مذہبی مضامین

تربیت اور مدارس (اول)

یہ سچ ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ نظام میں اصلاح کی بات کرنے والے دو گروہ ہیں  ایک تو بیرونی قوتیں  اور ان کے مقامی ایجنٹ ہیں  جو مدارس میں  تبدیلی چاہتے ہیں۔ اور دوسرے کچھ اندر کے لوگ بھی ہیں  جو اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے کچھ تغیرات کے خواہاں  ہیں۔ تو ان دونوں  کی نوعیت میں فرق کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے کہ باہر کی قوتیں  دینی مدارس کے نظام میں  تبدیلی دین دشمن مقاصد کے تحت چاہتی ہیں  جبکہ ثقدلح لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔  تعلیمی اداروں  میں  نظام تعلیم سے کوئی اختلاف کرتے ہتوں  تو اس سے مقصود ہر گز اس کی تنقص یا اسے نقصان پہنچانا نہیں  ہوتا بلکہ پیش نظر یہ ہوتا ہے کہ یہ کام پہلے سے بہتر اور عمدہ طریقے سے انجام پائے اور دینی مدارس میں  ایسے علماتیار ہوں  جو معاشرے میں  زیادہ موثر دینی کردار اداکرسکیں۔

 تربیت کی اہمیت و افادیت۔

 تربیت و اصلاح کے تعلق سے سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ تربیت کیا ہے اور اس سے مقصود کیا ہے؟ جس چیز کو ہم تعلیمی اصطلاح میں تربیت کہتے ہیں ، شرعی اصطلاح میں  اسے تزکیہ کہاجاتا ہے تزکیہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ زک و ہے اس کے دو معنی ہوتے ہیں  ایک کسی چیز کو پاک صاف کرنا اور دوسرے اس کو جلادینا اور پروان چڑھانا۔ گویا جب ہم تزکیہ نفس کی اصطلاح استعمال کریں  گے تو مطلب یہ ہوگا کہ نفس کو عقائد و اعمال اور اخلاق و کردار کی ساری کمزوریوں  سے پاک کرنا اور ان کی جگہ ان خوبیوں  کو لانا جو کہ شریعت کو مطلوب ہیں۔ اچھا کیا ہے، برا کیا ہے۔ کن اخلاق و اوصاف کو پروان چڑھانا ہے اور کن چیزوں  سے بچنا ہے؟ اس کا فیصلہ شریعت کرتی ہے۔

   اس کی اہمیت وافادیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں  فرمایاہے کہ جتنے پیغمبر بھی اس نے بھیجے وہ لوگوں  کے تزکیے کے لیے ہی بھیجے۔ سورہ اعلیٰ میں  ارشادہے کہ قدافلح من تزکیٰ فذکر اسم ربہ فصلی الخ یعنی صحف ابراہیم و موسیٰ میں  بھی یہی بات کہی تھی کہ لوگوں  کی فلاح کا انحصارتزکیہ پر ہے اسی طرح سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوحکم ہوا کہ ’’اذھب ال فرعون انہ طغی فقل ھل لک الیٰ ان تزکی‘‘ یعنی فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سر کش ہوگیا ہے اور اسے تزکیہ اختیار کرنے کی تلقین کرو۔ (النازعات۷۹:۱۷) نبی کریم ﷺ کی ڈیوٹی بھی اللہ تعالیٰ نے یہ لگائی کہ لوگوں  کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیں  اور ان کا تزکیہ کریں۔ قرآن حکیم میں  یہ بات چار مواقع پر بیان ہوئی ہے۔ سورہ جمعہ ، آل عمران اور دو دفعہ سورہ بقرہ میں۔ ایک جگہ پر آپ کی ذمہ داریاں  بیان کرتے ہوئے تزکیہ کا ذکر شروع میں  ہے ور دوسری جگہ آخر میں  جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جو چیز اول و آخر مطلوب ہے وہ تزکیہ ہی ہے۔ ویسے بھی تعلیم کا مطلب ہوتا ہے علم کا حصول اور کچھ چیزوں  کا جاننا۔ ظاہر ہے کہ کسی چیز کا علم یا کچھ معلومات کاجان لینا اصل مقصد نہیں  ہوتا بلکہ اصل مقصد تو اس علم پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ تعلیم سے مقصود بھی تزکیہ ہی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’قد افلح من زکاھا وقد خاب من دساھا‘‘یعنی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا وہ کامیاب ہے اور جس نے یہ نہ کیا وہ ناکام ہے) (سورہ الشمس)ماخذ کے عوام سے پتہ چلا کہ تزکیہ محض ہماری فلاح کا ضامن ہے۔ اس میں  دین اور دنیا دونوں  کی کامیابی شامل ہے۔ گویا تزکیہ یہ ہے کہ نفس انسانی کی ایسی تربیت ہو کہ اس کے لیے اللہ کے احکام کی اطاعت آسان ہوجائے اور شریعت کی پیروی اس کی طبیعت فطرت میں  داخل ہوجائے۔

 کیونکہ نوع انسانی اللہ نے خیر و شر دونوں  شامل کی ہیں  ’’ فالھمھا فجوررہا وتقواھا‘‘ (سورہ الشمس) یعنی انسان میں  اللہ تعالیٰ نے نیکی کے جراثیم بھی رکھے ہیں  اور برائی کے بھی۔ انسان جس پہلو کو ترقی دیتا ہے، وہی اس کی شخصیت پر غالب آجاتا ہے۔ اس بات کو نبی کریم ﷺ نے یوں  فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو فطرت پر پیدا کرتا ہے لیکن والدین اور ماحول کسی کو یہودی اور کسی کو عیسائی بنادیتا ہے۔ تو ماحول کے ان منفی اثرات کے ازالہ کے لیے انسانی عادتوں ، محرکات، عواطف اور مدرکات، ان سب کی صحیح تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔یعنی ان کی اس طریقہ سے نشو نما ہوکہ خیر کا پہلو بڑھتا جائے اور اس کی نمو ہوتی جائے۔ جبکہ انسانی شخصیت کاحیوانی پہلو جو فجور کا پہلو ہے، وہ دبتا چلا جائے۔ نفس انسانی کے سارے ذہنی فکری اور جسمانی قوی کی ایسی نشو نمابے حد اہم ہے کیونکہ جب تک آدمی کی صحیح تربیت نہ ہو اس وقت تک نہ صالح معاشرہ کا وجود ممکن ہے اور نہ وہ سماج  اسلامی تعلیمات کی امین و پاسبان ہوسکتا ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے اس تربیت کا وسیلہ بھی بتادیا ہے۔ یعنی تعلیم کتاب۔ اس کی بنیاد قرآن حکیم ہے۔ قرآن حکیم علم کا ذریعہ بھی ہے اور تزکیہ کا بھی جب علم اور تزکیہ دونون کی بنیاد قرآن پر ہو اور حکمت کے ساتھ ہوتو وہ سماج، معاشرہ اور صالح افکار سے مزین افراد وجود میں  آتے ہیں۔ جواسلامی تعلیمات کا مقصد ہے۔

دراصل تربیت کے دو پہلو ہیں ایک یہ ہے کہ نوع انسانیت تمام ظاہر اور آراستوں  سے پاک ہونااہم کی معصیت سے بچنا ، دوسرے درجہ ’احسان کا حصول۔ یعنی تربیت کا حاصل یہ دوچیزیں  ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اللہ کی اطاعت اور اس کے احکام کی پیروی خوشی بخوشی کرنے لگ جائے دوسرے یہ کہ آدمی احکام شریعت پر عمل کرتے ہوئے انہیں  بہترین طریقے سے انجام دے۔ جو کہ احسان کا مطلب ہے۔ حدیث جبریل میں  اس طرح بیان کیاگیا ہے کہ ’ان تعبداللہ کانک تراہ۔

 حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم کردارسازی پر توجہ نہیں  دیں  گے اس وقت تک صحیح معنوں  میں  اصلاح و تربیت کا مفہوم منتظیق نہیں  ہوسکتا ہے آج تربیت کا فقدن معاشرہ سے لیکر تعلیمی اداروں  میں  بھی ہے جوقوموں  کی زوال کا بنیادی سبب ہے ہمیں  ان کی اہمیت و افادیت کو واضح کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میں  سنت اور حکم کی بھی قدرو ضرورت ہے۔

تربیت سے تغافل کے اسباب

   جب تربیت اتنی اہم ہے اوراس کو تعلیم کی اصل غایت کی حیثیت حاصل ہے تو پھر ہمارے تعلیمی نظام میں  اس سے صرف نظر کیوں  کرلیا گیا ہے اور اس کو عملاً اہمیت کیوں  نہیں  دی جاتی؟ اس سے تغافل کی بہت سی خصوصیات ہیں۔

1- والدین کو بچوں  کی تربیت کی اہمیت کا احساس ہی نہیں۔ ہمارے معاشرہ میں  بچوں  کو اسکول کالج یامدرسے میں  پڑھنے کے لیے بھیج دیا جائے اس سے زیادہ ان کو ان کی تعمیر سیرت و کردار کی کوئی فکر نہیں۔ حالانکہ جو چیز بچوں  کی ضروریات کے حوالے سے سب سے زیادہ اہم ہے، وہ یہ ہے کہ وہ ان کی تعمیر سیرت و کردار کی خبر رکھتے اس کے لیے پریشان ہوتے، کوشش اور جدو جہد کرتے اور خود اس کے لیے وقت نکالتے اور ان کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت کرنا والدین کا فرض ہے جیسا کہ حدیث میں  مذکور ہے فاحسن ادبھا۔

2-  یہ کہ ہمارے تعلیمی اداروں مدارس و جامعات میں  اساتذہ بھی طلبہ کی تربیت کی ذمہ داری سے غافل ہوگئے ہیں ، حالانکہ ان کا اصل کام پڑھا دینا نہیں ، بلکہ تربیت کرنا ہے۔ خاص طور پرآج کے پرفتن دور میں  اساتذہ کی یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

3-   یہ کہ بری صحبت، غربت بھی ایک مسئلہ ہے۔ والدین دو اور دو چار کے چکر میں  رہتے ہیں ، دال روٹی کی فکر کرتے ہیں ، صبح سے شام تک ان کو سر کھجانے کی فرصت نہیں  ملتی کہ وہ یہ دیکھیں  کہ بچے کس حال میں ہیں۔ بعض اوقات والدین کی ناچاقی بھی بچوں  کے بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے۔ تو تعلیمی اداروں ، خاص طور سے دینی تعلیمی اداروں  میں  طلبہ کی تربیت پر توجہ دینے کی بے حد ضرورت ہے۔ جب کہ ایک زمانہ تھاعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں  ہر روز فجر کی نماز کے بعدحاضری ہوا کرتی تھی۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ آج مسلم یونیورسٹی میں  طلبہ کی  تعمیر و تربیت اور کردار سازی پرقطعی توجہ یہیں دی جاتی ہے ہمارے لیے ایک اہم و کردار سازی کا اہتمام کرائیں  اگریہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگا اس میں  کچھ نہ کچھ ہمارے اساتذہ کی غفلت و عدم توجہ ہے۔ مدارس و جامعات کے سربراہان کو چاہیے کہ وہ تربیت کو مختلف اقسام میں  بانٹاجاسکتا ہے۔ اس تکثیری سماج میں  ہم رہ رہے ہیں  اس لیے ہمارے برادران وطن سے کس طرح کے معاملات ہونا چاہیے، اس لیے ہمارے دینی تعلیمی اداروں  کے لیے چاہیے کہ وہ تربیت میں  توازن و اعتدال پیدا کریں۔

تربیت دین

اسلامی تعلیمات کو ہم پانچ بڑے شعبوں  میں  تقسیم کرسکتے ہیں  ایک عقائد دوسرے عبادات تیسرے اخلاقیات و آداب اور چوتھے معاشرت اور پانچویں  معاملات۔ عائد ظاہر ہے کہ ہر چیز کی بنیاد ہیں۔ عبادات کا تعلق بندے اور رب کے درمیان ہے، جبکہ اخلاق و آداب اور معاملات کا تعلق انسانوں  کے مابین مسائل سے ہے۔ ان مسائل سے ہمارے دین کا ایک بڑا حصہ متعلق ہے، آپ دیکھتے ہیں  کہ مدارس میں  پڑھائے جانے والے مواد کا غالب حصہ فقہ سے متعلق ہوتا ہے۔ اس لیے کہ فقہ میں  زندگی کے روز مرہ کے مسائل سے بحث ہوتی ہے اور انسانوں  کو جن معاملات سے سابقہ پیش آتا ہے وہ فقہ میں  زیر بحث آتے ہیں۔

 دینی تربیت کے بارے میں  ہمارے ہان تعلیمی اور تربیتی حلقوں  میں کئی غلط فہمیاں  پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ہمارے ہاں  تصوف کے نام سے جو ادارہ تربیت اور تزکیہ کے لیے وجود میں آیا، اس میں  اس وقت ہمارے ہاں  زیادہ زور ذکر اور عبادات پر دیا جاتا ہے۔ تھوڑی سی توجہ اخلاق پر دے دی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ میں  ان چیزوں  کی اہمیت کم نہیں  کر رہا لیکن ایک متوازن تربیت کی ضرورت ہے عبادات یقینا اہم ہیں  لیکن کیا معاملات غیر اہم ہیں۔

 اسی طرح عصری تعلیمی اداروں  میں  عبادات کے حوالے سے دینی تربیت کی زیادہ ضرورت محسوس کی جاتی ہے کیونکہ وہاں  اسلامی تعلیمات کا کوئی چیپٹرنہیں  پڑھایا جاتا۔ یہ عرض کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دینی اداروں  میں  تعمیر و تربیت اور کردار سازی پو توجہ نہیں  دی جاتی جو ہمارے اداروں  کی اصلاح روح ہے اور اسلامی شریعت کا مزاج بھی۔ جب تک ہمارے طلباء کی ہر میدان میں  تربیت نہیں  کی جائیگی اور انہیں تیار نہیں کیا جائیگا اس وقت ہمارا مقصد پورا نہیں ہوگا۔

فکری تربیت

 فکری و علمی تربیت میں  حریت فکر، تحقیق، تقریر و تحریر کی مشق، لائبریری کا استعمال، مطالعاتی و تفریحی سفر وغیرہ شامل ہیں۔ سب سے پہلے حریت فکر کو لیجیے۔ ممکن ہے میری یہ بات آپ کو ناقابل ہضم لگے، لیکن میں  عرض کرتا ہوں  کہ حریت فکر کی تربیت بھی بالکل اساس رکھتی ہے۔ نبی کریمﷺ کی زندگی سے جن کی ایک ایک بات ہمارے لیے حجت ہے، ہمیں  اس کا اندازہ ہوتا ہے۔خواہ آپ نے اپنے صحابہ میں  اس چیز کی حوصلہ افزائی کی ، بدر کے موقع پر دیکھ لیجیے۔ جب حضرت حباب بن منذرؓ نے کہا کہ یارسول اللہ! جس جگہ آپ نے فوج کو اترنے کا حکم دیا ہے کیا وہ وحی پر مبنی ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ تو کہا کہ یہ جگہ تو مناسب نہیں۔ غزوہ احزاب میں  بھی ایسے ہی ہوا نبی کریم ﷺ نے سوچا کہ کچھ دے دلاکر یہودیوں  سے معاملہ طے کرلیا جائے کیونکہ باہر دشمن ہے، یہ کہیں  اندر سے وار نہ کردیں۔ انصار کے سرداروں  کو پتہ چلا تو انہوں  نے کہا کہ اگر وحی کی بنیاد پر حکم ہے تو سر تسلیم خم ہے لیکن اگر محض تجویز ہے تو ہم اتفاق نہیں  کرتے۔ آپ نے ان کی بات مان لی۔ یہ تو خیر بڑے معاملات ہیں  گھر کی خادمہ حضرت بریرؓ ہ کا واقعہ تو آپ کے علم میں  ہوگا اس کا خاوند پاگل ہوا پھرتا تھا۔ روتا ہواا س کے پیچھے گلیوں  میں  بھاگتا تھا۔ چاہتا تھا کہ اس کے نکاح میں  رہے کیونکہ بریرہؓ کے آزاد ہونے کی وجہ سے نکاح ختم ہوگیا تھا۔ صحابہ نے رسول ﷺ سے اس کی سفارش کی تو آپ نے بریرؓ کو بلایا اور کہا کہ مغیث کے ساتھ نکاح برقرار رکھو۔ اس نے کہا کیا یہ آپ کا حکم ہے؟ فرمایا نہیں  محض سفارش ہے تو کہنے لگی معاف کیجیے میں  اس کے نکاح میں  نہیں  رہنا چاہتی۔

 علاوہ ازیں  کمال درجے کی اطاعت کا تصور بھی شریعت میں موجود ہے وہ اپنی جگہ، لیکن یہ چیز اس کی نقیض نہیں۔ اور رسول اللہﷺ صحابہ کو اس کا فرق وقتاً فوقتاً سمجھاتے رہتے تھے۔ کیونکہ اسلام میں  غیر مشروط اطاعت مطلوب ہے اور صحابہ کرام نے ہمارے لیے اس کے بہترین نمونے چھوڑے ہیں  لیکن اس کے ساتھ ہمارا دین فکری حریت کا بھی علمبردر ہے۔ یہ چیز اللہ و رسول کی غیر مشروط اطاعت کی نقیض نہیں۔ اطاعت غیر مشروط اور شدت کے ساتھ کرنی چاہیے لیکن دین ہمیں  یہ نہیں  سکھاتا کہ ہم اپنے دل و دماغ کے دروازے بند کرلیں  اور سوچنا چھوڑدیں۔ مگر ہمارے طلباء کی اکثریت لکیر کی فقیر ہوتی ہے اپنی برائے یافکری حریت اساتذہ کے سامنے پیش کرنا استاد کی توہین کے مترادف سمجھا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں  طلبا کے فکر وتدبر متفکر کی آزادی پر پردہ پڑا رہتا ہے۔

مقاصد تعلیم

  تعلیمی نظام کے مقاصد کیا ہیں  ؟ یہ ایک اہم سوال ہے عموماً ہمارے سماج میں  یہ بات رائج ہے کہ حصول تعلیم صرف ذریعہ معاشد بنے اور مذہبی گروہ میں  یہ بات رائج ہے کہ علماء مولوی صرف اس لیے پیدا کیے جائیں جو مسجدیں  سنبھالیں  اور مدرسے چلائیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے مگر صرف علماء کی یہی ذمہ داری ہے تو میں  سمجھتا ہوں  کہ یہ ایک ناقص اور کمزور بات ہے۔ مسلمانوں کے نظام تعلیم میں  کبھی ثنویت نہیں  رہی اس میں  ہمیشہ وحدت رہی ہے۔ دینی نظام تعلیم کا یہ محدود ہدف دراصل گذشتہ صدی میں اس وقت کے حالات کے تناظر میں  طے کیا گیا تھا۔درس نظامی جب ہندوستان میں  رائج تھاجب کہ ۱۸۵۷ء سے پہلے انہی مدارس سے فارغ ہونے والے لوگ تحصیل دار اور کلکٹر ہوتے تھے جج اور قاضی بھی وہی بنتے تھے ڈاکٹر اور طبیب بھی وہی ہوتے تھے ملک کا نظام چلانے کے لیے ساری بیورو کریسی انہیں  مدارس سے آتی تھی۔ انگریزوں  کے تسلط کے اور قبضے کے نتیجے میں  برصغیر میں  مسلمانوں  کی حکومت ختم ہوئی تو اس کے ساتھ ہی اس تعلیمی نظام کی بساط بھی لپیٹ دی گئی۔اور یہ تعلیمی نظام ختم ہوگیا ہے اور انگریزنے سارا نظام بدل دیا ہے تو اب امت کا مستقبل کیا ہوگا؟ چنانچہ اس فکر و سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے اور ہندوستانی مسلمانوں  کو تعلیم دین اور احیاء دین کی خاطر اس وقت مخلصین اور فقہ علماء نے دارلعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی۔

 لہٰذا اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں ہمیں  صرف ایسے عالم دین ہی پیدا نہیں کرنے ہیں  جو مدرسے اور مسجدیں  سنبھالیں۔ یقینا یہ بھی سنبھالنے چاہییں  لیکن سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اس معاشرے کا کیا قصور ہے کہ اس کو ایسا جج نہ ملے جو دین جانتا ہو؟ مسلمانوں  کی ریاست ہے تو جج آخر ایسا کیوں  ہو جس کو انگریزوں  کا قانون تو یاد ہو لیکن وہ شرعی قانون سے واقف نہ ہو؟ ہمارے ہاں  وکیل ہیں  جو قانون کی تشریح کرتے ہیں۔ ان سے پہلے مفتی ہوتے تھے اب وکیل آگئے ہیں  تو ان وکیلوں  کو اسلامی قانون کی تعلیم دینا کس کا کام ہے؟ کیا وہ دینی کام نہیں ؟ کیا یہ سارا ایسے ہی چلتا رہے؟ ہم اس میں  کوئی حصہ نہیں  لیں  گے۔ اس وقت دینی مدارس میں  ایک اندازہ کے مطابق چارفیصد طلباء تعلیم حاصل کررہے جبکہ عصری اداروں  میں  %۹۶ فیصد میں  آخر … مسلم بچوں  کی اتنی کثیر تعداد کو دین کون سکھائے گا؟ کیا وہ مسلمانوں  کے بچے نہیں ؟ بات اس وقت حکومت یاغیر حکومت کی نہیں  ہورہی۔ سوال یہ ہے کہ اہل دین جو لوگوں  کو دین سکھانا چاہتے ہیں  ان کی ان تک اپروچ ہی نہیں۔ ان بچوں  کو پڑھانے والے اساتذہ میں  آپ کے استاد کتنے ہیں ؟  ان استادوں  کی تربیت میں  آپ کا کتنا ہاتھ ہے؟ آپ کے پیش نظر تو دین کی خدمت ہے آپ تو دین کو غالب کرنا چاہتے ہی، معاشرے میں  دین چاہتے ہیں  تو آپ کا مقصد تعلیم یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ صرف مدرسے کے مولوی پیدا کریں ؟ اس دنیاکو چلانے والے لوگ جو مسلمان ہیں  اور آپ کے بھائی ہیں ، ان کو دین سکھانا کیا آپ کی ذمہ داری نہیں ؟ آپ اس نکتے پر غور فرمائیں  کہ اہل دین کو صرف مدرسے اور مسجد تک محدود نہیں  رہنا ہے۔ اگر آپ اس معاشرے میں  اسلام چاہتے ہیں  اور دین ہی کی خدمت کے لیے آپ نے ادارے بنائے ہیں  تو آپ کا دائرہ کار محدود نہیں  ہونا چاہیے۔حالات کے بدلنے کی وجہ سے جو بنیادی تبدیلی آئی ہے اس کے لحاظ سے آپ کو مقاصد تعلیم میں  وسعت پیدا کرنی چاہیے۔

نصاب تعلیم

  اگر ہم غور کریں  کہ حضورﷺکے زمانہ میں  نصاب تعلیم کیا تو برجستہ کہاجائیگا کہ نبی کریمﷺ کے زمانہ میں  نصاب قرآن و حدیث تھا جو اہل صفحہ ان کی تحصیل کے لیے ہمہ وقت کوشاں  رہتے تھے۔ اگلی صدی میں  فقہ بھی شامل ہوگئی۔ اس وقت اصول فقہ نہیں  تھے۔ اس سے اگلی صدی میں  اصول کی تعلیم بھی شروع ہوگئی۔ جب یونانی علوم کا ریلا آیاتو منطق بھی شامل ہوگئی۔ تو نصاب کوئی مقدس گائے نہیں  ہوتی۔ یہ ہمیشہ زمانے اور معاشرے کی ضروریات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ نصاب کے کچھ اجزاء مثلا قرآن و سنت یقینا کبھی تبدیل نہیں ہوں  گے۔ اسی طرح چونکہ ہمارے دینی مآخذ عربی میں  ہیں ، تو عربی زبان بھی نہیں  بدلے گی۔ نصاب سے مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ ایسے موثر اور متبحر علماء تیار کیے جائیں  جو معاشرے تک بہترین طریقے سے دین پہنچاسکیں۔ دین کی خدمت کرسکیں ، لوگوں  کے قول و عمل کو شریعت کے مطابق ڈھال سکیں۔

مزید دکھائیں

ظفر دارک قاسمی

جنرل سکریٹری اقراء ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی(رجسٹرڈ ) بدایوں، یو۔پی۔انڈیا شعبۂ دینیات،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

متعلقہ

Back to top button
Close