سائنس و ٹکنالوجیمذہبی مضامین

جدید ایجادات اور اسلامی مزاج

محمد صابر حسین ندوی

انسانی زندگی مختلف ادوار سے ہوتے ہوئے آج ٹکنالاجی کے انقلاب سے ہمکنار ہے، جس کی بنیاد پر پوری دنیا ایک چھوٹے سے گاوں (گلوبل ولیج) میں بدل چکی ہے، ہر طرف ایک الگ ہی رنگ وڈھنگ ہے، معلومات کا خزانہ چاروں طرف بکھرا ہواہے، سہولیا ت وآسائشوں کا دوردورہ ہے، اب وہ دن لد گئے؛ جب کوئی معمولی خبرایک جگہ سے دوسری جگہ پر سالوں نہیں تو مہینوں میں پہونچتی تھی، بسااوقات ’’کون جیتا ہے تیرے زلف کے سر ہونے تک ‘‘ کا عالم ہوتا تھا؛لیکن اب یہ حال ہے کہ پلک جھپکتے ہی جنگل کے آگ سے بھی زیادہ تیز ؛کوئی بھی خبر دوسروں تک پہونچ جاتی ہے، جس کا سہرا ’’انفارمیشن ٹکنالاجی ‘‘ کے سر جاتا ہے، اس سلسلہ میں خصوصا کمپیوٹرکا بڑا اہم رول ہے، انفارمیشن ٹکنالاجی اسی کا ایک حصہ ہے، یہ سمجھ لینا چاہئے؛ کہ کمپیوٹر کے تین اہم شعبے ہوتے ہیں :سافٹ ویئر انجینیرنگ، کمپوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹکنالاجی۔ ۔ ان تینوں کوایک ہی سمجھ لینا بھول ہے؛تینوں کا میدان الگ الگ ہے اور تینوں ہی ترقی وتعمیر کا دوسرا نام ہیں۔

انفارمیشن ٹکنالاجی کیا ہے:

دراصل روزمرہ کی زندگی بغیر معلومات کے مشکل ہے، یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی بہت آسان ہوجاتی ہے، قدم قدم پر پیش آنے والی مشکلات کا حل بآسانی ڈھونڈا جاسکتا ہے، چنانچہ ہمیں حتی المقدور ہر چیز کے بارے میں معلومات درکار ہوتی ہیں، نفسیات، صحت، فلسفہ، سیاست، فزکس، کیمسٹری، ریاضی اور بیالاجی وغیرہ، اسی معلومات کو ’’انفارمیشن ‘‘کہتے ہیں، یہ گویا زندگی کیلئے سروائیور کا کام کرتی ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ معلومات ہمیں کیسے حاصل ہوں ؟یہی وہ نقطہ ہے؛ جہاں ہمیں ٹکنالاجی کی مدد لینی پڑتی ہے، جو کہاں اور کیسے کا جواب فراہم کرتی ہے، یہ ایک ایسی نعمت ہے، جسے انسانوں نے ہزارہا سالوں کے بعد دریافت کیا ہے، اس سے قبل ترسیلات کیلئے انسانی سمبلزیاپھر آواز اور تکلم کا سہارا لیاجاتا تھا، ساتھ ہی جب چینیوں نے کاغذ ایجاد کیا، تو انفارمیشن کو محفوظ کرنے اور دوسروں تک پہونچانے کاعظیم سرمایہ ہاتھ آیا؛جس سے صدیوں تک لوگوں نے خوب فائدہ اٹھایا، اور لائبریز، کتب خانہ قائم کئے گئے، جس نے انسانی زندگی میں عجب انقلاب پیدا کیا۔

اس کے بعد بیسویں صدی میں کمپیوٹر کے ایجاد نے طرز زندگی ہی بدل دی، معلومات کا خزانہ جمع کیا جانے لگا، اور دوردراز اس کی ترسیل آسان تر ہوگئی، بنیادی طور انفارمیشن ٹکنالاجی انہی باتوں کو موضوع بحث بناتی ہے؛ کہ معلومات کی ترسیل، اس کے محفوظ کرنے کے طریقوں کو کس طرح بہتر سے بہتر بنایا جائے، دنیا کو سب سے زیادہ بدلنے والا’’کیٹا لسٹ انٹر نیٹ‘‘ہے، اور انٹر نیٹ پر ہی دنیا کی سب سے زیادہ انفارمیشن پڑی ہیں، اور ہر سال دوگنا کے رفتار سے اضافہ ہورہا ہے؛حتی کہ اتنی بڑی مقدار میں ڈیٹا کو محفوظ کرنا، اسے ترتیب دینا اور ا سکی سکیورٹی کو بہتر بنانا ایک بہت بڑا چیلینج بنتا جارہا ہے، ہر فرد ہر قوم اور ملک کی کچھ ناکچھ سیکرٹ معلومات ہوتی ہیں، کچھ خفیہ راز ہوتے ہیں، جو دوسروں کے ہاتھ نہیں لگنے دینا چاہتے، اس قیمتی انفارمیشن کو محفوظ سٹوریج اور ٹرانسفارمیشن کے چیلینج کا سامنا کرنا ہی’’انفارمیشن ٹکنالاجی‘‘ کامقصد ہے؛تاکہ معلومات کی ترسیل کو آسان اور محفوظ بنایا جاسکے؛لیکن عصر حاضر میں نوجوان نسل کی بیراہ روی اور اسمارٹ فون، گیزٹ وغیرہ کے ایجادات نے مزید مشکل بڑھادی ہے، اور نت نئے مسائل جنم لینے لگے ہیں، جو اسلامی وفقہی احکام کے طالب ہیں، ایسے میں انفارمیشن ٹکنالاجی اور جدید ایجادات سے متعلق استفادہ کی شرائط جان لینا ازحد ضروری ہے، یقینا اس سے امت مسلمہ کیلئے جدید ٹکنالاجی کے متعلق ضروری رہنمائی حاصل ہوگی، اوربے راہ روی پر لگام لگ سکے گی (www.urdusafah.pk

 جدید ایجادات اور ان سے فائدہ اٹھانے کے متعلق اسلامی مزاج کے متعلق سب سے پہلے یہ بات جان لینی چاہئے کہ اسلام اس کے ماننے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنا چاہتا ہے، انہیں زمانے کے ساتھ چلنے اور ترقی کرنے سے نہیں روکتا ؛ بلکہ اس کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ زمانے کی قیادت کریں، تخریعات اور جدیدایجادات کے ذریعہ انسانی زندگی کیلئے رحمت بنیں ؛کیونکہ دنیا ومافیھا کی تخلیق اسی کیلئے ہے، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:ھوالذی خلق لکم مافی الارض جمیعا’’وہی ہے جس نے جو کچھ بھی زمین میں ہے، وہ تمہارے لئے پیدا کیا‘‘(بقرۃ:۲۹)، اسی لئے اللہ تعالی ایسے لوگوں پر ناراضگی کا اظہار کرتا ہے جو اس کے طیبات کو حرام قرار دیں :قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبات من الرزق’’پوچھئے! کہ کس نے اللہ کے (دئے ہوئے)زینت (کے سامان)حرام کئے، جو اس نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کئے ہیں اور صاف ستھری کھانے کی چیزیں ‘‘(اعراف:۳۲)، ایک مقام پر اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا:قل لا اجد فی مااوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتۃ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’کہہ دیجئے!کہ مجھ پر جو وحی آتی ہے، اس میں تو میں کھانے والے کیلئے کوئی حرام چیز نہیں پاتاجسے وہ کھائے سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘(انعام:۱۴۵)، اس آیت کے اندر بھی یہ واضح کردیا گیا؛ کہ دنیا کی تمام پاک چیزیں انسانوں کیلئے حلال ہیں، اسی لئے ایک مقام پر اللہ نے کہہ دیا ؛کہ آو! تمہیں حرام کے بارے میں بتائیں ’’قل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم ‘‘ (انعام:۱۵۱)، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ نے حرام نہ کیا وہ تمام حلال ہیں۔

خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی روایات سے اس بات پر بخوبی روشنی پڑتی ہے، حضرت ابودرداء ؓ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجیدمیں جن چیزوں کو حرام کیا وہ حرام ہیں، اور جن چیزوں کو حلال کیا ہے وہ حلال ہیں، اور جن امور سے خموشی برتی ہے وہ معفو عنہ ہیں، لہذا معفو عنہ کو قبول کرو! کیونکہ اللہ تعالی بھولنے والوں میں سے نہیں ہے، پھر آپ ﷺنے یہ آیت تلاوت فرمائی’’وماکان ربک نسیا‘‘(مریم:۶۴)، ’’عن ابی الدرداء قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :مااحل اللہ فی کتابہ فھول حلال، وما حرم فھو حرام، وما سکت عنہ فھو عافیۃ، فاقبلوا من اللہ عافیتہ ؛فان اللہ لم یکن نسیا‘‘(بیھقی:۱۰؍۱۲، رقم الحدیث:۱۹۰۰)۔

اسی طرح ثعلبہ الخشنی ؓکی ایک روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالی نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں، تو ان سے غفلت نہ کرو، اور کچھ حدود قائم کئے ہیں، تو ان سے تجاوز نہ کرو، اور کچھ چیزیں حرام کی ہیں، تو ان کی پامالی نہ کرو اور کچھ چیزوں سے خاموشی برتی ہے، تو ان کے متعلق (بے جا) مباحث میں نہ پڑو، وہ تمہارے لئے رحمت ہیں، ’’عن ابی ثعلبہ الخشنی قال :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :ان اللہ تعالی فرض فرائض فلا تضیعوھا، وحد حدودا فلا تعتدوھا، وحرم أشیاء فلا تنتھکوھا، وسکت عن أشیاء من غیر نسیان، رحمۃلکم، فلاتبحثو عنھا‘‘(المطالب العالیۃ بزوائد المسانید الثمانیۃ:۱۲؍۴۱۶)۔

انہی آثار واحادیث کی بنا پر تقریبا علماء وفقہاء کا اتفاق ہے؛ کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے، چنانچہ اصول فقہ کا یہ قاعدہ معروف ہے:’’الاصل فی الاشیاء الاباحۃ‘‘(الاشباہ لابن نجیم:۶۶، للسیوطی:۶۰، الوجیز:۱۲۹)، جبکہ بعض اصحاب حدیث کا ماننا ہے؛ کہ اصل ممنوع ہے، جیسا کہ ابن نجیم وغیرہ سے مروی ہے، بعض حنفیہ کا بھی یہی خیال ہے ؛کہ اشیاء میں اصل توقف ہے، جب تک کہ کوئی دلیل واضح نہ ہوجائے، حالانکہ ظاہر قول احناف کا اباحت ہی کا ہے۔ (دیکھئے:الاشباہ والنظائر لابن نجیم:۱؍۵۷)۔

اس قاعدہ پر ان تمام نئی ایجادات اور تخریعات کو قیاس کیا جاسکتا ہے، جو عصر حاضر میں منصہ شہود پر آرہی ہیں، الا یہ کہ کوئی حرمت کی دلیل سامنے آجائے، یا کوئی قابل غور پہلو ہو، تو توقف کا عمل کیا جائے، خیال رہے کہ اس قاعدہ کے بھی بعض مستثنیات ہیں، جنہیں اصولیین نے قاعدہ کے تحت نقل کیا ہے؛ انہیں اس قاعدہ پر قیاس کرنا درست نہیں، جیسے:’’الاصل فی الأبضاع التحریم‘‘، ’’الاصل فی العبادات المنع‘‘، الاصل فی الذبائح التحریم‘‘، ولا یصح التصرف فی ملک الغیر الا باذنہ‘‘۔ (دیکھئے:الموسوعۃ الفقھیۃ:’’القواعد‘‘)

ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید ایجادات کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تحلیل وتجزیہ کے ساتھ پیش کیا جائے، اس کے نواحی وضواحی کی وضاحت ہو اور پھر احکام مرتب کئے جائیں، عرف وعادات اور ضرورت و حاجت کے جامہ کو سامنے رکھا جائے، تشدد و تعصب کی راہ مناسب نہیں، ہر چیز پر مغرب کے لیبل کو دیکھ کر اس کے ناجائز ہونے کا فتوی لگا دینا اور ترقیات دنیاوی سے آنکھیں بند کر لینا روا نہیں، یہ بات سچ ہے کہ عموما ایجادات اسلامی نظریہ پر ضرب اور اس کے ساتھ استہزا کا پہلو لئے ہوتے ہیں، اگر ان پہلووں کا ازالہ کردیا جائے تو وہ فی نفسہ اپنے آپ میں ایک مباح امر قرار پائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close