مذہبی مضامین

اسلام: ایک نظام زندگی

محمدعرفان ایم اے

(اسلامك اسٹڈيز  جامعه مليه اسلاميه)

اسلام کا معنی ومفہوم                                                       

اسلام کا لفظ  ’’س ل م ‘‘ سلم  سے نکلا ہے، اس کے لغوی معنی بچنے، محفوظ رہنے، مصالحت اور امن وسلامتی پانے اور فراہم کرنے کے ہیں۔ اس مادے کے باب افعال سے لفظ اسلام بنتا ہے، لغت کی رو سے لفظ اسلام درج ذیل معانی پر دلالت کرتا ہے۔ خود امن سلامتی پانا، دوسرے افرادواشخاص کو امن وسلامتی دینا اور کسی چیز کی حفاظت کرنا ، تسلیم کرنا ، جھکنا اور خود سپردگی واطاعت کرنا، کسی کے مکمل تابع وفرمانبردار ہوجانا، صلح آشتی کرنا، مفاہمت ومصالحت کرنا۔

مکمل نظام حیات               

اللہ تعالی نے کائنات کی تخلیق کی، تمام انسانوں کو پیدا کیا اور ان کو زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ سکھایا، ایک ایسا نظام حیات عطا فرمایا جس سے بہتر کوئي دوسرا نظام ہو ہی نہیں سکتا اور اس کو بطور دین تمام انسانوں کے ليےپسند فرمایا۔اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّـٰهِ الْاِسْلَامُ (آل عمران : ۱۹) ترجمه : ’’يقیناً اللہ تعالی کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے‘‘ اس کے ساتھ ساتھ تمام انسانوں کی رہبری ورہنمائ کے ليےانھیں میں سے تمام انبیاء مبعوث فرمائے، سب سے آخر میں جناب نبی اکرم کو بھیجا جن کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( الممتحنه : ۶) ترجمه: ’’یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں بہترین نمونہ ہے‘‘ آپ رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے اسوہ اور نمونہ ہیں، آپ کی زندگی پوری دنیا کے تمام انسانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہے، اسلام ایک نظام زندگی ہے، جو انسانی زندگی کے ہر شعبے میں مکمل رہبری ورہنمائ کرتا ہے انسانی زندگی کا کوئي بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جو اسلامی تعلیمات اور اسلام کی رہنمائي سے خالی ہو، انسان کے پیدا ہونے سے لے کر اس کی آخری سانس تک اس میں مکمل نظام موجود ہے، دنیا میں کس طرح زندگی گزارنی ہے، کس طرح رہنا ہے، اسلام ہر قدم پر رہنمائي پیش کرتا ہے، ایک ایسی رہنمائ جو انسانی عقل کے بالکل موافق اور مطابق ہے، زندگی کے کسی بھی شعبہ کو لیجئے ہر جگہ اسلام کی واضح تعلیمات ملتی ہیں، اسلام روحانی، اخلاقی، سیاسی، سماجی، معاشی ومعاشرتی تمام شعبہاۓ زندگی کا احاطہ کرتا ہے، ایک انسان کو بیوی بچوں اور خاندان کے ساتھ کس طرح رہنا ہے، ہر ایک کے الگ الگ حقوق بیان کر دیے ہیں۔  ماں، باپ، بہن، بھائ، بیوی، بچوں الغرض دیگر رشتوں کو کس طرح نبھاۓ اس سلسلے میں پورا اسلامی خاندانی نظام موجود ہے اس کے ساتھ ایک انسان معاشرے میں کس طرح زندگی بسر کرے اس کے معاشرتی آداب بیان کر دیے هيں،   اپنے گاؤں قصبے اور شہر کے لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے ہوں اور ان کے ایک دوسرے پر کیا حقوق ہیں،آپسی معاملات کو کس طرح سے انجام دے اسلام تمام باتوں کو بڑے دلکش انداز میں پیش کرتا ہے۔

اس کے علاوہ سیاسی نظام کو بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ ایک انسان ملک وملت کے حکومتی نظم وانصرام کو کس طرح چلايے اور کس طرح خدائي  قوانین کو ملحوظ رکھتے ہوے ملک کے نظم ونسق کو انجام دے، اسی طرح سے معاشی قوانین بھی بتلاۓ کہ انسان کو اپنی معاش کے ليے کس طرح رزق حلال تلاش کرنا ہے حلال وحرام کو واضح کر دیا۔  ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوۓ آپسی بیع وشرع کس طرح کرنی ہےتمام چیزیں وضاحت  کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر دی ہیں  ۔

عبادت کا صحیح تصور بھی اسلام ہی نے نماز کے ذریعے پیش کیا، انسان اپنی پیشانی زمین پر رکھ کر اپنی بندگی کا ثبوت پیش کرتا ہے اسلام کو صرف ایک مذہب ہی نہیں کہہ سکتے بلکہ اسلامی تعلیمات بے حد وسیع اور لا محدود ہیں۔اگر ہم اسلامی تعلیمات اور اس کے اصولوں کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ اسلام ہر مسئلے اور ہر پہلو کو بے حد خوبصورتی سے بیان کرتا ہے اور انسان کی ہر جگہ رہنمائي کرتا ہے، اسلام نے دین اور دنیا کے اس مصنوعی فرق کو ختم کر دیا ہے جو مختلف مذاہب میں رائج ہيں،  اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان دنیوی امور سے کنارہ کشي اختیار کرے اکثر مذاہب میں ترک دنیا کی تعلیم ملتی ہے، لیکن اسلام میں ترک دنیا کی بڑی شدت سے مخالفت ملتی ہے، اسلام نہ صرف ترک دنیا کی ممانعت کرتا ہے بلکہ ان اعمال کو جنھیں عام طور پر دنیوی اور مادی تصور کیا جاتا ہے، مثلا روزی کمانا، اھل وعیال کی فکر وغیرہ ان کو اسلام نے باعث اجروثواب بنایا ہے، اسلام نے ہی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں توازن رکھا ہے، دین اور دنیا میں برابری رکھی ہے، کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا ہے۔

اسلام ایک فطری مذہب ہے، اللہ تعالی نے اس کو عین انسانی فطرت کے مطابق بنایا ہے، اس بات کو ایک مثال سے سمجھیے  کہ جس طرح سے موٹر سائیکل بنانے والے نے بتادیا کہ یہ گاڑی اسی وقت چلے گی جب اس میں تیل ڈالوگے ورنہ نہیں چلے گی اب اگر ہم اپنا دماغ لگا کر تیل کی جگہ پانی ڈالیں تو گاڑی خراب ہو جائے گی، اسی طرح سے اگر ہم اس دنیا میں اسلام کے علاوہ کسی دوسرے طریقے سے زندگی بسر کریں تو ہماری زندگی میں دشواریاں پیدا ہونگی، کیونکہ صرف اسلام ہی ایک ایسا طریقۂ حیات ہے، جس کو اس خالق نے بنایا ہے، جس نے اس پوری کائنات اور تمام مخلوقات کو پیدا کیا، وہی بہتر جانتا ہے کہ کون سا طریقہ انسانی زندگی کے لئے مناسب اور بہتر ہے، اسی لئے  ہمیں اسلام ہی کو اپنا نظام حیات سمجھنا چاہيے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close