مذہبی مضامین

آخری عشرہ کی اہمیت وفضیلت!

 امتیاز شمیم ندوی

     جیسے جیسے رمضان اپنے اختتام کی جانب رواں دواں ہوتا ہے، ویسے ویسے مومنوں خصوصا سعید روحوں کے اندر برائیوں کو اچھائیوں سے مٹانے، اور  نیکیوں سے اپنے قلوب کو روشن سے روشن ترین کرنے کی طمع وحرص بڑھتی چلی جاتی ہے اور بڑھنا بھی چاہیے، کیوں کہ یہ وہ بہترین رات ہے جس میں قرآن کا نزول ہوا، اورقرآن کریم ہی کی زبان میں جسے شب قدر کہاگیا اور جس کے بارے میں مومنوں کو یہ مژدۂ بیش بہا بھی سنادیا گیا کہ وہ رات ہزار راتوں سے بہتر ہے(سورہ قدر)، حدیث پاک کے مطابق قدر والی وہ مبارک شب، رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ہی کوئی ایک ہے، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے ارشاد فرمایا’’شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو اور ایک روایت میں ہے کہ رمضان کی آخری سات طاق راتوں میں تلاش کیا کرو‘‘۔ (متفق علیہ)۔

آخری عشرہ اس لیے بھی بے انتہا اہمیت وفضیلت کا حامل ہے کہ اس میں حضور اکرم صلعم سے اعتکاف کا ثبوت ملتا ہے، آپ صلعم نہ صرف خود ہر سال اعتکاف فرماتے، بلکہ اپنے اصحاب کو اس کی ترغیب بھی دیتے تھے، خود بھی عبادت کے لیے شب بیداری کرتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایاکرتے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلعم ہر سال رمضـان المبارک میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے اور جس سال آپ صلعم کا وصال مبارک ہوا اس سال آپ صلعم نے بیس دن اعتکاف کیا(متفق علیہ)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ’’جب آخری عشرہ شروع ہوتاتو حضور نبی اکرم ص کمر بستہ ہوجاتے، اس کی راتوں کو زندہ رکھتے (یعنی شب بیدار رہتے) اور گھر والوں کو جگایا کرتے‘‘۔(متفق علیہ)۔

     اعتکاف کہتے ہیں دنیاو مافیہا سے یکسر علیحدہ ہو کر اللہ کے ذکروورد اور عبادت کی خاطر مسجد میں گوشہ نشینی اختیار کرلینا۔اس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ آدمی بیسویں روزہ کے غروب آفتاب یا افطار سے قبل، دنیاوی معاملات سے مکمل طورپر الگ ہوکر مسجد میں اپنے قیام و طعام کا انتظام کرلے اورعبادت الہی وذکرخداوندی میں مشغول ہوجائے اور لگاتار نو دس دنوں تک مشغول رہے یہاں تک کہ عید الفطر کا چاند نظر آ جائے۔اعتکاف کرنے والا جہاں ہر وقت بلکہ ہرلمحہ و ہرگھڑی ذکروفکر، تلاوت قرآن، تہجد، اشراق، تسبیحات، تزکیۂ نفس، احتساب ایمان و اعمال اور ان جیسی دیگرعبادتوں کے ذریعہ اپنے گناہوں ولغزشوں کی معافی وتلافی کرکے، خود کو روحانی شفافیت بخشنے، دل کو مجلی ومنور کرنے اور اللہ سے قریب تر ہونے میں کامیاب ہوگا، وہیں وہ شب قدر جیسی مقدس وعظیم رات اوراس رات کی ہزارگنا فضیلت وبہتری سے بھی بہرہ ورہوگا، اور اس مخصوص رات میں کی گئی اپنی تمام تر عبادتوں کا ثواب ہزار گنا مزید حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگا۔ اعتکاف اتنی عظیم عبادت ہے کہ معتکف کو حضور اکرم ؐ نے حج اور عمرہ کے برابر ثواب کی بشارت دی ہے، بیہقی کی روایت ہے کہ ’’جس نے رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف کیا، وہ دو حج اور دو عمروں کی طرح ہوگا‘‘۔

 رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر کی تلاش وجستجو اور سنت اعتکاف جیسے مخصوص اعمال کے علاوہ ایک اور اہم ترین عمل ہے جو اس عشرے کی فضیلت واہمیت میں چار چاند لگادیتا ہے، وہ ہے صدقہ الفطر کی ادائیگی کا عمل۔ یہ صدقہ ہرصاحب حیثیت مسلمان پر تقریبا دو سیر گندم یا اس کی قیمت کے حساب سے واجب ہے، یہ صدقہ در اصل رمضان المبارک کے دوران صائمین سے سرزد ہونے والی بھول چوک، لغویات وواہیات اور منکرات سے کفارہ کا ایک ذریعہ ہے، اس صدقہ سے عید کے خوش کن موقع پر غربا ومساکین کی مدد ودلجوئی بھی مقصود ہے، حضور صلعم نے فرمایا’’روزہ دار سے جو لغویات اور فضول حرکتیں سرزد ہوتی ہیں ، فطرانہ ان سے روزوں کی تطہیر کرتا ہے اورمساکین کی خوراک کا ذریعہ ہے‘‘۔

لہذا اس کی ادائیگی عید کی نماز سے پہلے ہونی چاہیے تاکہ غربا ونادار اور مفلس ومساکین جو اس صدقے کے اصل حقدار ہیں ، اپنی ضروریات کی چیزیں خرید کر سب کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں ، حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا’’رسول اللہ صلعم نے فطرانے کی زکوۃ فرض فرمائی ہے ، ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، ہرغلام اورآزاد، مرد اورعورت، چھوٹے اور بڑے مسلمان کی طرف سے، اور حکم فرمایا کہ اسے لوگوں کے نمازعید کے لیے نکلنے سے پہلے ہی اداکردیا جائے‘‘۔(متفق علیہ)۔دوسری روایت ہے،اس میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ’’حضور نبی اکرم صلعم نے حکم دیا صدقہ فطر نماز عید کے لیے جانے سے پہلے ادا کیا جائے‘‘(مسلم، ابوداؤد، نسائی)۔ صدقہ فطر کی اہمیت کا اندازہ حدیث پاک کے ان الفاظ سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ’’روزے زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتے ہیں جب تک فطرانے کی ادائیگی نہ ہوجائے‘‘۔

 اس ماہ مبارک کے فیوض وبرکات سے جو لوگ واقف ہیں وہ رمضان المبارک میں عبادات کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے، کیوں کہ رمضان شریف توآتا ہی اسلئے ہے کہ خدا کے دیے ہوئے انعامات سے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کیا جائے، گناہوں سے توبہ کیا جائے، برائیوں کے نہ کرنے کا عہد کیا جائے، اور اللہ سے اپنے دینی ودنیاوی خیروفلاح کی دعائیں مانگی جائیں ، وہ خالق کائنات ہے اور ہماری جائزوحلال دعائوں کو کبھی رد نہیں کرتا، خشوع وخضوع کے ساتھ اگر اللہ کے سامنے دست سوال دراز کیا جائے تو وہیں سے پروانۂ قبولیت عطا کردیا جاتا ہے۔اللہ رب العزت ہم سب کو رمضان المبارک کے فیوض وبرکات سمیٹنے اور زیادہ سے زیادہ عبادات  میں مشغول رہنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close