مذہبی مضامین

حیا: اسلام کی نظر میں

محمد عرفان شیخ يونس سراجي

حیا کی لغوی تعریف:

حیا کا لغوی معنی  تغیر وانکساری ہےجو انسان کے  قلوب واذہان میں کسی کی عیب جوئی کے خوف سے  جاگزیں رہتا ہے۔ (عون المعبود  شرح أبی داود، جلد:۷، ص:۹۳)

اصطلاحی تعریف:

یہ ایسی صفت ہے جو منکرات و قبیح چیزوں  سے اجتناب کرنے پر برانگیختہ کرتی ہے اور  اداء حقوق میں کوتاہی اور تقصیر سے منع کرتی ہے۔ (عون المعبود  شرح أبی داود، جلد:۷، ص:۹۳)

حیا اضافہ  توقیر کی ضامن ہے:

اس دور میں مردہو یا عورت گویا ہر کس وناکس کی آرزو اور تمنا ہوتی ہےکہ   وہ قیمتی ہیرے جواہرات اور لعل وگہر کے  خزانے، مال ودولت  کے  بحر بیکراں  اور سونے، چاندی کی بنی ہوئی چیزوں کا مالک ہو، دولت حسن سے مالا ومال ہو، رعنائی وخوبصورتی، آرائش وزیبائش، خوش نمائی وخوش منظری  کاپیکر ہو۔ خاص طور سے  شہناز لالہ سرخ  اور  دوشیزدگان  مذکورہ اشیاء سے کچھ زیادہ  ہی  آشیفتگی   رکھتی ہیں۔ تاہم اگر انسان  حیا، شرافت، سکینت، وقار، لحاظ، حجاب کی زیبائش  سے آراستہ وپیراستہ ہوجایے، تو اس کی شخصیت  اور خوبصورتی میں  چار چاند لگ جائےگا، سماج ومعاشرہ میں  عزت وحیثیت اور بڑھ جائے گی، لوگوں کے مابین  امتیازی   مقام ومرتبہ میں  مزیداضافہ ہوگا۔ کسی شاعرنے  یوں نقشہ کھینچا ہے :۔

حیا سے حسن کی قیمت دو چند ہوتی ہے

نہ ہوں جوآب تو موتی کی آبرو کیا  ہے

واقعی حیا ایسی انمول خوبی ہے جو انسانی  تشخصات اور امتیازات کو برقرار رکھتی ہے، اخلاقی اقدار  کو بڑھاوا دیتی ہے، اعلى  صفات  وکردار کا مالک بناتی ہے، نایاب شخصیت کے  بارعب   انسان کی تخلیق کرتی ہے، پاکیزگی اور پاکدامنی کا سامان فراہم کرتی ہے، گناہوں اور خطاؤں کی دنیا کے قریب پھٹکنے سے روکتی  ہے، بنابریں نبی کریم ﷺ نے اس  کی افادیت، اہمیت اور فضیلت کو مد نظر رکھتے ہوئے  اسے ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، جیساکہ نبی کریمﷺ کا فرما ن گرامی ہے: ”اَلْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ بِضعٌ وَسِتُّونَ شُعبَةً، فَأَفْضلُهَا لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعبَةً مِنَ الْإِيمانِ“.(صحیح مسلم، ح:۳۵)ترجمہ: ” ایمان کی ستر سے زائد یا ساٹھ سے زائد شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل "لاإلہ إلا اللہ "کہنا ہے، اور سب سے کمتر راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو  زائل کرنا ہے، اور حیا ایمان کا  ایک حصہ ہے“۔

علاوہ ازیں نبی کا کریمﷺکا فرمان ہے:”اَلْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ“(سنن أبی داود، ح: ۵۰۰۶) ترجمہ:” حیا ایمان کی ایک شاخ ہے“۔

  مذکورہ بالا احادیث کی رو سے معلوم ہواکہ حیا ایمان کی  ایک شاخ ہے، تاہم کسی  کی آنکھ سے حیا ندارد ہوجائے، تو اس کے ایمان میں نقص پید اہوتا ہے، جیساکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صحیح البخاری“میں ”هُو قَولٌ وَفِعلٌ وَالْإِيمانُ يَزيدُ وَيَنقُصُ“یعنی ایمان  قول اور فعل کا نام ہے جو گھٹتا  اور بڑھتا رہتا  ہے-کی باب سازی کی ہے، نیز متعد د آیات قرآنی اور صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کے اقوال سے اپنی فقہی واستنباطی، بصارت وبصیرت آفریں ملکہ  فراست سے استدلال کیا ہے جن میں  سے چند مندرجہ ذیل ہیں :۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے :”هُوَ الَّذِي أَنْزلَ السَّكِينةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤمنينَ لِيزدَادُوا إيماناً مَع إيمانِهِم…“.(سورہ فتح:۴) ترجمہ: ”وہی  ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطمینان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی  ساتھ اوربھی ایمان میں بڑھ جائیں …“۔

 نیزاللہ کا فرمان ہے:”وَيَزدَادَ الَّذينَ آمَنُوا إِيمَانًا…“.(سورہ مدثر:۳۱) ترجمہ:”اور ایمان دار ایمان میں بڑھ دجائیں …“

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : ”یقین واعتماد  پوار کا پورا ایمان ہے“۔

حضرت  عبد اللہ  بن عمر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں : ”بندہ حقیقی خوف وتقوى  تک اس وقت تک نہیں پہونچ سکتا جب تک کہ  سینے کو جکڑنے والی چیزوں (گناہوں )سے کنار ہ کش نہ ہوجائے“۔

امام بخاری رحمہ اللہ کے استدلال سے  یہ حقیقت طشت ازبام ہوگئی کہ ارتکاب معصیت کے  درباب  ایمان میں کمی اور کارخیر کو سرانجام دینےسے  زیادتی   ہوتی  ہے۔ انہی  فعل خیرمیں سے وصف "حیا”  ہے جس کے فقدان پر ایمان میں کمی واقع ہو تی ہے۔

حیا سے متعلق  منتخب صحیح احادیث:

۱۔ نبی کریم ﷺکا فرمان ہے: ”

إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا، وَخُلُقُ الِإسْلامِ الْحَيَاءُ“.(سنن ابن ماجہ، ح: ۴۱۸۱۔ حکم الحدیث:  حسن)

ترجمہ: ”ہر مذہب کی  کو ئی نہ کوئی امتیازی خصلت ہے، اوراسلام کی امتیازی  خصلت  حیاہے“۔

۲۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ”اَلْحَیَاءُ مِنَ الْإِیمَانِ، وَالْإِیمَانُ فِی الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءَةُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ“.(سنن ترمذی، ح: ۲۰۰۹۔ حکم الحدیث: صحیح)

ترجمہ:”حیا ایمان کا ایک حصہ ہے، اور صاحب ایمان جنت  کے (مستحق)ہیں، اور بے حیائی  بد خلقی کا ایک حصہ ہے، اور  بد خلق جہنم کے (مستحق)ہیں “۔

قاضی عیاض رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں رقمطراز ہیں : –

 یقینا حیا  ” احادیث میں "ایمان  کی ایک شاخ  شمار کی گئی ہے، اس لیےکہ یہ بسا اوقات تمام اعمال خیر کی طرح اکتسابی  ہوتی ہے اور بسا اوقات طبیعی ہوتی ہے، تاہم اس کا استعمال شریعت اسلامی کی رو سے اکتساب، نیت  اور علم کا متقاضی ہے۔ مزید براں فرماتے ہیں : حیا ایمان کا  حصہ اس لیے بھی ہے کہ وہ نیکی اور کار خیر کی طرف ابھارتی ہے اور معاصی اور گناہوں سے روکتی ہے۔ (تحفۃ الأحوذی بشرح جامع الترمذی)

۳۔ نبی کریم ﷺکا فرمان ہے: ”مَا کَانَ الْفُحْشُ فِی شَیْءٍ إِلَّا شَانَهُ، وَمَاكَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ“.(سنن ترمذی، ح: ۱۹۷۴۔ حکم الحدیث: صحیح)

ترجمہ : ”جس چیز میں بے حیائی ہوگی اسے عیب دار بنادے گی، اور جس چیز میں حیا ہوگی اسے خوبصورت بنادےگی“۔

امام طیبی رحمہ اللہ علیہ اس حدیث کے تعلق سے رقمطرازہیں :-

 نبی کریمﷺ کے قول ” فی شیء” کے اندر   مبالغہ ہے، یعنی حیا  کسی جماد میں مضمر ہوجائے تو اسے خوبصورت بنادیتی ہے اور جب اس میں بے حیائی   داخل ہوجائے تو اسے  عیب دار بنا دیتی ہے، پس انسان  کے اندر تو بدرجہ اولی  مؤثر ہوگی۔ (تحفۃ الأحوذی  بشرح جامع الترمذی)

۴۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

”إنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ:«دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ»“.(سنن أبی داود، ح: ۴۷۹۵۔ حکم الحدیث: صحیح)

ترجمہ : ”درحقیقت نبی کریم ﷺ انصار کے کسی آدمی کے پاس سے گذرے درحالاینکہ وہ اپنے بھائی کو حیاکے بارے میں  وعظ ونصیحت کررہاتھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:  اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، اس لیے کہ حیا ایمان کا  ایک حصہ ہے“۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :  "وہ شخص اپنے بھائی کو حیاکش اعمال سے بچنے کی نصیحت کررہا تھا اور اس کے کیے پر  اس کی مذمت اوراس کے ناروا فعل کی کثرت پر  زجر وتوبیخ کر رہا تھا”۔ (عون المعبود شرح أبی داود، ص: ۹۳)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتےہیں : ” وہ شخص اپنے بھائی کو من باب الأخوہ نصیحت کررہا تھا، اور حیا سے متعلق امور پر اس کی تخویف کر رہا تھا، اور غیر اخلاقی   اشیاء سے اجتناب کرنے کی تذکیر کررہاتھا”۔ (عون المعبود شرح أبی داود، ص: ۹۳)

اس تحریر کی روشنی میں یہ بات واشگاف ہوگئی کہ حیا  اورشرم   خطاؤں، لغزشوں  اور گناہوں سے روکتی ہے اور اعمال خیر کی طر ف  ابھار تی ہے، نیز اس کے فقدان سے  ایمان میں کمی واقع ہوتی ہے،  اور اس کے وجود سے ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔

آخر میں اللہ سے دست بدعا ہوں کہ ہمیں حیا، شرافت، سکینت اور وقار کا پیکر بنائے اور اعمال خیر کی توفیق عطا فرمائے – آمین

مزید دکھائیں

محمد عرفان شیخ یونس سراجی

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close