سائنس و ٹکنالوجیمذہبی مضامین

جنات اور فرشتوں کے وجود پر اعتراض اور ان کا سائنسی ثبوت

ڈاکٹر احید حسن

جنات اور فرشتوں کا وجود مذہب کے ایسے تصورات تھے جن کا سیکولر سائنسدانوں کی طرف سے گزشتہ ڈیڑھ سو سال میں شدت سے انکار کیا گیا لیکن اب لگتا ہے کہ سائنس مذہب کے ان تصورات کو قبول کر چکی ہے اور ایک مشہور سائنسدان کی یہ بات درست ثابت ہوتی معلوم ہوتی ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ سائنس ایک دن مذہب کی ہر وہ بات مان لے گی جو آج ناممکن لگتی ہے۔

لمبے عرصے سے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ کاربن پہ مبنی زندگی یعنی پودوں ، جانوروں اور انسانوں کے علاؤہ ایسی زندگی موجود ہے جو زندہ رہنے کے لیے کاربن پہ منحصر نہیں ۔ آخر کار سائنسدانوں نے 1977ء میں ایسے خوردبینی جاندار دریافت کیے جو آگ کے درجہ حرارت پہ رہ سکتے ہیں ۔ وہ چھوٹے ہو سکتے ہیں ، لیکن وہ بہت گرم ہیں .  ,وہ بہت قدیم خوردبینی جاندار ہیں جنہیں Archaeaکہا جاتا ہے، زمین پر مائکروبیل یا خوردبینی زندگی کی یہ قدیم شاخ 1977 میں سائنسدانوں کی طرف سے دریافت ہوئی.

پودوں اور جانوروں کے برعکس  یہ خوردبینی جاندار بڑے سخت ماحول جیسا کہ انتہائی گرم آتش فشانی منفذوں ( Volcanic vents)  وینٹ اور ایسڈک گرم چشموں میں زندہ رہ سکتے ہیں .  ,وہ سورج کی روشنی یا نامیاتی کاربن کے بغیر اور کھانے کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں ، اور وہ کاربن کے بجائے سلفر، ہائیڈروجن، اور دوسری چیزیں جو عام حیاتیات  metabolize یا مستحل نہیں کر سکتی، کو اپنی خوراک  اور زندہ رہنے کے  لیے استعمال کرتے ہیں ۔یہ بات سائنس فکشن کی طرح نظر آتی ہے، لیکن یہ حرارت اور آگ سے محبت رکھنے والے جاندار ( Thermophilic Organisms)   میں سے کئی پانی کے ابلتے نقطہ یا نقطہ کھولاؤ ( Boiling point of water)  کے قریب درجہ حرارت جیسا کہ 88 ڈگری سینٹی گریڈ  پر بھی زندہ رہ سکتے اور اپنی نسل پیدا  کرسکتے ہیں .[1]

اس سے مذہب کے اس تصور کو تقویت ملی کہ ایسی مخلوقات جیسا کہ جن بھی موجود سکتے ہیں جو خود آگ سے بنے ہوں اور آگ اور انتہائی بلند درجہ حرارت ان کے لیے بالکل نقصان دہ نہ ہو۔اب سائنس میں آئی ڈی کی اصطلاح ایسے غیر مجسم اور مخفی زندگی کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن کے اجسام ہمارے اجسام کے مقابلے میں مختلف فریکونسی یا تعدد کے قدرتی ارتعاش میں ہیں ( واضح رہے کہ سائنس کے مطابق کائنات کی ہر چیز اپنی قدرتی یا نیچرل فریکونسی کے ساتھ ارتعاش کی حالت میں ہے) اور ان غیر مجسم اجسام میں روح،جنات  عنصر یا فرشتے بھی شامل ہیں .  تاریخ سے لے کر کئی سائنسدانوں کے اپنے ذاتی تجربات تک کے واقعات کے مطابق جنات اور فرشتے( اس پہ میں پہلے تفصیل سے ایک اور مضمون میں لکھ چکا ہوں ) آتشی جسم یا نوری جسم( Fire or light body ) سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں ۔

اس سے یہ گمان کیا گیا کہ ایسی مخلوقات یا جاندار موجود ہیں جو آگ یا روشنی سے بنے ہیں جیسا کہ مذہب کا دعویٰ ہے کہ جنات اور فرشتے آگ اور روشنی سے بنے ہیں ۔[2]

اب سائنسدانوں کے مطابق سورج پر آگ سے بنی زندگی( Fire based life forms) موجود ہوسکتی ہے ۔

ایک اعلان میں، جو سائنسدانوں نے ہائڈروجن پہ مبنی ستاروں جیسا کہ سورج کے بارے میں کیا، وہ سائنسدانوں کا ان ستاروں کے بارے میں نظریہ مکمل طور پہ تبدیل کر سکتا ہے۔ NASA محققین نے ایک نظریاتی مطالعہ شائع کیا جس کے مطابق سورج پر آگ سے بنی زندگی( Fire based life forms) موجود ہوسکتی ہے ۔ سائنسدانوں کے مطابق مضبوط مقناطیسی میدانوں ( Magnetic fields)  کے ساتھ آئینی گیس( Ionic gases) کے بہاؤ  اور 10،000 ڈگری فارن ہیٹ اور بار بار خرابی کے ساتھ، سورج سب سے پہلا ستارہ ہے جسے ہم نے آگ پہ مبنی حیاتیات یعنی زندگی کے لیےصحیح حالات کے ساتھ دیکھا ہے کہ، اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس نظریہ کی حمایت کے ثبوت موجود ہیں کہ آگ کے بیکٹیریا( Fire bacteria)، آگ کیڑے( Fire insects)، اور یہاں تک کہ چھوٹی آگ مچھلی( Fire fish) ایک بار شاید سورج کی سطح پر آباد  تھے.

ان کے مطابق وسیع پیمانے پر تحقیق کے بعد، ہمیں یقین ہے کہ سورج کی سطح اور سورج آگ کی بنیاد پر موجود  زندگی کے لئے موزوں ہوسکتی ہے، بشمول واحد واحد شعب مائکروبز یا آگ میں رہنے والے خوردبینی جاندار(Single flame microbes) اور زیادہ پیچیدہ چنگاری  کی طرح کی حیاتیات( Ember like complex life forms) بھی شامل ہیں ۔یہ بات نمایاں محقق سٹیون ٹی. آکرمین نے کی کہ وسیع مقدار میں ہیلیم رکھنے والی انتہائی چارج شدہ ذرات رکھنے والی سورج کی سطح آگ پر مبنی زندگی کے لیے بہترین خوراک کا ذریعہ فراہم کرسکتی ہے. [3]

لہذا سائنس کے مطابق آگ سے بنی مخلوقات جیسا کہ جنات، روشنی اور پلازما سے بنی مخلوقات جیسا کہ فرشتے موجود ہیں اور ان کا انکار بالکل غلط ہے اور یاد رہے کہ مذہب حقائق سائنس پہ پرکھے نہیں جا سکتے کیونکہ مذہب کے بیشمار حقائق کا لوگوں نے سائنس سے انکار کیا جن کو بعد میں سائنس نے ثابت کر دیا۔لہذا سائنس ہمیشہ جستجو اور تحقیق کے مراحل میں رہتی ہے اور جستجو کا یہ سفر کسی پوشیدہ حقیقت کے انکار کی بنیاد نہیں ہوسکتا۔

ھذا ما عندی۔ واللہ اعلم باالصواب۔ الحمدللہ

حوالہ جات:

1:https://science.nasa.gov/science-news/science-at-nasa/1998/msad16sep98_1
2:https://www.solarancestor.com/heliocentricity.html
3:https://www.theonion.com/scientists-theorize-sun-could-support-fire-based-life-1819575858

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close