جنگ و امن میں انسانی اقدار کا تحفظ اسلام کا بے مثال کارنامہ

اسامہ شعیب علیگ

مغرب میں جدید دورکا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں ہوا۔ سائنسی فکر کے فروغ اور ارتقا کے نتیجے میں مغرب ایک صنعتی اور مشینی کلچر میں ڈھل گیا جس کے ذریعہ تیار شدہ مال کی کھپت کے لیے نئی نئی منڈیوں کی تلاش ایک ناگزیر ضرورت بن گئی۔ سستے خام مال کی ضرورت نے بھی یورپی اقوام کو ایشیائی ممالک کی طرف پہلے جھانکنے، پھر داخل ہونے اور بالآخر قابض ہونے کے مواقع فراہم کیے۔
سترہویں صدی عیسوی میں مغرب کو مشرق کی سلطنتو ں تک پہنچنے پھر انہیں سیاسی طور پر اپنا غلام بنانے کے مواقع ملے۔ مغرب اپنی مادّی ترقیات اور سائنسی فتوحات سے حاصل کردہ قوت و سبقت کو ایک عالمی غلبے کی صورت دینا چاہتا ہے اور اب وہ اسلامی تہذیب یا مشرقی تہذیبوں کو نگل کر ایک عالمی تہذیب کا خواب دیکھ رہا ہے جس کی جلد تعبیر کی تمنّا میں دنیا ایک جہنم زار بن گئی۔
آج صورت حال یہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے ممالک،قومیں اور افراد امن قائم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے مختلف عالمی ادارے اور تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں، جیسے،’ورلڈ پیس مومنٹ‘(World Peace Movement)، ’سیکورٹی کونسل‘(Security Council)،’ہیومن رائٹ واچ‘ (Human Right Watch)اور ’کنٹرول آرم کمپین‘ (Control Arm Companion)وغیرہ۔امن امان کے نام پر مختلف نظریات کا ہجوم ہے، جیسے ’پیسف ازم‘(Pacifism)، گاندھی ازم(Gandhism)، سوشلزم(Socialism)، نیشنلزم(Nationalism)، کمیونزم(Communism) اور سیکولرزم(Secularism) وغیرہ، ان کے تحت دنیا میں امن وامان کو فروغ دینے کے لیے مختلف پروگرام ،سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں۔ان سب کا مقصد ایک ہے کہ دنیا میں امن و امان رہے اور دویا دو سے زائد ملکوں میں جنگ نہ ہو۔لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے باوجود چھوٹی بڑی جنگیں ہوتی رہیں اور ان میں انسانی اقدار کی پامالی کے ساتھ لاکھوں اربوں انسانی جانیں ضائع ہوتی رہی ہیں۔ ماضی قریب میں دو عالمی جنگیں ’جنگ عظیم اول‘(1914ء) اور’جنگ عظیم دوم‘ (1939ء) اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔(1) اس کے علاوہ موجودہ دور میں افغانستان، عراق، شام،مصر،لیبیا،تیونس کے ساتھ بعض دیگر ممالک بھی جنگ کا شکار ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امن وامان قائم کرنے کا نعرہ لگانے والے ممالک اسلحے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ا مریکی ویب سائٹ ’کانگریشنل ریسرچ سروس‘ (Congressional Research Service)نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کہا ہے کہ عالمی سطح پرہتھیاروں کی تجارت ساٹھ ارب ڈالرسالانہ ہے جس میں چالیس فیصد امریکا کا ہے ۔(2)
نوئما(Knoema World Data Atlas) کی2013کی رپورٹ کے مطابق اسلحہ کی فروخت میں سرفہرست بالترتیب روس،امریکہ،چین،فرانس اور برطانیہ ہیں اور ان کی خریداری میں 2014 کی رپورٹ کے مطابق سرفہرست بالترتیب ہندوستان،سعودی عرب،ترکی،چین اور انڈونیشیا ہیں۔ دفاعی بجٹ کی بات کی جائے تو 2014کی رپورٹ کے مطابق سرفہرست عمان 11.06% ،سعودی عرب 10.04%،جنوبی سوڈان 09.03%،لیبیا 06.02%،کومبو 05.06%اور ہندوستان 02.04%اپنی مجموعی گھریلو پیداوار (G.D.P)کا خرچ کرتے ہیں۔(3)
اسلام پر ایک بے جا اعتراض
جدید دور میں مخالفینِ اسلام اور مستشرقین نے اسلام پر ایک اعتراض یہ کیا ہے کہ وہ ایک خوں خوار مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو خوں ریزی اور دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے ، اس کی اشاعت تلوار سے ہوئی ہے اوراس کی بنیاد طاقت و قوت پر ہے ۔یہ اعتراض جنگ وامن کے سلسلے میں اسلام کی تعلیمات سے صحیح طور پر آگہی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔اس اعتراض کی غیر معقولیت مولانا مودودی ؒ نے ان الفاظ میں واضح کی ہے:
’’اس بہتان کی اگر کچھ حقیقت ہوتی تو قدرتی طور پر اس وقت پیش ہونا چاہیے تھا جب پیروانِ اسلام کی شمشیر خاراشگاف نے کرۂ زمین میں ایک تہلکہ برپا کر رکھا تھا اورفی الواقع دنیا کو یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید ان کے یہ فاتحانہ اقدامات کسی خوں ریز تعلیم کانتیجہ ہوں۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ اس بہتان کی پیدائش آفتابِ عروجِ اسلام کے غروب ہونے کے بہت عرصہ بعد عمل میں آئی۔اس کے خیالی پتلے میں اس وقت روح پھونکی گئی جب اسلام کی تلوار تو زنگ کھا چکی تھی مگر خود اس کے بہتان کے مصنف،یورپ کی تلوار بے گناہوں کے خون سے سرخ ہو رہی تھی اور اس نے دنیا کی کم زور قوموں کو نگلنا شروع کردیا تھا۔‘‘(4)
اس مقالے میں آئندہ اسلام کے تصورِ امن پر روشنی ڈالی جائے گی اور یہ بھی واضح کیا جائے گا کہ دورانِ جنگ اسلام نے انسانی اقدار کا تحفظ کس حد تک کیا ہے۔
اسلام کا نظریۂ امن
اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کو عطا کردہ مختلف نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ’امن‘ ہے۔اگر انسانی زندگی میں یہ نہ ہو تو سارا سامانِ عیش و راحت بے کار اور بے مزہ ہو جاتا ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انسانوں کو اس نعمت کو یاد دلا کر شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے:
فَلْیَعْبُدُوا رَبَّ ہَذَا الْبَیْْتِ۔الَّذِیْ أَطْعَمَہُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَہُم مِّنْ خَوْفٍ۔ (5)
’’لہٰذا ان کو چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے مومنین اور صالحین زمین میں خلافت عطا کرنے کے ساتھ یہ بھی وعدہ فرمایا:
وَلَیُبَدِّلَنَّہُم مِّن بَعْدِ خَوْفِہِمْ أَمْناً یَعْبُدُونَنِیْ لَا یُشْرِکُونَ بِیْ شَیْْئاً۔(6)
’’اور ان کی (موجودہ) حالتِ خوف کوامن سے بدل دے گا،پس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔‘‘
تاریخ شاہد ہے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کیا، ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو پورا فرمایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی پوری ہوئی:
ان اللہ ناصرکم و معطیکم حتیٰ تسیر الظعینۃ فیما بین یثرب و الحیرۃ أو اکثرماتخاف علی مطیتھا السرق۔(7)
’’حق تعالیٰ تمہاری ایسی مدد کرے گا کہ ایک ہودج نشین عورت مدینہ سے حیرہ تک یا اس سے بھی طویل تن تنہا سفر کرے گی اور اس کو چوروں یا ڈاکوؤں کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔‘‘
یہ سب اسلام کی زریں تعلیمات کا نتیجہ تھا۔اسلام نے سب سے پہلے انسانی نفوس اور اعراض واملاک کی قدرو قیمت و حرمت کو ذہن نشین کرایا۔ سارے انسانوں کوایک ماں باپ کی اولادبتایااور انہیں آپس میں بھائی بھائی قراردیا۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْراً وَنِسَاءً۔(8)
’’اے لوگو!اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایااور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبۃ حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:
فان دماء کم و أموالکم وأعراضکم علیکم حرام کحرمۃ یومکم ھذا فی بلدکم ھذا،فی شھرکم ھذا،فاعادھا مراراً۔(9)
’’بیشک تمہارے خون،تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے آپس میں اسی طرح قابل احترام ہیں،جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس شہر میں اس مہینہ کے اندر ،پھر آپ نے اسے بار بار دہرایا۔‘‘
قرآن کریم نے ان انسانوں کی شدید مذمت کی جن کا کام زمین میں تخریب و فساد اور حرث و نسل کو برباد کرنا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِیْ الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیِہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّہُ لاَ یُحِبُّ الفَسَادَ۔(10)
’’اور جب اسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے ،تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے،کھیتوں کو غارت کرے اور نسلِ انسانی کو تباہ کرے۔حالاں کہ اللہ(جسے وہ گواہ بنا رہاتھا)فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔‘‘
اسلام نے انسانوں کو ان تمام کاموں سے روکا جن سے لوگوں کے درمیان عداوت و نفرت پیدا ہوتی ہے۔جیسے غیبت،چغل خوری،جھوٹ،تجسس،بدگمانی اور ایک دوسرے کا مذاق اڑانا وغیرہ۔قرآن کہتا ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَی أَن یَکُونُوا خَیْْراً مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاء مِّن نِّسَاء عَسَی أَن یَکُنَّ خَیْْراً مِّنْہُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِءْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِیْمَانِ وَمَن لَّمْ یَتُبْ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ ۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیْراً مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا یَغْتَب بَّعْضُکُم بَعْضاً أَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَن یَأْکُلَ لَحْمَ أَخِیْہِ مَیْْتاً فَکَرِہْتُمُوہُ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ۔(11)
’’اے لوگوجو ایمان لائے ہو!نہ مرد دوسرے مرد کا مذاق اڑائیں،ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں،اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں،ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ایمان لانے کے بعد تو فسق کا نام بھی برا ہے۔اور جو لوگ اس روش سے توبہ نہ کریں تو یہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو!بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔اور ٹوہ میں نہ لگو۔اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو۔کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردار بھائی کا گوشت کھائے؟تم نے تو اس کو ناگوار جانا۔اللہ سے ڈرو،بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا،مہربان ہے۔‘‘
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سارے سماوی ادیان کے اصول ومقاصد کو یکساں قرار دیتے ہوئے نبیوں اوررسولوں کو آپس میں بھائی قرار دیا ہے اور ادیان کی بنیاد پر انسانوں کو لڑنے یا جنگ کرنے سے منع کیا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:
قُولُواْ آمَنَّا بِاللّہِ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِیَ مُوسَی وَعِیْسَی وَمَا أُوتِیَ النَّبِیُّونَ مِن رَّبِّہِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَیْْنَ أَحَدٍ مِّنْہُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ۔(12)
’’مسلمانو!کہو:ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی اور جو ابراہیمؑ ،اسمٰعیلؑ ، اسحقؑ ، یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں۔‘‘
دینِ اسلام نے دوسری قوموں اور ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے،ان سے لین دین، تجارت اوران کی صنعت و حرفت سے مستفید ہونے سے منع نہیں کیا ہے۔مزید یہ کہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو انہیں اپنے مذہب اور عقائد کے مطابق عمل کرنے کی پوری اجازت دی ہے اور مسلمانوں کو ان کے ساتھ انصاف کرنے اور حسن سلوک کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ قرآن کہتا ہے:
لَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْْہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔(13)
’’اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتاجنھوں نے دین کے معاملے میں نہ تم سے جنگ کی ہے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے ۔اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔‘‘
ان اصول و مبادی سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں امن و امان کو کیا حیثیت دی گئی ہے۔ خود قرآن کریم کی 133 سے زیادہ آیتوں میں لفظ ’سلم‘ اور اس مادے کے دیگر الفاظ موجود ہیں۔دریں اثنا لفظ ’حرب۔جنگ‘پر مشتمل صرف چھ آیات ہیں۔اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے جملہ اغراض و مقاصد میں امن و سلامتی کی فکر کو اہم مقام حاصل ہے۔(14)
اسلام کا نظریۂ جنگ
اسلام نے ہمیشہ اعتدال پسند اصول جنگ کی تبلیغ کی ہے اورجنگ کی اجازت صرف فتنہ و فساد اور ظلم وزیادتی کو روکنے، بدامنی کے ماخذوں کو ختم کرنے،امن وامان قائم کرنے ،انسانی زندگی کی جائز حفاظت اور حقیقی اقدار کے لیے دی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ ہَذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ أَہْلُہَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ وَلِیّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ نَصِیْراً۔(15)
’’آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں،عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا،ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے۔‘‘
ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے:
إِنَّمَا جَزَاء الَّذِیْنَ یُحَارِبُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِیْ الأَرْضِ فَسَاداً أَن یُقَتَّلُواْ أَوْ یُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَیْْدِیْہِمْ وَأَرْجُلُہُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ یُنفَوْاْ مِنَ الأَرْض۔(16)
’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرتے ہیں اور ملک میں فساد برپا کرنے میں سرگرم ہیں،ان کی سزا تو یہ ہے کہ عبرت ناک طور پر قتل کیے جائیں یا سولی پر لٹکائے جائیںیا ان کے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹ ڈالے جائیں یا جلا وطن کر دیے جائیں۔‘‘
اسلام دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے بھی جنگ کرنے کا حکم دیتا ہے۔قرآن اسی کو ’جہاد فی سبیل اللہ‘سے تعبیر کرتا ہے۔متعصبین اور مخالفین اسلام اسے ’مذہبی جنگ‘ کا نام دیتے ہیں کہ اس کے ذریعہ مسلمان دوسرے لوگوں سے بالجبر اسلام قبول کراتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے انسانوں کو مذہبی آزادی ہے۔قرآن کہتا ہے:
لاَ إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ۔(17)
’’دین کو قبول کرنے کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔‘‘
اسلام اس لیے جنگ کا حکم دیتا ہے کہ امت کو خارجی مظالم سے نجات دلائے اور ساری قوموں کے لیے بھی دنیا میں امن و سکون ہو۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ کُلُّہُ لِلّہ۔(18)
’’ان سے جنگ کرو تا آں کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔‘‘
ان مقاصد کے حصول کے بعد اسلامی جنگ کے جواز کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔مسلمانوں کو اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ مال دولت کے حصول کے لیے جنگ کریں ۔ تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ محض ملک کی توسیع یا معاشی فائدے کے لیے جنگ کرنا جائز نہیں ہے۔
جنگ میں انسانی اقدارکے تحفظ کے احکام
اسلام نے سب سے پہلے جنگ کے سلسلے میں گذشتہ طریقوں کی اصلاح کی، اس کے بعد اس کے لیے ایسے پاکیزہ اصول طے کیے کہ یہی جنگ، جس کا نام سنتے ہی روح کانپ اٹھتی تھی، اب انسانیت کی بے راہ روی اور اخلاقی، جانی اور مادی تحفظ کا ذریعہ بن گئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فوجوں کو روانہ کرتے وقت انسانی اقدار سے متعلق باقاعدہ ہدایات دی جا تی تھیں۔چناں چہ آپؐ سپہ سالار اور فوج کو پہلے تقویٰ اور خوفِ خدا کی نصیحت کرتے پھر ارشاد فرماتے:
اغزوا بسم اللہ، و فی سبیل اللہ،قاتلوا من کفر باللہ،ولا تغلّوا، و لا تغدروا، و لا تمثلوا، و لا تقتلوا ولیداً۔(19)
’’جاؤاللہ کا نام لے کر اور اللہ کی راہ میں،لڑو ان لوگوں سے جو اللہ سے کفر کرتے ہیں مگر جنگ میں کسی سے بدعہدی نہ کرو،غنیمت میں خیانت نہ کرو،مثلہ نہ کرو اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو۔‘‘
انسانی اقدار کے اصول و ضوابط میں سے چند کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
ضرورت کے بہ قدر جنگ
اللہ تعالیٰ نے جنگ کے حدود مقرر کر دیے ہیں اور اس سے آگے بڑھنے سے منع کردیا ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ لِلّہِ ۔(20)
’’ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہوجائے۔‘‘
صلح قبول کرنا
اسلام امن و سلامتی کو ترجیح دیتا ہے۔اس لیے اس نے دشمن کی طرف سے صلح کی درخواست کو قبول کرلینے کا حکم دیا ہے۔قرآن کہتا ہے:
وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّہِ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔(21)
’’اگر وہ صلح کے لیے جھکیں تو تم بھی جھک جاؤاور اللہ پر بھروسہ رکھو کہ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔‘‘
اب اگر وہ صلح کی خلاف ورزی کریں تو بھی ان سے اچانک جنگ کرنے سے منع کیا گیا ہے اور انہیں جنگ شروع کرنے سے پہلے باخبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ اب ہمارے درمیان کا معاہدہ ختم ہو گیا ہے۔جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:
وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانبِذْ إِلَیْْہِمْ عَلَی سَوَاء إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ الخَاءِنِیْنَ۔(22)
’’اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو اعلانیہ اس کے آگے پھینک دو،یقیناًاللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
سفراء کے قتل پر روک
اسلام نے سفیروں کو قتل کرنے سے بھی روکا ہے،خواہ وہ کتنا ہی گستاخانہ پیغام لائیں۔مسیلمہ کذاب کا سفیر عبادہ بن الحارث جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپؐ نے فرمایا:
لولا أنک رسول لضربت عنقک۔(23)
’’اگر تم قاصد نہ ہوتے تو میں تیری گردن مار دیتا۔‘‘
عمومی تباہی و بربادی پر روک
اسلام سے قبل جنگ کے لیے جب فوج نکلتی تو وہ راستے میں آنے والی ہر چیز، مثلاً درخت ،پیڑ پودے،فصل اور آبادیوں وغیرہ کو تباہ و برباد کر دیتی تھی۔اسلام نے اس سے منع کیا اور اسے فساد سے تعبیر کیا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِیْ الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیِہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّہُ لاَ یُحِبُّ الفَسَادَ ۔(24)
’’اور جب وہ حاکم بنتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور فصلوں اور نسلوں کو برباد کرے،مگر اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا ہے۔‘‘
ہاں جنگی مصلحت کے تحت درختوں اور عمارتوں وغیرہ کوتباہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنی نضیر کے موقع پر کیا تھا۔اسی طرح جنگ میں’ فریب دہی‘ کو جائز قرار دیا گیا ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے دشمن کی تدبیروں اورمنصوبوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے اور جنگ کا خاتمہ جلدی کیا جاسکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
الحرب خدعۃ۔(25)
’’جنگ فریب دہی (چال)ہے۔‘‘
حالتِ غفلت میں دشمن پر حملہ کی ممانعت 
اسلام سے قبل دشمنوں پررات یا رات کے آخری پہر میں غفلت کی حالت میں حملہ کیا جاتا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا اور فرمایا کہ صبح سے پہلے حملہ نہ کیا جائے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے :
کان اذا جاء قوماً بلیل لم یغر علیھم حتیٰ یصبح۔(26)
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی دشمن قوم پر رات کے وقت پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہو جاتی حملہ نہ کرتے تھے۔‘‘
تکلیف دے کر قتل کرنے پر روک
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کو باندھ کر یا تکلیف دے کر مارنے اور قتل کرنے سے منع فرمایا۔حضرت ایوب انصاریؓ سے مروی ہے:
ینھیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل الصبر۔(27)
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتلِ صبر(باندھ کر مارنے) سے منع فرمایا۔‘‘
مثلہ کرنے کی ممانعت 
عرب اور بعض دیگر اقوام جنگ میں دشمنوں کی لاشوں کا مثلہ کیا کرتی تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی لاشوں کی بے حرمتی کرنے اور مثلہ کرنے سے منع کیا۔مغیرۃ بن شعبۃؓ سے مروی ہے:
نھیٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم عن المثلۃ۔(28)
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ(قطعِ اعضا) سے منع فرمایا۔‘‘
آگ سے جلا کر مارنے پر روک
اسلام سے قبل جنگ میں قیدیوں یا دشمنوں کوآگ میں زندہ جلا دیا جاتا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ارشادِ نبوی ہے:
لا ینبغی ان یعذب بالنار الا رب النار۔(29)
’’آگ کا عذاب دینا سوائے آگ کے پیدا کرنے والے کے اور کسی کو سزاوار نہیں۔‘‘
قیدیوں کے قتل پر روک
اسلام نے قیدیوں کے ساتھ برا سلوک کرنے ، نامناسب سزا دینے اور قتل کرنے سے منع کیا ہے اور حکومت کو اختیار دیا ہے کہ چاہے تو انہیں بلا فدیہ آزاد کر دیا جائے یا فدیہ لے کر آزاد کیا جائے۔قرآن کہتا ہے:
حَتَّی إِذَا أَثْخَنتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا۔(30)
’’یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو،اس کے بعد(تمہیں اختیار ہے) یا تو احسان کر کے چھوڑ و یا فدیہ لے کر،تا آں کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے اور ان کو کھانا کھلانے کو باعثِ نیکی قرار دیا اور اسے مومن کی خوبی بتایا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِیْناً وَیَتِیْماً وَأَسِیْراً ۔إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللَّہِ لَا نُرِیْدُ مِنکُمْ جَزَاء وَلَا شُکُوراً ۔(31)
’’اور وہ مسکین،یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں،اس کی چاہت کے باوجود اور(اس جذبے کے ساتھ)ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلاتے ہیں۔ہم تم سے کسی بدلے اور شکریہ کے طالب نہیں ہیں۔‘‘
اسلام کی طرف سے انسانی حقوق و اقدار کی ان بے مثال تعلیمات نے دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں ایک عظیم انقلاب برپا کردیا ۔اس انقلاب کے لیے کل 19اور بعض روایتوں کے مطابق 27 غزوات(امام بخاری نے غزوات کی تعداد زید بن ارقمؓ کے حوالے سے انیس (19)لکھی ہے۔(32) اور 54سرایا اور بعض کے مطابق 56سرایا 2ھ سے 9ھ کے درمیان آٹھ سال کی مدت میں ہوئے۔اگران لڑائیوں کو جارحانہ اور اقدامی تسلیم کر لیاجائے تو بھی ان میں مجموعی طور سے 259 مسلمان شہید ہوئے ۔مخالفین کی طرف سے مجموعی طور سے 759 افراد قتل کیے گئے اور 6564 قیدی بنائے گئے،جن میں سے 6347 قیدیوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہِ لطف و احسان بلا کسی شرط کے آزاد فرما دیا تھا۔(33)
اس کے برعکس جنگ عظیم اول 1914ء میں کم وبیش ایک کروڑ انسانوں کا خاتمہ ہوا اور دوسری جنگ عظیم 1939ء میں چھ (6) کروڑ افراد مارے گئے۔موجودہ دور میں 1990ء کے بعد سے افغانستان،عراق اور پاکستان میں ہی دہشت گردی کے نام پر 4 ملین(40 لاکھ) مسلمان مارے جا چکے ہیں۔(34)
اگر اس میں شام،مصر،لیبیا،تیونس اور بعض دیگر ممالک کو شامل کر لیا جائے تو مقتولین کی تعداد 5 ملین (50 لاکھ) سے تجاوز کر جائے گی۔ لاکھوں عورتوں، بچوں اور بے گناہوں کی تباہی ان کے علاوہ ہے۔مکانوں،شہروں،ضروریاتِ زندگی اور غذائی سامانوں کی بربادی کا تو تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے۔پھر عالم گیر جنگوں کا مقصد توسیعِ سلطنت،حصول اقتدار ،خود غرضی ، اور اجتماعی ضد اور عصبیت کے سوا کچھ نہیں رہا ،اسی وجہ سے ان جنگوں میں انسانی اقدار کا تحفظ نہیں کیا گیا ۔جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا مقصدِ جنگ صرف یہ تھا کہ اللہ تعالی کی مخلوق کو اخروی عذاب اور دنیا میں ظلم و ستم سے محفوظ رکھا جا سکے تاکہ انسانیت کی تذلیل نہ ہونے پائے۔یقیناًیہ اسلام کا ایک بے مثال کارنامہ ہے۔
****
حواشی و حوالہ جات

(1) مفتی ظفیرالدین،اسلام کا نظامِ امن،قاسمی کتب خانہ،جامع مسجد،جموں توی،کشمیر،اشاعت دوم،1998ء،صفحہ19
(2) http://www.fas.org/sgp/crs/weapons/
(3)http://knoema.com/atlas/topics/National-Defense
(4)سید ابوالاعلیٰ مودودی،الجہاد فی الاسلام،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی، 2007ء،صفحہ15
(5) القریش:3۔4
(6) النور:55
(7)التوحید لابن خزیمۃ:1/384
(8)النساء:1
(9)بخاری:3/372
(10)البقرۃ:205
(11) الحجرات:11۔12
(12)البقرۃ:136
(13)الممتحنۃ:8
(14)مصطفیٰ السباعی،اسلام کا نظامِ امن و جنگ،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی،2016ء،صفحہ14
(15)النساء:75
(16)المائدۃ:33
(17)البقرۃ:256
(18)الانفال:39
(19)ترمذی:1617
(20)البقرۃ:193
(21)الانفال:61
(22)الانفال:58
(23)ابوداؤد:2762
(24)البقرۃ:205
(25)بخاری :3029
(26)ترمذی:1550
(27)ابوداؤد:2687
(28)مسند احمد:17686
(29)ابوداؤد:2675
(30)محمد:4
(31)الدھر:8 ۔9
(32)بخاری:3949
(33)قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری،رحمۃ للعالمین،مرکز الحرمین الاسلامی،فیصل آباد،پاکستان،2007ء،جلد 2،صفحہ462۔463
(34)IPPNW (International Physicians for the Prevention of Nuclear War),Casualty Figures after 10 Years of the 147War on Terror148 Iraq Afghanistan Pakistan,Washington DC, Berlin, Ottawa-March 2015

 



⋆ اسامہ شعیب علیگ

اسامہ شعیب علیگ
مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیسٹ فیکلٹی ہیں۔ آپ نے ایک کتاب کے علاوہ ۱۵ مقالے اور ۷۰ کے قریب مضامین تصنیف کیے ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

امہات المومنین کی معاشرتی زندگی: ایک مطالعہ

مادیت کے اس دور میں جب کہ مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں تیزی سے سرایت کررہا ہے اور اس سے متاثر ہ مسلمان خواتین راہِ راست سے بھٹکی ہوئی خواتین کواپنے لیے قابلِ تقلیدسمجھ رہی ہیں تویہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ان کے سامنے برگزید ہ اور ممتاز خواتین کی صحیح تصویر پیش کی جائے۔ ایک مسلمان خاتون کے لیے امہات المومنین کی زندگی کے تمام پہلوخواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، قابلِ تقلید نمونہ موجود ہیں۔