میں  صرف عقل و انصاف ہی کا خون نہیں  ہوتا بلکہ اخلاق کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ اس لئے کہ اگر نیکی اور بدی کا انجام یکساں  ہے تو پھر بد بڑا عقل مند ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے دل کے سارے ارمان نکال گیا اور نیک سخت بے وقوف ہے کہ خواہ مخواہ اپنے اوپر طرح طرح کی اخلاقی پابندیاں  عائد کئے رہا۔

 یہ وقوع آخرت کا قطعی حکم ہے جو استدلال کی بنیاد پر نہیں  بلکہ صرف علم ہی کی بنا پر لگایا جاسکتا ہے اور کلام وحی کے سوا کسی دوسرے کلام میں  یہ بات اس قطعیت کے ساتھ بیان نہیں  ہوسکتی۔ وحی کے بغیر محض عقلی استدلال سے جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ بس اسی قدر ہے کہ آخرت ہوسکتی ہے اور اس کو ہونا چاہئے،  اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ آخرت یقینا ہوگی او ہوکر رہے گی یہ صرف اس ہستی کے کہنے کی بات ہے جسے معلوم ہے کہ آخرت ہوگی اور وہ ہستی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں  ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں  پہنچ کر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قیاس و استدلال کے بجائے خالص علم پر دین کی بنیاد اگر قائم ہوسکتی ہے تو وہ صرف وحی الٰہی کے ذریعہ ہی سے ہوسکتی ہے۔

 آخرت کے بعد اب توحید پر کلام شروع ہورہا ہے جو کفار اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان دوسری بنائے نزاع تھی۔

یعنی دعائیں  قبول کرنے اور نہ کرنے کے جملہ اختیارات میرے پاس ہیں،  لہٰذا تم دوسروں  سے دعائیں  نہ مانگو بلکہ مجھ سے مانگو۔ اس آیت کی روح کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کیلئے تین باتیں  اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیں :

 اول یہ کہ دعا آدمی صرف اس ہستی سے مانگتا ہے جو کو وہ سمیع و بصیر اور فوق الفطری قتدار (Supernatural powers) کا مالک سمجھتا ہے اور دعا مانگنے کا محرک در اصل آدمی کا یہ اندرونی احساس ہوتا ہے کہ عالم اسباب کے تحت فطری ذرائع و وسائل کی کسی تکلیف کو رفع کرنے یا کسی حاجت کو پورا کرنے کیلئے کافی نہیں  ہیں  یا کافی ثابت نہیں  ہورہے ہیں،  اس لئے کسی فوق الفطری اقتدار کی مالک ہستی سے رجوع کرنا ناگزیر ہے۔ اس ہستی کو آدمی بے دیکھے پکارتا ہے۔  ہر وقت، ہر جگہ، ہر حال میں  پکارتا ہے۔ خلوت کی تنہائیوں  میں  پکارتا ہے۔ بآواز بلند ہی نہیں،  چپکے چپکے بھی پکارتا ہے بلکہ دل ہی دل میں  اس سے مدد کی التجائیں  کرتا ہے۔ یہ سب کچھ لازماً اس عقیدے کی بنا پر ہوتا ہے کہ وہ ہستی اس کو ہر جگہ ہر حال میں  دیکھ رہی ہے۔ اس کے دل کی بات بھی سن رہی ہے۔ اور اس کو ایسی قدرت مطلقہ حاصل ہے کہ اسے پکارنے والا جہاں  بھی ہو وہ اس کی مدد کو پہنچ سکتی ہے اور اس کی بگڑی بناسکتی ہے۔ دعا کی اس حقیقت کو جان لینے کے بعد یہ سمجھنا آدمی کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں  رہتا کہ جو شخص اللہ کے سوا کسی اور ہستی کو مدد کیلئے پکارتا ہے وہ درحقیقت قطعی اور خالص اور صریح شرک کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ وہ اس ہستی کے اندر ان صفات کا اعتقاد رکھتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی صفات ہیں۔  اگر وہ اس کو ان خدائی صفات میں  اللہ کا شریک نہ سمجھتا تو اس سے دعا مانگنے کا تصور تک کبھی اس کے ذہن میں  نہ آسکتا تھا۔

دوسری بات جو اس سلسلے میں  اچھی سمجھ لینی چاہئے وہ یہ ہے کہ کسی ہستی کے متعلق آدمی کا اپنی جگہ یہ سمجھ بیٹھنا کہ وہ اختیارات کی مالک ہے، اس سے یہ لازم نہیں  آجاتا کہ وہ فی الواقع مالک اختیارات ہوجائے۔ مالک اختیارات ہونا تو ایک امر واقعی ہے جو کسی کے سمجھنے یا نہ سمجھنے پر موقوف نہیں  ہے۔ جو در حقیقت اختیارات کا مالک ہے وہ بہر حال مالک ہی رہے گا، خواہ آپ اسے مالک سمجھیں  یا نہ سمجھیں۔  اور جو حقیقت میں  مالک نہیں  ہے، اس کو محض یہ بات کہ آپ نے اسے مالک سمجھ لیا ہے، اختیارات میں  ذرہ برابر بھی کوئی حصہ نہ دلواسکے گی۔ اب یہ بات ایک امر واقعی ہے کہ قادرِ مطلق اور مدبرِ کائنات اور سمیع و بصیر ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور وہی کلی طور پر اختیارات کا مالک ہے۔ دوسری کوئی ہستی بھی اس پوری کائنات میں  ایسی نہیں  ہے جو دعائیں  سننے اور ان پر قبولیت یا عدم قبولیت کی صورت میں  کوئی کارروائی کرنے کے اختیارات رکھتی ہو۔ اس امر واقعی کے خلاف اگر لوگ اپنی جگہ کچھ انبیاء اور اولیاء اور فرشتوں  اور جنوں  اور سیاروں  اور فرضی دیوتاؤں  کو اختیارات میں  شریک سمجھ بیٹھیں  تو اس سے حقیقت میں  ذرہ برابر بھی کوئی فرق رونما نہ ہوگا۔ مالک مالک ہی رہے گا اور بے اختیار بندے بندے ہی رہیں  گے۔

 تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں  سے دعا مانگنا بالکل ایسا ہے جیسے کوئی شخص درخواست لکھ کر ایوانِ حکومت کی طرف جائے مگر اصل حاکم ذی اختیار کو چھوڑ کر وہاں  جو دوسرے سائلین اپنی حاجتیں  لئے بیٹھے ہوں  انہی میں  سے کسی ایک کے آگے اپنی درخواست پیش کر دے اور پھر ہاتھ جوڑ جوڑ کر اس سے التجائیں  کرتا چلا جائے کہ حضور ہی سب کچھ ہیں،  آپ ہی کا یہاں  حکم چلتا ہے، میری مراد آپ ہی برلائیں  گے تو بر آئے گی۔ یہ حرکت اول تو بجائے خود سخت حماقت و جہالت ہے لیکن ایسی حالت میں  یہ انتہائی گستاخی بھی بن جاتی ہے جبکہ اصل حاکم ذی اختیار سامنے موجود ہو اور عین اس کی موجودگی میں  اسے چھوڑ کر کسی دوسرے کے سامنے درخواستیں  اور التجائیں  پیش کی جارہی ہوں۔  پھر یہ جہالت اپنے کمال پر اس وقت پہنچ جاتی ہے جب وہ شخص جس کے سامنے درخواست پیش کی جارہی ہو خود بار بار اس کو سمجھائے کہ میں  تو خود تیری ہی طرح کا ایک سائل ہوں،  میرے ہاتھ میں  کچھ نہیں  ہے، اصل حاکم سامنے وجود ہیں  تو ان کی سرکار میں  اپنی درخواست پیش کر، مگر اس کے سمجھانے اور منع کرنے کے باوجود یہ احمق کہتا ہی چلا جائے کہ میرے سرکار تو آپ ہیں،  میرا کام آپ ہی بنائیں  گے تو بنے گا۔ ان تین باتوں  کو ذہن میں  رکھ کر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو سمجھنے کی کوشش کیجئے کہ مجھے پکاروں،  تمہارو دعاؤں  کا جواب دینے والا میں  ہوں،  انھیں  قبول کرنا میرا کام ہے۔

 اس آیت میں  دو باتیں  خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔  ایک یہ کہ دعا اور عبادت کو یہاں  مترادف الفاظ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے کیونکہ پہلے فقرے میں  جس چیز کو دعا کے لفظ سے تعبیر کیا گیا تھا اسی کو دوسرے فقرے میں  عبادت کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ دعا عین عبادت اور جانِ عبادت ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ سے دعا مانگنے والوں  کیلئے ’’گھمنڈ میں  آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔  اس سے معلوم ہوا کہ اللہ سے دعا مانگنا عین تقاضائے بندگی ہے اور اس سے منہ موڑنے کے معنی یہ ہیں  کہ آدمی تکبر میں  مبتلا ہے، اس لئے اپنے خالق و مالک کے آگے اعترافِ عبودیت کرنے سے کتراتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں  آیت کے ان دونوں  مضامین کو کھول کر بیان فرما دیا ہے۔ حضرت نعمانؓ بن بشیر کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ’’دعا عین عبادت ہے‘‘ پھر آنے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (احمد، ترمذی، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن ابی حاتم، ابن جریر)۔ حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:الدعاء مخ العبادۃ ’’دعا مغز عبادت ہے‘‘ (ترمذی)۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں  کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا : ’’جو اللہ سے نہیں  مانگتا اللہ اس پر غضبناک ہوتا ہے‘‘ (ترمذی)۔

 اس مقام پر پہنچ کر وہ عُقدہ بھی حل ہوجاتا ہے جو بہت سے ذہنوں  میں  اکثر الجھن ڈالتا رہتا ہے۔ لوگ دعا کے معاملے پر اس طرح سوچتے ہیں  کہ جب تقدیر کی برائی اور بھلائی اللہ کے اختیار میں  ہے اور وہ اپنی غالب حکمت و مصلحت کے لحاظ سے جو فیصلہ کرچکا ہے وہی کچھ لازماً رونما ہوکر رہتا ہے تو پھر ہمارے دعا مانگنے کا حاصل کیا ہے۔ یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے جو آدمی کے دل سے دعا کی ساری اہمیت نکال دیتی ہے اور اس باطل خیال میں  مبتلا رہتے ہوئے اگر آدمی دعا مانگے بھی تو اس کی دعا میں  کوئی روح باقی نہیں  رہتی۔ قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت اس غلط فہمی کو دو طریقوں  سے رفع کرتی ہے۔ اوّلاً اللہ تعالیٰ بالفاظ صریح فرما رہا ہے کہ ’’مجھے پکارو، میں  تمہاری دعائیں  قبول کروں  گا‘‘۔  اس سے صاف معلوم ہوا کہ قضا اور تقدیر کوئی ایسی چیز نہیں  ہے جس نے ہماری طرح معاذ اللہ، خود اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بھی باندھ دیئے ہوں  اور دعا قبول کرنے کے اختیارات اس سے سلب ہوگئے ہوں۔  بندے تو بلا شبہ اللہ کے فیصلوں  کو ٹالنے یا بدل دینے کی طاقت نہیں  رکھتے مگر اللہ تعالیٰ خود یہ طاقت ضرور رکھتا ہے کہ کسی بندے کی دعائیں  اور التجائیں  سن کر اپنا فیصلہ بدل دے۔ دوسری بات جو اس آیت میں  بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ دعا خواہ قبول ہو یا نہ ہو، بہر حال ایک فائدے اور بہت بڑے فائدے سے وہ کسی صورت میں  بھی خالی نہیں  ہوتی اور وہ یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی حاجتیں  پیش کرکے اور اس سے دعا مانگ کر اس کی آقائی و بالا دستی کا اعتراف اور اپنی بندگی و عاجزی کا اقرار کرتا ہے۔ یہ اظہارِ عبودیت بجائے خود عبادت ہے جس کے اجر سے بندہ کسی حال میں  بھی محروم نہ رہے گا قطع نظر اس سے کہ وہ خاص چیز اس کو عطا کی جائے یا نہ کی جائے جس کیلئے اس نے دعا کی تھی۔

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں  ان دونوں  مضامین کی بھی پوری وضاحت ہمیں  مل جاتی ہے۔ پہلے مضمون پر حسب ذیل احادیث روشنی ڈالتی ہیں:

حضرت سلمانؓ فارسی کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: ’’قضا کو کوئی چیز نہیں  ٹال سکتی مگر دعا‘‘ (ترمذی)، یعنی اللہ کے فیصلے کو بدل دینے کی طاقت کسی میں  نہیں  ہے، مگر اللہ خود اپنا فیصلہ بدل سکتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب بندہ اس سے دعا مانگتا ہے۔

  حضرت جابرؓ بن عبداللہ کہتے ہیں  کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آدمی جب کبھی اللہ سے دعا مانگتا ہے، اسے یا تو وہی چیز دیتا ہے جس کی اس نے دعا کی تھی یا اسی درجے کی کوئی بلا اس پر آنے سے روک دیتا ہے، بشرطیکہ وہ کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے‘‘۔ اسی سے ملتا جلتا مضمون ایک دوسری حدیث میں  ہے جو حضرت ابو سعید خُدریؓ نے حضورؐ سے روایت کی ہے۔ اس میں  آپ کا ارشاد یہ ہے کہ ’’ایک مسلمان جب بھی کوئی دعا مانگتا ہے بشرطیکہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے تین صورتوں  میں  سے کسی ایک صورت میں  قبول فرماتا ہے، یا تو اس کی وہ دعا اسی دنیا میں  قبول کرلی جاتی ہے یا اسے آخرت میں  اجر دینے کیلئے محفوظ رکھ لیا جاتا ہے یا اسی درجہ کی کسی آفت کو اس پر آنے سے روک دیا جاتا ہے‘‘ (مسند احمد)۔

 حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: ’’جب تم میں  سے کوئی شخص دعا مانگے تو یوں  نہ کہے کہ خدایا مجھے بخش دے اگر تو چاہے، مجھ پر رحم کر اگر تو چاہے، مجھے رزق دے اگر تو چاہے؛ بلکہ اسے قطعیت کے ساتھ کہنا چاہئے کہ خدایا میری فلاں  حاجت پوری کر‘‘ (بخاری)۔ دوسری روایت حضرت ابوہریرہؓ ہی سے ان الفاظ میں  آئی ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’اللہ سے دعا مانگو اس یقین کے ساتھ کہ وہ قبول فرمائے گا‘‘(ترمذی)۔

ایک اور روایت میں  حضرت ابوہریرہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں  کہ ’’بندے کی دعا قبول کی جاتی ہے بشرطیکہ وہ کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور جلد بازی سے کام نہ لے۔ عرض کیا گیا جلد بازی کیا ہے یا رسولؐ اللہ؟فرمایا: جلد بازی یہ ہے کہ آدمی کہے میں  نے بہت دعا کی مگر میں  دیکھتا ہوں  کہ میری دعا قبول ہی نہیں  ہوتی اور یہ کہہ کر آدمی تھک جائے اور دعا مانگنی چھوڑ دے‘‘ (مسلم)۔

 دوسرے مضمون کو بہت سی حدیثیں  واضح کرتی ہیں،  مثلاً: حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی نگاہ میں  دعا سے بڑھ کر کوئی چیز باوقعت نہیں  ہے‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ)۔


⋆ عبد العزیز

عبد العزیز

تبصرہ کیجیے