مذہبی مضامین

اللہ کا خوف اور اس کےثمرات وذرائع کا حصول

خوف دل کی بے چینی کا نام ہے۔ جب انسان حرام کام  اورمعاصیات کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا دل اللہ کے خوف سے لرز جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے جن کاموں  کے کرنے کا حکم دیا اسے چھوڑنے سے بھی دل بے چین ہوجاتا ہے یا ان پر عمل کرکے عدم قبولیت کا خدشہ محسوس کرتا رہتا ہے اسی کا نام خوف الہی ہے۔ ایک مومن سے یہ  خوف مطلوب ہے کیونکہ  اللہ کا خوف عبادت ہے اور توحید میں  شامل ہے۔

قرآن میں  خوف سے متعلق متعدد قسم کے الفاظ وکلمے آئے ہیں ۔

اتقوا : فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ(التغابن : 16)

ترجمہ:  جتنی طاقت رکھتے ہو اللہ سے ڈرو۔

نذیر: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (الاحزاب:45)

ترجمہ: اے نبی ! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے۔

خوف: إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (آل عمران:175)

ترجمہ: یہ خبر دینے والا شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں  سے ڈراتا ہے، تم ان کافروں  سے نہ ڈرواور میرا خوف رکھو اگر تم مومن ہو۔

وجلت : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (الانفال:2)

ترجمہ: بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں  کہ جب اللہ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔

خشیہ: إِنَّ الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ (المومنون:57)

ترجمہ: یقینا جو لوگ رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔

رھبت :وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ (البقرة:40)

ترجمہ:اور مجھ ہی سے ڈرو۔

رھق: وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا (الجن:6)

ترجمہ: بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں  اور بڑھ گئے بعض نے کہا جنات نے انہیں  مزید خوف میں  مبتلا کردیا۔

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالی سے ڈرنا چاہئے۔ یہاں  ایک بات کی وضاحت کرتے ہوئے آگے چلتا ہوں  تاکہ موضوع بالکل صاف ہوجائے۔

خوف کے اقسام

ڈرنے کا مستحق محض اللہ تعالی ہے اس کے مقابلے میں  کسی سے ڈرنا عبادت میں  شرک کہلائے گا اس کی دو صورت بن سکتی ہیں ۔

پہلی صورت : بندوں  سے ڈرکر دین پر عمل کرنا چھوڑدے۔ اس کی مثال، جیسے آپ یہاں  سعودی میں  آمین بالجہر کرتے ہیں  جب اپنے ملک میں  جاتے ہیں  تو لوگوں  کے ڈر سے یہ عمل ترک کردیتے ہیں۔

دوسری صورت: غیراللہ سے اس طرح ڈرنا یا ڈرنے کا عقیدہ رکھناکہ وہ اللہ کے بغیر خود سے نقصان پہنچاسکتا ہے مثلا بت، ولی، جن، میت اور خیالی بھٹکتی ارواح وغیرہ

اس با ت ذکر اللہ تعالی نے قرآن میں  انداز میں  کیا ہے :

إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ[آل عمران: 175]

ترجمہ: یہ خبر دینے والا شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں  سے ڈراتا ہے تم ان کافروں  سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو اگر تم مومن ہو۔

اس لئے کسی صورت میں  اللہ کے علاوہ دل میں  دوسروں  کا ڈر نہیں  پیدا کیا جائے گا، نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالی ہے، اللہ کے حکم کے بغیر کوئی ہمارا کچھ بھی نہیں  بگاڑ سکتا، فرمان الہی ہے :

وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ‌ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ‌ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌(سورة الأنعام:17)

ترجمہ: اگر اللہ تمہیں  کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں  جو تمہیں  اس نقصان سے بچا سکے  اور اگر وہ تمہیں  کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ہاں  طبعی خوف اس خوف سے مستثنی ہے، وہ فطری چیز ہے، سانپ کو دیکھ کر، درندوں  کو دیکھ کر انسان ڈرجاتا ہے۔ یہ ڈر اللہ کے مقابلے میں  نہیں  ہوتا ہے یہ محض فطرتا ایسا ہوتا ہے جیساکہ موسی علیہ السلام سانپ سے ڈرگئے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ (النمل :10)

ترجمہ: تو اپنی لاٹھی ڈال دے، موسی نے جب اسے ہلتا جلتا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے تو منہ موڑے ہوئے پیٹھ پھیرکر بھاگے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا، اے موسی! خوف نہ کھا،میرے حضور میں  پیغمبرڈرا نہیں  کرتے۔

اللہ کا فرمان ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ [آل عمران: 102]

ترجمہ:اےایمان والو! اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا[آل عمران: 102]

بعض علماء نے اس آیت کو "َاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ”(جتنی طاقت رکھتے ہو اللہ سے ڈرو) سے منسوخ قرار دیا ہے حالانکہ جمہور محققین کا کہنا ہے کہ یہاں  حق تقاتہ میں  اپنی باقت بھر ڈرنے کا ہی حکم ہے کیونکہ اللہ بندوں  کو طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں  بناتا۔ اللہ کا فرمان ہے :

لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ(البقرۃ: 286)

ترجمہ: اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں  دیتا۔

ایک حدیث میں  نبی ﷺ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں  :

هل تدرِي ما حقُّ اللهِ على العبادِ ؟ قال قلت : اللهُ ورسولُه أعلمُ . قال : فإن حقَّ اللهِ على العبادِ أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئًا .(صحيح مسلم:30)

ترجمہ: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا حق بندوں  پر کیا ہے ؟ توانہوں  نے کہا اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: اللہ کا حق بندوں  پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کرے۔

جس بندے نے صرف اللہ کی عبادت کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں  ٹھہرایا تو اس نے اللہ کا حق ادا کردیا۔

ہم جہاں  بھی رہیں ، تنہائی ہویا جماعت، سفرہویاحضر، رات ہو یا دن، ہمیشہ اللہ کا تقوی اختیار کرناہے، اس کا خوف کھانا ہے  اور اس سے ڈرتے رہنا ہے۔ ترمذی میں  حسن درجے کی روایت ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے :

اتَّقِ اللَّهِ حيثُ ما كنتَ، وأتبعِ السَّيِّئةَ الحسنةَ تمحُها، وخالقِ النَّاسَ بخلقٍ حسنٍ(صحيح الترمذي:1987)

ترجمہ: جہاں  بھی رہواللہ سے ڈرو، برائی کے بعد (جوتم سے ہوجائے) بھلائی کروجو برائی کومٹادےاورلوگوں  کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ۔

"اتَّقِ اللَّهِ حيثُ ما كنتَ” بہت ہی جامع کلمہ ہے۔ ہم تنہائی میں  ہوتے ہیں  ساتھ میں  نٹ والاموبائل ہوتا ہے، اس میں  خواہشات نفس کا ہرسامان موجود ہے، اللہ کا خوف نہیں  ہوگا تو یہاں  برائی کرنے سے نہیں  رک سکتے۔ کسی کے ذمہ کمپنی کا حساب وکتاب ہوتو  اس معاملے میں  وہی امین ہوگا جو اللہ سے ڈرنے والا ہوگالیکن اکثرلوگ  اللہ سے نڈر ہیں ۔ آج برائی کا زمانہ ہے، معمولی پیسوں  میں  زنا کرنے کو مل جاتا ہے، شیطان بہکاکر شیطانی کام کرواتا ہے، بچتا وہی ہے جو اللہ کا خوف کھاتا ہے۔ کہاں  ہے کوئی کہ کہہ دے، "انی اخاف اللہ ” میں  اللہ سے ڈرتا ہوں ۔

آج  ہمارے پاس ہر قسم کا خوف ہے، غربت کا خوف ہے، دشمن کا خوف ہے، نوکری چلے جانے کا خوف ہے، تنخواہ کٹ جانے کا خوف ہے، بیماری کا خوف ہے۔ اگر خوف نہیں  تو اللہ کا خوف نہیں  ہے جبکہ  صرف اللہ کا خوف ہونا چاہئے تھا۔ اللہ کا فرمان ہے :

وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ (البقرة:40)

ترجمہ:اور مجھ ہی سے ڈرو۔

اس خوف الہی کو دل میں  پیوست کرنے کے لئے اللہ نے پیغمبروں  کو بھیجا، نبی اکرم ﷺ کے متعلق اللہ کا ارشاد ہے :

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (الاحزاب:45)

ترجمہ: اے نبی ! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے۔

اللہ نےآپ ﷺ سمیت سارے نبیوں  کو بشیرونذیر بناکر بھیجا۔ سورہ نساء میں  اللہ کا فرمان ہے : رسلا مبشرین ومنذرین ( النساء : 165) یعنی ہم نے رسول بنایا ہے خوشخبریاں  سنانے والا اور ڈرانے والا۔

مبشر کا مطلب ایمان لانے والوں  کوجنت اور اس کی نعمتوں  کی خوشخبری دینے والا اور نذیر کا مطلب ایمان سے مکرنے والوں  کو جہنم اور اس کے ہولناک عذاب سے ڈرانے والا۔

اللہ کا خوف کھائیں  یعنی اللہ کی عظمت وجلال کا احساس کریں ، اس کے سامنے کھڑے ہونے کا تصور کریں  اور اس بات کی فکر کریں  کہ وہ کھلی چھپی تمام باتوں  کو جانتا ہے۔

وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ ۖإِنَّهُعَلِيمٌبِذَاتِالصُّدُورِ (الملک:13)

ترجمہ: اپنی باتوں  کو ظاہر کرو یا چھپاؤ وہ تو سینوں  کے بھید کو بھی جانتا ہے۔

سلف صالحین کا اللہ تعالی سے خوف کھانا اور اس خوف سے رونا

نبی ﷺ، صحابہ کرام اور اسلاف عظام سے اللہ سے بے پناہ ڈرنے کا ذکرملتا ہے، یہ لوگ اللہ کے خوف سے رات رات بھر رویا کرتے، مہینوں  بیمار رہتے، جس طرح ہانڈی میں  پانی کھولتا ہے اس طرح رونے کا ذکر ملتا ہے۔ اس کی بے شمار مثالیں  ہیں  جن پر علماء نے مستقل کتابیں  لکھی ہیں ۔ خوف الہی اور رونے کی چند ایک مثال دیتا ہوں ۔

(1) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک چڑیا کو درخت پہ بیٹھا دیکھا تو بولے اے چڑیا! تمہارے لئے بشارت ہے تم درخت پر بیٹھتی ہو، پھل کھاتی ہو اور اڑ جاتی ہو نہ کوئی حساب ہے نہ کوئی عذاب، اے کاش میں  بھی تمہارے جیسا ہوتا۔

(2) حضرت عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں  کاش میں  مینڈھا ہوتا اسے موٹاتازہ کرذبح کرکے کھالیا جاتا مگر انسان نہ ہوتا۔ ایک مرتبہ جب انہوں  نے سورہ طور کی یہ آیت پڑھی "ان عذاب ربک لواقع” (بیشک آپ کے رب کا عذاب ہوکر رہنے والا ہے ) تو بہت رونے لگے یہاں  تک کہ  بیمار پڑ گئے۔ بخاری شریف میں  ہے عمررضی اللہ عنہ کہتےہیں  :والله لو أن لي طلاع الأرض ذهبا، لافتديت به من عذاب الله عز وجل قبل أن أراه(صحيح البخاري:3692)

ترجمہ: اللہ کی قسم، اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سامنا کرنے سے پہلے اس کا فدیہ دے کر اس سے نجات کی کوشش کرتا۔

(3) ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا ” یالیتنی کنت شجرۃ تعضد( اے کاش میں  درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا)۔

(4) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  : لو تعلمون ما أعلمُ لضحِكتم قليلًا ولبكيتم كثيرًا(صحيح البخاري:6486)

ترجمہ: اے میرے صحابہ ! اگر لوگ وہ جان لیں  جو میں  جانتا ہوں  تو پھر بہت کم ہنسوگے اور کثرت سے روؤگے۔

(5) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پرجاتے تو اتنا روتے کہ داڑھی تر ہوجاتی، آپ سے پوچھا جاتا کہ جنت و جہنم کے ذکر پہ آپ نہیں  روتے اس پہ کیوں  روتے ہیں  ؟تو وہ جواب دیتے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

إنَّ القبرَ أوَّلُ مَنازلِ الآخرةِ، فإن نجا منهُ، فما بعدَهُ أيسرُ منهُ، وإن لم يَنجُ منهُ، فما بعدَهُ أشدُّ منهُ قالَ : وقالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ : ما رأيتُ مَنظرًا قطُّ إلَّا والقَبرُ أفظَعُ منهُ(صحيح ابن ماجه:3461)

ترجمہ: آخرت کے منازل میں  سے قبر پہلی منزل ہے، سواگر کسی نے قبرکے عذاب سے نجات پائی تواس کے بعد کے مراحل آسان ہوں  گے اور اگر جسے عذاب قبر سے نجات نہ مل سکی تو اس کے بعد کے منازل سخت تر ہوں  گے، عثمان رضی اللہ عنہ نے مزید کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:گھبراہٹ اور سختی کے اعتبار سے قبر کی طرح کسی اورمنظر کو نہیں  دیکھا.

(6) خلیفہ عادل عمربن عبدالعزیز کی اہلیہ فاطمہ سے آپ کی عبادت کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں  نے جواب دیا کہ وہ بہت زیادہ نفلی عبادات  اور نفلی روزے نہیں  رکھا کرتے تھے لیکن ان سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا کسی کو نہیں  دیکھا جب وہ بستر پر اللہ کو یاد کرتے تو اس کے خوف سے اس طرح کانپتے جس طرح شدت خوف سے پرندہ پھڑپھڑاتا ہے۔ (شذا الرياحين من أخبار الصالحين)

(7) ابن ابی حاتم نے عبدالعزیز بن ابی رواد سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ(التحریم : 6)

ترجمہ: اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں  کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔

ایک بزرگ نے سوال کیا اے اللہ کے رسول ! جہنم کے پتھر دنیا کی طرح ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: جہنم کا ایک پتھر دنیا کے تمام پہاڑوں  سے بڑا ہے۔ اتنا سننا تھا کہ وہ بزرگ بیہوش ہوکر گر پڑے۔ نبی نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا تو زندہ تھے تو آپ نے کہا کلمہ پڑھ، اس نے کلمہ پڑھ لیا اس پر نبی ﷺ نے اسے جنت کی بشارت دی۔

اللہ سے ڈرنے کا انعام

خوف الہی کا انعام جنت ہے۔

(1) اللہ کا فرمان ہے : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ، فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ، ذَوَاتَا أَفْنَانٍ (الرحمن:46-48)

ترجمہ: اور اس شخص کے لئے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں  ہیں  پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟ (دونوں  جنتیں ) بہت سی ٹہنیوں  اور شاخوں  والی ہیں ۔

(2)اللہ کا فرمان ہے: وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ (النازعات:40،41)

ترجمہ: ہاں  جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہاہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔

(3) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لا يلِجُ النَّارَ رجُلٌ بَكَى مِن خشيَةِ اللَّهِ حتَّى يَعودَ اللَّبنُ في الضَّرعِ، ولا يجتَمِعُ غبارٌ في سبيلِ اللَّهِ ودخانُ جَهَنَّمَ(صحيح الترمذي:1633)

ترجمه: اللہ کے ڈر سے رونے والاجہنم میں  داخل نہیں  ہوگا یہا ں  تک کہ دودھ تھن میں  واپس لوٹ جائے، (اوریہ محال ہے) اورجہاد کاغباراورجہنم کا دھواں  ایک ساتھ جمع نہیں  ہوں  گے .

اللہ کا خوف حاصل کرنے کے اسباب

(1) اخلاص سے علم حاصل کرنا: اللہ تعالی کا فرمان ہے :

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ(فاطر:28)

ترجمہ: اللہ سے ڈرنے والے علم والے لوگ ہیں ۔

علامہ  ابن القیم نے لکھا ہے کہ بندے کو رب کی جس قدر معرفت ہوگی اسی قدر اس سے ڈرنے والا ہوگا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  کہ اللہ سے ڈرنے کے لئے علم کافی ہے، خوف کی کمی بندوں  کا رب کی معرفت میں  کمی کے سبب ہے۔

آج علم والوں  کی کمی نہیں ، کمی ہے تو اللہ سے ڈرنے والوں  کی۔ کیا وجہ ہے کہ علم والے اللہ سے بے خوف ہوگئے جبکہ انہیں  اللہ سے ڈرنا چاہئے تھا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں  نے اخلاص سے علم حاصل نہیں  کیا، علم کو دنیا طلبی اور شہرت کا ذریعہ بنالیا اس لئے اللہ سے بے خوف ہوگئے۔

(2) تدبر کے ساتھ قرآن کی تلاوت : اللہ کا فرمان ہے :

إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا(مريم: 58)

ترجمہ: ان کے سامنے جب رحمن کی آیتوں  کی تلاوت کی جاتی تھی تو یہ سجدہ کرتے اور روتے گڑگڑاتے گر پڑتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، یحییٰ نے بیان کیا کہ حدیث کا کچھ حصہ عمرو بن مرہ سے ہے ( بواسطہ ابراہیم ) کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں  نے عرض کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو میں  پڑھ کے سناؤں  ؟ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی نازل ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں  دوسرے سے سننا چاہتا ہوں ۔ چنانچہ میں  نے آپ کو سورۃ نساء سنانی شروع کی، جب میں  "فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولاء شھیدا” پر پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ۔ میں  نے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں  سے آنسو بہہ رہے تھے۔ (بخاری : 4582)

(3) اللہ کا ذکر اور ان مومنوں  کا حال معلوم کریں  جو اللہ سے ڈرنے والے تھےکہ کیسے اس درجہ ایمان پر فائز ہوئے ؟ اللہ کا فرمان ہے : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (الانفال:2)

ترجمہ: بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں  کہ جب اللہ تعالی کاذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں۔

نبی ﷺ نے عرش الہی کے مستحق  سات سایہ دار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ورجلٌ ذكر اللهَ في خلاءٍ ففاضت عيناه( صحيح البخاري:6806)

ترجمہ: اور ایک وہ آدمی جس نے تنہائی میں  اللہ کو یاد کیا پس اس کی آنکھیں  اشکبار ہوگئیں۔

اللہ سے ڈرنے والے مومن اللہ کا ذکر کرنے والے، مضبوط ایمان والے، متقی وپرہیزگار، دن میں  روزہ رکھنے والے، رات میں  قیام اللیل کرنے والے اور طاعت وبھلائی کے کاموں  میں  سبقت لےجانے والے لوگ تھے۔ اللہ کا فرمان ہے:

إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖوَكَانُوالَنَاخَاشِعِينَ (الانبياء:90)

ترجمہ: یہ لوگ نیک کاموں  کی طرف جلدی کرتے تھے اور لالچ اور خوف سے پکارا کرتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔

(4) معاصیات کا ارتکاب انسان کو اللہ سے بے خوف کردیتا ہے، اس لئے گناہوں  سے توبہ، معصیت ونافرمانی سے اجتناب اور فسق وفجور سے دوری اللہ کی محبت، رضا، خوف اور قربت کا ذریعہ ہے۔

(5) عذاب کی آیات پہ غوروفکر کرنا، جہنم اوراس کی ہولناکی کی فکرکرتے ہوئے  جہنم میں  لے جانے والے اسباب سے پرہیز کیا جائے۔

(6) ان ظالموں  اور نافرمانوں  کا حال کرنا جنہوں   نےاللہ سے بے خوف ہوکر دنیا میں  ظلم وفساد کیا تو اللہ نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ اللہ کا فرمان ہے :

وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُم بَطْشًا فَنَقَّبُوا فِي الْبِلَادِ هَلْ مِن مَّحِيصٍ (ق:36)

ترجمہ: اور ان سے پہلے بھی ہم بہت سی امتوں  کو ہلاک کرچکے ہیں  جو ان سے طاقت میں  بہت زیادہ تھیں ، وہ شہروں  میں  ڈھونڈتےہی رہ گئے کہ کوئی بھاگنے کا ٹھکانا ہے ؟

(7) قیامت کی ہولناک گھڑی یاد کریں ، جب سارے لوگ نفسی نفسی کے عالم میں  ہوں  گے اور اس دن کی ہولناکی سے سب کے ہوش اڑ گئے ہوں  گے۔ اللہ تعالی نے اس کی منظر کشی کی ہے :

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚإِنَّزَلْزَلَةَالسَّاعَةِشَيْءٌعَظِيمٌ،يَوْمَتَرَوْنَهَاتَذْهَلُكُلُّمُرْضِعَةٍعَمَّاأَرْضَعَتْوَتَضَعُكُلُّذَاتِحَمْلٍحَمْلَهَاوَتَرَىالنَّاسَسُكَارَىٰوَمَاهُمبِسُكَارَىٰوَلَٰكِنَّعَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ (الحج:1،2)

ترجمہ: لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت ہی بڑی چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھ لوگے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچوں  کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں  کے حمل گر جائیں  گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں  گے حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہوں  گے لیکن اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہے۔

(8) نصیحت آموز سچے واقعات اور دلوں  کو موم کرنے والے وعظ ونصیحت سے پر بیانات سنیں  اس سے دل نرم ہوتا ہے اور اللہ  کا خوف پیدا ہوتا ہے۔

عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  :

وعظَنا رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ يومًا بعدَ صلاةِ الغداةِ موعِظةً بليغةً ذرِفَت منْها العيونُ ووجِلَت منْها القلوبُ (صحيح الترمذي:2676)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہمیں  صلاۃفجرکے بعد ایک موثر نصیحت فرمائی جس سے لوگوں  کی آنکھیں  آنسوؤں  سے بھیگ گئیں  اور دل لرزگئے۔

ان طریقوں  سے ہم اللہ کا خوف اپنے دل میں  پیدا کرسکتے ہیں ، اور ہمارے لئے ضروری  بھی ہے کہ اللہ جل شانہ کا خوف اپنے  میں  پیدا کریں  تاکہ اس کے دین پر صحیح سے چل سکیں ، فرائض وواجبات میں  کوتاہی کرنے پر دل بے چین ہوسکے  اور محرمات کے قریب جاتے وقت خوف الہی روک دے۔ عموما خوف وخشیت  ہی معروف کی بجاآوری اور منکرات سے اجتناب کی بڑی وجہ  بنتی ہے۔ جو اللہ کا خوف کھائے گا پھر اسے کسی کا خوف نہیں  ہوگا۔ خوف الہی تکمیل ایمان اور حسن اسلام کی دلیل ہے۔ اللہ کے خوف سے دل میں  نرمی، پاکیزگی، الفت ومحبت پیداہوتی ہے اور اوصاف رذیلہ مثلا تکبر، بغض وعناد، سرکشی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ خوف رحمن کا سب سے بڑا فائدہ آخرت میں  ملے گاکہ وہ ایسے بندوں  کو اللہ تعالی امن نصیب کرے  گا اور جہنم سے رستگاری دے کر جنت میں  داخل کرے گا۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں  خوف وخشیت کی صفت سے متصف کردے، محرمات سے بچائے اور اوامر کی بجاآوری کی توفیق بخشے۔ آمین

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close