مذہبی مضامین

اہمیت اخلاق

ایمان لانے میں سب سے کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔

حافظ عمیر حنفی

دین اسلام انسان کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ وہ اچھے اخلاق کے ساتھ زندگی گزارے جس طرح درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح انسان اپنے اخلاق سے پہچانا جاتا ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں وہ دوسروں کے لیے باعث رحمت ہوتا ہے اور جس کے اخلاق قبیح ہوں وہ دوسروں کی باعث زحمت ہوتا ہے۔

ایک حدیث پاک میں نبیﷺ نے رشاد فرمایا:ایمان لانے میں سب سے کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔

شریعت یہ چاہتی ہے مومن اس دنیا میں محبت سے رہے ہمدردی سے اور  پیار و الفت سے رہے وہ غمگسارہو، نیکو کار ہو،دوسرں کے لیے دکھ بانٹنے والانہ ہو سہل کا معاملہ کرنے والا ہو۔ ایسا پیکر اخلاق ہو جسے دیکھ کر لوگ عش عش کریں مطلب یہ کہ اس کی زندگی قابل تحسین اور قابل دید ہو۔

اور اللہ کے بندوں کے رحمت کا چشم  وچراغ ہو اس لیے فرمایا تم زمین والوں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا(ابودائود)

مومن کی صفات میں سے ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کے لیئے رحمت بن کر رہتا ہے۔

 قطع کلامی پر وعید

حضرت ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں پیر اور جمعرات میں اللہ تعالی ہر مسلمان کی مغفرت فرما دیتے ہیں سوائے ان دو شخصوں کے جنہوں نے آپس میں بولنا چھوڑ رکھا ہے :ارشاد ہوتا ہے ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ دونوں صلح کر لیں۔ (ابن ماجہ)

 قرآن پاک اور احادیث نبویہﷺ میں اخلاق کی اہمیت کو اس طرح کھول کھول کر اجاگر کیا گیامگر افسوس کہ دل ہمارے سخت اور پتھر ہوچکے ہیں کو بھلا ئی اور نیکی کی بات اثر نہیں کرتی جو ایک بار زیادتی کرے تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتے  ہیں۔

حدیث مبارکہ میں پیارے آقا مدنیﷺ نے فرمایا: جس مسلمان کو اپنے جسم پر کسی آدمی کی طرف سے تکلیف پہنچے اور پھر وہ اس کو معاف کردے تو اللہ عزوجل ایک خطا معاف اور ایک درجہ بلند فرما دیں گے۔(مسنداحمد)

حسن خلق کسی ایک چیز کا نام نہیں ہے بلکہ اپنی پوری حیات اسی طرح اخلاق محمدیﷺ کا پیروکار بن کر گزارنے کا نام ہے اور اصل اطاعت بھی یہی  ہے۔

اخلاقی نبویﷺ  میں سے ایک یہ بھی ہے جو شخص کسی نابینا کو لے کر چلا حتی کہ اس کے گھر تک پہنچا دیا تواس کے چالیس کبیرہ گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی جب کہ چار کبیرہ گناہ بھی جہنم میں جانے کا سبب بن سکتے ہیں۔  (الطبرانی)

تو یہ ہے اخلاق کی اہمیت جس کا احادیث نبویہ میں جابجا ذکر ہے  معلوم ہوا کہ اخلاق کریمانہ ایک اہم چیز ہے جس کا ذکر بار بار کیا جا رہا ہے۔

دنیا کا دستور ہے کہ دوست یا عام آدمی ہمیں کسی کام کا کہہ دے اور ساتھ وعدہ مال وانعام کا ہو تو ہم پھولے نہیں سماتے۔

تو جب پیارے آقا ﷺ بار بار فرما رہے ہیں جیسا کہ اس حدیث مبارکہ میں کہ خوش خلقی گناہوں کو ایسے پگھلا دیتی ہے جیسے سورج برف کو(شعب الایمان)

 ہمارے معاشرے کا عالم یہ ہے نہ آئو دیکھا نہ تا ئو!جو منہ میں آیا نکال دیا اور کیا پتہ ہمارے کونسے بول؟ کس اور کن  کے دلوں پر چھریاں پھیر رہے ہیں۔ اور نجانے ہماری زندگی میں کتنے ہمارے عزیز واقارب     ہماری اس بدکلامی اور بداخلاقی کیوجہ سے دور ہو رہے ہیں۔

اس لیے فرمایا گیاکہ بدترین ہے وہ شخص جس کی فحش کلامی کیوجہ سے لوگ اس سے ملنا چھوڑ دیں(مشکو ۃشریف)

 زبان میں ہڈی نہ ہونے کیوجہ

کیونکہ ہڈی سخت ہے اور سختی کو پیدا کرتی ہے اور ہماری زبان میں ہڈی نہ ہونے کیوجہ یہی ہے اللہ تعالیٰ نے بغیر ہڈی والی زبان دی اس کو ہم بغیر ہڈی کے ہی استعمال کریں۔

 جب بولیں میٹھا بول  بولیںکیونکہ زبان کی نرمی سے انسان بڑے سے بڑا کام آسانی سے کرلیتا ہے۔ سخت سے سخت دل کو موہ لیتا ہے۔ اس لیے تو شاید حدیث مبارکہ میں یہ بات وارد ہو ئی ہے کہ مغفرت کو واجب کرنے والے اعمال میں سے سلام کا پھیلانا اور کلام کو نرمی اور خوبی سے پیش کرنا ہے (الطبرانی)

اور تو اور اسی زبان کی نرمی کیوجہ سے انسان کٹھن مراحل آسانی سے طے کرلیتا ہے۔ ۔سخت دل دشمنوں کو شیریں کلام سے اپنا گرویدہ کیا جا سکتا ہے اگر ہمارے معاشر ے میں کمی ہے تو اسی بات کی کہ ہماری زبانیں بے لگام ہوگئی ہیں۔ احادیث کو پس پشت ڈالتے ہوئے اخلاق کی حدود کو شکن کر دیا ہے۔ اس معاشرے میں جب اتفاق واتحاد ہوتا تھا جب محبتیں تقسیم ہوتی تھیں تو تب ایک دوسرے کی تلخ کلامی کو برداشت کرنا بہت آسان تھا جو آجکل بہت مشکل بن گیا ہے۔

 ہمارے اسلاف کا اخلاق

مولانا رومؒ سے کسی نے کہا تم ایک کہو گے تو دس سنو گے مولانا روم ؒنے فرمایا میاں تم مجھے ہزار کہہ لو جواب میں ایک بھی نہیں سنو گے۔

جور وستم سے جس نے کیا دل کو پاش پاش

ہم نے اس کو بھی دعائیں دیں

مالک بن دینا رؒکو کسی عورت نے کہا اوریاکار! فرمانے لگے او اللہ کی بندی! تم نے بڑے عرصے کے بعد پہچانا۔

کسی نے بایزید بسطامیؒ کے سر میں راکھ ڈال دی بجائے غصہ کرنے کے فرمایا: الحمدُلِلّٰہ۔ کسی نے راکھ ڈالی ہے میں تو انگارے ڈالے جانے  کے قابل تھا۔

امام شعوریؒ کی کوئی چیز چوری ہوگئی افسوس تو ہوتا ہے فرمانے لگے کسی نے ضرورت کی خاطر کی ہے میں نے معاف کیا۔

ذرا سوچیئے ! ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اس نبی مکرمﷺ کی امت ہیں جنہوں نے فرمایا تھا:

 مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا تاکہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں تو ہمیں اپنی زبانوں کو نرم اور اپنے اخلاق ومعاملات کی درستگی کی ضرورت ہے۔

ہماری صورت حال ہمیں خود جھنجھوڑ رہی ہے ہم کسی کو پیار اور محبت سے سمجھانے کے بجائے ایسی بداخلاقی سے پیش آتے ہیں کہ اگلا مسلمان دین سے دور ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔

ایک عالم شیخ الہند مولانا محمودالحسن دیوبندیؒ کی خدمت میں گئے ساتھ ایک انگریز مہمان تھا اب ایک پریشانی سر پر سوار تھی حضرت کچھ فرما نہ دیں اس انگریز کے بارے میں۔

خیر……..کھانا تناول کیا اور رات محو آرام ہوئے رات کو ڈیڑھ بجے کے قریب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ حضرت اس انگریز کے پائوں دبا رہے ہیں۔  تو یہ ہے ہمارے اسلاف کی زندگی

اور افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے ہم ان کے جانشین بنے پھرتے ہیں جن کے اخلاق کا معیار یہ کہ ہندو کیلئے ٹرین میں باتھ روم اپنوں ہاتھوں سے حسین احمد مدنیؒ صاف کیا کرتے ہیں

اور آج ہم کافروں پر نرم مزاجی تو کیا ؟ آپس کی نفرتوں پر نظر گھما لیں۔ ۔تو اگر ہمارے معاشرے میں ایک ضرورت ہے تو حسن اخلاق کی ہے۔

اللہ عز وجل ہم سب کو اخلاق حمیدہ سے مزین ہونے اور تقویٰ والی حیات نصیب فرمائے (آمین)

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close