مذہبی مضامین

حج کا آسان طریقہ

مقبول احمد سلفی

(1) میقات (جہاں سے احرام باندھا جاتاہے)

٭ احرام حج یا عمرہ میں داخل ہونے کی نیت کا نام ہے نہ کہ کپڑے کا۔

٭ میقات پہنچ کر غسل کریں اور صرف اعضائے بدن پہ خوشبو استعمال کریں ، اگر نہانا مضر صحت ہو تو غسل چھوڑ دیں ۔

٭غیرضروری بال اور ناخن کاٹنے کا تعلق احرام سے نہیں ہے ، انہیں کاٹنے کی حاجت ہوتوکاٹے ورنہ چھوڑدے۔

٭احرام کا کپڑا لگائیں ، میقات پہ ازدہام کی وجہ سے میقات سے پہلے بھی کسی جگہ سے احرام کا لباس لگاسکتے ہیں مگر میقات پہ نیت کرنی ضروری ہے۔

٭حج کی تینوں قسم (افراد، قران، تمتع) میں سے کسی ایک کو اختیار کرکے اس کی نیت کریں ۔

٭ افراد کی نیت: لبیک حجا، قران کی نیت:لبیک عمرۃ و حجا اور تمتع کی نیت: لبیک عمرۃ

٭میقات سے لیکر حرم تک تلبیہ پکارتے چلیں ۔تلبیہ یہ ہے :

لبیک اللھم لبیک ،لبیک لاشریک لک لبیک ،ان الحمد والنعمة لک والملک لاشریک لک

(2) مسجد حرام (مکہ مکرمہ )

٭ متمتع :عمرہ کے لئے طواف اور سعی کرے ، پھر بال چھوٹا کرکے حلال ہوجائے ۔

٭قارن: طواف قدوم کرے(یہ مستحب ہے ) اور حج و عمرہ کی سعی کرے۔

٭مفرد: طواف قدوم کرے(یہ مستحب ہے)اور حج کی سعی کرے۔

٭ قارن اور مفرد احرام میں باقی رہیں گے اور دس تاریخ کو رمی جماراورحلق یاتقصیر کے بعدحلال ہوں گے مگر بیوی طواف افاضہ (اوراگر سعی ہوتوسعی کرکے)ہی حلال ہوگی۔

٭ طواف کی کوئی خاص دعا نہیں ہے ، جو چاہے سات چکروں میں دعا کرے ، البتہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھے :

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔

٭ صفاومروہ پہ ہرچکر میں تین تین بار یہ دعا پڑھے :

‘لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِي وَ یُمِیتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیرٌ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ أنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہٗ’ ۔

(3) منی (یوم الترویہ)

٭ 8/ذی الحجہ کو تمتع کرنے والا اپنی رہائش ہی سے حج کا احرام باندھے ۔

٭قارن ومفرداگر حج کی نیت کرکے پہلے سے ہی احرام میں باقی ہوں تو اسی حالت میں منی چلاجائے یا 8/ذی الحجہ کو حج کی نیت کررہے ہوں تو اس کی دو صورتیں ہیں یا تو طواف قدوم اور سعی کرکے منی جائے یا بغیرطواف وسعی دائریکٹ منی چلاجائے۔

٭ احرام لگاکر منی کی طرف متوجہ ہو، یہاں ظہر، عصر، مغرب ، عشاء اور فجر پانچ وقتوں کی نماز اپنے اپنے وقتوں پہ قصر کے ساتھ پڑھے ۔

(4) عرفات (یوم عرفہ)

٭9/ ذی الحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد میدان عرفات پہنچ کر وہاں  کسی بھی جگہ ٹھہرے۔پہاڑ پہ چڑھنا اور کسی خاص جگہ وقوف کرنے کی محنت کرنا غلط ہے۔

٭ظہروعصر کی نماز جمع تقدیم (ظہرکے وقت ظہر اور عصردونوں )کے ساتھ قصر (دو دو رکعت)کرے۔

٭ نماز پڑھ کر غروب شمس تک دعا، ذکر، استغفاراور تضرع میں مصروف رہے۔

٭عرفہ کی سب سے بہترین دعا یہ ہے :

‘لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ یُحْیِي وَ یُمِیتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیر’

(5) مزدلفہ( شب عید)

٭غروب شمس کے بعدمغرب کی نماز پڑھے بغیر عرفات سے مزدلفہ جائے ۔

٭ وہاں پر مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ قصر سے پڑھے ۔

٭پھر رات بھر آرام کرے ، فجر کی نماز کے بعد ذکرواذکاراور دعاواستغفارکرے۔

٭سورج طلوع ہونے سے پہلے منی کی طرف کوچ کرے۔

٭کمزور ، عمر رسیدہ ، معذور اور ضرورت مند لوگوں کے لئے آدھی رات کے بعد بھی مزدلفہ سے منیٰ جانا جائز ہے۔

(6) یوم النحر(قربانی کا دن)

٭10/ذی الحجہ کوفجرکے بعدمنی جاکر پہلے ایک ہی  جمرہ (جو مکہ سے متصل ہے) کو تکبیر کے ساتھ سات کنکری مارے ۔

٭ کنکری راستے یا منی ومزدلفہ کہیں سے بھی چنی جاسکتی ہے ، اس کی جسامت چنے کے برابرہواور اسے دھونے کی بھی ضرورت نہیں ۔

٭حج تمتع اور قران کرنے والا قربانی کرے۔

٭رمی جمرہ اور حلق(یا یہ دونوں یاان کے علاوہ دوعمل) سے تحلل اول حاصل ہوجاتاہے جس کی وجہ سے بیوی کے علاوہ ساری پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں اور جب ایک اورچیزکرلے طواف یا سعی توتحلل ثانی (یوم النحرکوکسی تین عمل سے) یعنی مکمل حلال ہوجاتاہےاس سے بیوی بھی حلال ہوجاتی ہے۔

٭ اگر اس نے قربانی کی رقم جمع کردی ہے تو بلاانتظاراسترے سے بال منڈوائے یا قینچی سےپورے سرسے بال چھوٹا کروائے۔

٭ متمتع ، قارن اور مفرد سبھی حج کا طواف (افاضہ) کریں ۔

٭ متمتع حج کی سعی کرے ، قارن و مفرد بھی سعی کرے اگر انہوں نے طواف قدوم کےساتھ سعی نہ کی ہو۔

٭تمتع کرنے والے کے لئے  آج کے کام بالترتیب رمی ، قربانی،حلق/تقصیر،طواف اور سعی ہیں ۔ان کاموں میں سے کوئی آگے یا پیچھے ہوجائے تو کوئی حرج نہیں یعنی یہ ترتیب واجب نہیں ہے۔

(7) ایام تشریق( رمی جمرات کے ایام )

٭اگرکسی عذرکی بناپریوم النحر کو طواف افاضہ نہ کرسکے تو ایام تشریق میں بھی کرسکتےہیں یہاں تک کہ  لوٹتے وقت  ایک ہی نیت میں طواف افاضہ اور طواف وداع بھی کرسکتے ہیں ۔

٭ دس ذی الحجہ کا کام کرکے منی لوٹ آئے اور 11 12 13 ذی الحجہ کی رات وہیں بسر کرے۔

٭ تینوں دن تینوں جمرات کو (پہلے جمرہ اولی،پھر جمرہ وسطی پھر جمرہ عقبہ)زوال کے بعد سات سات کنکری مارے ۔

٭پہلے جمرے کی رمی کرکے قبلہ رخ ہوکر لمبی دعا کرے پھر دوسرے جمرے کی رمی کرکے قبلہ رخ ہوکرلمبی دعا کرے اور تیسرے جمرے کی رمی کے بعد بغیر دعا رخصت ہوجائے۔

٭رمی جمرات اللہ کی عبادت اور اس کے حکم کی تعمیل ہے نہ کہ شیطان کو کنکری مارنا، اس لئے شیطان نام دینا بھی غلط ہے ۔

٭ اگر تعجیل کرنی ہو تو 12/ذی الحجہ کی کنکری مارکر غروب آفتاب سے پہلے منی چھوڑدے ۔

٭ حج کے مذکورہ بالا سارے اعمال انجام دینے کے بعد جب اپنا وطن لوٹنے لگے تو طواف وداع کرےاور پھر مکہ میں نہ ٹھہرے۔

٭اب آپ کا حج مکمل ہوگیا، زیارت مدینہ کا تعلق حج سے نہیں ہے ، سعودی کے باہر سے آنے والے عموما زندگی میں ایک بار یہاں آتے ہیں تو زیارت مدینہ سے بھی مستفیدہوجائے تو بہترہے۔

ارکان ،واجبات اور ممنوعات کے احکام

حج کے ارکان

(1) احرام (حج کی نیت کرنا)

(2) میدان عرفات میں ٹھہرنا

(3) طواف افاضہ کرنا

(4) صفا و مروہ کی سعی کرنا

حج کے واجبات

(1) میقات سے احرام باندھنا

(2) سورج غروب ہونے تک عرفہ میں ٹھہرنا

(3) عید کی رات مزدلفہ میں گذارنا

(4) ایام تشریق کی راتیں منی میں بسر کرنا

(5) جمرات کو کنکری مارنا

(6) بال منڈوانا یا کٹوانا

(7) طواف وداع کرنا(حیض و نفاس والی عورت کے لئے نہیں ہے )۔

ممنوعات احرام

حالت احرام میں نو کام ممنوع ہیں جنہیں محظورات احرام کہاجاتاہے ۔ (1)بال کاٹنا(2)ناخن کاٹنا(3)مردکو سلاہواکپڑا پہننا(4)خوشبولگانا(5)مردکاسرڈھانپنا(6)عقدنکاح کرنا(7)بیوی کو شہوت سے چمٹنا(8) جماع کرنا(9)شکار کرنا۔عورت کے لئے دستانہ  اور برقع ونقاب منع ہے تاہم اجنبی مردوں سے پردہ کرےگی۔

ارکان ،واجبات اور ممنوعات کے احکام

٭ اگر کسی نے حج کے چار ارکان میں سے کوئی ایک رکن بھی چھوڑ دیا تو حج صحیح نہیں ہوگا۔

٭مذکورہ  بالاسات واجبات میں سے کوئی ایک واجب چھوٹ جاتا ہے تو حج صحیح ہوگامگر ترک واجب پہ دم دینا ہوگا۔ دم کی طاقت نہ ہو تو دس روزہ رکھ لے ، تین ایام حج میں اور سات وطن واپس ہونے پہ ۔

٭جوشخص لاعلمی میں ممنوعات احرام  میں سےکسی کا ارتکاب کرلے تو اس پر کچھ بھی نہیں ہے ، لیکن اگر جان بوجھ کر ارتکاب کیا توفدیہ دینا ہوگا(گرایک سے لیکر پانچ تک میں سے کسی کا ارتکاب کیاہو)۔فدیہ میں یاتو تین روزہ یا ایک ذبیحہ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا۔ شکار کرنے کی صورت میں اسی کے مثل جانور ذبح کرناہوگا۔عقدنکاح سے حج باطل ہوجاتاہے۔اگر تحلل اول سے پہلے جماع کرلے توعورت ومرد دونوں کا حج باطل ہوجائے گا اور اگر تحلل اول کے بعد طواف افاضہ سے پہلے جماع کرے تو حج صحیح ہوگامگر اس کا احرام ختم ہوجائے گا وہ حدود حرم سے باہر جاکر پھر سے احرام باندھے تاکہ طواف افاضہ کرسکے اور فدیہ میں ایک بکری ذبح کرے ۔

مسجد نبوی کی زیارت کے آداب

(1) مسجدنبوی میں داخل ہوتے وقت دایاں پیرآگے کریں اوریہ دعاپڑھیں :

أَعوذُ باللهِ العَظيـم وَبِوَجْهِـهِ الكَرِيـم وَسُلْطـانِه القَديـم مِنَ الشّيْـطانِ الرَّجـيم، بِسْمِ اللَّهِ، وَالصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَى رَسُولِ الله، اللّهُـمَّ افْتَـحْ لي أَبْوابَ رَحْمَتـِك.

(2)دورکعت نمازتحیۃ المسجدکی نیت سے پڑھیں ، اگریہ نمازریاض الجنۃ میں اداکریں تو زیادہ بہترہے اور خوب دعاکریں ۔

(3) اس کے بعد رسول اکرم ﷺ پرنہایت ادب واحترام سے درودوسلام عرض کریں ، سلام کے لئے یہ الفاظ کہنا مسنون ہیں : (السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته , صلى الله عليك وجزاك عن أمتك خيرالجزاء) پھرحضرت ابوبکررضی اللہ عنہ پر "السلام علیک یاابابکر! ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،رضی اللہ عنک وجزاک عن امۃ محمد خیراً” اورحضرت عمررضی اللہ عنہ پر” السلام علیک یاعمربن الخطاب! ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،رضی اللہ عنک وجزاک عن امۃ محمد خیراً” کے ذریعہ سلام کہیں ۔

(4)عورتوں کے لئے بکثرت قبروں کی زیارت جائزنہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے لیکن کبھی کبھار زیارت کرسکتی ہیں ۔

(5) زائر ین کے لئے زیادہ سے زیادہ مسجد نبوی میں ٹھہرنا ، کثرت سے دعاواستغفار، ذکرواذکار، تلاوت قرآن اور دیگر نفلی عبادات واعمال صالحہ کرنا چاہئے۔

(6) مسجد سے نکلنے وقت یہ دعا پڑھیں :

بسْـمِ اللَّـهِ وَالصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم.

مسجدنبوی کی زیارت کرنے والوں کے لئے تنبیہات

1/حجرہ نبوی کی کھڑکیوں اورمسجدکے دیواروں کوبرکت کی نیت سے چھونایابوسہ لینایاطواف کرناجائزنہیں ہے بلکہ یہ سب بدعت والے اعمال ہیں ۔

2/ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی مشکل کا سوال کرنایابیماری کی شفاکا سوال کرنایا اسی طرح کی دیگرچیزوں کا سوال کرنا جائزنہیں ہے ، یہ سب چیزین صرف اللہ تعالی سے مانگی جائیں گی ، گذرے ہوئے لوگوں سے مانگنااللہ کے ساتھ شرک اور غیراللہ کی عبادت کرناہے ۔

3/ بعض لوگ نبی کی قبرکی طرف کھڑ ے ہوکراورہاتھ اٹھاکر مستقل دعاکرتے ہیں یہ بھی خلاف سنت ہے ، مسنون یہ ہے کہ وہ قبلہ رخ ہوکر اللہ تعالی سے مانگے ۔

4/ اسی طرح آپ کی قبرکے پاس آوازبلندکرنا،دیرتک ٹھہرے رہنا، مخصوص دعا پڑھنا یا ہزارولاکھ مرتبہ درود پڑھ کر ہدیہ کرنا خلاف سنت ہے ۔

5/ بعض لوگ آپ پردرودوسلام بھیجتے وقت سینے پر یانیچے نمازکی طرح ہاتھ باندھ لیتے ہیں جوکہ خشوع وخضوع اورعبادت کی ہیئت ہے اوریہ صرف اللہ کے لئے بجاہے ۔

6/ موجودہ منبر نبی ﷺ کے دور کا نہیں ہے ،گرہوتا بھی تو اس سے برکت لینایا ریاض الجنۃ کے ستونوں سے برکت لینا اور بطور خاص ان کے پاس نماز کا قصد کرنا جائز نہیں ہے ۔

7/ نبی ﷺ کے متعلق دنیا کی طرح سلام کی آواز سننے یا سلام کے وقت روح لوٹائے جانے کا عقیدہ رکھنا غلط ہے ۔

زائرین کے لئے تین اہم نصیحتیں

(1)مذکورہ بالا مقامات مقدسہ یعنی مسجد نبوی ،نبی ﷺکی قبرمبارک،حضرت عمروابوبکررضی اللہ عنہماکی قبروں ،ریاض الجنۃ،مسجدقبا،بقیع قبرستان اور قبرستان شہداءاحد کے علاوہ مدینہ کے دیگر مقامات کی  ثواب کی نیت سے زیارت کرنا شرعا جائز نہیں ہے خواہ مساجدہوں مثلا مساجدسبعہ،مسجدجبل احد،مسجدقبلتین،مسجدجمعہ یا مساجدعیدگاہ وغیرہ خواہ کوئی تاریخی مقام مثلا میدان بدریابئرروحاء جسے بدعتیوں نے بئرشفا نام دے رکھاہے ۔اس لئے اپنا وقت اور روپیہ پیسہ فضول خرچ کرنے سے بہتر ہے کسی مسکین کو صدقہ کردیں ۔

(2) آپ کو اللہ تعالی نے شہر نبی ﷺکی زیارت کا موقع عطا کیا۔ اس پہ  اللہ کا شکربجالائیں ساتھ ہی نبی ﷺ سے ساری کائنات سے زیادہ حتی کہ اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرنے کا عزم مصمم کریں ۔ آپ ﷺ سے محبت ایمان کا حصہ ہے ۔ محبت کی علامات میں سے ہے کہ آپ ﷺ کی سنت کا علم حاصل کیاجائے ، اس پہ عمل کیاجائے اور دوسروں تک اس کو پہنچایا جائے ۔ اس مضمون کے ذریعہ زیارت کے جو آداب معلوم ہوئے اس پہ عمل کرنا اور اسے پھیلانا بھی حب نبی ﷺ میں داخل ہے ۔

(3) اللہ کے یہاں کسی بھی عمل کی قبولیت کے لئے تین شرطیں ہیں ، ہمیشہ انہیں ذہن میں رکھیں ۔

پہلی شرط نیت کا خالص ہونا:نبی ﷺکا فرمان ہے :بے شک اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔ (بخاری)

دوسری شرط عقیدہ توحید کا ہونا:یعنی عمل کرنے والے کا اگر عقیدہ درست نہیں تو نیک عمل بھی قبول نہیں ہوتا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (سورة الانعام 88 )

ترجمہ:اور اگر بالفرض {انبیاء عليهم السلام } بهی شرک کرتے تو ان کے بهی کیے ہوئے تمام اعمال ضائع کر دیئے جاتے۔

تیسری شرط عمل کا سنت کے مطابق ہونا: کیونکہ جو عمل نبی ﷺ کے سنت کے مطابق نہ ہو وہ بھی برباد کردیا جاتاہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: من عمل عملا لیس علیہ امرنا فہورد(بخاری)

ترجمہ: وہ عمل جس پر میرا حکم نہیں ، مردود ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close