دعوتمذہبی مضامینہندوستان

اسلام کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کیوں اور کیسے؟

محمد اسعد فلاحی

اسلام ایک مکمل نظام حیات اور انسان کی عین فطرت کے مطابق ہے ۔اسلام کا یہی وہ وصف خاص ہے جو اسے باقی ادیان و مذاہب سے الگ اور نمایا ں کرتاہے ۔یہ دین انسان کے اپنے ہاتھوں کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی نے اسے ساری دنیا کے انسانوں کی ہدایت کے لیے بنایاہے ۔اب رہتی دنیا تک یہی چراغ انسانوں کی ہدایت اور روشنی کا ذریعہ رہے گا ۔جو شخص اسے اپنا لے گا دونوں جہانوں میں اللہ تعالی اسے کام یابی سے ہم کنار کرے گا اور اس کے بر خلاف جو اسے قبول کرنے سے انکار کرے گا ،یقیناً اسے ٹوٹے اور خسارے سے دوچار ہونا پڑے گا ،اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔

اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کر کے ،اسے دنیا میں یوں ہی بھٹکنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کی رہ نمائی کے لیے ،ہر قوم اور ہر خطہ میں اللہ تعالی نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا ،ان پر وحی نازل کی اور انہیں اس عظیم ذمہ داری پر فائز کیا کہ وہ انسانوں کی صحیح راستے کی طرف رہ نمائی کر یں ۔چناں چہ اس دنیا میں انسانوں کی ہدایت کے لیے بہت سے پیغمبر اور رسول مبعوث ہوئے اور سب سے آخر میں حضرت محمد مصطفی ﷺ تشریف لائے ۔ آپ ﷺ کے بعد اب قیامت تک کوئی بنی نہیں آئے گا۔اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد دعوت دین اور اقامت دین کی یہ عظیم ذمہ داری پوری امت مسلمہ پر فرض ہے کہ وہ خدا کے اس آخری پیغام کو پوری انسانیت تک پہنچائیں ۔

 اس میں شک نہیں کہ آج دنیا بھر میں اللہ تعالی کے بہت سے نیک بندے موجود ہیں جو دعوتِ دین کو دنیا میں پھیلانے کی اپنی سی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ بہت سی تنظیمیں ،جماعتیں بھی اس کام کو اپنی اپنی کوششوں کے مطابق آگے بڑھا رہے ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے خلاف ہو رہی شا زشوں اور پروپگنڈوں کے مقابلہ میں  یہ کوششیں بہت تھوڑی اور محدود ہیں ۔ اگر اسلام کو صحیح طریقہ سے اللہ کے بندوں تک پہنچایا جائے اور اس کی صاف اور شفاف صورت کو ان کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ حق قبول کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتے ۔لیکن افسوس!آج اس حق کو قبول کرنے والوں کی تعداد بہت سست  پڑ گئی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ بہت سی غلط فہمیاں ہیں جو اللہ کے ان بندوں اور اسلام کے درمیان حد فاصل بن گئیں ہیں ۔چناں چہ آج ،اسلام تلوار کے زور سے پھیلا،مسلمان گوشت خور ہوتے ہیں ،مسلمان بنیادی طور پر بنیاد پرست ہوتے ہیں ،پردہ عورت پر ظلم ہے،جہاد دہشت گردی ہے،اسلام میں تعدد ازدواج  ،یہ اور ان جیسی بے شمار غلط فہمیاں ہیں جو خدا کے ان بندوں کے زہنوں میں گھر کیے ہوئے ہیں ۔ اگر ان غلط فہمیوں کا ازالہ ہو جائے تو نہ صرف یہ کہ اسلام کی دعوت کو ایک سازگار ماحول میسر آئے گا بلکہ حق سے محروم ان بندوں کو صحیح راستہ کی طرف رہ نمائی بھی مل سکے گی ۔

غلط فہمیوں کے اسباب:

 مسلمانوں کو ہندوستان میں رہتے ایک طویل مدت گذر چکی ہے ۔یہاں مسلموں اور غیر مسلموں کی مخلوط آبادیاں ہیں ۔اس کے علاوہ بہت سے معاملات ہیں جن میں قدم قدم پر ان سے سابقہ پڑتا ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو مسلمان اپنے برادران وطن کے معاملات ،رسم و رواج،عقائد ،تہوار،اور تاریخ کا علم رکھتے ہیں اورنہ ہی غیر مسلموں کو اسلام اور مسلمانوں کی بنیادی باتوں کا علم ہے ۔ اور یہی ناواقفیت انہیں ایک دوسرے کے متعلق شکوک شبہات میں مبتلا کرتی ہے۔

 اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کا ایک بڑا سبب مسلمانوں کی  اسلامی احکام پربے عملی اور اسلامی تعلیمات سے دوری ہے ۔مسلمان جو کہ ایک آفاقی پیغام کے علم بردار اور داعی امت ہیں ،جن کا فریضہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بر حق تعلیمات پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں ،لیکن افسوس!انہوں نے دوسروں کو متأثر کرنے کے بجائے وہ خود غیروں سے متأثر ہو گئے ہیں اور خدا کے اس آفاقی پیغام کو بالائے طاق رکھ دیا ہے ۔آج ہم مسلمانوں کے عقائد ،تصورات ،کا جائزہ لیں تو ان پر مشرکانہ اعمال کی آمیزش بہت نمایاں نظر آتی ہے۔اسلام کے اتنے واضح تصور  ہونے کے باوجود مسلم عوام بہت سی گم راہیوں ،اور شرکیہ اعمال و رسومات میں ملوث نظر آتی ہے۔ہزاروں مزار قائم کر رکھے ہیں جہاں عرس کے میلے لگتے ہیں ،حاجت مندوں اور زائرین کا جم غفیر اکٹھا ہوتا ہے،لوگ اپنی پیشانیوں کو ٹیکے اور منتیں مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔مختصراً یہ کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ جاہلانہ رسوم اور عقائد کا دامن تھامے ہوئے ہے جس کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ بھی نہیں ۔اور مسلمانوں کی اس بے عملی اور غلط طرز عمل کو غیرمسلم اسلام کی سند سمجھتے ہیں ۔اسلام کی تعلیمات اپنی جگہ اور اٹل ہیں ،خواہ اس پر مسلمان عمل کریں یا نہ کریں ۔لیکن عام طور پر غیر مسلمین اس فرق کو نہیں سمجھتے اور وہ مسلمانوں کے ہر عمل کو اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق سمجھتے ہیں ۔اور اس طرح اسلام سے متعلق غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔

اسلام کے متعلق غلط فہمی پیدا ہونے کا ایک بڑی وجہ وہ پروپگنڈے ہیں جو مخالفینِ اسلام ،اسلام اور مسلمانوں کے خلاف برپا کر رہے ہیں ۔ان جہلاء کا کا عوام میں اسلام کے مختلف پہلوؤں پر بے جا اعتراضات کرنا اور ان میں نقائص نکال کر لوگوں کو اس کے خلاف اکسانا مقصود ہوتا ہے ۔چنا ں چہ انہیں لوگوں کی سازشوں نے جہاد اور اس جیسی دوسری اصطلاحوں کو لوگوں کے سامنے اتنا بھایانک بنا دیا کہ ’جہاد‘ کا لفظ سنتے ہی لوگوں پر دہشت طاری ہو جاتی ہے۔

ازالہ کی صورتیں :

 اس سلسلے میں سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگیوں کو اسلام کا عملی اور سچا نمونہ بنائیں ۔ ان کی زندگیاں ایسی ہوں کہ وہ اسلام کی چلتی پھرتی تصویر ہوں ۔آج اسلام اور مسلمانوں کی زندگیوں کا تضاد غیر مسلموں کے غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا  ایک بڑاسبب ہے تو وہیں دوسری طرف انہیں دعوت اسلامی اور کو سمجھنے اور اسے قبول کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بھی ہے۔جب داعیان اسلا م  لوگوں کے سامنے اسلامی دعوت پیش کرتے ہیں تو ایک اعتراض یہ بھی سامنے آتا ہے کہ جب اسلام اتنا اچھا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات میں اتنی خوبیاں پائی جاتی ہین تو خود مسلمان خود اس پر کیوں عمل پیرنہیں ہیں ۔کیوں خود ان کی زندگیاں اسلامی تعلیمات سے عاری ہیں ؟

  دوسری بات یہ کہ غیر مسلمین سے ذیادہ سے ذیادہ ربط و تعلق بڑھانے کی ضرورت ہے ۔تعلقات اور روابط میں کمی کے سبب مسلمانوں اور غیر مسلمین کے درمیان جو دیوار حائل ہے اسے توڑنے کی ضرورت ہے ۔تعلقات میں دوری اور روابط میں کمی سے ہی غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ۔غیر مسلموں سے تعلقات استوار کرنے سے ایک طرف جہاں غلط فہمیوں کے اس خلیج کو پاٹنے میں مدد ملے گی جو کہ فرقہ پرستوں کی منصوبہ بند شازشوں سے دونوں فرقوں (مسلموں اور غیر مسلموں )کے درمیان حائل ہیں تو وہیں دوسری طرف غیر مسلموں کو اسلام کو قریب سے جاننے کا موقع ملے گااور اسلامی احکام و تعلیمات پر کھلے دل سے ان پر غور و فکر کرنے کا موقع ملے گا۔

 تیسری اہم بات یہ کہ اسلام سے متعلق جو شکوک و اشکالات پیش کیے جارہے ہیں ان کے معقول ،مدلل ،عقلی و نقلی جوابات   دیے جائیں ۔ معترضین پر مشتعل ہو جانا اور ان کو دشمن گر داننا صحیح رویہ نہیں ہے ۔ان کے اشکالات کے لیے علمی و عقلی دلائل کے ذریعہ جوابات دیے جائیں تاکہ ان کے اشکالات دور ہوں ۔ کیا معلوم کہ اسلام پر اعتراض کرنے والے نے کوئی بات اس سے نواقفیت کی بنا پر کہی ہو اور صحیح جواب ملنے پران کے اشکالات دور ہو جائیں اور حق کو پہچاننے میں آسانی ہو جائے۔

  اسلام کے بارے میں کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دینا خود مسلمانوں کے تعلق سے فائدہ مند ہے ، کیوں کہ ان کی اکثریت روایتی مسلمان ہیں ۔وہ اپنے آپ کو اس لیے مسلمان سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے باپ دادا کو ایسا کرتے پایا ہے۔لیکن جہاں تک اسلامی عقائد،شائر، عبادات، احکام ا ور تعلیمات کا تعلق ہے وہ اس سے بے خبر ہیں ۔ اس صورت حال میں غیر مسلموں کی جانب سے جو شکوک و شبہات ظاہر کیے جاتے ہیں ان کا نہ صرف یہ کہ عام مسلمان جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے بلکہ ان میں بہت سے ناواقفیت کی بنا پر خود بھی انہیں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔اسلام کے اعتراض کا جواب دینے سے جہاں ایک طرف غیر مسلموں کی غلط فہمیاں دور ہونگی وہیں عام مسلمانوں کو بھی شرح صدر حاصل ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

متعلقہ

Close