عبادات

مصارف زکات – (آخری قسط)

توانا فقیر

وہ نادار جو جسمانی اعتبار سے صحت مند ،سلیم الاعضاء اور کمانے کی طاقت وصلاحیت رکھتا ہو اور اس کے لائق مناسب کام بھی موجود ہو مگر کاہلی اور سستی کی وجہ سے کام نہ کرنے کی بناپر ضرورت مند اور محتاج ہو تو اسے زکات دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے، امام ابوحنیفہ اور مالک کے نزدیک ایسے شخص کو بھی زکات دی جاسکتی ہے، امام شافعی اور احمد بن حنبل کے نزدیک ایسا شخص زکات کا حقدار نہیں ہے، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔
لا تحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سوی۔
کسی مالدار اور تندرست وتوانا کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
امام ابو داؤد اور ترمذی نے اس حدیث کی روایت کی ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے، بعض لوگوں نے اسنادی حیثیت سے اس پر کلام کیا ہے لیکن ایک دوسری سند نیز متعدد صحابہ کرام سے اس طرح کی حدیث منقول ہونے کی وجہ سے حدیث درجہ حسن میں آجاتی ہے اور لائق استدلال ہے۔ (126)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کی درخواست لے کر آئے آپ نے دیکھا کہ وہ توانا اور تندرست ہیں تو فرمایا۔
ان شئتما اعطینکما ولا حظ فیہا لغنی ولا لقوی مکتسب۔

اگر تم چاہو تو دے سکتا ہوں، لیکن صدقات میں کسی مالدار اور قوی، کمانے والے کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
امام احمد اور ابوداؤد اور نسائی نے اس کی روایت کی ہے، اور امام احمد کہا کرتے تھے کہ اس سلسلہ کی احادیث میں اس حدیث کی سند سب سے عمدہ ہے (127) اور امام نووی نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (128)

حنفی اور مالکی علماء کہتے ہیں کہ ایسے شخص کے لئے دست سوال دراز کرنا ممنوع اور ناجائز ہے، سوال اور گداگری کی حوصلہ شکنی ہی کرنے کے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تندرست اور کمانے والے کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے، لیکن استحقاق زکات کی اصل علت فقروضرورت ہے اور وہ اس میں موجود ہے لہٰذا اسے زکات دے دی جائے تو ادا ہوجائے گی، البتہ بہتر ہے کہ ایسے شخص کو زکات نہ دی جائے،خود ممانعت کی حدیث میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے کہ ایسے شخص کو زکات دی جاسکتی ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکات کی درخواست کرنے والے تندرست وتوانا سے کہا تھا کہ ’’ان شئتما اعطیتکما‘‘ اگر تم خود چاہو تو میں تمہیں دے سکتا ہوں، اگر انھیں زکات دینی درست نہ ہوتی تو آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد نہ فرماتے۔
جو لوگ تندرست اور کمانے والے کے لئے زکات درست قرار نہیں دیتے ہیں ان کے نزدیک شرط یہ ہے کہ
(الف) اس کے لائق اور مناسب کام ملتا ہو، اگر تندرست وتوانا ہے لیکن تلاش کے باوجود کام نہیں ملتا ہے تو وہ زکات کا مستحق ہے، یا کام تو ملتا ہے لیکن اس کے معیار اور حالت کے مناسب نہ ہو تو وہ بھی زکات لے سکتا ہے۔
(ب) وہ کام شرعی طور پر جائز اور حلال ہو۔
(ج) اس کام میں برداشت سے زیادہ بوجھ نہ پڑے۔
(د) اس کمائی سے اتنا حاصل ہوجائے کہ اس کے لئے اور اس کے اہل وعیال کے لئے کافی ہو۔
اگر کسی تندرست وتوانا شخص میں یہ شرطیں نہ پائی جائیں تو وہ زکات لے سکتا ہے (129)
واضح رہے کہ امام شافعی اور احمد کے نزدیک بھی یہ شرط صرف فقیر ومسکین کے لئے ہے، مقروض، مسافر،مکاتب،مجاہد وغیرہ میں بالاتفاق یہ شرط نہیں ہے۔
طالب علم اور عبادت گذار فقیر
کوئی شخص تندرست اور کمانے کی صلاحیت وطاقت رکھتا ہے لیکن شرعی علوم کے حصول میں مشغول ہے تو بہ اتفاق اسے زکات دی جاسکتی ہے بلکہ ایسے شخص کو زکات دینا بہتر ہے، کیونکہ حصول علم فرض ہے اور بیک وقت حصول علم اور تلاش معاش مشکل اور دشوار ہے، لیکن یہ حکم اسی وقت تک ہے جبکہ حصول علم فرض عین ہو بایں طور کہ وہ دین کی ضروریات سے ناواقف ہے لیکن اگر اس حد تک علم حاصل کرچکا ہے اور اب ایسے علوم کی طلب میں ہے جن کا حصول فرض کفایہ ہے تو ایسے شخص کو زکات دینے کے لئے بعض شافعی علماء نے یہ شرط لگائی ہے کہ وہ لائق اور شریف ہو اور اس کے حصول علم سے عام مسلمانوں کا نفع متعلق ہو۔
کمانے پر قادر شخص عبادت وریاضت کی وجہ سے کام نہ کرسکے تو اسے زکات دینا درست نہیں ہے کیونکہ اسلام میں اس طرح سے عبادت وریاضت کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور زمین میں پھیل کر اللہ کے رزق کو تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
طالب علم اور عبادت گذار کے سلسلہ میں یہ تمام تر تفصیل فقہ شافعی اور حنبلی کے مطابق ہے(130)،حنفی اور مالی فقہ میں اس طرح کی کوئی شرط نہیں ہے بلکہ ہر محتاج اور ضرورت مند کو زکات دی جاسکتی ہے۔
آل محمدصلی اللہ علیہ وسلم
خاندان نبوت کو ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے، اس لئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ ان کے ہاتھ عوامی مال سے آلودہ نہ ہوں، وہ زکات و صدقات کی طرف کبھی نگاہ اٹھاکر نہ دیکھیں، وہ زکات لیتے ہوئے کراہیت اور ہتک شان کا احساس کریں اور لوگ انھیں زکات دیتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کریں کہ انھیں زکات دے کر ان کی حیثیت کو مجروح کرنا ہے، اس لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
ان الصدقۃ لا تحل لمحمد ولا لآل محمدانما ہی اوساخ الناس۔
صدقہ محمد اور آل محمد کے لئے حلال نہیں ہے، یہ تو لوگوں کے مال کا میل کچیل ہے۔ (131)
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حسن نے ایک مرتبہ صدقات کی کھجور میں سے ایک کھجور منہ میں اٹھا کر ڈال لیا تو آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تھو،تھو، جلدی منہ سے نکالو، کیا تمہیں علم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے، ایک دوسری روایت میں ہے کہ تمہیں علم نہیں کہ آل محمدکے لئے صدقہ حلال نہیں ہے (132) یہانتک کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع نے وصولی زکات کے لئے اجازت چاہی تو فرمایا:
ان الصدقۃ لا تحل لنا وان موالی القوم من انفسہم۔
ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے اور کسی قوم کے آزادکردہ غلام انھیں میں شمار ہوتے ہیں ۔(133)
ان احادیث کی بنا پر جمہور فقہاء اس کے قائل ہیں کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زکات حرام ہے، صرف امام مالک سے ایک قول جواز کا منقول ہے۔

آل نبی سے کیا مراد ہے
آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بہ اتفاق بنی ہاشم شامل ہیں، بنی ہاشم سے مراد آل عباس،آل علی،آل جعفر، آل عقیل اور حارث بن عبدالمطلب کی اولاد ہیں، آل ابولہب اس حکم میں شامل نہیں ہیں کیونکہ بنی ہاشم کے لئے زکات کی حرمت بطور تعظیم وشرافت ہے، نیز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت ومدد ومعاونت کی وجہ سے اس کے بدلے میں انھیں خمس،غنیمت کا پانچواں حصہ، میں سے دیا جاتا ہے، چونکہ ابولہب نے آپ کی نصرت ومدد نہیں کی تھی بلکہ ہمیشہ درپئے آزار تھا، اس لئے اس کی اولاد اس اعزاز سے محروم رہے گی(134)، بنی مطلب آل محمدصلی اللہ علیہ وسلم میں شامل ہیں یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں فقہاء کے درمیان قدرے اختلاف ہے، امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک یہ لوگ آل محمد میں شامل نہیں ہیں، امام احمد سے بھی ایک روایت اسی کے مطابق منقول ہے، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے دوسرے قول کے مطابق بنی مطلب بھی اس حکم میں شامل ہیں، ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
عن جبیر بن مطعم قال مشیت انا وعثمان بن عفان الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقلنا یا رسول اللہ اعطیت بنی المطلب من خمس خیبر وترکنا ونحن وہم بمنزلۃ واحدۃ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انما بنو المطلب وبنو ہاشم شئ واحد۔
جبیربن مطعم کہتے ہیں کہ میں اور عثمان بن عفان نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ نے خیبر کے’’خمس‘‘ سے بنی مطلب کو دیا اور ہمیں محروم رکھا، حالانکہ ہم اور وہ ایک ہی ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی ہاشم اور مطلب ایک ہی ہیں۔ (135)
امام شافعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں بنی ہاشم کے ساتھ بنی مطلب کو بھی شامل کیا اور ان کے علاوہ دیگر قبائل قریش کو اس میں سے کچھ نہیں دیا، اور خمس صدقہ سے محرومی کا بدلہ ہے لہٰذا جب بنی مطلب کو خمس میں سے دیا جاتا ہے تو وہ صدقہ سے محروم رہیں گے، لیکن یہ دلیل اس وقت تام ہوتی جبکہ ’’خمس‘‘ وغیرہ کو صدقہ کا عوض تسلیم کرلیا جائے، حالانکہ روایت میں اس کی کوئی صراحت نہیں ہے بلکہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی مطلب کو ’’خمس‘‘ میں شریک کرنے کی علت نصرت ومدد ہے، چنانچہ مطّلب نے ہر موقع پر بنی ہاشم کی مدد کی یہانتک معاشی بائیکاٹ میں کافر ہونے کے باوجود ان کے ساتھ رہے۔
خمس سے محروم ہونے کی صورت میں
آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زکات وصدقات سے دور کیا گیا اور مال غنیمت وغیرہ کے پانچویں حصہ سے ان کی ضروریات کی تکمیل کی گئی، اس لئے ائمہ کا اتفاق رہا کہ انھیں زکات نہیں دی جائے گی لیکن جب وہ ’’خمس‘‘ سے محروم کردیئے گئے اور ان کے لئے یہ مد باقی نہ رہا تو بعض فقہاء نے فتویٰ دیا کہ اب ان کے لئے زکات حلال ہے، جیسا کہ امام ابوحنیفہ سے ایک روایت اسی کے مطابق منقول ہے اور امام محمد کہتے ہیں کہ
وبالجوازناخذ لان الحرمۃ مخصوصۃ بزمانہ علیہ الصلوٰۃ والسلام۔
جواز ہی پر ہمارا عمل ہے کیونکہ حرام ہونے کا حکم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی تک محدود ہے ۔(136)
اور امام طحاوی لکھتے ہیں کہ

ان الصدقات انما کانت حرمت علیہم من اجل ما جعل لہم فی الخمس سہم ذوی القربیٰ فلما انقطع ذالک منہم ورجع الیٰ غیرہم بموت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حل لہم بذالک ما قد کان محرما علیہم من اجل ماقد کان احل لہم۔
بنی ہاشم پر صدقات اس لئے حرام تھا کہ’’خمس‘‘ میں ذوی القربیٰ کا حصہ تھا،اور جب ان کا حصہ ختم ہوگیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے دوسروں کی طرف منتقل ہوگیا تو اس کی وجہ سے جو ان کے لئے حرام تھا اب حلال ہوگیا۔
امام طحاوی کہتے ہیں کہ اسی پر ہمارا عمل ہے وبہ ناخذ ۔(137)
امام مالک سے بھی ایک قول جواز کا منقول ہے، فقہاء مالکیہ میں ابہری کا اسی طرف رجحان ہے (138) فقاء شوافع میں سے ابوسعید اصخری اسی کے قائل ہیں اور محمد بن یحیٰ اسی کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے (139)، حنبلی فقہاء میں قاضی یعقوب اور امام ابن تیمیہ نے اسی کو ترجیح دی ہے چنانچہ وہ کہتے ۔
وبنو ہاشم اذامنعوا من خمس الخمس جاز لہم الاخذ من الزکات…لانہ محل حاجۃ وضرورۃ۔
بنی ہاشم جب ’’خمس‘‘ سے محروم کردیئے گئے تو ان کے لئے زکات جائز ہے….. اس لئے کہ وہ ضرورت وحاجت کا محل ہے ۔(140)
فقہاء کی آراء کو نقل کرتے ہوئے ان کے دلائل کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے، وہ دلائل قدرے مجمل ہیں اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ان کی کچھ وضاحت کردی جائے، جو لوگ جواز کے قائل ہیں ان کے اقوال کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلاً وہ بنی ہاشم کے لئے زکات کو ناجائز اور حرام قرار دیتے ہیں، لیکن ’’خمس‘‘ سے محروم ہوجانے کی وجہ سے ان کے لئے زکات کو درست کہتے ہیں، کیونکہ
(الف) سادات پر زکات حرام قرار دینے کی علت شرافت وکرامت نہیں بلکہ نصرت ومعاونت ہے اور اس نصرت ومعاونت کی وجہ سے صدقات کے بدلے میں انھیں ’’خمس‘‘ دیا گیا، چنانچہ بعض روایتوں میں کہا گیا ہے کہ
لا یحل لکم اہل البیت من الصدقات شئ انما ہی غسالۃ الایدی وان لکم فی خمس الخمس لما یغنیکم۔
اہل بیت کے لئے صدقات میں سے کچھ بھی حلال نہیں ہے، یہ ہاتھوں کا دھون ہے اور تمہارے لئے خمس ہے جو تمہیں اس سے بے نیاز کردے گا۔ (141)
اور جب ’’خمس‘‘ ان کے لئے باقی نہ رہا ، جس کی وجہ سے انھیں زکات سے منع کیا گیا تھا وہ ختم ہوگیا تو اب ان کے لئے زکات حلال ہے، اس دلیل کی بنیاد اس پر ہے کہ’’خمس‘‘ زکات کا عوض ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ کسی حدیث میں اس کی وضاحت نہیں ہے، اس لئے اس دلیل میں کوئی خاص وزن نہیں ہے۔
(ب) بنی ہاشم پر زکات حرام ہونے کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک محدود تھا، شیخ یوسف قرضاوی کہتے ہیں کہ اس خیال کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ حرمت سے متعلق احادیث میں’’آل‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اور قرآن حکیم کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سے مراداہل بیت بمعنیٰ بیٹا، پوتا،بیوی اور قریبی رشتہ دار ہیں، قیامت تک آنے والی ذریت مراد نہیں ہے ۔(142)
(ج) ’’خمس‘‘ سے محروم ہونے کی صورت میں غریب ومسکین سادات کی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ کیا ہوگا؟ اگر اس حالت میں بھی ان کے لئے صدقات کو حرام قرار دیا جائے تو پھر ان کی حاجت کیسے پوری ہوگی؟ کیا انھیں بھوکوں مرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے،یا در،در ہاتھ پھیلانے پر مجبور کیا جائے، کیا لوگوں کے ساتھ دست سوال دراز کرنے کی ذلت زکات لینے کی ذلت سے کم تر ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی ان سوالوں کا جواب’’ہاں‘‘ میں نہیں دے سکتا ہے، بلکہ کہے گا کہ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں کہ وہ زکات لے کر کام چلائے، گویا کہ’’خمس‘‘ سے محروم ہوجانے کی وجہ سے زکات ان کے لئے ضرورت بن گئی ہے، لہٰذا سادات کے فقیر ومسکین کو بھی زکات دی جاسکتی ہے۔
بعض حضرات کی رائے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی بنی ہاشم وغیرہ کے لئے زکات محض مکروہ تنزیہی تھی، وہ حضرات حرمت سے متعلق احادیث کو کراہیت تنزیہی پر محمول کرتے ہیں، نیز اپنی بات کی تائید میں ایسی روایتوں کو پیش کرتے ہیں جن میں بظاہر بنی ہاشم کو زکات دینے کا تذکرہ ہے (143)، مثلاً عبداللہ بن عباس کی یہ روایت:
بعث بی ابی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ایل اعطاء ایاہا من الصدقۃ ببدلہا۔
میرے والدنے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجاتاکہ آپ نے انھیں جو صدقہ کا اونٹ دیا تھا اسے بدل کر دوسرا دے دیں۔(144)
ایسے ہی ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سامان خریدا اور نفع کے ساتھ فروخت کرکے بنی عبدالمطلب کے محتاجوں پر صدقہ کردیا۔
فتصدق بہاعلی ارامل بنی عبدالمطلب (145)
لیکن حدیث کے الفاظ میں اس طرح کی تاویل کی گنجائش نہیں ہے، بلکہ احادیث سے صراحۃً معلوم ہورہاہے کہ بنی ہاشم کے لئے زکات حرام ہے، اور جمہور فقہاء اور محدثین نے اس سے حرمت ہی کا مفہوم لیا ہے، اس لئے اس طرح کی تاویل قابل قبول نہیں ہے، اس کے برخلاف جواز سے متعلق روایات کی عمدہ اور قوی توجیہ ہوسکتی ہے، چنانچہ امام نووی نے ابوداؤد کی روایت کردہ حدیث کو نقل کرکے لکھا ہے کہ اس کی دو توجیہ ہوسکتی ہے، ایک یہ کہ روایت بنی ہاشم پر صدقہ حرام ہونے سے پہلے کی ہو، بعض میں مذکورہ احادیث کی وجہ سے یہ حکم منسوخ ہوگیا ہو، دوسرے یہ کہ آپ کے پاس کوئی ضرورت مند آیا ہو اور بیت المال میں اسے دینے کے لئے کچھ نہ ہو تو آپ نے حضرت عباس سے قرض لے کر اس کی ضرورت پوری کردی اور پھر صدقہ کے اونٹ سے ان کے قرض کو ادا کیا ہو، بعض دوسری روایتوں سے اس تاویل کی تائید ہوتی ہے ۔(146)
اور دوسری روایت کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ سے مراد نفلی صدقہ ہے زکوٰہ مراد نہیں ہے۔
واضح رہے کہ جمہور فقہاء ومحدثین اسی بات کے قائل ہیں کہ بنی ہاشم وغیرہ کے لئے زکات کو حرام کیا گیا ہے، نیز حرمت کی وجہ آل محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت وکرامت ہے اور یہ علت’’خمس‘‘ سے محروم ہونے کے باوجود باقی ہے، لیکن جیسا کہ گذشتہ تفصیل سے معلوم ہوچکا ہے کہ امام ابوحنیفہ کی ایک روایت یہ ہے کہ آپؐ کی وفات کے بعد آل محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زکات حلال ہے، اور دیگر ائمہ کے متبعین میں سے بعض محققین کی بھی یہی رائے ہے، اور اس خیال کی بنیاد قوی دلائل پر ہے لہٰذا ہم اسی کو قابل ترجیح سمجھتے ہیں۔
نفلی صدقات
آل محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو صدقات دینے سے متعلق یہ اختلاف صرف صدقات واجبہ کے سلسلہ میں ہے، صدقات نافلہ میں عمومی رجحان جائز ہونے کی ہے، چنانچہ علامہ قرطبی لکھتے ہیں ۔
واختلفوا فی جواز صدقۃ التطوع بنی ہاشم فالذی علیہ جمہور اہل العلم وہو الصحیح ان صدقۃ التطوع لا باس بہا لبنی ہاشم وموالیہم لان علیا والعباس وفاطمۃ رضوان اللہ علیہم تصدقوا واوقفوا اوقافا علی جماعۃ من بنی ہاشم قصدقات المرقوفۃ معروفۃ مشہورۃ۔
بنی ہاشم کے لئے نفلی صدقہ کے جواز کے سلسلہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے،جمہور کی رائے ہے … اور یہی رائے صحیح ہے۔ کہ بنی ہاشم اور ان کے آزاد کردہ غلاموں کے لئے صدقۂ نفلی میں کوئی حرج نہیں ہے اس لئے کہ حضرت علی، عباس اور فاطمہ نے بنی ہاشم کے ایک گروہ کے لئے صدقہ اور وقف کیا تھا اور ان کے اوقات معروف ومشہور ہیں ۔(147)
والدین، نسبی رشتہ دار اور زوجین
زکات کا مستحق ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس شخص کو زکات دی جارہی ہے وہ زکات دینے والے کے آبا واجداد میں سے نہ ہو، ایسے ہی زکات دینے والا اپنی اولاد کو زکات نہیں دے سکتا ہے، نیز اپنی بیوی کو بھی زکات دینا درست نہیں ہے، تمام فقہاء اسی کے قائل ہیں،چنانچہ علامہ ابن المنذر کہتے ہیں
اجمع اہل العلم علی ان الزکات لا یجوز دفعہا الی الوالدین… لان دفع زکوۃ الیہم تغنیہم عن النفقۃ وتسقطہا عنہ ویعود نفعہا الیہ فکانہ دفعہا الی نفسہ۔
اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ والدین کو زکات دینا جائز نہیں ہے، کیونکہ ان کو زکات دینے کی وجہ سے پھر اسے نفقہ دینے کی ضرورت نہیں رہ جائے گی اور اس کے ذمہ سے ان کا خرچ ساقط ہوجائے گا تو زکات دینے کا فائدہ لوٹ کر اسی کو مل رہاہے اس اعتبار سے گویا کہ اس نے خود کو زکات دے دی ہے ۔(148)
اجمع اہل العلم علی ان الرجل لا یعطی زوجتہ من الزکات وذالک لان نفقتہا واجبۃ علیہ فتستغنی بہا عن اخذ الزکات فلم یجز دفعہا۔
اہل علم کا اتفاق ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو زکات نہیں دے سکتاہے کیونکہ بیوی کا نفقہ اس پر واجب ہے، اور زکات لے لینے کی وجہ سے بیوی کو نفقہ کی ضرورت نہیں رہے گی لہٰذا اسے زکات دینا جائز نہیں ہے۔(149)
بیوی اپنے شوہر کو زکات دے سکتی ہے یا نہیں اس مسئلہ میں اختلاف ہے، امام ابوحنیفہ کے نزدیک بیوی کے لئے شوہر کو زکات دینا درست نہیں ہے، اس کے برخلاف امام مالک، شافعی اور امام احمد کی ایک روایت کے مطابق عورت کے لئے اپنے شوہر کو زکات دینا جائز ہے، امام ابو یوسف اور محمد کی بھی یہی رائے ہے، امام احمد کی دوسری روایت امام ابوحنیفہ کے موافق ہے (150) ،اور امام مالک سے بھی ایک روایت اسی کے مطابق منقول ہے ۔(151)
خلاصہ کلام
اسلامی تعلیمات وہدایات کی وسعت وہمہ گیری کو سمیٹا جائے تو محض دو لفظوں سے عبارت ہے، اللہ کی بندگی اور بندگانِ خدا کی مدد، نماز رب کی بندگی کی ایک اہم علامت اور خالق ومالک سے قربت کا سامان ہے تو زکات انسانوں سے تعلق، اعانت اور ان کے دکھ درد میں شرکت کا روشن عنوان ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں اکثر جگہوں پر نماز اور زکات کا تذکرہ ایک ساتھ کیا گیا ہے۔
زکات اسلام کا ایک اہم رکن، عبادت اور دینی فریضہ ہے،زکات نام ہے اس حق کا جو صاحب ثروت کی دولت میں نادار اور محتاج کا ہے، صاحب حق ہی کو اس کا حق ملنا چاہئے، حقدار کو محروم کرنا اور غلط جگہوں پر خرچ کرنا بڑا ظلم ہے، اس سے معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہوگا، اس لئے قرآن نے بڑی وضاحت کے ساتھ مصارف زکات کا تذکرہ کیا ہے تاکہ بیجا استعمال پر بند لگایا جاسکے، اور غیر مستحقین کی حریصانہ نگاہیں اس مال کی طرف نہ اٹھیں، قرآن میں زکات کے کل آٹھ مصارف بیان کئے گئے ہیں۔
پہلے نمبر پر فقیر ومسکین کا ذکر ہے جو ذکر ہے جو اس بات کے لئے دلیل ہے کہ قرآن کی نگاہ میں سب سے اہم مصرف اور اولین حقدار یہی ہیں،نوع انسانی کی محتاجی ومسکینی کو دور کرنا، غربت مفلسی اور بدحالی کے دلدل سے نکالنا اور گداگری کو روکنا ہی زکات کا بنیادی مقصد ہے، لیکن فقر ومسکنت کا کیا معیار ہے، اس سلسلہ میں فقہاء کے درمیان قدرے اختلاف ہے، امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک جس شخص کے پاس اموال زکات نصاب کے بقدر، یا غیراموال زکات ضرورت سے زائد اور نصاب کے بقدر ہوں، تو وہ غنی اور مالدار ہے اگر ایسا نہیں ہے تو وہ فقیر اور مسکین ہے، دیگر ائمہ کے نزدیک فقر ومسکنت کا معیار ضرورت وحاجت ہے، لہٰذا کسی شخص کے پاس نصاب کے بقدر مال ہے لیکن اس کی ضرورت اس سے پوری نہیں ہوتی تو وہ فقیر ومسکین ہے، اس کے برخلاف کسی کے پاس کچھ بھی نہیں ہے لیکن روزانہ کی کمائی سے اس کی ضرورت پوری ہورہی ہے تو وہ غنی مالدار ہے، امام ابوحنیفہ کی رائے اس باب میں متوازن اور منضبط ہے اور اس رائے کو اختیار کرنے میں زکات کی وصولی وتقسیم میں سہولت ہوگی۔
تیسرا مصرف ’’عامل زکات‘‘ ہے اس سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو وصولی زکات اور اس کی تقسیم کے ادارے سے متعلق ہیں، یہ عامل خلیفۃ المسلمین کی طرف سے مامور ہوا کرتا ہے، لیکن جن جگہوں پر اسلامی حکومت نہ ہو وہاں مسلمان اپنے طور پر زکات کی وصولی وتقسیم کا نظم کرسکتے ہیں اور ان کی طرف سے اس کام کے لئے مقرر کردہ افراد ’’عامل‘‘ کے حکم میں ہوں گے، بہتر یہ ہے کہ اجتماعیت کو باقی رکھنے کے لئے ایک ہی ادارہ قائم کیا جائے لیکن اگر ایسا کرنا دشوار ہو تو ایک سے زائد ادارے بھی قائم کئے جاسکتے ہیں جو اپنے دائرۂ اعتماد میں رہ کر اس فریضہ کو انجام دیں، لیکن وصولی زکات اور چندہ کے موجودہ نظام کی تائید نہیں کی جاسکتی ہے کہ اس نے تو اجتماعت کا تصور ہی مٹا کر رکھ دیا ہے، اور اس کی وجہ سے چندہ وصول کرنے والوں کی جو بے وقعتی اور بے آبروئی ہوتی ہے وہ محتاج بیان نہیں، کاش کہ مسلمان اس طرف توجہ کرتے اور اپنی تنگنائیوں سے اوپر اٹھ کرخود کو ملت میں گم کردینے کی کوشش کرتے۔
زکات کا چوتھا مصرف’’مولفۃ القلوب‘‘ ہے، اس سے مراد وہ غریب اور نادار نومسلم ہیں جن کے متعلق اندیشہ ہو کہ مالی تعاون نہ کیا جائے تو معاشی پریشانی کی وجہ سے اسلام کو مجبوراً خیرباد کہہ دیں گے، فقیروں اور محتاجوں کی فہرست میں گرچہ وہ بھی شامل تھے،لیکن ان کی طرف خصوصی توجہ دلانے کے لئے علیٰحدہ سے ان کا تذکرہ کیا گیا ہے، کسی کافر کو اسلام کی طرف مائل کرنے یا اس کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے زکات دینا جائز نہیں ہے کیونکہ زکات ایک مالی عبادت ہے،جو مسلمانوں سے وصول کی جاتی ہے اور انھیں پر خرچ کی جائے گی اور کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کافر کو زکات کی رقم سے کچھ دیا ہو، بعض کافروں کو تالیف قلب کے مقصد سے دینے کا جو تذکرہ احادیث میں آتاہے تو وہاں صراحت ہے کہ وہ مال غنیمت میں سے دیا گیا تھا، یہ حقیقت ہے کہ مال ودولت کے ذریعہ کسی کے عقیدہ وضمیر کا سودا کرنے کو اچھا نہیں کہا جاسکتا ہے، اور نہ ہی اس سے کسی بہتر تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے، اور اشاعت اسلام کے لئے مالی امداد کی بیساکھی کی کبھی ضرورت نہیں رہی نہ رہے گی،اسلام کا دامن اس طرح کی آلودگی سے پاک ہے کیونکہ جس طرح سے تلوار کے زور سے مذہب کی تبلیغ ناجائز ہے اسی طرح دولت کے سہارے مذہب کی طرف مائل کرنا بھی اکراہ میں داخل ہے اور نا درست ہے۔
پانچواں مصرف’’الرقاب‘‘ ہے،اس سے مراد جمہور ائمہ کے نزدیک وہ غلام ہے جس کے آقا نے آزاد کرنے کے لئے کچھ مال کا مطالبہ کیا ہو جسے فقہ کی اصطلاح میں مکاتب کہا جاتاہے، چونکہ غلامی کا مسئلہ ختم ہوچکاہے اس لئے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے،البتہ ایک مسئلہ یہاں قابل توجہ ہے کہ کیا زکات کی رقم سے مسلم قیدیوں کو رہا کرایا جاسکتا ہے،حنبلی اور بعض مالکی فقہاء کے یہاں اس کی اجازت ہے اور اصولی اعتبار سے حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک بھی درست ہونا چاہئے،بشرطیکہ وہ قیدی محتاج اور نادار ہو۔
چھٹا مصرف’’مقروض‘‘ ہے، قرض دو طرح کے مقاصد کے لئے جاتے ہیں، ذاتی ضرورت کے لئے،مسلمانوں کے درمیان باہمی نزاع کو ختم کرانے کے لئے، دونوں طرح کے قرض میں زکات کی رقم لگائی جاسکتی ہے بشرطیکہ مقروض نادار ہو اور ضرورت مند ہو، یہ شرط حنفی علماء کے نزدیک ہے، دیگر ائمہ کے نزدیک پہلی قسم کے لئے احتیاج شرط ہے لیکن دوسری قسم کے لئے نہیں، میت کے قرض کی ادائیگی میں زکات کی رقم دی جاسکتی ہے یا نہیں اس سلسلہ میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے، مالکی فقہاء کے نزدیک درست ہے، امام شافعی سے بھی ایک قول اسی کے مطابق منقول ہے، دیگر ائمہ اس سے اختلاف کرتے ہیں، دلیل کے اعتبار سے پہلی رائے زیادہ قوی ہے۔
ساتواں مصرف’’فی سبیل اللہ‘‘ ہے، اس سے مراد وہ غازی ہے جس کے پاس سفر،جہاد اور سامان حرب وضرب کی استطاعت نہ ہو، عدم استطاعت اور احتیاج کی شرط فقہ حنفی کے مطابق ہے دیگر ائمہ کے نزدیک اس مقصد کے لئے مالدار شخص کو بھی زکات کی رقم دی جاسکتی ہے، بشرطیکہ حکومت کی طرف سے اس کی تنخواہ متعین نہ ہو۔
آٹھواں اور آخری مصرف وہ مسافر ہے جس کے پاس سفرجاری رکھنے یا واپسی کے لئے زادِ راہ نہ ہو۔
ان مصارف پر زکات خرچ کرنے کی شرائط یہ ہیں
(الف) اسلام ۔ لہٰذا کسی غیرمسلم کو زکات کی رقم نہیں دی جاسکتی، اس پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے، صرف امام احمد کا ایک مرجوح قول ہے کہ بحیثیت عامل کافر کو زکات دی جاسکتی ہے، علامہ ابن المنذر نے اس پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ غیرمسلم شہریوں کو بھوکا مرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے، بلکہ بیت المال کے دیگر مدات سے اس کی کفالت کی جائے گی۔
(ب) فقر وحاجت۔ ائمہ حنفیہ کے نزدیک عامل اور مولفۃ القلوب کے علاوہ تمام مصارف کے لئے فقر وحاجت شرط ہے دیگر ائمہ کے نزدیک ان دو کے علاوہ غازی اور مسلمانوں کے درمیان باہمی نزاع کو ختم کرانے کے مقصد سے قرض لینے والے کے لئے بھی فقر واحتیاج ضروری نہیں ہے۔
(ج) امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک زکات کا حقدار وہی فقیر اور مسکین ہے جو کمانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو،یا کمانے کی قدرت تو ہے مگر اس کے لائق جائز کام نہیں ہے، یا کمائی کے ذریعہ اس کی ضرورت پوری نہ ہوتی ہو،امام ابوحنیفہ اور مالک کے نزدیک یہ شرط نہیں ہے بلکہ تندرست اور کمانے کے لائق شخص کو بھی زکات دی جاسکتی ہے گوکہ ایسے شخص کے لئے سوال کرنا حرام ہے۔
(د) مستحق زکات کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خاندان نبوت کا فرد نہ ہو۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ’’خمس‘‘(مال غنیمت کا پانچواں حصہ) سے محروم ہوجانے کی وجہ سے آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زکات دی جاسکتی ہے، ترجیح اسی رائے کو ہے۔
(ہ) جس شخص کو زکات دی جارہی ہے وہ زکات دینے والے کے آبا واجداد میں سے نہ ہو، ایسے ہی زکات دینے والا اپنی اولاد کو زکات نہیں دے سکتا ہے نیز میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کو اپنی زکات نہیں دے سکتے ہیں۔
زکات کے ان مصارف پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس نظام کے ذریعہ معاشرہ کے دبے کچلے، غریب وبے کس اور بے سہارا افراد کو اوپر اٹھانا مقصود ہے،نادار ومجبور، آفت زدہ اور مصیبت کے مارے کو سہارا دینا ہے، اور معاشرہ کے کماؤ اور لائق افراد کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے، یہ نظام مسافروں اور بے ٹھکانوں کے لئے ایک پناہ گاہ فراہم کرتا ہے، دردربھٹکنے،لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی اخلاقی پستی اور گراوٹ سے روکتا ہے،عزت نفس، انسانی شرافت وغیرت اور خودداری کی حفاظت کرتا ہے، بے آبروئی اور بے وقعتی سے بچاتا ہے، یہ ایک طرح سے انشورنس ہے جس کے ذریعہ ضرورت مند اور محتاج کی حاجت پوری کی جاتی ہے، اسلام کا رائج کردہ یہ نظام مغرنی نظام انشورنس سے کہیں اچھا ہے اور بہتر ہے، کیونکہ مغربی نظام انشورنس میں اسی شخص کی مدد کی جاتی ہے جس نے بیمہ کمیٹی کو اس کی طرف سے مقرر کردہ قسط کی ادائیگی کی ہو، نیز جمع کردہ رقم کے اعتبار سے اس کا تعاون کیا جاتا ہے، اس کے برخلاف اسلام کے اس نظام میں پہلے کچھ ادا کرنے کی شرط نہیں ہے، نیز آفت زدہ کو اس کی ضرورت کے مطابق دیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ نقصان کی تلافی ہوسکے اور وہ مصیبت کے بھنور سے چھٹکارا پاسکے۔
یہ حقیقت ہے کہ اگر مسلمان زکات کی ادائیگی اور صحیح جگہوں پر خرچ کرنے کی طرف توجہ دیں تو معاشرہ میں کوئی غریب اور مفلوک الحال نہ رہ جائے، چنانچہ صادق ومصدوق کا قول ہے:
ان اللہ فرض علی الاغنیاء فی اموالہم بقدر ما یکفی فقراء ہم وان جاعوا وعرواوجہدوا فمنع الاغنیاء وحق علی اللہ ان یحاسبہم یوم القیامۃ یعذبہم۔
اللہ نے مالداروں پر جو زکات فرض کی ہے وہ اتنی ہے کہ فقراء کے لئے کافی ہوجائے، اس کے باوجود لوگ بھوکے،بے لباس اور پریشان حال رہیں تو یہ مالداروں کے زکات ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہوگا، اور اللہ کو حق ہے کہ قیامت کے دن ان سے بازپرس کرے اور عذاب دے۔(152)

حواشی:
(126)نصب الرایۃ 2/399، ارواء الغلیل 3/381۔385(127) نیل الاوطار 4/159(128)المجموع 6/189
(129)المجموع 6/190۔191
(130)المجموع 6/190۔191، الانصاف 3/218
(131)بعض روایتوں میں ان الصدقۃ لاتنبغی لمحمد کے الفاظ ہیں، امام احمد اور مسلم نے ان رویاتوں کی تخریج کی ہے ، نیل الاوطار 4/175(132) متفق علیہ(133) سنن ترمذی 1/87وقال حسن صحیح، وصححہ ایضاً ابن خزیمہ وابن حبان، نیل الاوطار 4/174
(134)فتح القدیر2/213
(135)صحیح بخاری بحوالہ مشکوٰۃ 2/349(136)مجمع الانھار 1/424
(137)شرح معانی الآثار 1/301(138)فتح الباری 3/354(139)المجموع 6/227(140)فتاویٰ شیخ الاسلام 4/256
(141)طبرانی عن ابن عباس ، الدرایۃ علی ھامش الھدایۃ 2/206(142)فقہ الزکات 2/735۔736
(143)فقہ الزکات 2/734۔735(144)سنن ابوداؤد

(145)شرح معانی الآثار 1/297، حضرت عباسؓ سے منقول ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا انک حرمت علینا صدقات الناس ھل تحل لنا صدقات بعضنا لبعض قال نعم۔ آپ نے ہمارے لیے لوگوں کے صدقات کو حرام قرار دے دیا ہے تو کیا بنی ہاشم اپنی زکات ایک دوسرے کو دے سکتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ ان روایات کی بنیاد پر امام ابویوسف کہتے ہیں کہ بنی ہاشم کو آپس میں ایک دوسرے کو زکات لے سکتے ہیں۔ گرچہ اس خیال کے لیے ایک استدلالی بنیاد موجود ہے لیکن احادیث اس موضوع پر صریح اور صحیح نہیں ہیں ، جس کی تفصیل یہ ہے کہ پہلی روایت کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتاہے کہ نفلی صدقات مراد ہیں اور دوسری روایت جو صریح ہے اس پر کلام کیاگیاہے۔ (دیکھئے شرح معانی الآثار 1/297، نیل الاوطار 4/173(146)المجموع 6/227

(147)الجامع لاحکام القرآن 8/191(148)المغنی 4/98
(149)المغنی 4/100(150)المغنی 4/100، فتح القدیر /205(151)نیل الاوطار 4/177
(152)کنزالعمال 3؍300

مزید دکھائیں

ولی اللہ مجید قاسمی

مولانا ولی اللہ مجید قاسمی معروف عالم دین ہیں اور جامعتہ الفلاح، اعظم گڑھ میں فقہ و حدیث کےاستاذ نیز دار الافتاء کے ذمہ دار بھی ہیں۔

متعلقہ

Close