مذہبمذہبی مضامین

انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت

ہم انفاق کے ذریعہ خود اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کررہے ہوتے ہیں

قمر فلاحی

اسلام میں انفاق فی سبیل اللہ کی بڑی اہمیت ہے،جس وقت ایک مسلمان یہ عقیدہ مضبوط کر لیتاہے کہ ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور وہ اس کنبہ کا ایک فرد ہے اس وقت اسے انفاق فی سبیل اللہ کے فلسفہ کو سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔”دوسری طرف جب وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث تازہ کرتاہے کہ مسلمان مسلمان کیلئے ایک جسم واحد کی طرح ہے جس کے ایک عضو کو جب کوئی تکلیف ہوتی ہے تو دوسرا عضو بھی اس میں شریک ہوجاتا ہے۔تو اس کے انفاق کا جذبہ  اور بڑھ جاتاہے۔

[مَثَلُ المؤمنين في تَوَادِّهم وتراحُمهم وتعاطُفهم: مثلُ الجسد، إِذا اشتكى منه عضو: تَدَاعَى له سائرُ الجسد بالسَّهَرِ والحُمِّى[أخرجه البخاري ومسلم عن النعمان بن بشير]

انفاق فی سبیل اللہ کا کوئی نصاب نہیں ہے، یہ اھل ایمان پہ فرض ہے، یہ استطاعت کے مطابق مومن پہ فرض ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴾ [البقرة: 254]

اے ایمان والو جو رزق میں نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہا کرو قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی نہ شفاعت اور کافر ہی ظالم ہیں۔

اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو بھی مال کسی مومن کے پاس ہے وہ سب اللہ کا دیا ہوا ہے اس لیے مومن کو چاہیے کہ اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔

انفاق کے تعلق سے ایک بات اچھی طرح سمجھ لینے کی ہے کہ ہم انفاق کے ذریعہ خود اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کررہے ہوتے ہیں کیونکہ کون جانتا ہے کہ کل ہماری حالت کیا ہوگی، ہم کس حادثہ کے شکار ہوں گے۔ اس طرح انفاق فی سبیل اللہ کے نظام کے تحت ہمارا مستقبل محفوظ ہوجاتا ہے۔

انفاق فی سبیل اللہ اور زکوٰۃ میں بنیادی فرق یہ ہیکہ زکوٰۃ مجبور ہوکر دیا جاتا ہے یعنی آپ کو ہر حال میں ڈھائی فیصد ادا کرنی ہوتی ہے اگر آپ صاحب نصاب ہوں تو،کیونکہ یہ قسم کا ٹیکس ہے مگر انفاق میں دل کی رضامندی اور خوشی شامل ہوتی ہے اس میں خرچ کرنے کی مقدار طے نہیں ہوتی اور کوئ مدت بھی نہیں ہوتی۔

یہ بات کتنی حیرتناک ہے کہ آپ صلی اللہ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی زکوٰۃ ادا نہیں کیا کیوں کہ اتنا مال جمع ہونے ہی نہیں دیا جس پہ زکوٰۃ فرض ہوجائے۔ جو بھی مال آیا اسے اللہ کے راستے میں لٹاتے رہے۔

لَّيۡسَ ٱلۡبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ قِبَلَ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَلَـٰكِنَّ ٱلۡبِرَّ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأَخِرِ وَٱلۡمَلَـٰٓٮِٕڪَةِ وَٱلۡكِتَـٰبِ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ وَءَاتَى ٱلۡمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ ذَوِى ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَـٰمَىٰ وَٱلۡمَسَـٰكِينَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِيلِ وَٱلسَّآٮِٕلِينَ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّڪَوٰةَ وَٱلۡمُوفُونَ بِعَهۡدِهِمۡ إِذَا عَـٰهَدُواْ‌   ۖ   وَٱلصَّـٰبِرِينَ فِى ٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَحِينَ ٱلۡبَأۡسِ   ۗ   أُوْلَـٰٓٮِٕكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ‌   ۖ   وَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُونَ .[البقرہ ۱۷۷۔]

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں او رمسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلامو ں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔

وَيَسۡـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ ٱلۡعَفۡوَ   ۗ   كَذَٲلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأَيَـٰتِ لَعَلَّڪُمۡ تَتَفَكَّرُونَ۔ [البقرہ ۲۱۹]

پوچھتے ہیں : ہم راہ خدا میں کیا خرچ کریں ؟ کہو: جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو اس طرح اللہ تمہارے لیے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے، شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو۔

جو شخص انفاق فی سبیل اللہ کرتا ہے وہ اللہ تعالی کو قرض دیتا ہے جس پہ اللہ سبحانہ کا وعدہ ہےکہ وہ اسے بڑھا چڑھاکر لوٹائیگا۔

مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ الصف: [245]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مازال جبریل یوصینی بالجبار حتی ظننت أنہ سیورثہ مجھے جبریل(علیہ السلام)لگاتارپڑوسی کے ساتھ (اچھی سلوک کا ) حکم دیتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ خیال کیا کہ وہ اسے (پڑوسی کو)وراثت کا حق دار قرار دیں گے۔ [صحیح البخاری: ۲۰۱۵و صحیح مسلم: ۲۶۲۵عن ابن عمر رضی اللہ عنہما]

اگر کوئ مسلمان پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے تو قیامت کے دن اس بابت سوال کیا جائےگا۔

انفاق فی سبیل اللہ حقوق العباد سے تعلق رکھتا ہے جو کسی صورت میں بھی معاف نہیں کیا جائےگا۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے:

 وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ * لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ۔ [المعارج ۲۴،۲۵۔]

مومن کے مال میں مانگنے والے اور محروم دونوں کا حق ہوتا ہے۔

لہذا مومن کی ذمہ داری ہے کہ جس کا حق ہے اس کا حق اسے ادا کردے اور اگر کوئی مانگنے والا دروازے پہ آئےتو ا سے جھڑکنے کے بجائے اس کا احسان مانے کہ وہ خود اس کے دروازے پہ چلا آیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ زمانہ آئے جب تم صدقہ لیکر نکلوگے تو کوئی لینے والا نہ ملیگا اور کہنے والا کہیگا کہ اگر تم کل آئے ہوتے میں لے لیتا۔

یاد رکھیے کہ یہ بات ان صحابہ ان صحابہ کرام سے کہی جارہی ہے جو خود مفلوک الحال تھے۔

ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے آپ کیلئے دو کھجوریں ماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے رکھ رکھی تھیں اسی دوران ایک عورت آگئ اور اس نے اپنی بھوک کی شکایت کی ماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ دونوں کھجوریں اس خاتون کو دیدیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دفعہ بکری کا شانہ رکھا تھا وہ بھی کسی سائل کو دیدیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب یہ ماجرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو تم نے دیدیا وہی باقی رہا یعنی اللہ کے ہاں جمع ہوگیا۔

آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ لوگ کہتے ہیں میرا مال میرا مال حالانکہ اسکا مال تو وہی ہے جو اس نے کھا لیا پہن لیا یا اللہ کی راہ میں صدقہ کردیا۔

عنْ عبْدِ اللَّه بنِ الشِّخِّيرِ « بكسر الشين والخاءِ المشددةِ المعجمتين» رضي اللَّه عنه، أَنَّهُ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وهُوَ يَقْرَأُ  } أَلهَاكُمُ التَّكَاثُرُ {  قال: « يَقُولُ ابنُ آدَم: مَالي، مَالي، وَهَل لَكَ يَا ابن آدمَ مِنْ مالِكَ إِلاَّ مَا أَكَلت فَأَفْنيْتَ، أو لبِستَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضيْتَ ؟» رواه مسلم .(337)

ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ لوگ اللہ کی راہ میں مال نہیں خرچ کرتے اور جب موت آتی ہے اس وقت کہتے ہیں اتنا فلاں جگہ اور اتنا فلاں جگہ خرچ کردو اب تو اسے خرچ ہونا ہی ہے۔

قرآن مجید میں انفاق کو بڑی نیکی کہا گیا ہے:

 لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ [الصف (92]

تمہیں نیکی نہیں مل سکتی تم نیک نہیں کہلاسکتے جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں خرچ نہ کردو۔ اس آیت کو سن کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنا پسندیدہ باغ اللہ کی راہ میں وقف کردیا۔

{وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} [الحشر:9]، [التغابن:16]

کامیاب ہو گیا وہ شخص جو دل کی تنگی سے بچا لیا گیا۔

وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَى . وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى . فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى . وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى} [الليل:8-11]،

جو بخل کریگا اور بے نیاز ہوگا اللہ تعالی انہیں تنگی میں ڈال دیگا۔

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ} [آل عمران:180]،

بخیل اللہ کے دیے ہوئے مال اپنے بخل کرنے کے بعد خیر نہ سمجھیں یہ ان کے لیے شر ہے قیامت کےدن انہیں طوق پہنایا جائیگا۔

وقال صلى الله عليه وسلم: «خصلتان لا يجتمعان في مؤمن: البخل وسوء الخلق» (صحيح الترغيب [2608]، حكم المحدث: صحيح لغيره). – وقال صلى الله عليه وسلم: ” «اللهم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك أن أرد إلى ارذل العمر

آپ صلی اللہ علیہ نےفرمایا کہ ایمان اور بخل ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتا یعنی مومن فیاض ہوتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخل سے اپنی دعائوں میں پناہ مانگا کرتے تھے۔

رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انفاق تیز ہوا کی مانند ہوجاتا تھا یعنی خوب خرچ کرتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سائل کو محروم نہیں کیا حتی کہ کسی نے اگر بدن کا کپڑا مانگ لیا تو اسے بھی عطا کردیا۔

کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی آج فقیر ہے نہیں ہر گز نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close