مذہبی مضامین

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

دنیا کی محبت سے رب نہیں ملتا اور رب کی محبت سے دنیا اور آخرت دونوں مل جاتی ہیں۔

مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی

آج لوگوں نے دنیا کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنایاہواہے۔ غریب بھی امیر بننے کی اور دنیا کوحاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور امیر امیرترہونے کی کوشس کرتا ہے آج کے اس دورمیں اگر آپ  دنیا کے ساتھ ساتھ  دین کی بات کریں گے تو لوگ کہتے ہیں کہ دیکھودین کی بات کرتا ہے دنیاکہاں پہنچ گئی ہے۔ اس دور میں خالص دنیوی  اور مادی ترقی  کے مسئلہ کواتنی اہمیت دے دی گئی ہے کہ غالباً!اس سے پہلے کبھی بھی اس کو اہمیت کایہ مقام حاصل نہ ہواہوگا۔ اسی وجہ سے دنیا کی تحقیر اورمذمت کی بات بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں بھی آسانی سے نہیں اترتی، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بعض وہ لوگ جومسلمانوں کہ رہنماسمجھے جاتے ہیں اوردین کے لحاظ سے ان کا شمار عوام میں نہیں بلکہ خواص میں کیاجاتاہے  وہ بھی اپنے دلوں میں دنیاکی محبت جمائے بیٹھے ہیں۔ روزانہ ہم لاتعدادلوگوں کے جنازوں کودیکھتے ہیں اور کئی جنازوں کوہم خود کندھادیتے ہیں جوہمیں اس دنیافانی سے ایک سبق حاصل کرنے کا بہترین درس دیتاہے۔ اگر انسان دل کی کھڑکی کھول کر اپنے دل میں جھانکے تو اسے اس بات کاعلم ہوجائے گا کہ

 اے غافل!  اس دنیامیں تو آیا ماں کے بطن سے ننگے بدن اور اتنا تو نے سفر کیا صرف چند گزکفن کے کپڑے کے لئے۔ جب انسان مرتا ہے تو حکم ہوتا ہے اب سلے ہوئے کپڑے اتروادو اگراتارنے میں کہیں مشقت ہوتوعزیزواقارب ہی کہتے ہیں کہ پھاڑکہ اتاردو۔ کپڑوں کوپھاڑاجاتاہے اب کفن کا کپڑالایاجاتاہے کوئی بھی یہ نہیں کہتاکہ بھائی جاکہ درزی سے سلواکہ لے آئو بلکہ بناسلے ہوئے (کفن)کپڑے پہنائے جاتے ہیں۔ دوست واحباب آتے ہیں اوہر کسی کی زبان پر یہ ہوتاہے کہ کتنی دیر ہے دفنانے میں۔  قبر میں صرف نیک اعمال ساتھ لے کہ جاتا ہے جس دنیا کے لئے اتنی محنت کی اس کوحاصل کرنے کے لئے اپنوں کے ساتھ بے گانوں جیساسلوک کیا۔ آج صرف دوگز کاٹکڑاس کے حصے میں آیا۔ آج ان لوگوں سے جاکہ اگر پوچھاجائے جو اس زمیں کے نیچے چلے گئے کہ بھائی دنیا تمہارے کتنے کام آئی ہے تو انکاجواب یہی ہوگا۔ جو کھاگیاوہ گُماگیا۔ جوجوڑگیاوہ چھوڑگیا۔ جودے گیاوہ لے گیا۔ دنیا کسی کے ساتھ وفانہیں کرتی اس دنیا سے محبت ہرگناہ کی جڑہے۔ کہنے والے نے کیاخوب ہی نقشہ کھینچاہے آنسوئوں کاجاری نہ ہونادل کی سختی کی وجہ سے ہے۔ دل کی سختی گناہوں کی کثرت کی وجہ سے ہے۔ گناہوں کی کثرت موت کو بھلانے کی وجہ سے ہے۔ موت کو بھلانالمبی امیدوں کی وجہ سے ہے۔ لمبی امیدیں دنیاکی محبت کی وجہ سے ہیں ۔

نبی کریم ﷺ کی لاتعداد احادیث دنیا سے بے رغبتی کادرس دیتی ہیں روایات میں آتاہے کہ رسول اللہ ﷺ کاگزربکری کے ایک مردہ بچے پر ہوا، جو راستہ میں مراپڑاہواتھا، اس وقت آپ کے ساتھ جو لوگ تھے  ان سے آپﷺنے فرمایا:تم میں سے کوئی ایک اس مرے ہوئے بچے کو صرف ایک درہم میں خریدناپسند کرے گا؟انہوں نے عرض کیا کہ ہم تو اسکوکسی قیمت پربھی خریدناپسندنہیں کریں گے۔ آپ ﷺنے فرمایا:قسم ہے خداکی کہ دنیا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ ذلیل اور بے قیمت ہے جتناذلیل اور بے قیمت تمہارے نزدیک یہ مرداربچہ ہے(صحیح مسلم)

ایک اور روایت میں آتاہے کہ اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدروقیمت مچھرکے پر کے برابربھی ہوتی تووہ کسی کافرمنکرکوایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔ یہاں سے یہ پتہ چلتا ہے کے اللہ اور اس کے لاڈلے پیغمبرﷺکے ہا ں اس دنیا کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔  افسوس کہ آج مسلمانوں نے بھی اس کو طلب کرنے کی کوشش کرنا شروع کردی جو بندہ اسے حاصل کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے وہ کبھی بھی گناہوں سے نہیں بچ سکتاہاں اگر دنیا کو دین کے تابع کرکے حاصل کیاجائے تو پھر دنیا بھی اچھی اور آخرت بھی اچھی ہوسکتی ہے۔ اور اگر دین کو دنیا کے تابع کرنا شروع کردیا(جیساکہ عموماًہورہاہے) تونہ دنیا اچھی ہوگی نہ آخرت۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمادیا:

خسرالدنیاوالآخرۃ

دنیامیں بھی خسارہ اورآخرت میں بھی خسارہ اٹھاناپڑیگا۔

جو اللہ کا پیارابندہ بن جاتاہے اللہ پاک اسے دنیا سے بچاتا ہے۔ حضرت قتادہ بن نعمان ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تودنیاسے اس کو اسطرح پرہیزکراتاہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی اپنے مریض کو پانی سے پرہیزکراتاہے(جبکہ اسکوپانی سے نقصان پہنچتاہو)

ہمیں دعاکرنی چاہئے کہ اللہ پاک ہمیں بھی اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل کر دے۔ حقیقی کامیابی یہی ہے۔

مال اور دنیا کی محبت بڑھاپے میں بھی جوان رہتی ہے انسان بوڑھاہوجاتاہے  چلنے پھرنے سے بھی عاری ہوجاتاہے۔ پھر بھی دنیا کی محبت سے جی نہیں بھرتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:آدمی بوڑھاہوجاتاہے  مگراس کے نفس کی دو خصلتیں اورزیادہ جوان اور طاقت ورہوتی ہیں ایک دولت کی حرص اور دوسری زیادتی عمرکی حرص۔

دنیااوردنیاکی زندگانی کھیل تماشے کے سواکچھ نہیں۔ میرے کانوں میں آج بھی رسول اللہﷺ کا خُطبہ گونجتاہے اگر یہاں پر اسے ذکر نہ کیا جائے تو قارئین کتے ساتھ زیادتی ہو گی۔ حضرت عمروبن عاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبہ دیااور اپنے اس خطبہ میں ارشاد فرمایا۔ ۔ ۔ سن لو۔ اور یاد رکھو کہ دنیا ایک عارضی اور وقتی سودا ہے جو فی الوقت حاضر اور نقد ہے(اور اسکی کوئی قدروقیمت نہیں ہے، اسی لئے)اُس میں ہر نیک وبد کاحصہ ہے اورسب اسکو کھاتے ہیں اور یقین کروکہ آخرت مقرر وقت پرآنے والی ایک سچی اٹل حقیقت ہے اور سب کچھ قدرت رکھنے والاشہشاہ اسی میں (لوگوں کے اعمال کے مطابق جزااورسزاکا) فیصلہ کرے گا۔ یادرکھو کہ ساری خیر اور خوشگواری اور اسکی تمام قسمیں جنت میں ہیں ۔ اورساراشر اوردُکھ اسکی تمام قسمیں دوزخ میں ہیں ، پس خبردار۔ خبردار(جوکچھ کرو) اللہ سے ڈرتے ہوئے کرو اور یقین کرو کہ تم اپنے اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور میں پیش کیئے جائوگے پس جس شخص نے ذرہ برابربھی نیکی کی ہوگی وہ اس کو بھی دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی کوئی برائی کی ہوگی وہ اسکو بھی پالے گا(مسندامام شافعی)یہ خطبہ تمام امت مسلمہ کو درس دیتاہے کہ اس دنیا کا سودا عارضی اور وقتی ہے۔ یہ ہمیں اس دنیا کی جھوٹی آنکھوں سے نظرنہیں آتاجب یہ آنکھ بند ہوگی اور حقیقی آنکھ کھلے گی تب غافل انسان کو ہوش آئے گا۔ حضرت ابراہیم بن ادہم ؒ کسی تعارف کے محتاج نہیں ایک دفعہ وہ اپنے کسی کام سے اپنے محل سے باہرگئے ہوے تھے۔ انکی خادمہ صفائی کی غرض سے ان کے محل میں داخل ہوئی۔ صفائی کرتے کرتے جب انکے تخت پے پہنچی تو خیال آیا کہ ذرا اس تخت پہ بیٹھ کے دیکھتی ہوں کیسا ہے جب اس پہ بیٹھی تو اتنا سکون ملا کہ آنکھ لگ گئی اور سو گئی جب حضرت ابراہیم بن ادہم ؒواپس آئے اور دیکھا کہ خادمہ ان کے تخت پہ سوئی ہوئی ہے انہیں بہت غصہ آیافوراًدُرّہ نکالا اور اسکے ساتھ اسے پیٹا۔ وہ فوراًاُٹھ کھڑی ہوئی اور رونا شروع کردیا۔ تھوڑی دیر روئی اور پھر ہنسناشروع کردیا۔ حضرت ابراہیم بن ادہمؒحیران ہوئے کہ رونے کے بعد فوراًہنسناکیسا؟اس سے پوچھ بیٹھے کہ روئی تو اس وجہ سے ہو کے میرے دُرّے مارنے کی وجہ سے تجھے درد محسوس ہوااور تو رو گئی۔ ذرامجھے یہ بتا کہ رونے کے بعد فوراًہنسناکیوں شروع کردیا؟اس خادمہ نے بڑاعجیب جواب دیا کہ اے بادشاہ محترم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں چند منٹ کے لیے اس تخت پے سوئی مجھے اتنے سخت دُرّے لگے اور جو اس تخت پہ اس عارضی دنیامیں پوری زندگی سوتارہا کل قیامت کے دن پتانہیں اسے کتنے دُرے لگیں گے بس کیا تھا اس وقت حضرت ابراہیم بن ادہمؒنے تاجِ بادشاہی اتارا اور جنگل کا راستہ اختیار کرلیاچندعرصے کے بعد انکے کسی وزیر کا انکے پا س سے گزرہواپوچھاکہ زندی کیسی گزر رہی ہے؟انہوں بڑاپیاراجواب دیاکہ جب میں بادشاہ تھا میری بات میری رعایابھی نھیں سنتی تھی مگر اب میں اس سمندر کے کنارے بیٹھ کر کے خداکے نام کی ضرب لگاتاہوں تو مچھلیاں میری اس صداکوسنتی ہیں تو فوراًہوامیں چھلانگ لگاتی ہیں دوبارہ اللہ کے نام کی ضرب لگاتاہوں تو واپس نیچے آجاتی ہیں۔ جب اس دنیا کی محبت دل سے نکلتی ہے اور اللہ کی محبت دل میں آتی تو پھر حیوان بھی بات سنناشروع کردیتے ہیں پھر شیر بھی راستے کاپتہ بتاتے ہیں۔

یاد رکھنا چاہئیے کہ دنیا کی محبت سے رب نہیں ملتا اور رب کی محبت سے دنیا اورآخرت دونوں مل جاتی ہیں۔ دنیاکی محبت کو دل سے نکالناہوگااور یہ نکلے گی اللہ پاک کا کثرت کے ساتھ ذکر کرنے سے۔ مولانا رومؒ سے کسی نے دنیا کی حقیقت پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل میں چلاجاتاہے اس نے دیکھا کہ اس کے پیچھے شیر چلا آتاہے وہ بھاگتا ہے جب بھاگتا ہواتھک جاتا ہے تودیکھتا ہے کہ سامنے ایک گڑھاہے وہ چاہتاہے کہ گڑھے میں گر کر کے جان بچالے۔ مگر گڑھے میں اژدھانظرآتاہے۔ اتنے میں درخت کی ایک ٹہنی پہ نظرپڑتی ہے وہ اسے پکڑکردرخت پر چڑھ جاتاہے۔ مگردرخت پڑھ چڑھنے کے بعد پتاچلاکہ دوچوہے ایک سفید اور دوسراسیاہ درخت کی جڑکوکاٹ رہے ہیں وہ بہت پریشان ہوتاہے کہ کچھ دیر میں درخت گِرجائے گا اورمیں شیراوراژدھاکا شکارہوجائونگا اتنے میں اسے اوپرکی جانب ایک شہدکاچھتہ نظرآیااوروہ شہدپینے اورحاصل کرنے میں اتنامشغول ہوگیاکہ نہ شیرکی فکر رہی نہ اژدھے کاڈراور نہ چوہوں کاغم۔ اتنے میں درخت کی جڑکٹ گئی وہ گرپڑاشیرنے اسے پھاڑکرگڑھے میں پھینک دیاجہاں اژدھانے اسے نگل لیا۔

 مولانارومؒ تشریح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جنگل سے مراد یہ دنیاہے شیر سے مراد موت ہے جو پیچھے لگی ہوئی ہے۔ گڑھا قبر ہے جو انسان کے آگے ہے۔ اژدھابُرے اعمال ہیں جو قبر میں عذاب دیں گے۔ چوہے دن اور رات ہیں اور درخت عمر ہے جوہر گزرنے والے دن کم ہو رہی ہے۔ اور شہد کا جتھہ دنیاکی غافل کر دینے والی لذتیں ہیں کہ انسان اعمال کی جواب دہی موت قبرسب بھول جاتا ہے ا ور موت اسے اچانک آن لیتی ہے۔ انسان اگر دنیا کماتاہے تو اسے یہ بھی چاہئیے کہ دین کے اصول بھی سامنے رکھے کہ حلال کیاہے حرام کیاہے۔ ورنہ دنیا دنیا میں ہی رہ جائے گی اور قبر کی پہلی منزل ہی میں پھنس جائے گا جس سے چھٹکارامشکل ہوجائے گا۔ لاتعداددنیاکے بادشاہوں کی قبروں پہ جب نظرپڑتی ہے تویہی پیغام انہیں دیکھ کہ ملتاہے۔

کل جن کارعب تھا دبدبہ تھاشُورتھاغُل تھا    

جب قبر کہن اُکھڑی نہ عضوِبدن تھانہ تارِکفن تھا

یہی آواز ایک دوسرے شاعر نے اپنے الفاظ میں یوں لگائی:

جگہ جی لگانے کی دنیانہیں ہے  

یہ عبرت کی جاہے تماشہ نہیں ہے

اللہ پاک سے ہمیشہ دعاکرنی چاہیے کہ اللہ پاک دین ودنیا کی بھلائیاں نصیب فرمائے دنیاوآخرت کی رسوائیوں سے محفوظ فرمائے(آمین)

مزید دکھائیں

مولانا محمد طارق نعمان

مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی جامع مسجد خالد بن ولید فیزٹاؤن پکھوال روڈ مانسہرہ کے خطیب، مسجد فیصل شاپنگ آرکیڈ پنجاب چوک مانسہرہ کے امام اور مدرسۃ البنات صدیقہ کائنات و جامعہ اسلامیہ انوارِ مدینہ مانسہرہ کے ناظم تعلیمات ہیں۔ موصوف صوبائی اسلامک رائٹر موومنٹ کے پی کے کنونیر ہیں۔ آپ کے مضامین روزنامہ اسلام، اوصاف، ایکسپریس، جنگ، اخبارنو، شمال، جرات وغیرہ کے علاوہ دیگر اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

متعلقہ

Close