مذہبی مضامین

اللہ کے بندوں کے کام آئیں

ندیم احمد انصاری

        زمانہ جوں جوں مادّی ترقی کرتا جا رہا ہے، آپسی محبت و تعاون کا جذبہ سرد پڑتا جا رہا ہے۔ ہر انسان کوئی بھی کام کرنے سے پہلے یہی سوچتا نظر آتا ہے کہ اس میں میرا کیا فایدہ ہے ؟ اور اکثر و بیش تر کے نزدیک فایدے سے مراد مختصر دنیوی نفع ہے، جس کام میں انھیں کوئی نفع نظر نہیں آتا، اس میں انھیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی، خواہ اس پر اللہ و رسول اللہﷺ کی جانب سے کتنے ہی ثواب کے وعدے اور بشارتیں کیوں نہ ہوں۔ بات صرف اتنی نہیں کہ ہم برے وقت میں کسی کے کام نہیں آتے، حد تو یہ ہے کہ اپنے مفاد کے لیے ہم کسی کو تکلیف پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ کام آنے کا معاملہ یوں ہے کہ آج کے دور میں کوئی زیادہ نرم دل ہو تو فون اور میسیج پر حال چال پوچھ لیتا ہے اور بس، اب وہ لوگ نایاب ہیں جو کسی کی ضرورت کے وقت اس کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔ ہاں کسی کو مصیبت میں دیکھ کر ویڈیوں بنانے کے لیے کھڑے رہنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہاہے، اس لیے کہ ان کے نزدیک یہی سب سے بڑی خدمت ہے !

        اسلام کا مطالعہ کرنے والا ہر طالبِ علم جانتا ہے کہ قرآن و احادیث میں باہم تعاون یعنی ایک دوسرے کے کام آنے کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور خود رسول اللہﷺ نے اپنے مبارک عمل سے اس کی عمدہ مثالیں پیش کی ہیں۔ پر افسوس آج ہم مسلمانوں کو اس کی فکر نہیں !ہر آدمی اپنی زندگی میں مست ہے، نہ کسی کو کسی کے دکھ درد میں کام آنے کی فرصت ہے اور نہ اپنی طرف سے نقصان پہنچنے سے بچانے کی پروا۔ اصل تو یہی تھا کہ دوسروں کے کام آتے، ورنہ کم سے کم اُنھیں اپنے شر سے محفوظ ہی رکھتے !اس کا سبب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں، ان کے ذہنوں سے اس کی اہمیت و حقیقت محو ہوتی جا رہی ہے۔ وہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کو تو عبادت سمجھتے ہیں، لیکن اللہ و رسول کی رضا کے لیے کسی کی خدمت، مدد اور تعاون اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک کو شاید عبادت اور نیکی نہیں سمجھتے، یا ذہنی طور پر اسے نیکی سمجھتے بھی ہیں تو کم از کم عملی طور پر اس کا ثبوت پیش کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے۔

        مسلم شریف وغیرہ میں حدیث موجود ہے ؛حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : جس نے کسی مومن سے دنیا کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی اللہ اس کے آخرت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اللہ بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا ہوا ہے۔ (ترمذی، مسلم)کیوں نہ ہو، جب کہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے وحی نازل ہونے پر اپنے شوہرِ نامدار کی حالت غیر ہوتے ہوئے دیکھ کر آپﷺ کو جن الفاظ میں ہمت بندھوائی تھی اور آپﷺ کے جن اوصاف کا خصوصیت سے ذکر کیا تھا، من جملہ ان کے دوسروں کے کام آنا بھی ہے۔ وہ فرماتی ہیں :اللہ کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا! آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، ناتوانوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، محتاجوں کے لیے کماتے ہیں، مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں مصیبتیں اٹھاتے ہیں۔ (بخاری)اور باری تعالیٰ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے :لَّقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَن کَانَ یَرْجُو اللَّہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللَّہَ کَثِیرًا۔ یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بہ کثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔ (الاحزاب)

        مسلم شریف میں عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت ہے، انھوں نے منبر پر سے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے، کسی مومن کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے، اور نہ اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے، یہاں تک کہ وہ (خود اسے ) چھوڑ دے۔ (مسلم)یہ کوتاہی تو ہمارے معاشرے میں اس قدر عام ہے کہ جس کی انتہا نہیں، غضب یہ ہے کہ اسے برا بھی نہیں سمجھا جاتا۔ ایک شخص معاملہ کر رہا ہوتا ہے، دوسرا شخص خبر ملتے ہی اس سے بہتر آفر(offer) دے کر راتوں رات مال پر قبضہ کر لیتا ہے۔ نیز اس روایت میں گو کہ مومن کا لفظ وارد ہوا ہے، لیکن دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے کام آنے اور اسے اپنے شر سے بچانے کا حکم عام ہے، خواہ مومن ہو یا غیر مومن۔ اس لیے کہ اسلامی تعلیمات کا اصل رخ یہی ہے کہ امن و آشتی کی فضا عام کی جائے۔

        باری تعالیٰ کا ارشاد ہے :مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ (الحجرات)ایک مقام پر فرمایا گیا:اے لوگو! ہم نے تمھیں ایک مرد (باپ) اور ایک عورت (ماں )سے پیدا کیا ہے۔ (الحجرات)اور رسول اللہﷺکے الفاظ ہیں :میں اِس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تمام انسان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ (ابوداؤد)اسی لیے انسانی و ایمانی اخوت ہمیں اس کا پابند کرتی ہے کہ ہم دوسروں کے کام آئیں، کیوں کہ وہ ہمارے اپنے بھائی ہیں۔ صحیحین کی روایت ہے ؛حضرت ابوذررضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے حضرت نبی کریمﷺسے پوچھا: کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ میں نے پوچھا: کس قسم کا غلام آزاد کرنا افضل ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: جو بہت زیادہ بیش قیمت ہو اور اس کے مالکوں کو بہت پسند ہو۔ میں نے پوچھا: اگر میں یہ نہ کرسکوں ؟ آپﷺ نے فرمایا: کسی کاہنر مند کی مدد کرو یا کسی بے ہنر کے لیے کام کردو! انھوں نے پوچھا: اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو؟ آپﷺنے فرمایا: لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو (یعنی ان کے کام نہیں آ سکتے تو کم سے کم ان کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے سے باز رہو)، اس لیے کہ وہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم اپنے آپ پر کرتے ہو۔ (بخاری، مسلم)یہ حدیث اس باب میں نہایت صریح ہے، جو کہ کلّیے کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔ نیز اس میں مسلم و غیر مسلم کی بھی کوئی قید نہیں، جیسا کہ النَّاسَ کا لفظ بتا رہا ہے، جس سے اس کی آفاقیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، اور جب عام انسانوں کے متعلق یہ ارشاد ہے، تو جو اپنے ہوں اور جن کا کوئی حق ہم سے وابستہ ہو، تو ان کے حق میں یہ حکم مزید تاکیدی ہوگا یعنی استاذ، والدین، رشتے دار، دوست احباب وغیرہ۔

        ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں، رسول اللہﷺنے فرمایا: اپنے ظالم یا مظلوم بھائی کی مدد کرو! لوگوں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول ! مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن ظالم کی کس طرح مدد کریں ؟آپﷺ نے فرمایا: اس کا ہاتھ پکڑ لو (یعنی اس کو ظلم سے روک دو)۔ (بخاری)اس حدیث سے بھی ہر حال میں اپنے بھائی کی مدد کرنا لازم آتا ہے، ظالم ہے تو اسے ظلم سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کرنا اور مظلوم ہے تو اسے ظلم سے بچانا ہی ان کی مدد ہے۔ جو حال بھی ہو، ہمیں اپنے بھائی کی مدد کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ رہا یہ امر کہ کن کن معاملوں میں مدد و تعاون پیش کیا جائے اور کن امور میں دامن بچایا جائے، اس کی صراحت خود باری تعالیٰ نے فرما دی، جیسا کہ ارشاد ہے :اور نیکی اور تقوے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔ (المائدہ)

        بہ طور سبق اس حدیث کو ہمیشہ ذہن و عمل میں رکھیں ؛رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:تمام لوگوں میں وہ شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہچانے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نیکی یہ ہے کہ تم کسی مسلمان کی زندگی میں خوشی لاؤ،یا اس کی تکلیف و پریشانی دور کرو،یا اس کے قرض کی ادیگی کا انتظام کرو،یا اس کی بھوک کو ختم کرو، اور میں اپنے کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ (کچھ وقت)چلنے کو مسجد میں دو مہینے اعتکاف کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں، اور جس کسی نے اپنا غصہ روک لیا،اللہ تعالیٰ اس کی ستر پوشی فرمائے گا،اور جس کسی نے انتقام و بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی معاف کر دیا،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو غنا سے بھر دے گا، جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی کوئی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلا،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے قدموں کو(پُل صراط پر) پھسلنے(اور جہنم میں گرنے) سے بچائے گا اور ثابت قدم رکھے گا،اور برے اخلاق ساری نیکیوں کو ایسے خراب کر دیتے ہیں جیسے سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے۔ ( صحیح الجامع الصغیر للالبانی)

٭٭

مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

متعلقہ

Back to top button
Close