مذہبی مضامین

حجاج کرام حر مین شریفین کے سفر کو با مقصد بنائیں

حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی

اسلام کے فرائض میں سے ایک مستقل فرض بیت ا للہ کا حج ہے جو بندے پر عقل و بلوغ اور اسلام کے بعد صحت و تند رستی کی حا لت میں فرض ہے۔ حج کے ار کان، میقات سے احرام باندھنا، عرفات میں ٹھہر نااور خا نہ کعبہ کی زیارت و طواف وغیرہ کر نا اس پر سب کا اجماع ہے۔ بغیر احرام کے حرم شریف کے حدود میں داخل نہیں ہو نا چا ہیے۔ حرم کو حرم اس لیے کہا جاتاہے کہ یہ مقام ابراہیم ہے اور امن وحر مت کی جگہ ہے، سب سے اول مسجد جو خدائے تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنائی گئی وہ ہے جو مکہ میں ہے یعنی کعبہ شریف وہ مبارک گھر ہے۔ یعنی اس میں مغفرت و رحمت ہے اور سارے جہان کے لیے سیدھی راہ اور ہدایت کی بنیاد ہے۔ سب رسولوں کا، ولیوں اور مسلمانوں کا قبلہ گاہ ہے، اس میں اللہ سبحا نہُ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں قرآن مجید میں ار شاد باری تعالیٰ ہے۔ ( القر آن، سورہ الحج22، آیت32، )

تر جمہ: بات یہ ہے، اور جو اللہ کی نشا نیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پر ہیز گاری سے ہے، قر بانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں سے ہیں محمد بن ابی مو سیٰ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں عر فات میں ٹھہر نا اور مز دلفہ اور رمی جمار اور سر منڈ وانا اور قر بانی کے اونٹ شعا ئر اللہ ہیں۔ (حدیث) ابن عمر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا شعا ئر اللہ کیا ہیں آپ نے فر مایا بیت اللہ اور صفا مروہ(حدیث4495، 4861)اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اور نبی کریم  ﷺ نے احا دیث طیبہ میں اللہ کی نشا نیوں کی عظمت بیان فر مائی ہے اور ان کی تعظیم کا حکم فر مایا۔ الحمد للہ! آپ کو اللہ نے اپنے گھر بلایا اور حج جیسی نعمت عطا فر مائی تو(آپ) حجاج کرام کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ حج جیسی اہم عبادت کو صحیح طریقہ سے ادا کرنے کی کوشش کریں اور ساتھ ساتھ اس عبادت والے سفر کو با مقصد بنائیں حج کے تو پانچ ایام ہیں لیکن آپ کو وہاں 38دن سے لیکر44 دن تک کا وقت ملتا ہے جس میں حرمِ مدینہ شریف آقا  ﷺ کی بار گاہ میں 8 دن کی حاضری کا شرف حاصل ہو تاہے، آپ اپنے نصیب پر خوش ہوں دنیا کا ہر مسلمان مدینہ کی حاضری، خانہ کعبہ کی زیارت کی تمنا رکھتا ہے۔

 آپ کی تمنا پوری ہو رہی ہے تو اس کے ایک ایک لمحے (Minute) کو کار آمد بنائیں ابھی سے آپ حج کے سفر کا چارٹ(Chart) بنائیں کہ ہم وہاں جاکر زیادہ سے زیادہ وقت حرم مکہ وحرم مدینہ منو رہ میں گزا ریں گے ہر دن کم ازکم 50 نفل نمازیں ادا کریں گے ان شا ء اللہ تعالیٰ، فرائض و واجبات کے علاوہ ہر دن زیا دہ سے زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کریں گے مدینہ طیبہ میں کم ازکم 5 قرآن مجید کی تلاوت پوری کریں گے، آقا  ﷺ کی بار گاہ میں کم ازکم ایک لاکھ درود پاک اور جتنا زیادہ ہوسکے نذرانہ پیش کریں گے زیادہ سے زیادہ تو بہ استغفار کریں گے نبی رحمت  ﷺ کی بار گاہ میں تو بہ قبول ہو تی ہے اسکی بہت اہمیت و فضیلت ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وَمَآ اَرْ سَلْنَا مِنْ رََّ سُوْلٍ اِ لَّا لِیُطَاعَ بِاذْنِ ا للّٰہِ وَلَوْ اَنَّھُمْ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اَلَخْ(القر آن، سورہ نساء4، آیت64) تر جمہ: اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطا عت کی جائے اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمھارے حضور حا ضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چا ہیں اور رسول ان کی شفاعت فر مائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کر نے والا مہر بان پائیں۔ (کنز الا یمان)

 خا نہ کعبہ میں کم از کم 15 قرآن مجید کی تلاوت کریں گے اور طواف کعبہ زیادہ سے زیادہ کریں گے، توبہ استغفار زیادہ سے زیادہ کریں گے کم ازکم 15 عمرہ کریں گے قر آن کریم میں حج و عمرہ کی بہت فضیلت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے، وَاَتِمُّ ا الْحَجَّّ  وَا لْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ (القرآن، سورہ البقرہ2، آیت196)تر جمہ:حج اور عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو۔ یہ ایسی عبادت ہے کہ ہمیشہ ہوتی رہے گی، حج و عمرہ کی فضیلت پر یہ حدیث پاک ملا حظہ فر مائیں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیت اللہ کاحج اور عمرہ یا جوج ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی ہوتا رہے گا۔ (صحیح بخاری شریف، حدیث 1593) یاد رہے کہ حج کے ایام آنے کے چار روز قبل بالکل آرام فر مائیں تاکہ آپ حج کے ارکان پورے کر نے کے لیے چاک و چوبند رہیں۔

ابھی سے ذہن بنائیں :ابھی سے اپنا، اپنے بچوں، ناتی، پوتا، احباب و رشتے داروں کے ذہن کو(Mind make up) کریں کہ اس سے پہلے جو سفر ہم نے کئے، گھو مے پھرے واپسی پر آپ لو گوں کے لیے تحفہ، تحائف Gift)) لائے اس بار اپنے لئے اورآپ سب کے لیے بہترین گفٹ لائیں گے جو انمول ہیں جنکی کوئی قیمت نہیں لگا سکتا میں حر مین شریفین جاکر عبادت و ریاضت کرکے حج کا فریضہ ادا کروں گا، وہاں سے واپس آنے پر مولیٰ کریم مجھے سب سے بڑا انعام عطا فر مائے گا مجھے گنا ہوں سے پاک کردے گا آنے کے بعد میں قرآن وحدیث کے حکم پر عمل کروں گا۔ (میں وہاں سے کسی طرح کے دنیا وی سامان تعیش نہیں لائوں گا) اللہ ورسول نے جیسا فر مایا ہے ویسی زندگی گزارنے کی کوشش کروں گا، فر مان الٰہی ہے۔ (القرآن، سورہ انعام6، آیت82) تر جمہ: جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔ (کنزالایمان)

رسول اللہ  ﷺ نے فر مایاـ: جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہیں کی تو آپ  ﷺ کے اصحاب نے کہا یا رسو ل اللہ  ﷺ!  یہ تو بہت مشکل ہے۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ نہیں کیا۔ تو یہ آیت کریمہ اتری اور شرک سے منع کیا گیا۔ (بخاری حدیث 32)اب ہم شرک نہیں کریں گے ہم گناہوں سے پاک  وصاف ہوکرآئے ہیں اب ہم اللہ ورسول   ﷺ کی پیروی کریں گے، میرے پیارے نبی  ﷺ کا فر مان عا لیشان ہے: کہ اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر جاری ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ دفعہ نہائے تو تمہارا کیا گمان ہے۔ کیا اس کے بدن پر کچھ بھی میل رہ سکتا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں یا رسو ل اللہ! ہر گز نہیں۔ آپ  ﷺ نے فر مایا یہی حال پا نچوں وقت کی نمازوں کا ہے کہ اللہ ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (بخاری شریف حدیث 528) جب اللہ نے اتنا کرم فر مایا گنا ہوں سے پاک کر دیا تو اب ہم برابر نماز ادا کریں گے تا کہ اللہ گناہوں کو مٹا تا رہے۔ ہم حج سے واپسی پر کسی طرح کا کوئی گفٹ کسی کے لیے نہیں لائیں گے، تم لوگ آس لگا کر مت رکھنا ہاں وہاں کا تحفہ’’آب زم زم‘‘شریف اور کھجوریں لائوں گا جو شفا ہے جس کو پینے کے لیے ساری دنیا کے لوگ چاہت رکھتے ہیں۔

مدینہ منورہ کی حاضری اور آداب :

او پاے نظر ہوش میں آ، یہ کوے نبی ہے

آنکھوں سے بھی چلنا یہاں بے ادبی ہے

مدینہ منورہ میں صحابہ کرام سے لیکر بڑے بڑے اولیائے کرام نے ادب سے حاضری کو اپنے لیے سعادت مانا۔ وہاں جاکر ادب سے رہیں کعبہ شریف اور روضئہ رسول   ﷺ کی جانب پیر نہ پھیلائیں آواز بلند نہ کریں، آہستہ گفتگو کریں۔

اد ب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر

نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا

آسمان نے نیچے بارگاہ رسالت  ﷺ وہ مقام ہے جو عرش سے بھی زیادہ نازک ہے، حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ اور حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ جیسے بڑے بڑے اولیا اللہ بھی جب اس بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں تو ادب سے سانس تک روک کر حاضر ہوتے ہیں کہ کہیں تیز تیز سانسوں سے بارگاہ رسالت  ﷺ میں بے ادبی نہ ہوجائے۔ اللہ رب ا لعزت کا فر مان ہے۔ ( القر آن، سورہ الحجرات49، آیت2)تر جمہ: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمھیں خبر نہ ہو۔ ( کنز الایمان)

آہستہ آہستہ درود وسلام پیش کریں۔ آپ اللہ ورسول کے مہمان ہیں، مہمان کو چا ہیے کی میز بان کی شان، عظمت و جلال کی قدر کریں ایسا نہ ہوکہ ساری ریاضتیں عبادتیں بر باد ہو جائیں۔ حر مین شریفین میں کسی سے الجھیں نہیں خاصکر وہاں انتظا می امور کے ذمہ داروں ( پولیس) سے، صبر کے ساتھ اپنی عبادت میں دھیان دیں اور اپنے غصہ کو قابو میں رکھیں کسی شخص کو بھی انعام ملتا ہے تو وہ اس انعام(Prize,Gift) ٹرافی، سرٹی فیکٹ، سپاس نامہ کو سنبھال کر رکھتا ہے۔ آپ کو اللہ ورسول  ﷺ کی جانب سے بڑا اعزاز ملا ہے اس کی قدرو منزلت کا خیال ہمیشہ ہمیش رکھیں عبادات ومعا ملات دونوں میں، تبھی آپ صحیح حاجی کہلانے کے حقدار ہوں گے ور نہ آپ نظر دوڑائیں اپنے ارد گردایسے کتنے ہی لوگ ملیں گے جو آنے کے بعد وہی پرانے طرز زندگی کو اپنائے ہوئے ہیں کوئی بدلا ئو نہیں وہی الٹا سیدھا کر رہے ہیں، اللہ آپ کو ہم کو سب کو اس نعمت عظمیٰ کی  اہمیت کو سمجھنے اور قدر کر نے کی توفیق عطا فر مائے آ مین ثم آمین۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close