مذہبی مضامین

باہمی تعلقات کی اصلاح: قرآن کی روشنی میں

 مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

انسان طبعی اور فطری طور پر اختلاط پسند واقع ہوا ہے، یہ میل جول اور کنبہ وبرادری اور عائلی وسماجی زندگی کا عادی اور خوگر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے ’’سماجی حیوان ‘‘بھی کہا جاتا ہے، یہ سماج ومعاشرے اور کنبے وخاندان سے کٹ کر زندگی بسر نہیں کرسکتا ؛ بلکہ سماجی اور عائلی زندگی کا بقا اور تحفظ کا راز بھی اسی اختلاط اور میل جول کی زندگی پر موقوف ہے، انسان کو اس کی پیدائش سے لے کر اس کی زندگڑ کے آخری لمحات تک مختلف طریقے سے تعلقات اوررشتہ داریوں سے واسطہ پڑتا ہے، جب وہ بچپن میں اپنی شعور کی آنکھیں کھولتا ہے تو اپنے آپ کو جان نثار ماں، شفیق باپ اور مہربان بہنوں کی جھرمت میں پاتا ہے، پھر انہیں ماں باپ اور بھائی بہنوں کے رشتے سے اسے بے شمار رشتہ داریوں، تعلقات وبرادریوں سے نسبت ہوجاتی ہے، پھر جب وہ سن بلوغ کو پہنچ کر خود صاحبِ اہل وعیال ہوجاتا ہے تو یہاں سے رشتہ داریوں کی ایک مزید شاہر اہ کھل جاتی ہے، پھر جب وہ اپنی اولاد کو نکاح کے بندھن میں باندھ دیتا ہے تو  یہاں سے تعلقات اور رشتہ داری کا ایک اور در وا ہوجاتا ہے، پھر اس کی اسلام کی نسبت پر بمصداق اس حدیث کے ’’ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے‘‘ اخوتِ اسلامی کی یہ کڑی اسے تمام مسلمانانِ عالم کے ساتھ جوڑ دیتی ہے۔

پھر اس کے کاروباری وتجارتی تعلقات اور پاس پڑوس اور دوستیوں کا ایک وسیع وعریض سلسلہ ہے، الغرض انسان کو اس کی زندگی میں مختلف طریقے سے تعلقات اور قرابتوں سے واسطہ پڑتا ہے، وہ ان تعلقات اور رشتہ داریوں کو کیسے نبھائے، ان متعلقین کے حقوق کی ادائیگی کیسے کرے، ان قرابت داروں اور رشتہ داریوں میں در آنے والے بگاڑ اور خراب کا خاتمہ کیسے کرے ؟یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان اس دنیا میں فرشتہ بنا کر نہیں بھیجا گیا، اللہ عزوجل نے اس میں خیر وشر ہر دو طرح کے مادے اس میں ودیعت کر رکھے ہیں، نفس وشیطان، خود اس کے خواہشات ولذات کا لا متناہی سلسلہ بھی اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے، وہ کبھی اپنی نفسانی خواہشات، دنیوی اغراض، مال ومتاع کی اندھی ہوس اور اپنی زندگی کو آرام دہ اور پرسکون بنانے کے لئے دوسروں پر ظلم وزیادتی پر اتر آتا ہے، دوسروں کے اموال پر ناجائز قبضہ کے ذریعے اس کو زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے، یہ ظلم وزیادتی اس کے تعلقات کے بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے، یا دوسرے کی ترقی، اس کی کامیاب زندگی اسے بغض وحسد کی آگ میں جلا کر آپسی تعلقات اور رشتہ داریوں کو اس کے راکھ تلے بھسم کردیتی ہے، یہی سے لڑائی جھگڑے، توڑ، پھوڑ، خون خرابی، دنگے فساد کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

آج بھی یہی کچھ صورتحال ہمارے معاشرے میں دیکھنے کو مل رہی ہے، برق رفتار مادی ترقی، تعیش وآرام کے وسیع وسائل وامکانات اور اس کے حصول کی اندھادھن تگ ودو نے انسان کو ایک دوسرے سے دست وگریباں کردیا ہے، جس کی وجہ سے ہر سطح پر گھریلو تعلقات، ملکی تعلقات اور بین الاقوامی تعلقات دھماکو صورتحال اختیار کرتے جارہے ہیں، رشتہ کا تقدس پامال ہوا جارہا ہے، اولاد ماں باپ کو ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ کے حوالے کر رہی ہے، میاں بیوی کے رشتہ میں خلوص اور پیار نہیں رہا، یہ سچ ہے کہ انسان کی یہ آپس کی یہ آویزش وٹکراؤ اور تعلقات کا بگاڑ ابتدائے آفرینش ہی سے چلا آرہا ہے، حضرت آدم علیہ السلام کا مختصر خاندان جو کہ ان کی اہلیہ حوا اور ان کے بیٹوں اور بیٹیوں پر مشتمل تھا، وہاں پر بھی ایک بھائی قابیل نے ہابیل پر زیادتی کی اور اسے ظلما قتل کردیا۔ ارشاد باری عزوجل ہے ’’آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا تو اس نے اسے مار ڈالا اور نقصان اٹھانے والوں میں (شامل )ہو گیا۔‘‘(المائدہ:۰۳)

یہ انسانی زندگی کا سب سے پہلا ناحق قتل اور تعلقات کا بگاڑ تھا، انسان کی اسی سرشت وفطرت کی وجہ سے جب اللہ عزوجل نے اس عالمِ رنگ وبو کو منصہ شہود بر لانے کے لئے انسان کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کے اجزائے ترکیبی اور عناصر اربعہ کی یکجائی واجتماع کے عمل کو دیکھ کر انسان کے وجود سے پہلے ہی اس کی فطرت اور مزاج ومذاق کو بھانپ لیا تھا۔اور یوں کہاتھا:’’ فرشتے کہنے لگے : کیا آپ پیدا کریں زمین میں ایسے لوگوں کو جو فساد کریں گے اس میں اور خون ریزیاں کریں گے اور ہم برابر تسبیح کرتے رہتے ہیں، بحمد اللہ، تقدیس کرتے رہتے ہیں، حق تعالی نے ارشاد فرمایا : میں جانتا ہوں اس بات کو جس کو تم نہیں جانتے ‘‘(البقرۃ : ۰۳)

یہاں پر تحقیق طلب امر یہ ہے کہ کیا انسان کو فطری طور پر جھگڑا لو کہہ کر اس کی لڑائی کو مزید ہوادی جائے گیاور اس کے خراب وبگاڑ کی خلیج کو مزید وسعت دی جائے گڑ ؟ چونکہ تعلقات کابگاڑ، آپس کی خصومت ودشمنی یہ شعلہ زن آگ کے مانند ہوتی ہے، کیا آگ کو اس کی شدت اور حدت کی حالت میں بغیر بجھائے یوں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز کو خاکستر اور ملیامیٹ کردے ؟ نہیں، بلکہ ایسے وقت سارا معاشرہ ایک باہم یک دست وبازو ہو کر بجلد اس آگ کو بجھانے کے لئے جٹ جاتا ہے، ایسا بھی نہیں ہوتا کہ چند مخصوص لوگ ہی اس کو بجھانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں، خواہ کسی بھی ایک گھر یا چند گھروں کو آگ لگ جائے تو سارا معاشرہ اور ساری بستی مل کر اس کو بجھانے کے عمل لگ جاتی ہے، اس طرح اس آگ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ۔۔۔یہ لڑائی جھگڑے، تعلقات کا بگاڑ، رشتہ داریوں کی پامالی، دنگا وفساد یہ بھی ایک طرح کی آگ ہے جو عمارتوں، پتھروں کو خاکستر نہیں کرتی، ساز وسامان، لکڑیاں، تختے وغیرہ اس کے لقمے نہیں بنتے ؛ بلکہ یہ آگ دلوں اور ضمیر انسانی کو کھاجاتی ہے، یہ انسانی قلب میں موجود محبت ومودت اور خیر خواہی وہمدردی کے جذبات کو ملیامیٹ کر دیتی ہے، معاشرے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایمان واخلاق کی سوداگر اس معنوی آگ کو بجھانے کے لئے ایک جٹ ہوجائے۔

حضور اکرم ﷺ نے تعلقات کی خرابی وبگاڑ اور اس کے منفی اثرات کو بیان کرتے ہوئے یوں فرمایا ہے : ’’تعلقات کا بگاڑ ہی سپاچٹ کرنے والا ہے ‘‘(ابوداؤد) آپ نے مزید فرمایا : میں یہ نہیں کہتا کہ یہ سر کے بالوں کو سپاچٹ کردیتا ہے ؛ بلکہ یہ تو دین کو ختم کردتیا ہے (مؤطا مالک) اس لئے سارے معاشرے کی ذمہ داری ہے اگر معاشرے میں کہیں بھی کسی بھی قسم کا بگاڑ پیدا ہوجائے تو وہ یک بازو ہو کر اس فساد وبگاڑ کو دور کریں، اگر اس قسم کا نزاع اور بگاڑ شوہر اور بیوی کے درمیان ہوتا ہے زوجین کے رشتہ داروں کی ذمہ داری ہوتی ہے معاملے کے طلاق تک پہنچنے سے پہلے ہی بعجلت خوشگوار ماحول میں اس مسئلہ سے نمٹا جائے۔ ارشادباری عزوجل ہے :اور اگر تمہیں میاں بیوی میں کھٹ پٹ کا اندیشہ ہو تو ایک پنچ مرد کے کنبے میں سے مقرر کرو اور ایک پنچ عورت کے کنبے میں سے۔ اگر دونوں پنچوں کی نیت اصلاح حال کی ہوگی تو اللہ میاں بیوی میں باہم موافقت کرا دے گا۔ بیشک اللہ سب بڑے علم والے اور بڑے خبر دینے والے ہیں۔ ‘‘

یہاں پر حکم ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات کے بگاڑ اور خراب کی صورت میں خاندا ن اورمعاشرے کے ذمہ دار لوگوں کو حکم اور ثالثی کا رول ادا کرتے ہوئے، اس فساد اور بگاڑ کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اور جب دو گروں کے درمیان نزاع اور خلش ہوجائے تو اس سلسلے میں ربانی حکم ہے۔

’’ اور اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو انکے درمیان اصلاح کردو پھر اگر ان میں کا ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع ہوجاوے پھر اگر رجوع ہوجائے تو ان دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ اصلاح کردو اور انصاف کا خیال رکھو بیشک اللہ انصاف والوں کو پسند کرتا ہے، مسلمان تو سب بھائی ہیں سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرادیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے ‘‘(الحجرات : ۹۔۱۰)

قرآن کریم نے یہاں دو مسلمانوں کے درمیان آپسی نزاع اور جھگڑے کی ایک صورت پیش کی ہے اور بتلایا ہے کہ اگر اتفاق سے مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑپڑیں تو پوری کوشش کروکہ اختلاف رفع ہوجائے، اس میں اگر کامیابی نہ ہو اور کوئی فریق دوسرے فریق چڑھ جائے اور ظلم وزیادتی پر کمر کس لے تو یکسو ہو کر نہ بیٹھے رہو ؛ بلکہ جس کسی کی زیادتی ہو سب مسلمان اور پورا معاشرہ مل کر اس سے لڑائی کرے، یہاں تک کہ وہ فریق مجبور ہو کر اپنی زیادتیوں سے باز آجائے، اور خدا کے حکم کی طرف رجوع کر کے صلح صفائی کے لئے آمادہ ہوجائے، اس وقت چاہئے کہ مسلمان دونوں فریقوں کے درمیان عدل وانصاف کے ساتھ صلح ومیل میلاپ کرادیں، کسی ایک کی طرف داری میں جادہ حق سے نہ پھر جائیں، اس مصالحانہ کوشش کے درمیان یہ بات ملحوظ رہے کہ زوجین کی صلح صفائی کے دوران بات خاندان سے باہر نہ جانے پائے، اسی طرح مسلمانوں کے درمیان آپسی صلح وصفائی کے دوران غیر مسلموں سے مدد واستعانت نہ لی جائے۔ غرضیکہ اسلام آپسی تعلقات کے بگڑنے کی صورت میں اصلاح ذات البین کا حکم کرتا ہے کہ آپس میں صلح صفائی سے کام لیا جائے، اس طرح آپسی خلش اور خلیج کو پانٹے کی کوشش کی جائے، قرآن کریم اور احادیث شریفہ نے نہایت مؤکدانہ انداز میں تعلقات کے بگاڑ کو دور کرنے کا حکم دیا ہے۔

اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے ’’  پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو‘‘(الانفال : ۱)اس آیت کریمہ میں تعلقات کی اصلاح کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ : آپس میں مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ ہر معاملہ میں خدا سے ڈریں، آپس میں صلح وآشتی برقرار رکھیں، ذرا ذرا سی بات پر جھگڑا نہ ڈالیں، اپنی آراء وجذبات کی رومیں نہ بہہ جائیں، اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانیں، جب خدا اور رسول کا نام آجائے تو ہیبت وخوف کایہ عالم ہو کہ ایمان ویقین اس قدر ایمان ویقین مضبوط ہوجائے کہ ہر معاملہ میں ان کا اصلی بھروسہ اور اعتماد بجز خدا کے کسی پر نہ رہے۔

جس طرح سماج اور معاشرہ میں آگ بھڑک اٹھنے پر اس کو بجھانے کے لئے فائر بریگیڈعملہ، فائر انجن گاڑیاں ہمہ وقت تیار رہتی ہیں، اس سے بڑھ کر اس بات کی ضرورت ہے کہ تعلقات کے بگاڑ اورخراب کی اس معنوی آگ کے شرارے قبل اس کے کہ خاندان، کنبہ برادریوں، ایمانی واسلامی اخوتوں کو جلا کر خاکستر کردیں، اس کے لئے ایسے ہی رجال کار، افراد اور تنظیمیں تیار ہوں جو تعلقات کے بناؤ اور فصل خصومات کا کام کریں اور اس معنوی آگ پر پوری تیاری اور مستعدی کے ساتھ قابو پالیں۔

آج مادی ہوس نے انسان کو اس قدر اندھا، بہرا کردیا ہے کہ رشتہ داریوں اور تعلقات کی اہمیت وتقدس کا بالکل خیال نہیں رہا، ہر شخص دولتِ دنیا کے جمع کرنے اور سامانِ راحت کی تلاش وجستجو میں ماں باپ، بھائی، بہن، آل واولاد ہر چیز کو نظر انداز کررہا ہے اور محض اپنی نفسانی وحیوانی جذبات کی تکمیل وتسکین کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ ضرورت اس بات کی تعلقات اور رشتہ داریوں کی اہمیت کو سمجھیں، اللہ کا ڈر خوف اپنے اندر پیدا کریں، ورنہ وہ دن دور نہیں اگر تعلقات اور رشتہ داریوں کی بے احترامی اور بے ادبی کی یہی صورتحال رہی تو وہ دن دور نہیں ہمارا یہ مشرقی معاشرہ مغرب کی طرح وصفِ انسانیت سے عاری ہو کر مشینوں کے مانند ہوجائے کہ ضرورت کہ حد تک استعمال کیا جائے پھر اسے بند کرکے رکھ دیا جائے، مغرب میں انسان ایک مشین بن کر رہ گیا ہے، نہ کنبہ ہے نہ برادری۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close