تین بھلائیاں اور تین برائیاں

152

محمد قمر الزماں ندوی        

        ’’اکثم بن صیفی‘‘ اپنی قوم بنوتمیم کے سردار اور میرکارواں تھے، بڑے تجربہ کار، اور صاحب فہم وفراست شخص تھے، ان کو جب پتہ چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کااعلان فرمایا ہے، تو انھوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کاارادہ کیا، یہ سن کر ان کی قوم کے لوگوں نے رائے دی کہ آپ قوم کے بڑے آدمی ہیں، ابھی آپ کاخود جانامناسب نہیں ہے، بالآخر مشورہ سے رائے بنی کہ کچھ لوگ ان کے نمائندہ بن کر صورت حال کا جائزہ لینے کے لیئے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں چنانچہ اس مشن کے لیے دو آدمی تیار ہوئے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر سوال کیا کہ ’’من انت؟ وماانت ‘‘یعنی آپ کون ہیں ؟ اور آپ کی حیثیت کیاہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’پہلے سوال کاجواب یہ ہے کہ میں محمد بن عبد اللہ ہوں ‘‘اور دوسرے سوال کاجواب یہ ہے کہ ’’میں اللہ کابندہ اور اس کا رسول ہوں ‘‘ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت انہیں پڑھ کرسنادی :’’ان اللہ یأ مر بالعدل و الاحسان و ایتاء ذی القربی ٰ وینھیٰ عن الفحشاء و المنکر و البغی، یعظکم لعکم تذکرون ‘‘(النحل : 90)(ترجمہ)بیشک اللہ تعالیٰ عدل و انصاف، بھلائی اور رشتہ داروں کودینے دلانے کاحکم کرتاہے اور بے حیائی نامعقول کام اور ظلم و سرکشی سے منع کرتا ہے اور تم کو سمجھاتا ہے اور تم تاکہ تم یاد رکھو۔

        یہ آیت سن کر وہ نمائندے بہت متأثر ہوئے اور انھوں نے اسے دہرانے کی درخواست کی، آپ ﷺ نے آیت مبارکہ دہرایا تاآں کہ انہیں وہ یاد ہوگئی، پھران دونوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب اور خاندان کی تحقیق کی تو آپ کوپاکیزہ نسب پایا اور آپ نے اپنی تعلیمات کے بارے میں درج بالا آیت پیش کی، اس آیت کوسن کر ’’اکثم بن صیفی‘‘ نے اپنی قوم کے سامنے یہ تبصرہ کیا کہ :’’میں سمجھتاہوں کہ یہ پیغمبر اچھے اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں، اس لئے تم لوگ (ایمان لاکر اس معاملہ میں قائد بن جاؤ اور پچھ لگومت رہو)(تفسیر ابن کثیر : 751 روح المعانی : 14 /323)

        بعض روایات میں ہے کہ اس کے بعد ’’اکثم بن صیفی ‘‘ ایک جماعت کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لئے روانہ ہوئے لیکن راستہ میں وفات پاگئے تاہم ساتھیوں کوایمان لانے کی وصیت کرگئے۔ (الاصابہ 1/350بحوالہ ندائے شاہی دسمبر :2008ء)

        اس واقعہ میں جس آیت شریفہ کاذکر ہے وہ خیر وشر، اخلاقی حسنہ وسیئہ اور اسلامی معاشرے کی تعمیر و تشکیل کے مثبت و منفی بنیادی اصولوں کے لحاظ سے قرآن کریم کی جامع ترین آیا ت میں سے ہے، اس آیت کی جامعیت ہی کی وجہ سے حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے اس کو خطبہ ٔ جمعہ میں داخل فرمایا اور یہ بات انکے اثر حسنہ میں داخل ہوگئی، متعدد علماء کا قول ہے کہ قرآن میں اس آیت کریمہ کے سوا او رکوئی آیت نہ ہوتی تو بھی قرآن کے تبیانا لکل شئی ہونے کے لئے کافی ہوتی۔ (روح المعانی )

        اس آیت کے بارے میں ابن جریر نے قتادہ کا یہ قول نقل کیاہے :’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر ایسے خلق حسن کا حکم دیا ہے جس کو اہل جاہلیت بنظر استحسان دیکھتے تھے اور ان کے یہاں اس پر عمل ہوتاتھا اور کوئی بر ااخلاق ایسا نہیں ہے جس کو وہ عیب سمجھتے ہوں او ر اس سے اللہ تعالیٰ نے منع نہ کیاہو ‘‘ اسلام کے کٹر دشمن اور مخالف ابو جہل نے یہ آیت سنی تو کہاتھا :’’محمد کا خدا مکارم اخلاق کاحکم دیتاہے ‘‘

        قاضی نے اپنی تفسیر میں ابن ماجہ سے حضرت علی کی یہ روایت نقل کی ہے کہ جب اللہ نے اپنے نبی ﷺ کوحکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قبائل عرب کے سامنے پیش کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقصد سے نکلے، میں اور ابو بکر صدیق ؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم قوم عرب کی ایک مجلس میں بیٹھے، اہل مجلس پر سکون ووقار چھایا ہواتھا، ابوبکر ؓ نے پوچھا آپ لوگوں کاتعلق کس قبیلے سے ہے ؟ انھوں نے جواب دیا شیبان بن ثعلب سے۔ حضور اکرم ﷺ نے ان سے کہاکہ وہ قریش کے مقابلے میں آپ ﷺ کی مدد کریں کیونکہ آپ ﷺ کی قریش نے تکذیب کی ہے، مقرون بن عمرو نے کہا آپ ﷺ ہمیں کس امرکی طرف بلاتے ہیں اور کس چیز کی دعوت دیتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کریمہ (ان اللہ یامر بالعدل والاحسان الخ) کی تلاوت فرمائی، یہ سن کر مقرون بن عمرو نے کہا ’’خدا کی قسم ! آپ ﷺ کی دعوت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی دعوت ہے، وہ قوم خود جھوٹی ہے جو آپ کی تکذیب کرتی ہے، ‘‘(تفسیر کبیر بحوالہ ترجمان القرآن جون : 1998ء)

        حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ :’’یہ آیت ہرخیر (جس پر عمل کیاجائے )اور ہرشر (جس سے اجتناب کیا جائے )کوجامع ہے ‘‘(احکام القرآن للقرطبی )

        الغرض اس آیت میں جوجامع اصول بیان کئے گئے ہیں وہ عالمگیر ہیں اور کوئی معاشرہ ان اصولوں کے بغیر انسانی معاشرہ کبھی نہیں بن سکتا چہ جائیکہ وہ اسلامی معاشرہ بن سکے، یہ آیت دراصل وہ جامع وعظ ہے جو لمبی لمبی تقریروں اور بڑی بڑی اصلاحی کتابوں پربھاری ہے مناسب معلوم ہوتاہے کہ اس آیت کی وسعت اورجامعیت کاجونقشہ مفسرین نے کھینچا ہے او رآیت میں بیان کردہ موضوعات پرجو روشنی ڈالی ہے اس کا تذکرہ کردیاجائے۔

عدل وانصاف :

        آیت میں جن تین باتوں کاحکم دیا گیاہے ان میں پہلی بات عدل ہے، عدل وانصاف معاشرے ہی کا بنیادی اصول نہیں بلکہ اسی اصول پر پوری کائنات قائم ہے، و بالعدل قامت السمٰوات و الارض عدل ہی پر آسمانوں اور زمین کا نظم قائم ہے اس لفظ کے لغوی معانی اور استعمالات کو سامنے رکھ کر اس کی جو جامع تعریف اخذ ہوتی ہے وہ ہے ہرشئی کووہ مقام دینا اور اسکے ساتھ افراط و تفریط سے بچتے ہوئے وہ معاملہ کرنا جس کی وہ مستحق ہو۔ اس تعریف میں عدل کی تمام اقسام داخل ہوگئی ہیں، انسان کے اپنے نفس سے لے کر کائنات کی تمام حقیقتیں اور تمام اشیاء اس تعریف کے دائرے میں ہیں

        محمد بن کعب القرظی کہتے ہیں کہ ایک دن امیر المومنین عمر بن عبد العزیز ؒ نے مجھے بلاکر پوچھا کہ عدل کی حقیقت مجھ سے بیان کر و، تومیں نے کہا بہت خوب ! آپ نے بڑا اہم سوال کیاہے تو سنیئے ! عدل کاتقاضہ یہ ہے کہ آپ اپنے چھوٹوں کے لیے باپ کی طرح بن جائیں اور اپنے سے بڑوں کے لیے بیٹے کی طرح (سعادت مند) بن جائیں اور اپنے ہمعصروں کے ساتھ بے تکلف بھائی جیسا برتا ؤ کریں اور اپنی عورتوں کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کریں، اور مجرموں کوان کے جرائم اوربدنی طاقت کے مطابق ہی سزادیں اور صرف اپنے غصے کے تقاضے پرایک کوڑابھی نہ لگائیں ورنہ آپ حد سے تجاوز کرنے والے ہوجائیں گے۔ (روح المعانی 14/320)

        مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ عدل کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’عدل کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے تمام عقائد، اعمال، اخلاق، معاملات، جذبات، اعتدال و انصاف کی تراز و میں تلے ہوں، افراط و تفریط سے کوئی پلہ جھکنے یااٹھنے نہ پائے۔ سخت سے سخت دشمن کے ساتھ بھی معاملہ کرے تو انصاف کادامن ہاتھ سے نہ چھوٹے، اس کا ظاہر و باطن یکساں ہو جوبات اپنے لیے پسند نہ کرتاہو اپنے بھائی کے لیے بھی پسند نہ کرے ‘‘

عدل کی تشریح کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں :

        ’’اس مختصر فقرے میں تین ایسی چیزوں کاحکم دیاگیا ہے جن پرپورے معاشرے کی درستی کا انحصار ہے، پہلی چیز عدل ہے جس کا تصور دومستقل حقیقتوں سے مرکب ہے ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن و تناسب قائم ہو، دوسرے یہ کہ ہرایک کواس کاحق بے لاگ طریقہ سے دیاجائے۔ اردو زبان میں اس مفہوم کولفظ ’’انصاف ‘‘ سے ادا کیاجاتاہے مگر یہ لفظ غلط فہمی پیدا کرنے والاہے۔ اس سے خواہ مخواہ یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ دوآدمیوں کے درمیان حقوق کی تقسیم نصف نصف کی بنیاد پرہو، اور پھر اسی سے عدل کے معنی مساویانہ تقسیم حقوق کے سمجھ لیئے گئے ہیں، جوسرا سر فطرت کے خلاف ہے، دراصل عدل جس چیز کا تقاضاکرتاہے، وہ توازن اور تناسب ہے نہ کہ برابری۔ بعض حیثیتوں سے توعدل بے شک افراد معاشرہ میں مساوات چاہتاہے۔ مثلا حقوق شہریت میں مگر بعض دوسری حیثیتوں سے مساوات بالکل خلاف عدل ہے، مثلا والدین اور اولاد کے درمیان معاشرتی و اخلاقی مساوات او ر اعلی درجے کی خدمات انجام دینے والوں اورکم تر درجے کی خدمت اداکرنے والوں کے درمیان معاوضوں کی مساوات۔ پس اللہ تعالیٰ نے جس چیز کاحکم دیا ہے، وہ حقوق میں مساوات نہیں بلکہ توازن و تناسب ہے اور ا س حکم کاتقاضہ یہ ہے کہ ہرشخص کواس کے اخلاقی، معاشرتی، قانونی اور سیاسی و تمدنی حقوق پوری ایمان داری کے ساتھ اد اکیئے جائیں۔ ‘‘(تفہیم القرآن جلد دوم۔ ص:565)

        عدل کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا مفتی شفیع صاحب ؒ لکھتے ہیں :

        ’’عدل، اس لفظ کے اصلی اور لغوی معنی برابر کرنے کے ہیں، اسی کی مناسبت سے حکام کا لوگوں کے نزاعی مقدمات میں انصاف کے ساتھ فیصلہ عدل کہلاتاہے، قرآن کریم میں ان تحکموابالعدل اسی معنی کے لیے آیا ہے، اور اسی لحاظ سے لفظ عدل افراط وتفریط کے درمیان اعتدال کوبھی کہا جاتاہے، اور اسی کی مناسبت سے بعض ائمہ تفسیر نے اس جگہ لفظ عدل کی تفسیر ظاہر وباطن کی برابری سے کی ہے ‘‘

        اور ابن عربی ؒ نے فرمایا کہ لفظ عدل کے اصلی معنی برابری کر نے کے ہیں، پھر مختلف نسبتوں سے اس کا مفہوم مختلف ہوجاتاہے، مثلا ایک مفہوم عدل کا یہ ہے کہ انسان اپنے نفس اور اپنے رب کے درمیان عدل کر ے، تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ کے حق کو اپنے حظ نفس پر اس کی رضا جوئی کواپنی خواہشات پرمقدم جانے، اور اس کے احکام کی تعمیل اور اس کی ممنوعات و محرمات سے مکمل اجتناب کرے۔

        دوسرا عدل یہ ہے کہ آدمی خود اپنے نفس کیساتھ عد ل کرے، وہ یہ ہے کہ اپنے نفس کوایسی تمام چیزوں سے بچائے جس میں اس کی جسمانی یاروحانی ہلاکت ہو، اس کی ایسی خواہشات کوپورا نہ کرے جو اس کے لیے مضر ہوں اور قناعت وصبرسے کام لے، نفس پربلاوجہ زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔

        تیسرا عدل اپنے نفس اور تمام مخلوقات کے درمیان ہے، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تمام مخلوقات کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کامعاملہ کرے، اور کسی ادنی واعلی معاملہ میں کسی سے خیانت نہ کرے، سب لوگوں کے لئے اپنے نفس سے انصاف کامطالبہ کرے، کسی انسان کواس کے کسی قول و فعل سے ظاہر ا ً یا باطنا کوئی ایذا اور تکلیف نہ پہونچے۔

        اسی طرح ایک عدل یہ ہے کہ جب دوفریق اپنے کسی معاملہ کامحاکمہ اس کے پاس لائیں تو فیصلہ میں کسی کی طرف میلان کے بغیر حق کے مطابق فیصلہ کرے، اور ایک عدل یہ بھی ہے کہ ہرمعاملہ میں افراط و تفریط کی راہوں کوچھوڑ کرمیانہ روی اختیار کرے، ابو عبد اللہ رازی ؒ نے یہی معنی اختیار کرکے فرمایا ہے کہ لفظ عد ل میں عقیدہ کااعتدال، عمل کا اعتدال، اخلاق کا اعتدال سب شامل ہیں۔ (معارف القرآن جلد پنجم۔ صفحہ 389/390/تفسیر سورہ ٔ نحل )

        اوپر عدل کی جوتشریح مفسرین کے حوالے سے پیش کی گئی اس کو سامنے رکھ کر تصور کیجئے کہ جس معاشرے کے افراد اس صفت سے متصف ہونگے وہ معاشرہ کتنا صاف ستھرا اور امن وسکون کامعاشرہ ہوگا، دراصل امن وسکون میں خلل تو اس لیئے واقع ہوتا ہے کہ لو گ دوسروں کے حقوق کم سے کم بھی ادا نہیں کرتے اور اپنے حقوق زیادہ سے زیادہ وصول کرنے پر اصرار کرتے اور اس کے لیے آمادہ ٔ پیکار رہتے ہیں۔ اوپر کی تشریح میں عقائد کاذکر اس لیئے آیاہے کہ کائنات میں سب سے بڑا عدل تو حید اور سب سے بڑا ظلم شرک ہے۔

        احسان :

        صفت احسان کی حقیقتوں کو سمجھنے کے لیے عدل کی تشریح سامنے رہنی چاہئے اس لیے کہ ’’احسان ‘‘ عدل پر ایک اضافہ ہے، مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے حاشیہ قرآن میں لکھا ہے :’’احسان کے معنی یہ ہیں کہ انسان بذات خود نیکی کاپیکر بن کر دوسروں کابھلا چاہئے۔ مقام عد ل و انصاف سے ذرا بلند ہوکر فضل وعفو اور تلطف وترحم (شفقت ومہربانی)کو اختیار کرے، فرض ادا کرنے کے بعد تطوع وتبرع(انفاق و نوافل) کی طرف قدم بڑھائے، انصاف کے ساتھ مروت کوجمع کرے اور یقین رکھے کہ جوکچھ بھلائی کرے گا، خدا اسے دیکھ رہاہے ادھر سے بھلائی کاجواب ضروربھلائی کی صورت میں ملے گا ‘‘

      احسان کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی ؒ لکھتے ہیں :’’احسان عدل سے ایک زائد شئی (چیز) ہے یہ صرف حق کی ادائیگی ہی کا تقاضہ نہیں کرتا بلکہ مزید برآں یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ دوسرے کیساتھ ہمارا معاملہ کریمانہ اور فیاضانہ ہو‘‘(تدبر قرآن )

        مولانا مودودی ؒ نے احسان کی تشریح اور تفسیر یہ کی ہے :’’دوسری چیز احسان ‘‘ ہے جس سے مراد نیک برتاؤ فیاضانہ سلوک، ہمدردانہ رویہ رواداری، خوش خلقی، درگزر، باہمی مراعات ایک دوسرے کاپاس ولحاظ، دوسرے کواس کے حق سے کچھ زیادہ دینا اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہوجانا، یہ عدل سے زائد ایک چیز ہے جس کی اہمیت اجتماعی زندگی میں عدل سے بھی زیادہ ہے، اگر معاشرے کی اساس عدل ہے تو احسان اس کاجمال اور اس کا کمال ہے، عدل اگر معاشرے کوناگوار یوں اورتلخیوں سے بچاتا ہے تو احسان اس میں خوش گواریا ں اور شیر ینیاں پیداکرتاہے، کوئی معاشرہ صرف اس بنیاد پرکھڑا نہیں رہ سکتا کہ اس کا ہر فرد ہروقت ناپ تولکردیکھتا رہے کہ اس کاکیا حق ہے اور اسے وصول کرکے چھوڑے اور دوسرے کاکتنا حق ہے اور اسے بس اتنا ہی دے دے۔ ایسے ایک ٹھنڈے اور کھرے معاشرے میں کش مکش تو نہ ہوگی مگر محبت اور شکر گزاری اور عالی ظرفی اور اخلاص و خیر خواہی کی قدروں سے وہ محروم رہے گا جو دراصل زندگی میں لطف وحلاوت پیدا کرنے والی اور اجتماعی محاسن کونشوونما دینے والی قدریں ہیں۔ ‘‘(تفہیم القرآن جلددوم۔ صفہ 565)

        مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ احسان کی تفسیر وتشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’احسان کے اصل لغوی معنی اچھاکرنے کے ہیں اور ا سکی دوقسمیں ہیں، ایک یہ کہ فعل و عمل یاخلق و عادت کواپنی ذات میں اچھااور مکمل کرے، دوسرے یہ کہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ اچھاسلوک کرے اور عمدہ معاملہ کرے، امام قرطبی نے فرمایا کہ آیت میں یہ لفظ اپنے عام مفہوم کے لیے مستعمل ہواہے، اس لیے احسان کی دونوں قسموں کو شامل ہے، پھر پہلی قسم کااحسان یعنی کسی کام کواپنی ذات میں اچھا کرنا یہ بھی عام ہے عبادات کواچھا کرنا، اعمال و اخلاق کواچھا کرنا، معاملات کو اچھا کرنا ‘‘

        حضرت جبرئیل کی مشہور حدیث میں خود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کے جومعنی بتائے ہیں و ہ احسان عبادت کے لیے ہے، اس ارشاد کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گو یا تم خداتعالیٰ کودیکھ رہے ہو، اور اگر استحضار کایہ درجہ نصیب نہ ہوتو اتنی بات کایقین تو ہرشخص کوہونا ہی چاہئے کہ حق تعالیٰ اس کے عمل کودیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ تو اسلامی عقیدہ کااہم جزء ہے کہ حق تعالیٰ کے علم سے کائنات کاکوئی ذرہ خارج نہیں رہ سکتا ‘‘ (معارف القرآن جلد پنجم۔ ص: 390)

ایتاء ذی القربیٰ (صلہ رحمی ):

        تیسرا حکم جواس آیت میں دیاگیا ہے وہ ایتایٔ ذی القربیٰ ہے (قرابت داروں کودیتے رہنا )عدل و احسان میں ایتایٔ ذی القربیٰ اور صلہ رحمی بھی داخل ہے لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظراس کا مستقل علٰحدہ سے حکم دیاگیا اور اسلامی معاشرے میں جوخاندان کے مجموعے کانام ہے، ہرانسان خواہ وہ پڑھا لکھاہو یانا خواندہ ہواس کی اہمیت سے عملا واقف ہے۔

        ایتاء کے معنی اعطاء یعنی کوئی چیز دینے کے ہیں، اور لفظ قربیٰ کے معنی قرابت اور رشتہ داری کے ہیں، ذی القربیٰ کے معنی رشتہ دار، ذی رحم، ایتاء ذی القربی ٰ کے معنی ہوئے رشتہ دار کوکچھ دینا، یہاں اس کی تصریح نہیں فرمائی کہ کیاچیز دینا، لیکن ایک دوسری آیت میں اس کا مفعول مذکور ہے فاٰت ذا القربی ٰ حقہ یعنی رشتہ دار کو اس کاحق دو، ظاہر یہی ہے کہ یہاں بھی یہی مفعول مراد ہے، کہ رشتہ دار کو اس کاحق دیا جائے، اس حق میں رشتہ دار کو مال دے کرمالی خدمت کرنا بھی داخل ہے، اور جسمانی خدمت بھی، بیمار پرسی اورخبر گیری بھی، زبانی تسلی وہمدردی کا اظہار بھی۔ (مستفاد معارف القرآن تفسیر سور ہ نحل۔ )

        مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے حاشیہ قرآن میں لکھا ہے :’’صلہ رحمی ایک مستقل نیکی ہے جواقارب وذوی الارحام کے لیے درجہ بدرجہ استعمال ہونی چاہئے گو یا ’’احسان ‘‘کے بعد ذوی القربی کابالتخصیص ذکر کر کے متنبہ فرمادیا کہ عدل و انصاف تو سب کے لیے یکساں ہے لیکن مروت و احسان کے وقت بعض مواقع، بعض سے زیادہ رعایت اور اہتمام کے قابل ہیں، فرق مراتب کوفراموش کرنا، ایک طرح قدرت کے قائم کیئے ہوئے قوانین کوبھلانا ہے ‘‘

        صلہ رحمی کے بارے میں مولانا امین احسن اصلاحی ؒ لکھتے ہیں :’’ایتایٔ ذی القربی ٰ احسان کی ایک نہایت اہم فرع ہے، قرابت مند عدل و انصاف اور احسان کے حق دارتوہیں ہی، مزید برآں وہ بر بنائے قرابت مزید انفاق کے مستحق ہیں۔ صاحب مال کو اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں پرفیاضی سے خرچ کرنا چاہئے ‘‘(بحوالہ تدبر قرآن )

        ایتایٗ ذی القربی کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا ابو الاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں :’’صلہ رحمی رشتے داروں کے معاملے میں احسان کی ایک خاص صورت متعین کرتی ہے، اس کا مطلب صرف یہی نہیں کہ آدمی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتا ؤ کرے اور خوشی وغمی میں ان کاشریک حال ہو اور جائزحدود کے اندر ان کاحامی و مددگار بنے بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ہرصاحب استطاعت شخص اپنے مال پرصرف اپنی ذات اور اپنے بال بچوں ہی کے حقوق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی تسلیم کرے، شریعت الٰہی ہرخاندان کے خوش حال افراد کواس امرکا ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کوبھوکا ننگا نہ چھوڑیں، اس کی نگاہ میں ایک معاشرے کی اس سے بدتر کوئی حالت نہیں ہے کہ اس کے اندر ایک شخص عیش کررہا ہواور اسی خاندان میں، اس کے بھائی بند روٹی کپڑے تک کومحتاج ہوں، شریعت خاندان کومعاشرے کاایک اہم عنصر ترکیبی قرار دیتی ہے اور یہ اصول پیش کرتی ہے کہ ہرخاندان کے غریب افراد کاپہلا حق اپنے خاندان کے خوش حال افراد پرہے پھر دوسروں پرانکے حقوق عائد ہوتے ہیں ‘‘(تفسیر القرآن جلد دوم صفحہ 565 تا 566)

        الغرض صلہ رحمی کے حکم اور ایتایٔ ذی القربیٰ کے حکم اور اس کی ترغیب و تلقین سے قرآن واحادیث بھرا ہواہے احسان اور صلہ رحمی کے سب سے اول اورسب سے زیادہ مستحق والدین ہیں اور ان دونوں میں بھی ماں باپ سے زیادہ احسان اور صلہ رحمی کی مستحق ہے جس کی تائید متعدد آیات اور احادیث مبارکہ سے ہوتی ہے۔

        اسلامی معاشرے کی تعمیر و تشکیل کے یہ تین مثبت بنیادی اصول ہیں جس کو دوسرے لفظ میں حکم ایجابی بھی کہہ سکتے ہیں اور اس کے مقابلے میں تین منفی چیزہیں جس سے اسلامی معاشرے کوپاک صاف ہونا چاہئے ’’وینھی ٔ عن الفحشاء و المنکر و البغی ‘‘یعنی اللہ تعالیٰ منع کرتاہے فحشاء اور منکر اور بغی سے۔

        فحشاء :

        فحشاء کھلی ہوئی بے حیائی کے کام کوکہتے ہیں جن میں سب سے زیادہ نمایاں زنا اور لواطت (عمل قوم لوط ) ہے پھر برہنگی و عریانی گالی گلوچ، بدکاریوں پرابھارنے والے افسانے اور ڈرامے اور فلم، عریاں تصاویر، عورتوں کابن سنور کر منظر عام پرآنا، علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا، ناچنا گانا تھرکنا اور ناز و ادا کی نمائش کرنا یہ تمام چیزیں فحشاء میں داخل ہیں، الغرض فحشاء ہرایسے برے فعل یاقول کوکہاجاتاہے جس کی برائی کھلی ہوئی ہواور واضح ہوہرشخص اس کو بر ا سمجھے۔

        منکر :

        منکر وہ قول وفعل ہے جس کے حرام وناجائز ہونے پر اہل شرع کااتفاق ہو، لفظ منکر میں تمام گناہ ظاہری اور باطنی عملی اور اخلاقی سب داخل ہیں، مولانا عروج احمد لکھتے ہیں ’’منکرسے مراد ہروہ برائی ہے جس کو انسان بالعموم بر اجانتے ہیں، انسانی فطرت ان سے ابا (انکار ) کرتی ہے اور آسمانی شریعتوں نے جن کو برائی قرار دیاہے، جیسے جھوٹ، اتہام، چوری، رہزنی وغیرہ ‘‘

        بغی :

         بغی کے لفظی معنی زیادتی، سرکشی اور دوسروں کے حقوق پردست درازی کے ہیں، بغی سے مراد ظلم و عدوان ہے اگرچہ لفظ منکر کے مفہوم میں فحشاء بھی داخل ہے اور بغی بھی، لیکن فحشاء کواس کی انتہائی برائی اور شناعت کی وجہ سے علٰحدہ کرکے بیان فرمایا اور مقدم رکھااور بغی کو الگ اور علٰحدہ اس لیئے بیان کیا کہ اسکا اثر دوسروں تک متعدی ہوتاہے، اور بسااوقات یااکثراوقات یہ تعدی باہمی جنگ وجدل تک یااس سے بھی آگے عالمی فساد تک پہونچ جاتی ہے۔

        مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نواہی (منکرات و محرمات ) کاذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’منع بھی تین چیزوں سے کیا فحشاء، منکر بغی، کیونکہ انسان میں تین قوتیں ہیں جن کے بے موقع اور غلط استعمال سے ساری خرابیاں اور برائیاں پیداہوتی ہیں قوت بہیمیہ شہوانیہ ‘‘ قوت وہمیہ شیطانیہ، قوت غضبیہ سبعیہ، غالبا فحشاء سے وہ بے حیائی کی باتیں مراد ہیں جن کا منشاء شہوت و بہیمیت کی افراط ہو، ’’منکر‘‘ معروف کی ضد ہے یعنی نامعقول کام جن پر فطرت سلیمہ اور عقل صحیح انکار کرے گویا قوت وہمیہ شیطانیہ کے غلبے سے قوت عقلیہ ملکیہ دب جائے۔ تیسری چیز’’بغی‘‘ ہے یعنی سرکشی کر کے حدسے نکل جانا، ظلم و تعدی پرکمر بستہ ہو کر درندوں کی طرح کھانے پھاڑنے کودوڑ نااور دوسروں کے جان ومال  یاآبرو وغیرہ لینے کے واسطے ناحق دست درازی کرنے اس قسم کی تمام حرکات قوت سبعیہ غضبیہ کے بے جااستعمال سے پیدا ہوتی ہیں۔

        الحاصل آیت میں تنبیہ فرمادی کہ انسان جب تک ان تینوں قوتوں کوقابومیں نہ رکھے اور قوت عقلیہ ملکیہ کوان سب پر حاکم نہ بنائے مہذب اور پاک نہیں ہوسکتا۔

        مولانا عبد الماجد دریا آبادی ؒ اس ضمن میں حاشیہ قرآن میں تحریر فرماتے ہیں :’’ان میں مامورات کے مقابل منہیات بھی تین ہی ہیں فحشاایسی برائی ہے جوکھلی ہوئی اور صریح ہے، یعنی علانیہ پبلک میں کی جاتی ہے اس کے تحت وہ سب برائیاں آگئیں جوقوت شہویہ کی افراط سے پیدا ہوتی ہیں، منکر عام ہے ایسے امر کوجو شعائر اسلامی سے باہرہو، اس کے تحت وہ سب معاصی آگئے جوقوت غضبیہ کے افراط سے پیدا ہوتے ہیں بغی وہ ظلم و سرکشی ہے جس کا ضرر دوسروں تک پہونچے، اس کے ماتحت وہ سب حرکتیں آگئیں جوقوت بہیمیہ کے غلبہ و افراط سے ظاہر ہوتی ہیں ‘‘

مولانا امین احسن اصلاحی کے بقول :’’فحشاء : کھلی ہوئی بے حیائی اور بد کاری کوکہتے ہیں، مثلا زنا لوطت اور اس قبیل کی دوسری برائیاں منکر معروف کاضد ہے معروف ان اچھی باتوں کو کہتے ہیں جن کا ہراچھی سوسائٹی میں چلن ہو، مثلا مہمان داری، مسافر نوازی اور اس قبیل کی دوسری نیکیاں، منکر اس کا ضد ہے تو اس سے مراد وہ باتیں ہوگی جومعروف اور عقل و عرف کے پسندیدہ طریقہ اورآداب کے خلاف ہوں۔ ‘‘

        بغی: کے معنی سرکشی اور تعدی کے ہیں یعنی آدمی اپنی قوت وطاقت اور اپنے زور واثر سے ناجائز فائدہ اٹھائے اور اس سے دوسروں کودبانے کی کوشش کرے ‘‘ (تدبر قرآن تفسیر سور ۂ نحل )

        مولانا ابو الاعلی مودودی ؒ کے الفاظ میں ان نواہی کی تفصیل و تشریح حسب ذیل ہے۔ ’’اوپر کی تین بھلائیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تین برائیوں سے روکتا ہے جوانفرادی حیثیت سے افراد کواور اجتماعی حیثیت سے پورے معاشرے کوخراب کرنے والی ہیں۔ پہلی چیز فحشاہے جس کا اطلاق تمام بیہودہ اورشرمناک افعال پرہوتاہے۔ ہر وہ برائی جواپنی ذات میں نہایت قبیح ہوفحش ہے، مثلا بخل، زنا  برہنگی و عریانی، محرمات سے نکاح، چوری، شراب نوشی، بھیک مانگنا، گالیاں بکنا اور بدکاری کرنا وغیرہ اس طرح علی الاعلان برے کام کرنا اور برائیوں کو پھیلانا بھی فحش ہے، مثلا جھوٹا پروپیگنڈا، تہمت تراشی، پوشیدہ جرائم کی تشہیر، بدکاری پر ابھارنے والے افسانے اور ڈرامے اور فلم عریاں تصاویر، عورتوں کابن سنور کرمنظر عام پرآنا، علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا اور اسٹیج پرعورتوں کا ناچنا اور تھرکنا اور نازو ادا کی نمائش کرنا وغیرہ دوسری چیز منکر ہے جس سے مراد ہر وہ برائی ہے جسے انسان بالعموم بر ا جانتے ہیں، ہمیشہ سے بر ا کہتے رہے ہیں اور تمام شرائع الٰہیہ نے جس سے منع کیاہے۔ تیسری چیز بغی ہے جس کے معنی ہیں اپنی حد سے تجاوز کرنا اور دوسرے کے حقوق پر دست درازی کرنا، خواہ وہ حقوق خالق کے ہوں یامخلوق کے۔ ‘‘(تفہیم القرآن تفسیر سور ہ ٔ  نحل )

        اس آیت میں جوچھ حکم ایجابی اور تحریمی دیئے گئے ہیں اگر غور کیا جائے تو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے مکمل فلاح کانسخہ ٔ اکسیر ہیں کیونکہ جس معاشرے میں عدل و احسان اور صلہ رحمی کی نسیم جانفزا وجاں نواز چل رہی ہو اور وہ فحشاء منکر اور زیاتی و تعدی کی باد سموم سے محفوظ ہو، وہی اسلامی معاشرہ ہے اور یہی معاشرہ ہے جسے وجود میں لانے کے لیے ہم سب کو وہ سب کچھ کرنا چاہئیے جوہم دامے درمے قدمے سخنے کرسکتے ہیں۔ (واللہ ولی التوفیق )

تبصرے