دعوتمذہبی مضامینمعاشرہ اور ثقافت

اصلاحی جلسوں کی اصلاح کی ضرورت

 شيخ اسعد اعظمى

اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی جلسوں کی بڑی شاندار تاریخ رہی ہے۔ ان جلسوں کا معاشرے اور عوام دونوں کی اصلاح میں بڑا نمایاں کردار رہا ہے۔ جادہ حق سے منحرف لوگوں کو شاہراہ حق پر واپس لانے، ضلالت و گمراہی، فسق و فجور اور بد عملی کی زندگی گزار رہے افراد کو صراط مستقیم پر لا کھڑا کرنے کا ان جلسوں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے اسے بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔ ہمارے علماء و اسلاف جو علم و عمل دونوں کا پیکر ہوا کرتے تھے انہوں نے اس باب میں ایسے نقوش چھوڑے ہیں جن سے ہماری دعوتی تاریخ کے صفحات روشن ہیں۔ شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری، حضرۃالعلام مولانا ابو القاسم سیف بنارسی، مولانا محمد حسین میرٹھی، مولانا محمدجونا گڈھی، مولانا عبدالرؤف رحمانی و غیرھم رحمہم اللہ کے جلسوں اور تقریروں کی خوش گوار یادیں آج بھی سن رسیدہ حضرات و خواتین کے قلوب و اذہان کو سرور پہنچاتی ہیں۔

دینی جلسوں اور دعوتی کانفرنسوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جو امت کی بیداری اور فرض شناسی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی ادائیگی کا حوصلہ رکھنے والوں اور احقاق حق اور ابطال باطل کے جذبہ سے سرشار افراد کا وجود آج کے اس مادی دور میں ازبس غنیمت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں میں خلوص اور ان کی تعداد میں اضافہ فرمائے ۔ آمین۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر عمل اور ہر کوشش کا محاسبہ کرتے رہنا، جائزہ لیتے رہنا اور نفع و نقصان کے تناسب پر نظر رکھنا زندہ قوموں کا شعار ہوتا ہے۔ زمانے کے انقلابات کے بھی کچھ تقاضے ہوا کرتے ہیں جن کو سمجھنا اور برتنا ضروری ہوتا ہے۔ کام چاہے درس و تدریس کا ہو یا وعظ و ارشاد کا، معیشت و تجارت کا ہو یا انتظام و سیاست کا، نظر ثانی اور احتساب سے اس میں تازگی اور نشاط آتی ہے۔ مراجعہ اور جائزے سے اس میں بہتری کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

علماء و مصلحین نے دینی جلسوں کے تعلق سے بھی احتساب اور جائزے کے فار مولے پر عمل کرنے میں الحمدللہ بخل یا تفریط سے کام نہیں لیا ہے، بلکہ وہ اسے بھی اپنی تقریر و تحریر کا موضوع بناتے رہتے ہیں۔ فی الحال ہمارا حافظہ اس نوع کی جن تحریروں کی نشاندہی کر رہا ہے ان میں دس بارہ سال قبل مجلہ آثار جدید میں مولانا محمد احمد صاحب اثری سابق صدر مدرس جامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ کا مضمون یا اداریہ، پانچ سات سال قبل ماہنامہ السراج جھنڈا نگر نیپال میں مولانا شمیم احمد صاحب ندوی ناظم جامعہ سراج العلوم نیپال کا اداریہ، تین چار سال قبل ماہنامہ نوائے اسلام دہلی میں مولانا عزیز عمر سلفی صاحب کا اداریہ، ڈیڑھ دو سال قبل ماہنامہ نوائے اسلام میں مولانا رفیق احمد رئیس سلفی (علی گڑھ) کا مضمون جو بعد میں روزنامہ اخبار راشٹریہ سہارا میں بھی شائع ہوا تھا۔ ماہنامہ الاحسان دہلی کے بعض شماروں میں مولانا عبدالمعید صاحب مدنی نے بھی جلسوں اور کانفرنسوں کو موضوع سخن بنایا ہے۔ اسی طرح ماہنامہ فری لانسر ممبئی میں اس موضوع پر اچھا خاصا مواد شائع ہو چکاہے۔ اردو اخبارات میں مولانامجیب بستوی صاحب کے وقتا فوقتا شائع ہونے والے مراسلے بھی قابل ذکر ہیں۔ رسائل و مجلات کی فائلیں پلٹنے سے اس نوع کی درجنوں تحریریں مل جائیں گی۔ لیکن میرے پیش نظر ان میں سے کوئی تحریر اس وقت نہیں ہے۔ صرف نوائے اسلام کے مذکورہ اداریہ کی چند سطریں ہیں جنہیں میں نے اپنی ڈائری میں نوٹ کیا تھا۔ اس لیے مجھے جو کچھ عرض کرنا ہے فی الحال صرف اپنے احساسات و تجربات کی روشنی میں ہی عرض کروں گا۔

جلسے مقصد ہیں یا مقصد کے حصول کا ذریعہ؟

جلسوں کے موجودہ نظام کو دیکھ کر سب سے پہلا سوال یہی اٹھتا ہے کہ کیا یہ جلسے بذات خود مقصد ہیں یا کسی اور مقصد کے حصول کا ذریعہ ہیں؟معمولی شد بد رکھنے والاشخص بھی جانتا ہے کہ جلسے دین کی تبلیغ اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ ہیں۔ فریضہ تبلیغ کی ادائیگی اور معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کی روک تھام کی غرض سے یہ جلسے اور تقریریں ہوتی ہیں۔ یعنی جلسے مقصد نہیں حصول مقصد کا وسیلہ اور ذریعہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف جلسے کا انعقاد و انتظام کافی نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جس مقصد سے یہ انعقاد ہو رہا ہے وہ مقصد حاصل ہورہا ہے یا نہیں؟ ویسے ہی جیسے تجارت و دکانداری اصل مقصد نہیں بلکہ مال حاصل کرنے اور منافع کمانے کا ذریعہ ہے۔ ایک تاجر اور دکاندار ہمیشہ نظر رکھتا ہے کہ ہماری محنت سے ہمارا مقصد حاصل ہورہا ہے اور منافع مل رہا ہے یا نہیں۔ اگر نفی میں جواب ہے تو اس کے اسباب تلاش کرے گا اور کوشش کے باوجود اسے مالی فائدہ حاصل نہ ہو تو اس کاروبار ہی کو وہ چھوڑ دے گااور اپنا مقصد دوسرے ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

جلسوں کا جامع مقصد تبلیغ دین اور اصلاح وغیرہ ہی ہے چاہے آپ انہیں جن الفاظ سے تعبیر کریں۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایک جلسے سے دین کی مکمل تبلیغ اور معاشرے کی تمام خرابیوں کی اصلاح تو ہونے سے رہی۔ اس لیے کسی ایک یا دو ہدف اور ٹارگیٹ کو لے کر چلنا چاہیے۔ مثلا شادی بیاہ کی فضول رسموں کا خاتمہ، جہیز کی روک تھام، نظافت و صفائی، اقامت صلاۃ ..الخ، پھر دیکھنا چاہیے کہ جلسے سے متوقع اصلاح ہوئی یا ہورہی ہے یا نہیں۔

بعض جلسوں کے منتظمین کے اقوال واعمال وتصرفات بول رہے ہوتے ہیں کہ یا تو انھیں جلسے کے مقصد کا ہی پتہ نہیں ، یا اگر پتہ ہے تو مقصد وہ نہیں جو عام طور سے سمجھا جاتا ہے بلکہ کچھ اور ہے۔ ایک جلسے کے منتظم نے میرے سامنے بڑی بیباکی اور جرأت سے کہا کہ جلسے سے میرا مقصد ’’شکتی پردرشن‘‘ (طاقت کا مظاہرہ ) ہے۔ یعنی یہ دکھانا کہ ہماری تنظیم بڑی فعال ہے، ہمارے ساتھ عوام کی طاقت ہے.. وغیرہ وغیرہ۔ ان کی تنظیم کی طرف سے ہر سال دو روزہ اجلاس پابندی سے ہوتا ہے اور ہر مرتبہ لاکھ سے کم خرچ نہیں ہوتا ہوگا۔ حاصل؟ شکتی پردرشن۔

معلوم ہوا کہ بہار وبنگال کے علاقوں میں اکثر جلسے مدارس کے چندے کے لیے ہوتے ہیں۔ جلسے کے مقررین اپنی تقریروں سے اسی جلسے میں عوام سے مدرسے کے لیے پیسے نکلواتے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ جو مقرر اپنی چرب بیانی اور طلاقت لسانی کے بل پر جتنا زیادہ پیسہ مدرسہ کی جھولی میں گروادے اتنا ہی وہ کامیاب ہے۔

مقصد کے ادراک سے غافل صرف منتظمین اور مقررین ہی نہیں ہوتے بلکہ سامعین با تمکین بھی ہوتے ہیں۔ وہ جلسوں کے بعد مقررین کو نمبردیتے ہیں، فلاں کی تقریر ایک نمبر کی رہی اور فلاں کی..الخ۔انھیں اس سے مطلب نہیں ہوتا کہ کس نے کیا کہا، کس نے دلائل کی روشنی میں بات کی اور کس نے ہوائی فائرنگ کی۔ وہ مقرر کی اچھل کود، ایکٹنگ، لفاظی اور بے سر وپیر کے قصے کہانی پر نمبر دیتے چلے جاتے ہیں۔

اکثر جلسوں کی بے مقصدیت کا حال یہ ہوتا ہے کہ تیاریاں ہو رہی ہیں، رضا کار دوڑ دھوپ کر رہے ہیں(وہ رضا کار جن میں سے اکثر چہرے مہرے سے بھی مسلمان نہیں معلوم ہوتے) کھاناپک رہا ہے، شامیانہ لگ رہا ہے، مہمانوں کی آمد آمد ہے۔ مگر قریب میں مسجد ہوتی ہے، اذان نماز ہوتی ہے،مگر دین کے یہ سپاہی تن من دھن سے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں، اکا دکا جو پہلے سے نماز کے پابند ہوتے ہیں ان کے علاوہ باقی سب ’’دین کے کام‘‘ میں مشغول رہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی وقت میں جب ٹی وی اور موبائل کا چلن زیادہ نہیں تھا اور سینما بینی کے بعض لوگ عادی ہوتے تھے اس وقت جلسوں کے اس قسم کے رضا کار جلسے کی رات ’’ دینی کاموں‘‘ سے فارغ ہوکر اس شوق کی تکمیل میں مشغول ہو جایا کرتے تھے۔

محفل وعظ تو تا دیر رہے گی قائم
یہ ہے مے خانہ ابھی پی کے چلے آتے ہیں​

بہر حال جلسے کے انعقاد سے قبل منتظمین کو چاہیے کہ جلسے کے اہداف و مقاصد طے کریں اور اپنا ٹارگیٹ متعین کر لیں۔ ان ہی مقاصد کے حصول کے لیے ان کی جد وجہد ہو، اور بعد از جلسہ جائزہ لیں کہ کیا کھویا کیا پایا۔ اسی تناظر میں جلسے کی کامیابی یا ناکامی کا حکم لگایا جائے۔ کسی جلسے کی کامیابی یہ نہیں ہے کہ وہ دیر رات تک چلا ، یا اس میں فلاں مشہور مقرر کی شرکت اور تقریر ہوئی، یا سامعین کی تعداد بہت زیادہ تھی، یا اس کا نظم ونسق بہت اچھا تھا، وغیرہ وغیرہ۔بلکہ جلسہ کی حقیقی کامیابی یہ ہے کہ وہ عوام کے قلوب واذہان کو جنھجھوڑنے میں کتنا کامیاب رہا۔ اس سے معاشرہ کی کیا اصلاح ہوئی، کس برائی کا اس سے خاتمہ ہوا، کس اچھائی کے فروغ کا سبب بنا..الخ

جلسوں کا دیر تک چلنا:

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جلسوں میں تقریری سلسلہ رات کے آخری حصے تک جاری رہتا ہے۔ مقررین یکے بعد دیگرے مائیک پر آتے اور دیر دیر تک داد خطابت دیتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایک ہی مقرر تین گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ مسلسل بولتا ہے۔ مجموعی طور پر پورا جلسہ پانچ سے سات گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے۔ کبھی فجر سے آدھا پون گھنٹہ قبل اور کبھی اذان فجر پر جلسہ ختم ہوتا ہے۔ جلسوں کی یہ طولانی بھی کئی اعتبار سے غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔

پہلی بات یہ کہ اتنے لمبے وقفے تک جاری رہنے والے جلسوں میں ڈھیر ساری باتیں عوام کو سنائی جائیں گی تو اتنی زیادہ باتوں کو انسانی ذہن و دماغ کتنا محفوظ رکھ سکے گااور ان سے کہاں تک مستفید ہو سکے گا۔ اگر کم وقت میں کم باتیں ترکیز کے ساتھ اس کے ذہن میں بٹھائی جائیں اور اس کو بار بار احساس دلایا جائے کہ آج کے جلسے سے اسے یہ یہ چیزیں لے کر جانی ہیں اور انہیں اپنی عملی زندگی میں اتارنی ہیں تو یہ بہتر ہے یا یہ کہ اتنی زیادہ باتیں اس کے ذہن میں اتار دی جائیں کہ وہ حیران ہو کر رہ جائے اور یہ فیصلہ کرنے سے قاصر رہے کہ اس جلسے کا حاصل کیا رہا۔

دوسری بات یہ غور کرنے کی ہے کہ سامعین کی اکثریت دن بھر اپنے کام کاج اور بھاگ دوڑ میں رہنے کی وجہ سے تھکی ہوتی ہے اور اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ویسے بھی رات آرام ہی کے لیے بنائی گئی ہے۔ اب اگر کبھی کسی دینی یا دنیاوی ضرورت کے تحت اس وقت کو استعمال کرنا ہو تو یہ خیال رکھنا ضروری ہوگا کہ آرام کا کل وقت قربان نہ ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ جلسوں میں اگر آپ توجہ سے سامعین کے احوال کا جائزہ لیتے رہیں گے تو دیکھیں گے کہ شروع میں گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک تو وہ پوری توجہ اور دل چسپی کے ساتھ مقرر کا ساتھ دیتے اور بغور اس کی باتوں کو سنتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے تکان سے مغلوب ہوکر بار بار جماہی لیتے، جھپکیاں لیتے اور بسا اوقات جلسہ گاہ کو الوداع کہہ دیتے ہیں۔ کچھ تو وہیں ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ صرف بعض حالات میں کسی نامور مقرر کا تقریری جادو نیند اور تکان کو مغلوب کردیتا ہے ورنہ عموما یہی دیکھا جاتا ہے کہ گھنٹہ دو گھنٹہ کے بعد جسم شکست وریخت سے دو چار ہو ہی جاتا ہے۔

مبلغ اعظم اور داعی برحق حضرت محمد ﷺ کے جتنے خطبے اور تقریریں کتب احادیث میں مروی ہیں ان میں اکثر مختصر ہیں اور تطویل سے خالی ہیں۔ آپ وعظ وتبلیغ کے سلسلے میں سننے والوں کی نشاط اور دلچسپی کا بھی ضرور خیال رکھتے تھے اور لمبی اور بیزار کن تقریروں سے پرہیز کرتے تھے۔ آپ کے صحابہ بھی آپ کی اسی سنت پر عمل پیرا تھے۔

صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ ہفتہ میں ایک روز وعظ ونصیحت کی مجلس کرتے تھے، سامعین کا مطالبہ ہوا کہ روزانہ مجلس ہو اور روزانہ وعظ کہیں۔ لیکن صحابی رسول کا جواب یہ صادر ہوا کہ میں وعظ وتبلیغ کے سلسلے میں تمہاری اسی طرح رعایت کرتا ہوں جس طرح اللہ کے رسول ﷺ ہماری رعایت کرتے تھے، محض اس وجہ سے کہ کبھی ہمارے اوپر اکتاہٹ اور بیزاری نہ طاری ہوجائے۔
نبی ﷺ نے جمعہ کے خطبے میں اختصار ملحوظ رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے صاف لفظوں میں فرمایا ہے کہ لمبی نماز اور مختصر خطبہ خطیب کے سمجھ دار ہونے کی علامت اور دلیل ہے۔

اس تعلق سے چند گزارشات پر عمل کرکے طوالت سے بچا جاسکتا ہے۔

1۔ جلسے دیر سے نہ شروع کیے جائیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کی عشاء کی نماز سے فراغت کے بعد جلد سے جلد جلسہ شروع کردیا جائے۔ جلسے کے اشتہار میں بھی اس کی وضاحت کردی جائے تاکہ لوگ سویرے حاضر ہوں۔

2۔ جلسے کے شروع میں حمد، نعت، استقبالیہ، تعارف وغیرہ وغیرہ میں حتی الامکان تخفیف کی جائے ۔ تلاوت قرآن کے بعد مختصر استقبالیہ یا تعارف کے بعد فوراً تقریری سلسلہ شروع کردیا جائے۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو دو تقریریوں کے بیچ میں کوئی مختصر نظم پڑھوا دی جائے۔اور اگر بعد نماز مغرب جلسہ شروع ہو جائے تو سب سے بہتر ہے۔

3۔ مقررین کی تعداد زیادہ ہونے سے بھی طولانی آتی ہے۔کسی بھی بامقصد جلسے کے لیے دو مقرر کافی ہیں۔ ایک مقرر کو ۳۰؍منٹ تا ۴۵؍منٹ وقت دیا جائے اور اسے اس کا پابند بنایا جائے۔ موضوع کی تعیین بھی کردی جائے۔ اگر احتیاط کے مد نظر تین مقرر رکھ لیے جائیں تاکہ کسی وجہ سے کوئی ایک مقرر نہ پہنچ سکے تو کم سے کم دو مقرر خطاب کے لیے موجود ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن بہر حال ایک مقرر کے خطاب کا دورانیہ زیادہ ہونے کی حالت میں بھی ایک گھنٹہ سے زیادہ مناسب نہیں ہے۔ تاکہ عشاء کے بعد فوراً جلسہ شروع ہوکر گیارہ بجے ختم ہوجائے۔ لوگ جلسہ بھی سن لیں اور آرام بھی کرلیں اور فجر کی نماز باجماعت کے فوت ہونے کا اندیشہ نہ رہے۔

جلسہ کے مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ جلسہ کرنے کرانے اور سننے والوں کے مزاج میں تبدیلی پیدا کی جائے اور انھیں یہ باور کرایا جائے کہ جلسوں کا سویرے ختم ہونا ان کی ناکامی کی دلیل یا دیر میں ختم ہونا کامیابی کی دلیل ہر گز نہیں۔

واضح رہے کہ عوام کی ضرورتوں اور مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کی عدالت عالیہ ’’سپریم کورٹ‘‘ نے بہت پہلے یہ فیصلہ دیا ہے کہ رات کے دس بجے سے لے کر صبح چھ بجے تک لاؤڈ اسپیکر کا استعمال منع ہے۔ اس لیے دس بجے کے بعد لاؤڈ اسپیکر کا استعمال قانونا منع ہے۔ انتظامیہ کی چشم پوشی کہیے یا سستی کہ وہ اس طرف توجہ نہیں دیتی۔ لیکن بعض ریاستوں میں ہم نے دیکھاکہ اس قانون پر سختی سے عمل ہوتا ہے۔ مہاراشٹر اور جنوبی ہند کی بعض ریاستوں میں یہ قانون عملا نافذ ہے۔ وہاں کے لوگ اپنے جلسے عصر کے بعد یا مغرب کے بعد شروع کرکے دس بجے تک ختم کردیتے ہیں۔ کاش شمالی ہند میں بھی ایسے ہی ہوتا۔

میرے نزدیک جلسوں کی اصلاح کے باب میں یہ نقطہ سب سے اہم ہے کہ دیر رات تک جلسوں کا استمرار ختم کیا جائے اور ہر حال میں گیارہ سے ساڑھے گیارہ تک اختتام کو یقینی بنایا جائے۔

جلسوں کے اخراجات:

جلسوں میں اخراجات کئی طرح کے ہوتے ہیں : لاؤڈ اسپیکر، روشنی، فرش، کرسی، شامیانہ، کھانا، مقررین کا نذرانہ، اشتہار وغیرہ وغیرہ۔
ان اخراجات کو ضرورت کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ حاجیات، تحسینیات۔ حاجیات سے مراد وہ اخراجات ہیں جو بہرحال لازمی اور بنیادی ہیں ان کو ختم نہیں کیا جاسکتا، مثلا: لاؤڈ اسپیکر، روشنی اور فرش وغیرہ کے اخراجات۔ ان اخراجات کو بہر حال سہنا ہی پڑے گا، الا یہ کہ مسجدوں میں جلسے منعقد ہوں تو وہاں ان بنیادی اخراجات سے بھی بچا جا سکتا ہے کیوں کہ یہ ساری سہولتیں وہاں میسر ہوتی ہیں۔ اگر مقررین ’’نذرانہ‘‘ والے ہیں تو یہی ایک قابل ذکر خرچ ہوگا ورنہ یہ بھی نہیں۔ معمولی خرچ اشتہارات وغیرہ پر آسکتاہے۔

رہ گئے بقیہ اخراجات جنھیں تحسینیات کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے اس سے مراد وہ اخراجات ہیں جن کے بغیر بھی جلسہ ہو سکتا ہے اور ہوتا رہتا ہے، جیسے سامعین کے لیے کھانے کا انتظام ( جس سے مقصد یہ ہو کہ اس کی وجہ سے لوگ جلسہ سننے کے لیے آئیں گے، لیکن اگر دور دراز سے آئے ہوئے سامعین کے واجبی اور غیر متکلفانہ کھانے کا بندو بست ہے تو وہ اس سے مستثنی ہے)اسی طرح ضرورت سے زیادہ روشنی ، قمقمے، دیدہ زیب اسٹیج، مہنگے فرنیچرس، مہمانوں کے لیے پر تعیش گاڑیاں، مہنگے ہوٹلوں میں ان کا قیام وطعام، وغیرہ وغیرہ۔ ان تحسینیات پر بسا اوقات ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپئے خرچ کیے جاتے ہیں۔

یہ اخراجات اسی قوم اور ملت کی جیبوں سے پورے ہوتے ہیں جو مجموعی اعتبار سے غریب، پسماندہ اور مفلوک الحال ہے، جس کی عبادت گاہوں کے معمولی معمولی اخراجات کے لیے در در بھٹکنا پڑتا ہے، جس کے بچوں کی ابتدائی تعلیم تک کا انتظام نہیں ہے یا ہے تو بہت ہی ناکافی۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے اجتماعی کام ہیں جو وسائل واسباب کے فقدان یا کمی کی وجہ سے انجام پانے سے رہ جاتے ہیں، جیسے غریب بچوں بچیوں کی شادی، مریضوں کا علاج معالجہ، پینے کے لیے صاف پانی، سر چھپانے کے لیے جھونپڑی،روزگار، وغیرہ۔

ایسے ماحول اور معاشرے میں یہ ٹھاٹھ باٹھ کے جلسے اور ان کے ہوش ربا اخراجات بھلا کیوں کر درست سمجھے جاسکتے ہیں۔ کیا ان سے اسی اسراف اور فضول خرچی کی بو نہیں آتی جس پر بسا اوقات جلسوں میں تقریریں بھی ہوتی ہیں اور فضول خرچی کرنے والوں کو بمطابق اعلان قرآنی شیطان کا بھائی بتایا جاتا ہے۔

بعض نامور مقررین کا نذرانہ مقدار کے اعتبار سے ایسا ہوتا ہے کہ سن کر اوسان خطا ہوجائیں۔ لیکن جلسے والے ان پر اس قدر مہربان ہوتے ہیں کہ ان کی ہر خواہش کی تکمیل کے لیے تیار رہتے ہیں ،چاہے وہ خواہشیں ایسی ہی کیوں نہ ہوں کہ ع
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

مذکورہ بالا معروضات کو سامنے رکھ کر اور جلسوں کے حقیقی مقاصد کو ملحوظ رکھ کر کوشش یہی ہونی چاہیے کہ کم سے کم خرچ میں سارا کام انجام پائے اور ’’مال مفت دلے بے رحم‘‘ والی صورت حال نہ بنے۔

جلسوں کے مقررین:

جلسوں کے مقررین علمائے دین ہوا کرتے ہیں، اس لیے ان کے تعلق سے کچھ عرض کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ مقررین علم وعمل کے اعتبار سے مختلف مجموعوں میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔ ایک طبقہ ان علمائے ربانیین کا ہے جو علم وعمل، زہد وتقوی اور اسلام کی عملی ترجمانی کے معاملے میں بلندیوں پر نظر آتے ہیں۔دوسری طرف پیشہ ور مقررین کا وہ گروہ ہوتا ہے جو ترک صلاۃ سمیت مختلف کمزوریوں میں مبتلا نظر آتا ہے۔
یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ عمل کے باب میں نماز کا جو معاملہ ہے وہ شریعت کی نگاہ میں شہادتین کے بعد سب سے اہم ہے۔ اسے اسلام اور کفر کے درمیان حد فاصل قرار دیا گیا ہے۔ایک عام مسلمان کے لیے بھی نماز کو کسوٹی بتایا گیا ہے کہ اگر وہ نماز کے معاملے میں راہ راست پر ہے تو اس کے دیگر اعمال بھی اچھے ہوں گے، اس کے برعکس اگر وہ نماز کے معاملے میں کمزور ہے تو دیگر معاملات میں اور زیادہ کمزور ہوگا:’’ ومن ضیعھا فھو لما سواھا اضیع‘‘

اس معاملے میں بعض مقررین کا جو حال دیکھنے اور سننے میں آتا ہے وہ بڑے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ جب عام مسلمان کے لیے اس معاملے میں کوئی چھوٹ اور گنجائش نہیں تو لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کا عمل انجام دینے والے حضرات کے لیے کیا گنجائش ہو سکتی ہے۔

بعض مقررین اختلافی مسائل انتہائی بھونڈے انداز میں پیش کرکے دوسرے مسلک والوں پرطعن وتشنیع کے تیر برساتے ہیں، اور ان کے علماء اور کتابوں وغیرہ پر دل آزار تبصرے کرتے ہیں اور تمام اسلامی آداب واخلاق کو بھول جاتے ہیں۔اختلافی امور ومسائل پر گفتگو کے بھی کچھ آداب وضوابط ہیں، اس موضوع پر علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ لیکن بعض جوشیلے اور بے شعور قسم کے لوگوں میں محبوب بننے کے لیے کچھ مقررین بھڑکاؤ تقریریں کرکے عوام میں نفرت کا بیج بوتے ہیں پھر اس کی فصل کاٹتے ہیں۔ ایسے مقررین تقریباً ہر فرقے اور ہر مسلک میں پائے جاتے ہیں اور ان کو اکسانے والے اور شاباشی دینے والے بھی۔ مگر عوام وخواص کا سنجیدہ طبقہ اس اسلوب کو پسند نہیں کرتا۔

مقررین کے تعلق سے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ ان میں بعض کا نذرانہ یافیس بڑی اونچی ہوتی ہے، ایک ایک تقریر پر بسا اوقات نصف لاکھ بلکہ اس سے بھی اوپر کا مطالبہ ہوتا ہے، ہوائی سفر ،عالیشان ہوٹل وغیرہ کا خرچ اس پر مستزاد۔بعض مقررین اس سلسلے میں کسی طرح کا رسک لینے کے بجائے اپنے اکاؤنٹ میں پیشگی رقم منگوالیتے ہیں۔ اپنی مشغولیت اور مطلوبہ تاریخوں میں اپنے خالی نہ ہونے کا حوالہ دے کر بھی منتظمینِ جلسہ کا استحصال کرتے اور من مانی فیس وصول کرتے ہیں۔ ع

بہت باریک ہیں واعظ کی چالیں​

لیکن بیچاری عوام یہ سب کچھ دین کے نام پر سہہ جاتی ہے اور اپنے من چاہے مقرر کو ہر حال میں اسٹیج پر دیکھنا چاہتی ہے۔
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے:

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند​

میرے وطن مؤ اور ہندوستان کے مختلف علاقوں سے وقتا فوقتا جلسوں میں شرکت، تقریر اور بسا اوقات صدارت کے لیے مجھے بھی بلاوا آتا رہتا ہے، لیکن مذکورہ بالا نوعیت کے تام جھام والے جلسوں کی بے سمتی دیکھ کر ابتدا میں تو میں نے منتظمین اور داعیان کی توجہ ان محل نظر امور کی طرف دلائی جن میں بعض کا تذکرہ سطور سابقہ میں ہوا اور اصلاح کی درخواست کی۔ خاص طور سے جلسوں کو عشاء کی نماز کے بعد جلد از جلد شروع کرنے پر زور دیا، جو کوئی مشکل کام نہیں۔ منتظمین اس کا وعدہ کرتے، مگر آخر کار معمول میں کوئی فرق نہ آتا اور وہی ’’ڈھاک کے تین پات‘‘ والی بات رہتی۔
آخر کار مایوس ہوکر میں نے اس قسم کے جلسوں میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ویسے بھی میری اپنی مشغولیات اور ذمہ داریاں اس راہ میں حائل رہتی ہیں۔ پھر بھی جن جلسوں میں خیر کا پہلو نظر آتا ہے، فوائد زیادہ اور نقصانات کم محسوس ہوتے ہیں ان میں دعوتی تقاضوں کے مدنظر حسب موقع شرکت کرلیتا ہوں۔ مثلاً مغرب کے بعد کا پرو گرا م ہو، مسجد کاپروگرام ہو، عشاء کے بعد جلد ختم ہونے والا پروگرام ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔

البتہ سیمینار جس میں علمی ودعوتی موضوعات پر مقالات پیش کیے جاتے ہیں یا علمی انداز کی بامقصد تقریریں ہوتی ہیں اور علم وادب سے دل چسپی رکھنے والے لوگ شریک ہوتے ہیں تو ا س نوعیت کے سیمیناروں سے میری دلچسپی ہے اور گنجائش ہونے کی صورت میں ان میں شرکت کرتا ہوں۔ اس طرح کے سیمیناروں کے مقالات عموماً کتابی شکل میں شائع ہوتے ہیں جو اپنے موضوع پر دستاویزی حیثیت رکھتے ہیں اور لکھنے پڑھنے والوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوتے ہیں، جیسے: ’’علوم الحدیث :مطالعہ وتعارف‘‘ (علی گڈھ) ’’مدارس کے نصاب تعلیم میں قرآن کا حصہ‘‘ (کلیۃالصفا، سدھارتھ نگر) وغیرہ۔

ادھر کچھ دنوں سے یہ صورت حال سامنے آرہی ہے کہ جلسہ اور کانفرنس کرانے والے حضرات بعض مرتبہ اپنے جلسوں کے ساتھ سیمینار کے انعقاد کا بھی اعلان کرتے ہیں اور اہل قلم کو مقالہ لکھنے اور سیمینار میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ لیکن اس طرح کے سیمیناروں میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ منتظمین کی ساری توجہ جلسہ اور اس کے متعلقات پر ہے۔ سیمینار مکمل طور سے حاشیہ پر رہتا ہے۔ اس کی نشستوں میں بد نظمی، بے ترتیبی اور افراتفری کا ماحول رہتا ہے۔ مقالہ نگاران جو ہفتوں یا مہینوں کی عرق ریزی سے بیش قیمت معلومات یکجا کرکے اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرکے حاضر ہوتے ہیں ان کی ساری محنت اور قربانی ھباء منثورا ہوتی نظر آتی ہے۔ انھیں اپنی خون جگر سے لکھی گئی تحریروں کو یا تو سنانے کا موقع نہیں ملتا یا سننے والے وہاں موجود نہیں ہوتے۔ اور اس قسم کے پروگراموں کے مقالات بالعموم شائع بھی نہیں ہوپاتے۔ یہ سب دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اصل مقصد سیمینار یا کسی سنجیدہ اور علمی پروگرام کا انعقاد نہیں بلکہ اسی نام پر ان حضرات کو بھی اپنے پروگرام میں جمع کرنا مقصد ہوتا ہے جو جلسوں اور کانفرنسوں کے نام پر جمع نہیں ہوا کرتے۔

جلسوں کے بعض منتظمین یہ ہتھکنڈہ بھی اپناتے ہیں کہ اجازت یا منظوری لیے بغیر مقرر کا نام اشتہار میں شائع کر دیتے ہیں پھر اسی حوالے سے اس پر شرکت کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح آدمی کو شرکت پر مجبور کیا جاسکے گا۔میرے ساتھ کم از کم چار پانچ واقعے اس طرح کے ہو چکے ہیں لیکن الحمدللہ میں نے کبھی بھی ان کے ہتھکنڈے کا شکار بننا قبول نہیں کیا۔ بعض مرتبہ بحیثیت صدر اجلاس میرا نام شائع کرکے استحصال کی کوشش کی گئی لیکن یہ کوشش بھی رائیگاں ہی گئی۔اب کوئی بتلائے کہ دین اور اصلاح کے نام پر منعقد ہونے والے جلسوں میں اس قسم کی بے ایمانی ، بد دیانتی یا بلیک میلنگ کی کوئی گنجائش ہے؟ جو لوگ ان پس پردہ حقائق سے ناواقف ہوتے ہیں وہ اشتہار میں نام دیکھ کراوراسٹیج سے غیر حاضر پاکر اس شخص کے بارے میں بد ظنی میں مبتلا نہ ہوتے ہوں گے کہ اس شخص نے شرکت کا وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور حاضر نہ ہوا۔ ایسی بدظنی یا غلط فہمی کا ازالہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا اس قسم کے جلسے والے اتنی ہمت وجرأت اور حقیقت پسندی کا ثبوت دیں گے کہ جلسے میں عوام الناس کے سامنے یہ وضاحت کردیں کہ فلاں شخص کی غیر حاضری کی اصل وجہ یہ ہے؟

آخر میں ایک بار پھر عرض کروں گا کہ جلسوں کے سلسلے میں میری معروضات کا غلط مطلب ہرگز نہ نکالا جائے۔ میں علی الاطلاق جلسوں پر نقد نہیں کرتا بلکہ ان میں کچھ اصلاحات کا طالب ہوں جو شرعاً اور عقلاً ضروری ہیں اور میں اس مطالبے میں منفرد اور اکیلا نہیں ہوں بلکہ اہل علم وفضل کی ایک جماعت میرے ساتھ ہے جیسا کہ مضمون کے شروع میں تذکرہ آچکا ہے۔ اس کے علاوہ شخصی ملاقاتوں میں اس موضوع پر تبادلہ خیال پر بھی بہت سارے علما اور قوم کے بہی خواہوں نے اسی قسم کے تاثرات کا اظہار کیا ہے ۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ جلسوں اور کانفرنسوں کا اہتمام کرنے والے ادارے، تنظیمات اور افراد ان گزارشات پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور اپنے پروگراموں کو زیادہ مفید اور زیادہ ثمر آور بنانے کی ہر ممکن جد وجہد کریں گے۔
إن أرید إلا الإصلاح ما استطعت وما توفیقی إلا باللہ، علیہ توکلت وإلیہ أنیب۔

ٹیگ
مزید دکھائیں

متعلقہ

Close