فقہمذہبمذہبی مضامین

بیوہ اور طلاقن کے اسلامی حقوق

مفتی شکیل منصور القاسمی

اسلام دین فطرت ہے۔ اس میں فطرت انسانی کے جائز تقاضوں کو کچلا جاتا ہے اور نہ ہی شتر بے مہار کی طرح ہر جگہ منہ مارنے کی اجازت دی جاتی ہے۔افراط وتفریط سے یکسر پاک انسان کے تمام تمدنی ومعاشرتی حقوق کی ضمانت شریعت اسلامیہ میں موجود ہے۔

مذہب اسلام کا یہ "روشن باب” ہے کہ اس نے ” بیوہ "اور "طلاقن ” عورتوں کو معاشرہ میں جینے کا ہی نہیں ؛ بلکہ "سہاگن ” بن کے مکمل جینے کا حق دیا ہے۔

جبکہ دیگر  مذاہب، تہذیبوں اورثقافتوں میں ان کے حقوق کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔

ہندو ازم نے تو "ستی” کے ذریعہ  یا تو بیوہ کو شوہر کی وفات کے ساتھ زندہ جل جانے کی تعلیم دی ہے۔ یا  پہر ایسا نہ کرسکنے کی صورت میں انہیں  نکاح ثانی کی قطعا اجازت نہیں ۔ وہ ساری عمر یوں ہی بیٹھی رہیں گی۔ جبکہ یہودیت میں عدت کا کوئی تصور ہی  نہیں ہے ۔ طلاق یا بیوگی کے فورا بعد وہاں دوسرے شوہر سے نکاح کر لینے کی اجازت یے۔

مذاہب  عالم میں بطور خاص   صرف اسلام کی یہ  خصوصیت ہے کہ بیوگی یا طلاق کے موقع سے اس نے ایسے احکام جاری کئے ہیں کہ ان کی رعایت سے نہ انسان کا نسب خراب ہوگا، نہ اخلاق میں بگاڑ پیدا ہوگا اور نہ ہی حیاء کے خلاف کوئی چیز انجام پائے گی۔

جاہلیت کے زمانہ میں "بیوہ” سال بھر تک سوگ مناتی تھی، بیوہ عورت عام لوگوں کے ساتھ مکان میں نہیں رہ سکتی تھی بلکہ اسے کسی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں ڈال دیا جاتا تھا۔ نہ وہ غسل کرسکتی تھی اور نہ کپڑے تبدیل کرنے کی مجاز تھی۔ اس کو منحوس خیال کیا جاتا تھا۔ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا بھی نہیں کھا سکتی تھی۔ ایک سال گزرنے کے بعد اسے کھوٹھڑی سے نکالاجاتا اور گدھے یا اونٹ پر سوار کیا جاتا۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ مرغ یا کوئی دوسرا جانور ایسی عورت کو لا کر دیاجاتا، جسے وہ اپنے اعضائے تناسلیہ کے ساتھ ملتی۔ اکثر اوقات وہ جانور تعفن اور زہریلے جراثیم پیدا ہوجانے کی وجہ سے مر جاتے۔ نہ استنجا، نہ طہارت، پھر اس عورت کے ہاتھ میں اونٹ یا بکری کی مینگنیاں پکڑواتے، وہ اپنے ہاتھ سے مینگنیاں پھینکتی، تو اس کے لواحقین کہتے کہ اب اس کی عدت پوری ہوگئی ہے۔ اب یہ نہا دھو کو صاف لباس پہن سکتی ہے۔ خوشبو استعمال کرسکتی ہے۔ گویا جاہلیت کے زمانہ میں اس قسم کا بُرا دستور تھا۔

1488 وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَكُونُ فِي شَرِّ بَيْتِهَا فِي أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا حَوْلًا فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ فَخَرَجَتْ أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا [ص:1126] وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِيحَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ بِالْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي الْكُحْلِ وَحَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُخْرَى مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ تُسَمِّهَا زَيْنَبَ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ صحيح مسلم.

اسلام کی نظر میں عورت کے حق میں ” نکاح ” ایک نعمت ہے۔اس کی عفت وعصمت کا یہ ایک  "محافظتی قلعہ” ہے۔

شوہر کی وفات سے عورت کو سخت صدمہ اور نقصان پہونچتا ہے۔ عام حالات میں وفات کے موقع سے تین دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت اسلام میں نہیں ہے۔ لیکن وفات شوہر کی صورت میں  ازدواجی تعلقات کے انقطاع سے   عورت کو پہونچنے والے اس عظیم ترین صدمہ پہ اظہار تاسف و حسرت کے طور پر عورت پر ایک خاص مدت تک زیب وزینت اور نکاح ودواعی نکاح سے روکا گیا ہے۔ جسے قرآن کی زبان میں "تربص ” اور اصطلاحی زبان میں ” عدت ” کہتے ہیں ۔

اگر بیوہ حاملہ ہو تو وضع حمل تک  بطور سوگ وحسرت رکی رہیں گی۔ مدت ولادت خواہ کم ہو یا زیادہ۔

وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا۔4/65 )

اگر بیوہ حاملہ نہ ہو تو ان کے لئے چار ماہ دس دن یا کل ایک سو تیس 130 دن رکے رہنا (عدت ) واجب ہے۔

واجب اور فرض میں عملا کوئی فرق نہیں ۔دونوں کا کرنا ضروری ہے۔صرف ذریعہ ثبوت کا فرق ہوتا ہے۔ عدت وفات کے زمانہ میں بیوہ کے لئے بنائو سنگار سب ناجائز ہے۔

انتظار کی اس مدت کی تجویز میں بنیادی حکمت یہ ہے کہ ایسا کرنے سے اس بات کایقین ہوجائے گا کہ بیوہ کا رحم وفات یافتہ شوہر کے نطفہ سے مشغول نہیں ہے۔تاکہ بعد عدت نکاح کرنے کی صورت میں نسل انسانی خلط ملط ہونے سے محفوظ رہ سکے۔

لیکن رشتہ ازدواجی کے انقطاع پہ اظہار حسرت،  عدت وفات کے وجوب  کی بطور خاص مصلحت ہے۔

 کیونکہ وفات کی یہ عدت صغیرہ، آئسہ، مدخولہ اور غیر مخلو بہا سب پر واجب ہے۔ حالانکہ صغیرہ ناقابل وطی، اور کبیرہ غیر مدخولہ وغیرہ پہ استبراء رحم  کی کوئی ضرورت نہ تھی۔لیکن مفارقت زوج پہ حسرت وافسوس ان سب کے حق میں یکساں ہے۔ اس لئے عدت طلاق کی بنسبت، عدت وفات ان سب پر واجب ہے۔ تاکہ مہتم بالشان علاقہ زوجیت کے فقدان پہ سوگ کرسکیں ۔

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: 234]

(اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تویہ بیویاں اپنی جانوں کو روکے رکھیں چار مہینے دس دن۔)

1222 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ بِهِ ثُمَّ قَالَتْ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا۔صحيح البخاري

(حضرت زینب سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کسی عورت پر جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن تک سوگ کرے گی۔)

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی عدت وفات کے وجوب کی حکمت و مصلحت  بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :

وإنما عین الشارع فی عدتہا أربعۃ أشہر و عشرا، لأن أربعۃ أشہر ہی ثلاث أربعینات وہی مدۃ تنفخ فیہا الروح فی الجنین (إلی قولہ) وإنما شرع عدۃ المطلقۃ قروء اً وعدۃ المتوفی عنہا زوجہا أربعۃ اشہر و عشرا، لأن ہنالک صاحب الحق قائم بأمرہ ینظر إلی مصلحۃ النسب و یعرف بالمخائل والقرائن فجاز أن تؤمر بما تختص بہ وتؤمن علیہ ولا یمکن للناس أن یعلموا منہا إلا من جہۃ خبرہا و ہٰہنا لیس صاحب الحق موجوداً وغیرہ لا یعرف باطن أمرہا ولایعرف مکائدہا کما یعرف ہو فوجب أن یجعل عدتہا أمرا ظاہرا۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ۲/۱۴۲)

بیوہ عورت کو اگر شوہر نے مہر دین زندگی میں نہ دیا ہو تو بعد وفات وہ شوہر کے ترکہ سے مہر دین وصول کرے گی۔کیونکہ یہ شوہر کے ذمہ واجبی قرضہ تھا۔ اور واجبی قرضہ کی ادائی اور اجرائے وصیت کے بعد ہی  مرنے والے کا ترکہ اس کے ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے۔

مہر دین کے علاوہ رہنے کا گھر اور گزر بسر کے اخراجات کی مد میں  شوہر کی متروکہ جائیداد سے عورت کچھ نہیں لے سکتی۔

شوہر جس مکان میں وفات پایا ہے عورت اسی مکان میں عدت گزارے گی۔ وفات کے بعد شوہر کی جائیداد پہ ورثاء کی ملکیت ثابت ہوگئی۔ عورت کا  نان نفقہ اس میں واجب نہیں ۔ کیونکہ عدت میں بیٹھنا ” حق شوہر” کی وجہ سے نہیں ، بلکہ ” حق شرع ” کی وجہ سے ہے۔ ہاں  درج ذیل شرعی  اور وراثتی اصول کے مطابق وہ جائیداد میں حصہ پائے گی :

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ 004:012

اور تمہارے لیے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کے کوئی اولاد نہ ہو، اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لیے بیویوں کے ترکہ کی چوتھائی ہے۔ وصیت (نکالنے) کے بعد جس کی وہ وصیت کرجائیں یا ادائے قرض کے بعد،۔ اور ان (بیویوں ) کے لئے تمہارے ترکہ کی چوتھائی ہے، بشرطیکہ تمہارے کوئی اولاد نہ ہو لیکن اگر تمہارے کچھ اولاد ہو تو ان (بیویوں ) کو تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصے ملے گا، بعد وصیت (نکالنے) کے جس کی تم وصیت کرجاؤ یا ادائے قرض کے بعد، اور اگر کوئی مورث مرد ہو یا عورت ایسا ہو جس کے نہ اصول ہوں نہ فروع اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کے لیے ایک چھٹا حصہ ہے اور اگر یہ لوگ اس سے زائد ہوں تو وہ ایک تہائی میں شریک ہوں گے، ف بعد وصیت (نکالنے) کے جس کی وصیت کردی جائے یا ادائے قرض کے بعد بغیر کسی کے نقصان پہنچائے، یہ حکم اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ بڑا علم والا ہے، بڑا بردبار ہے،

آیت کریمہ سے پتہ چلتا ہے کہ زوجین میں تقسیم وراثت کے لیے دو صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں ۔ میاں بیوی میں سے کسی ایک کی وفات کے وقت یا تو مرنے والے کے زوج کے علاوہ اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی یا اولاد بھی ہوگی۔ دونوں صورتوں میں ایک دوسرے کے حصے کی مقدار مختلف ہوگی ارشاد ہے :

 ولکم نصف ماترک ازوجکم ان لم یکن لھن ولد ۔

اگر تمہاری بیوی کی وفات کے وقت اس کی اولاد نہیں ہے تو اس نے جو کچھ چھوڑا ہے اس میں سے تمہارا نصف حصہ ہے۔

"فان کان لھن ولد”  اور اگر بیوی اولاد بھی چھوڑ گئی ہے۔ یہ اولاد خواہ موجودہ خاوند سے ہو یا کسی دوسرے خاوند سے اسے وراثت میں حصہ ملے گا۔ لہٰذا "فلکم الربع مماترکن” تمہارا حصہ نصف کی بجائے چوتھا ہوگا ہر اس چیز سے جو انہوں نے چھوڑی اور یہ حصے کب تقسیم ہوں ؟ تو فرمایا :

” بعد وصیۃ یوصین بھا اودین” اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد جو میت نے کی یا اس قرضہ کی ادائیگی کے بعد جو مت کے ذمہ واجب الادا ہے کفن دفن کے اخراجات، قرضہ کی ادائیگی اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد جو کچھ بچے گا، اس میں سے تمہارے لیے نصف یا چوتھا حصہ ہے۔ باقی جائیداد دوسرے قریبی رشتہ داروں کو ملے گی۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اگر خاوند فوت ہوجائے :

” ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد”  اگر بوقت وفات پس ماندگان میں صرف تمہاری بیویاں ہیں ۔ اولاد نہیں ہے تو انہیں تمہاری جائیداد میں سے چوتھا حصہ ملے گا۔ اگر ایک بیوی ہے تو چوتھے حصے کی واحد مالکہ ہوگی اور اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہیں تو کل جائیداد کا چوتھا حصہ سب میں برابر برابر تقسیم ہوجائے گا۔ ہاں ! فان کان لکم ولد اگر تم اپنے پیچھے بیوی یا بیویوں کے علاوہ اولاد بھی چھوڑ گئے ہیں تو تمہاری جائیداد میں ان کا بھی حق ہے ایسی صورت میں "فلھن الثمن مما ترکتم "

بیویوں کا حصہ چوتھے سے کم ہو کر آٹھواں ہوجائے گا۔ اگر ایک ہی بیوی ہے تو آٹھویں حصے کی واحد مالکہ ہوگی اور زیادہ بیویاں ہونے کی صورت میں یہ آٹھواں حصہ سب میں برابر برابر تقسیم ہوجائے گا۔

” من بعد وصیۃ توصون بھا اودین” بنیادی اصول وہی رے گا کہ کل جائیداد میں سے پہلے قرض ادا کیا جائے اگر کوئی ہے اور وصیت پوری کی جائے گی اگر مرنے والے نے کی ہے اور اس کے بعد باقی مال حصہ رسدی تقسیم ہوگا ہر حصہ کے تقرر کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ باربار تاکید فرمائی ہے کہ میت کا قرضہ لازماً ادا کیا جائے اور اس کی وصیت بھی پوری کی جائے۔ ان دونوں چہروں کو تقسیم وراثت پر اولیت حاصل ہے۔ ( تفسیر معالم العرفان ملخصا )

لیکن نان نفقہ کی مد میں وہ کچھ نہیں لے سکتی۔اگر عورت غریب ہو۔ گزر بسر کا نظم نہ ہو تو اس کے رشتہ دار اس کی مدد کریں ۔ یہ بھی نہ ہوسکے تو دن ہی دن معاشی ضروریات اور کام وغیرہ کے لئے  باہر نکل سکتی ہے۔ پہر رات میں گھر واپس آنا ضروری ہے۔

شرعی عذر کے بغیر بیوہ کا گھر سے نکلنا شرعی قانون کی خلاف ورزی ہوگی اور وہ سخت گنہگار ہوگی۔ گزران کی صورت نہ ہونا بھی باہر  رات گزارنے کے جواز کو ثابت نہیں کرسکتا۔

ہدایہ میں ہے :

لا نفقۃ لمتوفی عنہا زوجہا لان احتبا سہا لیس لحق الزوج بل لحق الشرع ( الہدایۃ‘ کتاب الطلاق‘ باب النفقۃ ۲/۴۴۳ ط مکتبہ شرکہ علمیہ ملتان )

فی ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : إن کانت معتدۃ عن وفاۃ فلا سکنیٰ لہا ولا نفقۃ فی مال الزوج، سواء کانت حائلاً أو حاملاً، فإن النفقۃ فی باب النکاح لا تجب بعقد النکاح دفعۃ واحدۃ کالمہر، وإنما تجب شیئاً فشیئاً علی حسب مرور الزمان، فإذا مات الزوج انتقل ملک أموالہ إلی الورثۃ، فلا یجوز أن تجب النفقۃ والسکنیٰ فی مال ا لورثۃ۔ (۴/۴۷۹، کتاب الطلاق، فصل فی أحکام العدۃ)

وفی ’’ الہدایۃ ‘‘ : ولا نفقۃ للمتوفی عنہا زوجہا، لأن احتباسہا لیس لحق الزوج بل لحق الشرع فإن التربص عبارۃ منہا، ألا تری أن معنی عن براء ۃ الرحم لیس بمراعی فیہ حتی لا یشترط فیہ الحیض فلا تجب نفقتہا علیہ، ولأن النفقۃ تجب شیئاً فشیئاً ولا ملک لہ بعد الموت، فلا یمکن إیجابہا فی ملک الورثۃ۔ (۲/۴۴۳؍۴۴۴، کتاب الطلاق، باب النفقۃ)

درمختار میں ہے :

ومعتدۃ موت تخرج فی الجدیدین و تبیت أکثر اللیل فی منزلہا لأن نفقتہا علیہا فتحتاج للخروج۔ (شامی، کتاب الطلاق، باب العدۃ زکریا ۵/۲۲۴، کراچی ۳/۵۳۶)

والمتوفی عنہا زوجہا تخرج نہارا وبعض اللیل۔ (ہندیہ زکریا قدیم ۱/۵۳۴، جدید ۱/۵۸۶، ہدایہ اشرفی ۲/۴۲۸)

وأما المتوفی عنہا زوجہا فلانہ لا نفقۃ لہا فتحتاج إلی الخروج نہارا لطلب المعاش و قد یمتد إلی أن یہجم اللیل۔ (شامی، کتاب الطلاق، باب العدۃ زکریا دیوبند ۵/۲۲۴، کراچی ۳/۵۳۶)

ومعتدۃ الموت تخرج یوما و بعض اللیل لتکتسب لأجل قیام المعیشۃ۔ (البحر الرائق کوئٹہ ۴/۱۵۳، زکریا ۴/۲۵۸)فقط وﷲ اعلم بالصواب

مزید دکھائیں

مفتی شکیل منصور القاسمی

مضمون نگار کا تعلق سیدپور، بیگوسرائے، بہارسے ہے۔ جنوب امریکہ میں سات سالوں سے مقیم ہیں اور شیخ الحدیث اور صدر مفتی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close