تعلیم و تربیتمذہبی مضامین

اپنے گھر کو نماز والا گھر بنائیں

اس سال ماہ رمضان میں آپ ایک بڑا کام یہ بھی کرسکتے ہیں کہ اپنے گھر میں نماز کو اس کا اصل مقام لوٹادیں، کسی اور ماہ میں یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا، ماہ رمضان میں اس کے لئے گھر میں ماحول سازگار ہوتا ہے۔

محی الدین غازی

اسلامی گھر کی پہلی اور سب سے اہم علامت یہ ہے کہ وہاں نماز کو ہر مصروفیت سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی گھر کے ٹائم ٹیبل میں نماز کے اوقات بہت روشن اور جلی حرفوں میں لکھے ہوتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب نماز کا وقت ہوجائے تو گھر کے سب لوگوں کے سامنے ایک ہی ضروری کام رہے اور وہ نماز کی ادائیگی ہو۔

جس طرح ہر ذات سے بڑھ کر اللہ کی ذات سے محبت کرنا نجات کے لئے ضروری ہے، اسی طرح ہر کام سے بڑھ کر نماز کے کام کو اہمیت دینا نجات کے لئے ضروری ہے۔ آپ کے گھر کو اللہ کے گھر سے گہری نسبت ہونی چاہئے، اور وہ نسبت نماز سے قائم ہوتی ہے، جس طرح اللہ کے گھر میں سب اہم کام نماز ہے، اسی طرح آپ کے گھر میں نماز کے وقت سب سے اہم کام نماز بن جائے۔ اللہ کے رسول کی سیرت سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔

جس گھر میں نماز کا اہتمام ہوتا ہے، اس گھر میں برائیوں اور بے حیائیوں کا داخلہ مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ نماز برے کاموں سے اور فحش کاموں سے روکتی ہے۔ گھر میں بچے بدتمیزی نہیں کریں، برائی اور بے حیائی سے بچے رہیں، اس کا سب سے موثر نسخہ یہ ہے کہ بچوں کے اندر نماز کا شوق پیدا کردیا جائے۔ خبردار رہیں کہ جب کسی گھر میں برائی اور بے حیائی کا سیلاب داخل ہوجاتا ہے تو پھر بچنا اور بچانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

جس گھر میں بڑے اور بچے نماز کا اہتمام کرتے ہیں، اس گھر میں بچے بڑوں کا خیال اور احترام کرتے ہیں۔ جب بڑے اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے حقوق پہچانیں، تو اللہ ان بچوں کے دلوں میں اپنے والدین اور بزرگوں کے حقوق کا شعور پیدا کردیتا ہے۔ جو لوگ اپنے بچوں کی تربیت کرتے وقت ان کے دلوں میں اللہ سے تعلق کی آبیاری نہیں کرتے ہیں، انہیں ڈرنا چاہئے کہ کہیں اللہ ان بچوں کی نشوونما کرتے ہوئے ان کے دلوں سے ان کے بڑوں کا خیال نہ نکال دے۔ قرآن مجید میں اس بات کے لئے اشارے موجود ہیں۔

بچوں کو نماز کا عادی اور شوقین بنانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں اپنی نمازوں کا ساتھی بنالیں۔ جب آپ گھر میں رہیں تو کوئی نماز ان کے بنا نہیں پڑھیں۔ فجر سے لے کر عشاء تک ہر نماز میں ان کے ساتھ مسجد جائیں اور ساتھ ہی واپس آئیں۔ اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ بچے نماز کے عادی اور شوقین بنیں گے، دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ بچے آپ کے دوست بنیں گے، نماز کی قربت جنریشن گیپ کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔

جتنی کم سنی سے آپ اپنے بچے کو مسجد کا ساتھی بنالیں اتنا ہی اچھا ہے۔ مسجد جائیں تو بچوں کے ساتھ پرلطف باتیں کرتے ہوئے جائیں، مسجد کا سفر ان کے لئے بوجھ نہیں بلکہ شوق بن جائے، اور یہ اس وقت ہوگا جب کہ مسجد جانا خود آپ کے لئے بوجھ نہیں بلکہ شوق ہو۔ یہ بات جان لیں کہ میٹھی اور گہری نیند سے اٹھ کر نماز پڑھنا ایک مشکل کام ہے، لیکن اگر محنت کرکے اسے زندگی کا معمول بنالیں تو وہ بالکل مشکل نہیں رہتا ہے۔

ضروری ہے کہ گھر کے سارے لوگوں کے دلوں میں نماز کا مقام ہر کام سے بلند رہے، ساتھ ہی گھر کے سارے افراد کو یہ بھی معلوم رہے کہ آپ کے دل میں نماز کا مقام ہر کام سے بلند ہے۔ آپ کے تعلقات کی بنیاد نماز بن جائے، اگر بچے اسکول کا ہوم ورک نہیں کریں یا اپنے حصے کا گھر کا کام نہیں کریں تو ہوسکتا ہے آپ نظر انداز کردیں، لیکن اگر وہ نماز نہیں پڑھیں تو آپ ان سے ضرور ناراض ہوجائیں، اور اس وقت تک ناراض رہیں جب تک وہ نماز پڑھنا نہیں شروع کردیں۔ ان کو ہمیشہ یہ احساس رہے کہ ان کے نماز پڑھنے سے آپ کو بہت خوشی حاصل ہوتی ہے، اور ان کا نماز چھوڑ دینا آپ کے دل پر انتہائی شاق اور ناقابل برداشت ہوتا ہے۔

جب بچے آپ کی مصروفیات میں مداخلت کرکے آپ کو بتائیں کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے، اور جب بچے تھکن کے باوجود یہ تجویز دیں کہ مسجد میں جاکر نماز پڑھ لی جائے، تو سمجھیں کہ بچوں کی نشوونما نماز کی محبت کے ساتھ ہورہی ہے۔ نہایت ضروری ہے کہ بچوں کی نشونما میں غذا کے ساتھ نماز بھی شامل رہے، غذا جزو بدن بنے اور نماز جزو روح بنے، ورنہ لاغر روح والے فربہ جسم کو تیار کرکے آپ اپنے بچے کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کریں گے۔

آپ کے گھر آنے والوں کو بھی یہ معلوم رہے کہ آپ کے گھر میں نماز کو اللہ سے تعلق کی ضروری علامت سمجھا جاتا ہے، اور اللہ سے محبت کو ہر محبت پر ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر کوئی بے نمازی میہمان آپ کی پرتکلف ضیافتوں کا لطف اٹھاتا رہے، اور آپ اس کی روش پر فکرمندی اور ناپسندیدگی ظاہر نہیں کریں تو یہ اچھی بات نہیں ہے۔ اس کا خراب اثر آپ کے بچوں پر بھی پڑتا ہے، غیر شعوری طور پر ان کے دل میں نماز کی اہمیت کم ہونے لگتی ہے۔

شوہر اور بیوی اور بچوں کے درمیان تعلقات بہت مضبوط اور مستحکم ہوجاتے ہیں، جب وہ نماز کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں، شوہر بیوی کو نماز کے لئے اٹھائے، اور بیوی شوہر کو نماز کے لئے اٹھائے۔ یاد رکھیں جب آپ اپنے بیوی بچوں کو نماز کے لئے ترغیب دیتے ہیں تو آپ ایک زبردست انبیائی سنت پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں۔

ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذریت کو اللہ کے محترم گھر کے پاس بسایا، ایک ایسی وادی میں جہاں کوئی پودا نہیں اگتا، اور مقصد صرف یہ تھا کہ وہ نماز کا اہتمام کریں۔ ابراہیم علیہ السلام جب بہت بوڑھے ہوگئے، اس وقت بھی دعا کرتے اور کہتے، رب اجعلني مقیم الصلاۃ ومن ذریتي، میرے رب مجھے نماز کا اہتمام کرنے والا بنادے، اور میری اولاد کو بھی نماز کا اہتمام کرنے والا بنادے۔  اسماعیل علیہ السلام کی اللہ پاک کے نزدیک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکات کی تاکید کرتے تھے۔ لقمان علیہ السلام بھی اپنے بیٹے کو نماز کا اہتمام کرنے کی نصیحت کرتے۔ عیسی علیہ السلام نے بچپن میں اپنے بارے میں بیان دیا، تو بتایا کہ میرے رب نے مجھے تاکید کی ہے کہ زندگی بھر نماز اور زکات کا اہتمام کرتا رہوں۔ رسول پاک ﷺ کو خصوصی ہدایت تھی، کہ اپنے اہل کو نماز کا حکم دیں، اور اس پر جمے رہیں۔ ازواج مطہرات کو بھی نماز اور زکات کے اہتمام کا خصوصی حکم دیا گیا تھا۔

رسولوں کی اس روشن تاریخ سے ہم بھی اپنے گھروں کو روشن کرسکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

محی الدین غازی

ڈاکٹر محی الدین غازی معروف اسلامی مفکر، دانش ور اور مصنف ہیں۔ آپ کے پسندیدہ موضوعات خواتین اور تحریک اسلامی، اسلامی معاشیات، فقہی اختلافات میں اعتدال کی راہ اور مسلم خاندان ہیں۔ آپ کی حالیہ کتاب 'نمازکے اختلافات اور ان کا آسان حل' میں آپ نے علمی لیکن عام فہم انداز میں ثابت کیا ہے کہ نماز میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے اور جو بھی اختلافات موجود ہیں وہ تمام کے تمام عملی تواتر سے ثابت ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close