مذہبی مضامین

تکفیربازی۔۔۔۔۔۔ تقسیم ملت کی گہری سازش!

ایس احمد پیرزادہ
عالمی سطح پر اُمت مسلمہ جن مصائب، مشکلات اور مسائل سے دوچار ہے اُن میں بیرونی جارحیت اور سازشوں سے زیادہ اپنوں کی فریب کاریایوں کا عمل دخل ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا نے دیکھ لیا کہ کمزوری کی حالت میں بھی جہاں جہاں طاقتور غیر مسلم اقوام نے مسلمان مملکتوں پر حملہ آور ہوکر اُنہیں زیر کرنا چاہا وہاں وہاں اُمت مسلمہ نے مردانہ وار مقابلہ کرکے کم جنگی وسائل کے باوجود اِن طاقتوں کے مکروہ عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ مسلم سلطنتوں کی شکست اور غلامی کی داستان رقم کرنے میں اغیار اگر کامیاب ہوا بھی تو وہ ہمارے ہی صفوں میں بیٹھے آستین کے سانپوں کی اُن کے تئیں وفاداریوں کا نتیجہ ہے۔ ملت اسلامیہ میں تقسیم در تقسیم کا فارمولہ آزما کر اس کی مجموعی قوت کو توڑ دیا گیا ۔ اسلام اور زندگی کو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بنانے کی جدوجہد کرنے والی مخلص جماعتوں اور لوگوں کو اولین خطرہ قرار د ے کراُن کے خلاف اسلام کے نام پر ہی دوسرے گروہوں اور دھڑوں کو کھڑا کرکے اُنہیں آپس میں دست و گریباں کرادیا گیا۔ فتویٰ بازوں کے لیے بازار سجائے گئے ،ایک دوسرے کی تکفیر کرنے والے ملّت فروشوں کی حوصلہ افزائی اسلام دشمن طاقتیں کررہی ہیں۔مسلمانوں کو درپیش اصل خطرات سے غافل کرنے کے لیے اُنہیں فروعی اور مسلکی جھگڑوں میں اس قدر الجھا دیا گیا کہ اب ہر جگہ ’’مسلمانیت‘‘ کو ناپنے کے لیے عالم کفر کے جانب سے تیار کردہ پیمانے ہاتھوں میں لیے لوگ بیٹھے ہیں۔جنت کی سند مخصوص مسلکوں اور گروہوں سے جڑنے کے ساتھ ہی موقوف کردی گئی ہے۔المیہ تو یہ ہے کہ عراق سے لے کر شام تک، یمن سے لے کر افغانستان تک، پاکستان سے لے کر بنگلہ دیش او رمصر تک مرنے والے کا بھی دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ اسلام کے لیے مررہا ہے اور مارنے والے کا بھی دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ اسلام کے لیے مار رہا ہے۔ مسجد میں خود کش حملہ کرنے والا اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے والوں کے پرخچے اُڑا کر حوروں اور جنت میں اعلیٰ درجے کی سند کسی نام نہاد’’مولوی ‘‘ صاحب سے ہی پاتا ہے اور عام بستیوں پر بمباری کرنے والی ریاستیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہی ایسا کرتی ہیں ۔ پھر بھلے ہی وہ اسلام کے نام لیواؤں کو ہی کیوں نہ موت کی گھاٹ اُتار دیتے ہوں۔ اُمت مسلمہ میں برسر اقتدار طبقے کو استعمال کیا جارہا ہے اور مسلمان معاشرے میں مختلف گروہوں کو آپس میں لڑا کر دراصل اسلام دشمن قوتیں ہمارے ساتھ اپنی جنگ ہمارے ہی ہاتھوں لڑوا رہی ہیں۔دنیائے مغربیت سمجھ چکی ہے کہ بھلے ہی مسلم قوم کم ترقی یافتہ ہو، حرب و ضرب کے سامان بھی اُن کے پاس نہ ہوں، راست جنت میں اُن کے مقابلے کھڑا ہونا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ دوبدو لڑائی کا حشر مغرب اور اسلام دشمنوں نے عراق میں بھی دیکھ لیا ہے، چیچنیا اور افغانستان میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے نئی حکمت عملی کے تحت مسلم سماج میں ہی بالواسطہ یا بلاواسطہ ایسے گروہ تشکیل دے کر اُن کی ہر سطح پر پشت پناہی کی جارہی ہے جو مغرب اور اسلام دشمن طاقتوں کی جنگ مسلم سرزمین پر لڑ رہے ہیں۔اسلام دشمن طاقتیں یہ جنگ ہر محاذ پر لڑ رہی ہیں ۔ میڈیا، تہذیب، ثقافت اور فکری محاذ پر بھی وہ اُتنے ہی سرگرم ہیں جتنی سرگرمی وہ جنگی محاذ پر دکھا رہے ہیں۔مسلم سماج کو تقسیم کرنا مغرب کی نئی حکمت عملی ہے اور یہ تقسیم در تقسیم کا فارمولہ اپناتے ہوئے ابلیسی طاقتیں اُمت مسلمہ کو آپسی سر پھٹول میں سرگرم رکھ رہی ہیں۔ المیہ تو یہ ہے مسلمانوں کو تقسیم کرکے گروہوں اور طبقوں میں تقسیم کرنے کے لیے مغرب دو طریقوں کا سہارا لے رہا ہے ایک مسلم حکمرانوں کو کٹھ پتلی بناکر اُن سے ہر کام کروایا جارہا ہے ، یہ طریقہ بہت پرانا بھی ہے اور اُتنا خطرناک نہیں ہے جتنا مسلم سماج کو بانٹنے کے لیے’’اسلام‘‘کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں ضمیر فروش نام نہاد علماء کا ایک طبقہ اسلام دشمن طاقتوں کی جنگ کے لیے خام مواد فراہم کررہا ہے۔ مسلم دنیا کی موجودہ صورتحال میں یہ چیز دیکھنے کو مل رہی ہے کہ مسلمان اسلام کے نام پر ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں۔ دوسروں کو کافر قرار دینے اور اپنے آپ کو ہی مسلمان گرداننے کا جو سلسلہ پوری اسلامی دنیا میں شروع ہوچکا ہے ، اگر حالت یہی رہی تو ہماری داستان ختم ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
مسلمانوں کے مختلف الخیال طبقات،گروہوں او رمسلکوں کے درمیان فروعی مسائل میں اختلاف ملّت کی فکری حس کو بیدار رکھ کر علماء اور دانشوروں کو ’’اجتہاد‘‘ کی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ اُن میں غور و فکر اور تدبر و فہم کا سلیقہ پیدا کرتا ہے۔ فروعی مسائل کے یہ اختلافات شروع سے رہے ہیں اور اس کے ذریعے سے ہی تحقیقی و تخلیقی ذہنیت پیدا ہوتی رہی ہے۔ تاریخ میں بے شمار واقعات درج ہیں کہ کسی معاملے میں دو متضاد رائے رکھنے والے علماء کا اختلاف چاہے کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو، آپس کے تعلقات برادرانہ اور دوستانہ ہی ہوا کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کے حوالے سے مہذب اور شائستہ زبان میں بات کرتے تھے، ایک دوسری کی عزت و احترام کرنا اُن کا شیواہ تھا۔ آج کی حالت یہ ہے کہ فروعی معاملات کے اس اختلاف نے مسلمانوں کے درمیان اتنی خلیج پیدا کردی ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو چھوٹے چھوٹے دائروں میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔ جب دلائل سے اختلاف کرنے والے کو قائل نہ کیا جاسکے تو اوچھے ہتھکنڈے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ یہ مسلکی لڑائی اب علماء کی سطح سے نیچے آکر عوامی اور حکومتی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ مصر میں اخوان کی حکومت کو اِس لیے گرانے اور وہاں ہزاروں اخوانیوں کو خون میں نہلانے کا کارِ بد انجام دینے میں چندمسلمان ممالک نے بھرپور انداز میں مالی و سفارتی سپورٹ کیا کیونکہ اخوانی حکومت اُن ممالک کی فکری اور مسلکی سوچ کے حامل نہیں تھی۔ اسرائیل کو حماس کا قلع قمع کرنے کے لیے بعض عرب ممالک کی خفیہ امداد بھی اِسی لیے فراہم کی گئی کہ اگر حماس کے اسلام پسند لوگ اسرائیل کو زیر کرنے میں کامیاب ہوگئے تو خطہ کے آس پاس کے ممالک میں بھی اسلام پسندوں کے پر پھیل سکتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں سعودی عرب اور ایرانی کی سرد جنگ اور اس جنگ کے نتیجے میں ۳۴؍مسلم ممالک کا فوجی اتحاد بننا اوردوسری جانب شیعہ بلاک کی تشکیل بھی اِسی مسلکی و فکری خلیج کا شاخسانہ ہے۔۳۴؍ممالک کا اتحاد اگر مسلم سرزمین کی حفاظت کے نام پر بنتا تو بات کچھ اور تھی ، یہ اتحاد مغربی ایجاد کردہ نام نہاد اصطلاح’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف لڑنے کے لیے وجود میں لایا گیا۔
ریاست جموں وکشمیر دنیا ئے اسلام کا ایک چھوٹا خطہ ہے، یہاں مسلمان اکثریت میں رہتے ہیں۔ دنیا جانتی ہے یہ خطہ متنازعہ ہے اور اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے یہاں کے لوگ گزشتہ سات دہائیوں سے قربانیاں دیتے آئے ہیں۔ جس طاقت کے ساتھ یہ قوم برسرپیکار ہے اُس نے کشمیری لوگوں کا زور توڑنے کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال میں لایا ہے۔ طاقت اور خون خرابہ بھی اس قوم کے عزائم کو نہیں توڑ سکا، مالی مراعات کی لالچ بھی کشمیریوں کی مجموعی آبادی پر اثر انداز نہیں ہوسکا، دنیا کی سب سے بڑی جیل بنائے جانے سے بھی مخالف طاقت کے سیاسی اہداف پورے نہیں ہوپائے ہیں۔ چونکہ اسرائیل سے فوجی گھٹ جوڑ اور دفاعی تعلقات ہونے کے نتیجے میں مغرب الخصوص اسرائیلی فوجی و دفاعی ماہرین وہ تمام طریقے اور کارستانیاں اس ملک کو سکھا رہے ہیں جن کے عملا کر وہ عالمی سطح پر مسلمانوں کو آپسی تفرقہ میں مشغول کرچکے ہیں۔ یہاں بھی وہی طریقہ اپنایا جارہا ہے۔بی جے پی لیڈرسبھرامنیم سوامی نے ایک انٹرویو میں سرعام کہہ دیا ہے کہ ہم کشمیر میں بعض مذہبی گروپوں کی سرپرستی کررہے ہیں۔ حال ہی میں کانگریس کے سیف الدین سوز نے بھی محکمہ دفاع سے سپانسر ایک گروپ کی سرگرمیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے اُسے کشمیری مسلم سماج کو توڑنے کے لیے استعمال میں لانے کی بات کہی ہے۔ اِسی طرح بے شمار لوگ ہوں گے جو اسلامی لبادے میں ہوکر اہلیان کشمیر کا شیرازہ بکھیرنے کے لیے رات دن اپنی سرگرمیوں میں مشغول ہوں گے۔ سوشل میڈیا کے اس زمانے میں یہاں ایک ٹرینڈ چلی ہے کہ مختلف جماعتوں سے وابستہ ہر ایرا غیرہ نتھو خیرہ دوسروں کی تکفیر کرنے لگ جاتا ہے۔علماء کی سطح تک محدود رہنے والے اختلاف بدقسمتی سے اب عام سطح پر پھیلائے جارہے ہیں۔ جان بوجھ کر کچھ لوگ فتویٰ بازی کررہے ہیں۔ دوسروں پر کفر کے فتوے صادر کررہے ہیں ۔ ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ’’ اگر ایک شخص مجھ پر حملہ کرکے میرا ہاتھ کاٹ ڈالے اور جب میں اس پر حملہ کروں تو وہ کلمہ پڑھ لے، کیا ایسی حالت میں میں اس کو قتل کر سکتا ہوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے تو میرا ہاتھ کاٹ دیا۔ آپ ؐ نے فرمایا باوجود اس کے تم اس کو نہیں مار سکتے۔ اگر تم نے اس کو مارا تو وہ اس مرتبے میں ہوگا جس میں تم اس کے قتل سے پہلے تھے اور تم اس مرتبے ر ہوجاؤ گے جس میں وہ لا الٰہ الا اللہ کہنے سے پہلے تھا۔‘‘ ایک اور حدیت ہے کہ’’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی کافر پر نیزہ تانے اور جب سنان اس کے حلق تک پہنچ جائے اس وقت وہ لا الٰہ الا اللہ کہہ دے تو مسلمان کو لازم ہے کہ وہ فوراً اپنے نیزے کو واپس کھینچ لے۔‘‘ یہاں تو ہر کوئی لاالٰہ الا اللہ پڑھنے والا ہے۔ پھر بھی کفر کے فتوے صادر کیوں کیے جاتے ہیں؟ یہی کفر کے فتوے بعد میں مسجدوں میں بم پھوڑنے کے لیے ، مسلمانوں کا قتل عام کرنے کے لیے ماحول ساز گار بنارہے ہیں۔مسلمانوں کی قوت اُن کے اجتماعیت میں ہے اُن کی جمعیت میں ہے،اور ان کی اجتماعیت دین سے قائم ہوجاتی ہے۔ اگر ہم اس دینی رابطے کا احترام نہ کریں اور بات بات پر ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے صادر کرنے لگیں گے تو اُمت کا سارا شیرازہ بکھر کررہ جائے اور اس قوم کی کوئی اجتماعی طاقت و قوت باقی نہیں رہے گی۔ہم باطل کے مقابلے میں کمزور ہوجائیں گے، نہ ہی ہم کلمہ حق کا جھنڈا گاڑ سکیں گے اور نہ ہی اپنے قوم کے سلب شدہ سیاسی حقوق باز یاب کرسکتے ہیں۔
ہمیں اغیار کی سازشوں کو سمجھ لینا چاہیے۔ یہاں مختلف الخیال مسلک کے لوگ رہتے ہیں۔ مختلف مسائل میں اُن کے درمیان اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن ان اختلافات کی ہر مسلک اور مکتبہ فکر سے وابستہ علمائے کرام عوامی سطح پرموضوع بحث بننے کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔ دانستہ نادانستہ سازشوں کا شکار نہ ہوجائیں۔ اس وقت اُمت مسلمہ کو اتحاد اور اجتماعیت کی ضرورت ہے۔ جن مسائل سے یہ ملت گزر رہی ہے، جو مصائب اور مشکلات اس سے درپیش ہے، عالم اسلام کے ساتھ ساتھ اسلامیان کشمیر جن سازشوں کے نرغے میں ہے اُن میں لازمی بات ہے کہ اتحاد اور اجتماعیت کو قائم رکھا جائے اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح حالات کا مقابلہ کرکے اسلام او رمسلمانوں کے خلاف چلنے والی ہواؤں کا رُخ موڑ دینے کے لیے کمر بستہ ہوجائیں۔ ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرنا چاہیے کہ فتویٰ بازی سے نہ ہی اسلام کا کوئی بھلا ہوگا اور نہ ہی اُمت مسلمہ کا بلکہ اس کے ذریعے سے باطل طاقتیں اپنے مکروہ عزائم کو عملانے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ ہم کفر کے فتوے صادر کرنے میں الجھ کر رہ جائیں گے اور اغیار ہماری ریاستوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتا رہے گا، ہم وضو اور غسل کے مسائل میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے رہ جائیں گے اور دشمن ہماری اجتماعیت کو توڑنے کی منصوبہ بندی میں لگا رہے گا۔ ہم اپنے اپنے خول میں بندرہ کر ایک دوسرے سے لاتعلق رہیں گے ، ہمارا حریف ہمیں ایک کے بعد ایک کو نشانہ بناکر ہماری داستان ہی داستانوں سے مٹانے کی کارروائیاں کرتا رہے گا۔ اللہ واسطے ہمیں سوچ لینا چاہیے، سمجھ لینا چاہیے اور خود احتسابی کے ذریعے سے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ایک دوسرے کو نیچا دیکھا کر بھلا ہم دین کی کیا خدمت کررہے ہیں،؟ ہمیں کیا حاصل ہوجاتا ہے جب ہم دوسروں کی تکفیر کرتے ہیں؟ کیادنیا میں اللہ کی رضا پانے کے لیے فتویٰ بازی کا ہی واحد راستہ بچا ہوا ہے؟ کیا اندھی تقلید اور دوسروں کی تکفیر ہمیں جنت کا راستہ دکھا سکتی ہے؟ یہ سوچنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

مزید دکھائیں

ایس احمد پیرزادہ

ٔایس احمد پیرزادہ جموں وکشمیر کے معروف اخباروں میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ ایک کتاب 'وادی خونناب' کے منصف بھی ہیں۔

متعلقہ

Close