جادو اور کہانت سے متعلق احکام 

0

علامہ ابن بازرحمہ اللہ تعالى

 ترجمہ : محمد عرفان شیخ  یونس سراجی

آسیب وجادو، بد فالی و بدشگونی  اور کہانت ایسی  خطرناک شی  ہے، جو شرک وبدعات تک پہونچانے، اللہ واحد سے  توکل اور بھروسہ ختم کرنے کا  عظیم محرک ہے، چنانچہ اسی کے پیش نظر میں نے مناسب سمجھا کہ علامہ ابن بازرحمہ اللہ کا علمی ودینی اور عقدی  پمفلٹ (الرسالہ فی حکم السحر والکہانۃ) کا اردو میں ترجمہ کردوں تاکہ اس کا فائدہ  عام ہوسکے۔

علامہ ابن باز رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:

تمام تعریف اللہ وحد ہ لاشریک کے لیے لائق وزیبا ہے  اور درود وسلام کا نزول ہو ہمارے آخری نبی جناب محمد ﷺ پر جس کے بعد  کوئی نبی نہیں۔

جادو اور کہانت کی وساطت سے  علاج و معالجہ کرنے والے کاہنوں اور نجومیوں  کا مختلف ممالک میں منتشر  ہونا، جاہل اورناخواندہ  اشخاص کی ان  کی ہر کہی ہوئی باتوں کی تصدیق کرنا  ایسا مسئلہ ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے مناسب لگا کہ  من باب النصیحہ جادو اور آسیب کی خطرناکیوں، اس سے متعلق شرک باللہ اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے  آوامر کی مخالفت  سے مسلمانوں کو آگاہ کردوں۔

میں اللہ تعالی سے مدد کا طلبگار ہوتے ہوئے گویا ہوں کہ  اتفاقا علاج ومعالجہ کرانا جائز ہے، اور مسلمانوں کے لیے باطنی امراض کے طبیب،  جرح وقرح کے طبیب، اعصابی  امراض کے طبیب   اور ان امراض کے علاوہ دیگر بیماریوں کے اسپیسلشٹ  اور متخصص کے پاس بغرض علاج جانا  جائز ہے  تاکہ  وہ اپنی بساط اور دسترس کے مطابق  مریض  کے مرض کی تشخیص وتعیین کرکے شرعی طور سے مباح  ادویہ کے مدد سے علاج کرسکتے، بنابریں کہ  اسباب اختیار کرنا توکل کے ہرگز منافی نہیں ہے۔ یقینا اللہ تعالی نے  بیماریوں کے  نازل کرنے کےساتھ ان  کی دوائیں بھی  نازل کی  ہے، تاہم اللہ تعالی نے محرمات ومنہیات سے   اپنے بندے کی شفایابی کو حرام قرار دیا ہے۔ کسی بھی مریض کے لیے روا نہیں کہ وہ اپنے مرض کی تشخیص کے لیے مدعیان غیب  کاہنوں کے پاس علاج ومعالجہ کی غرض  سے  قدم بڑھائے، جیساکہ ان کے لیے یہ بھی جائز نہیں ہے کہ  ان کی کہی ہوئی دروغ گوئی  اور  ہرزہ سرائی پر مبنی باتوں کی تصد یق کرے، اس لیے کہ وہ لوگ بغیر علم کے  باتیں کرتے ہیں یا جنوں  کو بلا کر ان سے اپنی  خواہشات اور مرادوں کی تکمیل  کی خاطر   استعانت چاہتے ہیں۔

کاہنوں اور نجومیوں کا شرعی کا حکم:

    علم غیب اور کہانت کا دعوی کرنے والے بالاجماع کا فر ہیں۔ جیساکہ اس کے تعلق سے نبی کریمﷺ کی احادیث مبارکہ  شاہد ہیں  جو ذیل کے سطور میں  مذکور ہیں :۔

نبی کریم ﷺکا فرمان گرامی ہے :«مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً».(صحیح مسلم، ح:2230) ترجمہ:”جو   شخص کسی  عراف(غیب یا مستقبل کی خبر دینے والے ) کے پاس آیا  اور اس سے کوئی بات پوچھی تو اس  کی چالیس  راتوں  کی نمازیں قبول نہیں ہوں گی“۔

 علاوہ ازیں نبی کریم ﷺکا فرمان ہے :«مَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم».(مسند أحمد، ح: 9536، وخرجہ أہل السنن الأربع، وصححہ الحاکم)ترجمہ: ”جو شخص کسی کاہن (رازہائے سربستہ  اور احوال غیب کی معرفت کے مدعی )کے پاس آیا اور اس کی کہی ہوئی باتوں کی تصدیق وتوثیق کی  تو اس نے یقینا نبی کریم ﷺ پر نازل شدہ چیزوں کا انکار کیا“۔

مزید براں نبی کریم ﷺکافرمان ہے : «لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ أَوْ تُطُيِّرَ لَهُ، أَوْ تَكَهَّنَ أَوْ تُكُهِّنَ لَهُ، أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ، وَمَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ».(رواہ البزار بإسناد جید) ترجمہ: ”وہ شخص مجھ میں سے نہیں جس نے بد فالی وبد شگونی لی یا جس کے لیے گئی، یا جس نے کہانت کی  یا جس کے لیےکی گئی، یا جس  نے  شعبدہ بازی  و جادوگری  کی یا  جس کے لیے کی گئی، اور جو شخص کسی کاہن کے پاس آیا اور اس کی کہی ہوئی باتوں کی تصدیق وتوثیق کی  تو اس نے یقینا نبی کریم ﷺ پر نازل شدہ چیزوں کا انکار کیا“۔

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ  میں  کاہنوں ، نجومیوں، فسوں گر وں  یا ان کے مثل  لوگوں سے سوال کرنے  یا ان کی  کہی ہوئی باتوں کی توثیق کرنے کی ممانعت  اور وعید وارد ہوئی ہے۔لہذا   ولی الأمر اور اہل حسبہ ( حکومت کی جانب سے  انکار منکر کے لیے مکلف شخص )یا ان کے علاوہ اصحاب حل وعقد یا صاحب  استطاعت  پر واجب ہے کہ وہ  لوگوں کو کاہنوں، عرافوں   اور نجومیوں کے پاس جانے سے  روکیں، اور بازاروں اور ان جیسی جگہوں میں ان کی خرافاتی اور ایمان باختہ  شعبدہ بازیوں، عجیب وغریب تماشے اور حیرت انگیز چیزوں کو دیکھنے سے منع کریں، ان کے پاس  علاج ومعالجہ یا مستقبل  میں ہونے والے حادثات یا واقعات سے متعلق استفسار کرنے والوں  کو سختی سے منع کریں۔ کسی بھی  شخص یا ان کے پاس بکثر ت آنے جانے والوں کے لیے یہ جائز نہیں  کہ وہ  ان کی  غیب دانی اور قیافہ شناسی کے  دام فریب میں گر فتار ہوجائے، اس لیے کہ نبی کریم ﷺنے آسیب، جادو، ٹونا ٹوٹکا کی  عظیم خطرناکیوں  اور درد ناک سزاؤں کے پیش نظر ان کے پاس جانے، ان سے سوال  کرنے  اور ان  کے طلسماتی کرتوتوں کی تصدیق کرنے سےمنع کیا ہے۔

 ان احادیث میں ساحر اور کاہن کے کفر کی دلیل موجود ہے، بنابریں کہ یہ  دونوں غیب کے مدعی ہیں، اور ان کے  مقاصد رذیلہ اور خواہشات باطلہ  کی تکمیل  غیر اللہ کی عبادت  کرنے  اور جنوں کی  ناروا طور پر خدمت کرنے  سے ہوتی ہیں، اور یہ بلا شبہ   کفر اور اللہ کے ساتھ شر ک  کرنا ہے، اور جو  ان کے  دروغ گوئی پر مبنی دعووں کی تصدیق کرے  تو وہ انہی  کی  طرح ہے، اور جس نے   ان کی باتوں کو دلیل سمجھا اس سے ہمارے  نبی کریم  ﷺ بری ہے۔

کسی بھی مسلم کے لیے جائز نہیں ہےکہ ان کے مزعومات اور  خرافاتی بازی گرانہ امور کو علاج سمجھ کر تسلیم کرلے، اور جس نے اسے رضا برضا تسلیم کرلیا گویا اس نے ان کے کفر یانہ اور باطلانہ   امور  کی انجام دہی میں مساعدت کی۔ یہ ویسے ہی ناجائز اورغیر روا ہے جیسے  اپنے مصائب وآلام سے چھٹکارا اور اپنے من پسندکی شادی کے متعلق  ان سے سوال کرنا ہے۔

جادو کفر ہے اور محرمات میں سے ہے جیساکہ اللہ تعالى کا فرمان گرامی ہے :

«وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَايُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّيْنَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَايُضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوْا لِمَنِ اشْتَرَاهُ مَالَه فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَاشَرَوْابِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوكَانُوا يَعلَمُونَ»(سورہ بقرہ:102)

ترجمہ:”وہ دونوں بھی کسی کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک کہ یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں، تو کفر نہ کر پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس  سے خاوند اور بیوی میں جدائی  ڈال دیں اور دراصل وہ بغیر اللہ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہونچا سکتے، یہ لوگ وہ سیکھتے ہیں جوانہیں نقصان پہونچائے اور نفع نہ پہونچاسکےاوروہ بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔اور وہ بد ترین چیز ہےجس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کررہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے“۔

مذکورہ آیات   سے مستنبط مسائل :

1۔سحر  وجادو کفر ہے۔

2۔جادوگر اور شعبدہ باز ایسا ناعاقت اندیش شخص ہے جو  ایک آدمی اور اس کی بیوی کے مابین جدائی  وعلیحدگی کروادیتا ہے۔

3۔جادو، آسیب بذات خود نفع ونقصان  نہیں پہونچاتا  بلکہ یہ تو  قضاءکونی وقدری سے ہوتا ہے، اس لیے کہ اللہ تعالى وہ  ذات ہے جس  نے  خیر اور شر پیدا کیا ہے۔

4۔ غیبی امور کی معرفت کے لیے، دوسرے کو نقصان اور نفع پہونچانے کے لیے، خاوند اور شوہر میں ناچاکی اور ان بن کرانے  کے لیے  جادوگری اور شعبدہ بازی اور طلسماتی امور پر دسترس حاصل کرنے والوں کے لیے  عند اللہ کوئی نصیب  اور حصہ نہیں ہے۔ یہ  ایسی عظیم وعید ہے جو دنیا اور آخرت میں نقصان اور گھاٹے پر دلالت کرتی ہے۔

5۔ جادو کا اثر برحق ہے، کوئی بھی اس کے دام فریب میں گرفتار ہوسکتا ہے۔

6۔آیت میں ”شراء“سے مراد ”بیع “ہے۔ اللہ تعالی نے دھمکی آمیزاور مذمت آمیز تعبیر استعمال کرکے  جادو اور فسوں بازوں کی خطرناکیوں کو واضح کیا ہے۔

 اللہ ہمیں کاہنوں، نجومیوں، جادوگروں اور فسوں بازوں کے شر سے محفوظ رکھے نیز  اصحاب اقتدار کو ان سے بچنے اور انہیں اللہ کے شرائع کے نفاذ کی توفیق  عطا فرمائے تاکہ اس زمیں کے باشندگان ان کے ضرر، فریب کاریوں  اور اعمال خبیثہ سے محفوط رہیں۔ آمین

جادو سے بچنے اور آسیب زدگان کے بچاؤ کی شرعی تدبیریں:

  اللہ  تعالى نے  اپنے بندوں کے  لیے  جاد و کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس سے بچنے   کے لیے قرآنی  آیات اور احادیث نبویہ کی  روشنی میں   شاہکار تدبیریں  بتائی ہیں اور آسیب زدہ کے بچاؤ  کی خاطر بطور احسان  اور اتمام نعمت   کےعلاج ومعالجہ کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔

ذیل کے سطورمیں سحر اور جادو، ٹونا ٹوٹکا کی خطرناکیوں سے بچاؤ کے لیے مباح شرعی تدبیریں  اور  اسلامی امور  ذکر کیے جارہے ہیں- جادو کے وقوع پذیر ہونے سے قبل سب سے اہم اور نفع بخش  شرعی  ذکر واذکار، مشروع اوراد ووظائف اور ماثور دعائیں ہیں، ان میں سے مندرجہ ذیل ہیں :-

 1۔آیۃ الکرسی کا ہر فرض نماز کے بعد ثابت شدہ ذکر واذکار کے ورد کے بعد اور سوتے وقت  پڑھنا۔آیۃ الکرسی  قرآن کریم  کی سب سے عظیم آیت ہے جو یہ ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے : «اللهُ لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَاتَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَافِي السَّمَواتِ وَمَافِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَابَيْنَ أَيْدَيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيْطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَؤُوْدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ».(سورہ بقرہ: 255)

نبی کریم ﷺکا فرمان ہے: «إَذَا أَوَيْتَ إِلَى فِراشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِي”اللهُ لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ” فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَليكَ مِنَ اللهِ حَافِظٌ، ولاَ يَقْرَبَنَّكَ شَيْطَانٌ حَتّى تُصْبِحَ»(صحیح البخاری، ح: 2311) ترجمہ:”جب تم اپنے بستر کی طرف آؤ   تو آیۃ الکرسی  پڑھا کرو، اس لیے کہ  برابر اللہ کی طرف  سے تمہارے لیے نگہبان    متعین رہتے ہیں، اور صبح تک کوئی شیطان تمہارے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا“۔

2۔  سورہ اخلاص «قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدُ»، سورہ فلق «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ»، اور سورہ ناس «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ»کا   بعد نماز فجر اوربعدنماز مغرب  اور سوتے وقت  تین مرتبہ پڑھنا، جیساکہ نبی کریم ﷺکا فرمان ہے: «قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَالْمَعْوَذَتَيْنِ حِيْنَ تُمْسِي وتُصْبِحُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ».(سنن ترمذی، ح:3575) ترجمہ: ” سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس صبح وشام  تین مرتبہ  پڑھا کروتمہیں تمام (بری )  چیزوں سے محفوظ رکھیں گے “۔

3۔رات کے پہلے پہرسورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کاپڑھنا، جیساکہ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے :«مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُوْرَةِ الْبَقْرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ»(صحیح مسلم، ح: 808) ترجمہ: ”جس نے سورہ بقرہ کی  آخری دو آیتیں  کسی رات میں پڑھی اسے یہ کافی ہوجائے گی “۔

4۔ کسی   منزل یا جگہ میں داخل ہوتے  وقت، بحری سفر، فضا اور صحرا میں کثرت سے  شریر مخلوقات سے اللہ کی پناہ چاہنا، جیسا کہ اللہ کے نبی ﷺکا فرمان ہے :«مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا، فَقَالَ: أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرُّهُ شَيْءٍ حَتّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلَهُ ذَلكَ».(مسند أحمد، ح:27125۔حکم الحدیث:  حدیث صحیح) ترجمہ:”جو کسی  گھرمیں داخل ہوا اور کہا کہ میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ شریر مخلوق سے پنا ہ چاہتا ہوں، تو  اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہونچاسکے گا   تا اینکہ  وہاں سے کوچ  نہ کرجائے“۔

5۔  صبح وشام  تین مرتبہ «بِسْمِ اللهِ الَّذِيْ لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ»پڑھنا۔(الأدب المفرد:66، اسنادہ حسن)نبی کریم ﷺنے اس کی جانب ترغیب دلا ئی ہے، اور یقینا یہ تمام شر سے سلامتی کا سبب ہے۔

6۔ تین مرتبہ  «اللّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ أَذْهَبِ الْبَأْسَ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا»پڑھنا۔(صحیح البخاری، ح: 5743)نبی کریم ﷺ اس کے ذریعہ جھاڑ پھونک کیا کرتے تھے۔

7۔ سحر اورجادو کے علاج کےلیے ثابت شدہ دعاؤں میں سے«بِسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ، مِن كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيْكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنٍ أَوْ حَاسِدٍ اللهُ يَشْفِيْكَ، بِسْمِ اللهِ أَرْقِيْكَ»ہے، جسے نبی کریم ﷺپڑھ کر رقیہ کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ، ح:3523)

مذکورہ دعائیں اور تعوذات  صدق دل  اور ایمان سے  اللہ پر اعتماد اور بھروسہ کرنے والوں کے لیے جادو اور آسیب  کے فتنہ سے بچنے کے عظیم اسباب میں  ایک  شاہکار سبب ہے، ساتھ ہی ساتھ آسیب زدگان سے جادو اتارنے کا بہترین  ہتھیاراور کار آمد نسخہ  ہیں۔

 آخر میں دعا ہے اللہ ہمیں قرآن وحدیث کی روشنی میں  علاج ومعالجہ کرنے کی توفیق عطا فر مائے، نیز جادوگروں کی فتنہ انگیزیوں سے محفوظ رکھے۔ آمین

تبصرے