گوشہ خواتینمذہبی مضامین

خواتین پر تشدد: اسباب اور حل 

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی 

عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کے حادثات، آئے دن اس حوالہ نت نئے واقعات پیش آرہے ہیں ، اس سلسلے میں سخت قوانین بنائے جانے اور مجرمین پر سزا کے نفاذ کے باوجود اس طرح کے جرائم وحادثات ملک میں روز افروں ہیں ، ابھی کچھ دن قبل دہلی میں ایک غیر ملکی خاتون کی عصمت ریزی نے بھی عورت کے تحفظ پر سوالیہ نشانات لگادیئے،2012دسمبر میں بھی ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا واقعہ پیش آیا تھا، اس نے ساری ملک ہی نہیں ؛ بلکہ ساری دنیا میں ایک ہنگامہ سا کھڑا کردیاتھا ، اس واقعہ کی نوعیت اور سنگینی بھی اس قدر بھیانک تھی اس کا چرچا ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہ تھی ، اس وقت اس جنسی درنگی کے واقعہ پر پارلیمنٹ میں بھی  اس کا خوب چرچا ہوا ، پھر اس لڑکی کو جسے ’’نربھئے ‘‘ کا فرضی نام دیا گیا تھا اسی کے نام پر ایک قانون بنایا گیا جیسے ’’نربھئے ایکٹ ‘‘ کا نام دیا گیا ، یہ تو دلی ہے ، ملک کی راجدھانی ہے جہاں اس قسم کے واقعات آئے دن سننے میں آتے ہیں ؛ بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ جو کہ ساری دنیا کو قانون کا سبق دیتا ہے وہاں جنسی جرائم کے واقعات سب سے زیادہ پیش آتے ہیں ۔

 دوسرے نمبر پر ہندوستان کا شمار ہوتا ہے جہاں ہر 20منٹ میں میں ایک عورت آبرو ریزی کی شکار ہوتی ہے ، ملک کے گوشہ گوشہ اور چپے چپے میں اس طرح کے واقعات روزانہ کا معمول ہیں ، ہمارے ملک میں خواتین قانون ساز ادارے بڑی تعداد میں موجو د ہیں اور یہاں کا قانون بھی سخت ہے ، زنا بالجبر میں ملوث شخص کو کم سے کم دس سال کی قید کی سزا دی جاتی ہے ، زیادہ سے زیادہ اس کو عمر قید میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے ،ہمارے ملک میں اس قدر سخت قانون کے موجو د ہوتے ہوئے اس طرح کے جنسی جرائم کے واقعات روز افزوں کیوں ہیں ؟ ایک روزنامہ میں ترتیب وار ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں پانچ سالوں کے درمیان عصمت دری کے پیش آنے والے واقعات کے اعداد وشمار ذکر کئے گئے ہیں جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے ہمار ا ملک جس کی اخلاقی کتھائیں ساری دنیا میں عام ہیں ، اس کو مغربیت کس طرح دیمک کے مانند کھارہی ہے ،2009 میں 469،2010میں 507،2011 میں 572، 2012میں 706،3102میں 1,330عورتیں عصمت دری کی شکار ہوئیں ، اسی طرح دست درازی کے واقعات 2009میں 552،2010 میں 601،2011 میں 657،2012میں 727،2013 میں 2,884، ان اعداد وشمار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارا ہندوستانی مشرقی معاشرہ کس قدر مغرب پرست اور جنسیت اور حیوانیت ودرندگیت کا شکار ہوتا جارہا ہے ،قوانین کے نفاذ کے جہاں تک بات ہے اس سلسلے میں بھی تساہل اور لا پرواہی سے کام لیا جاتا ہے ۔

 ویسے رشوت ستانی کے ذریعے بڑے بڑے معاملات حل ہوجاتے ہیں یہ واقعات پیسوں کے بل بوتے پر پس پردہ کیوں نہ چلے جائیں گے ، اس کے علاوہ بڑے خاندان اور با اثر لوگ غریب خاندان کی لڑکیوں کو ڈرا دھمکا کر بھی خاموش کردیتے ہیں ،ویسے ہمارے ملک میں اس حوالے سے جو قوانین ہیں اس کا نفاذ کے حوالے سے ہمارا ذمہ دار طبقہ امانت دار ہوتا تو بھی اس قسم کے جرائم پر قدغن لگایا جاسکتا ، جتنی امانت داری کے ساتھ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں قوانین پر عمل در آمد کیا جاتا ہے ، ہمارے ملک میں نہیں ، صرف زنا بالجبر کے معاملوں میں شرح سزا کا تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا کہ زانیوں میں سے مشکل سے چوـتھائی افراد کو ہی سزا مل پاتی ہے، وہ بھی سالوں عدالتوں کے دروازوں پر ٹھوکریں کھانے کے بعد ، ورنہ تو اکثر مجرم سینہ تان کر ’’چور مچائے شور‘‘ یا’’چوری اور سینہ زوری ‘‘ کے مصداق دنداناتے پھر ہیں ، ہمارے ملک میں اس وقت جرائم کا گراف جس قدر بڑھتا جارہا ہے سزا یابی کی شرح بھی اس قدر گھٹتی جارہی ہے ،ان معاملات میں 1973 میں سزایابی کی شرح 44.3فیصد تھی اور 2011میں یہ شرح گھٹ کر 26.4 فیصد رہ گئی ،موجودہ صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔

ہمارے قوانین کی ایک کمی یہ بھی ہے کہ صرف زنا بالجبر ہی کو جرم مانا جاتا ہے ، دو بالغ مرد وعورت کا اپنی مرضی سے جنسی تعلق قائم کرنا جرم شمار نہیں ، حالانکہ ہمارا یہی نظریہ جنسی جرائم کو بڑھاوا دیتا ہے اور مردوں کو جنسی جرائم پر اکستاتا ہے اور ان جنسی جرائم کے کرتا دھرتا ہمارے قانون کی اسی کمزوری کا سہارا لے کر بسااوقات انتہائی چابک دستی اور مہارت کے ساتھ زنا بالجبر کو زنا بالرضا ثابت کردیتے ہیں ، اس لئے بھی یہ ہمارے قوانین ان جرئم کی روک تھام میں ناکام ثابت ہورہے ہیں ، اس کے علاوہ بھی ہندوستان جس کی حسن معاشرت اور اخلاق کی داستانیں ابھی تک پرانی نہیں ہوئیں ، جہاں عورت کو ماں ، بہن ، بیوی وغیرہ کی شکل میں ماتا دیوتا کا درجہ دیا جاتا ہے ، کم ازکم ہم ہندوستانی اپنی مشرقی معاشرت کاپاس ولحاظ رکھتے تو اس قدر جنسی جرائم کا گراف نہ بڑھتا ، آج ہندوستا ن میں رائج بے پردگی ، عریانیت اور بے حیائی اور عورتوں کی بد چلنی اور بد کرداری نے بھی ہمارے ملک میں اس قسم کے جرائم کو بڑھاوا دیا ہے ، جس میں عورت جس قدر مجرم ہے ۔

 مرد حضرات بھی کم مجرم نہیں ، اگر ہم اپنے بچوں کو شروع ہی سے پردہ اور حیاء کا سبق کا دیتے اور عورت کو بے لباس یا چست لباس نہ کرتے تو آج یہ برے دن ہمیں نہ دیکھنے پڑـتے ، فلموں اور سیریلیوں اور اس کے عشق ومعاشقہ کی داستانیں اور اس کی ہیجان انگیز اور بے محابا عورتوں نے بھی نوجوانوں کو شہوانی اور حیوانی جذبات کو مہمیز کیا ہے ، ہماری سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس پر بڑا ہڑبونگ مچایا جاتاہے ، واویلا کیا جاتا ہے ، لیکن عورت کو حیاء اور عزت کا سبق دیا جائے ، اس کو پاپردہ بنایا جائے اس قسم کی بات کی جاتی ہے تو اسی دقیانوسیت اور پرانے خیالات تصور کیا جاتا ہے ، حقیقت تو یہ ہے کہ قوانین کے بنانے سے کچھ حد تک ان واقعات کی روک تھام ضرور کی جاسکتی ہے ، لیکن جب تک ہمارے معاشرے سے بے حیائی اور بے پردگی کے مناظر اور شہوت انگیز فلموں اور سیریلوں کا خاتمہ نہیں ہوتا ، عورت کو حیاء کا سبق نہیں دیا جاتا ، اس وقت تک اس قسم کی برائیوں پر بند لگانا ممکن ہی نہیں ،اسی لئے اسلام نے قوانین کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کا سہارا لیا ، آج اس وقت اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد کے حوالے سے حبس دوام اور پھانسی وغیرہ کی سزا کا مطالبہ کیا جاتا ہے ، اس قدر سنگین سزا کا مطالبہ اسی لئے نہ کیا جاتا ہے واقعہ کی سنگینی ہمارے نگاہوں کے سامنے ہوتی ہے ، اسلام نے اگر غیر شادی شدہ زانی کے لئے سوکوڑے اور شادی شدہ کے لئے سنگسار کرنے کا جو حکم دیا ہے وہ جرم کی اسی سنگینی کی وجہ سے تو ،کہ اگر اس قدر سنگین سزا دی جاتی ہے تو اس گناہ اور جرم کے ارتکاب کے قبل ہی مجرم اقدام گناہ سے باز آجائے گا ، اسلام کے ان جنسی جرائم پر قدغن لگانے سے متعلق جواحکامات ہیں اگر اس کو ساری دنیا اپنالے تو اس قسم کے جرائم معاشرے میں پنپنے ہی نہیں پائیں گے ، جنسی بے راہ روی سے حفاظت کیوں کر ممکن ہے ؟

 1۔   ان برائیوں اور جنسی بے راہ روی کے چور دروازے بندہی رہیں اسکے لئے اسلام نے نگاہ نیچے رکھنے کا حکم کیاہے،کیونکہ بے راہ روی اور گمراہی کا چور دروازہ یہیں سے کھل جاتاہے،یہ زہر آلودتیریہیں سے جسم وجان میں پیوست ہوتے ہیں ،ارشادباری عزوجل ہے:’’آپ فرمادیں مومن مردوں کو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے زیادہ ستھرا ہے بیشک اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں ‘‘۔(النور:30)

اورآگے عورتوں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:’’اورآپ فرمادیں مومن عورتوں کو کہ وہ نیچی رکھیں اپنی نگاہیں ، اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، اور اپنی زینت(کے مقامات)کو ظاہر نہ کریں ، مگر جو اس میں سے ظاہر ہو (جس کا چھپانا ناگزیرہے)اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں ‘‘۔(النور:31)

2۔  شریعت نے یہ حکم دیا ہے کہ جب لڑکیاں بالغ ہوجائیں تو کشادہ اورطویل لباس پہناکریں ،کہ ان کا جسم جھلکنے نہ پائے ،اعضاء جسمانی نمایاں نہ ہوں ، اوربرائی کو دعوت دینے والے دروازے بندرہیں ۔نبیٔ کریم انے حضرت اسماء ؓبنت ابوبکرؓسے فرمایا:اے اسماءؓ!جب لڑکی بالغ ہوجاتی ہے،تو اسکے سوائے ان اعضاء کے کسی اور کو دیکھنے کی اجا زت نہیں ’’جب لڑکی بالغ ہوجائے تو اس کے لئے مناسب نہیں ہے کہ اس کے یہ اعضاء دکھائی دیں ‘‘اور حضوراکرم انے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی جانب اشارہ فرمایا:(ابوداؤد:باب فیما تبدی المرأ ۃ من زینتھا،حدیث:4104)

آج کل کی لڑکیاں لباس کے پہننے میں ان امورکا کس قدراہتمام کرتی ہیں ؟؛بلکہ وہ تو اپنے آپ کو نمایاں کرنااور اپنے حسن کا اعلان کرنا چاہتی ہیں ،خصوصاًبرقع کا استعمال جو پردے کے لئے ہوتاہے،اس میں اس قدرزیب وزینت اور میناکاری کی جاتی ہے کہ بجائے پردہ کے وہ خودکشش اوربری نظروں کودعوت دینے والا ہوگیاہے۔جہاں آج کل اس حوالے سے مرد کو جس قدر مجرم گردانا جاتا ہے ، اس سے کہیں بڑھ کر عورتیں خود اس قسم کے واقعات اور حادثات کے پیش آنے کا پیش خیمہ اور سبب ہیں

3۔  اوریہ بھی فرمایاکہ:اپنی زینت اورپازیب وغیرہ کی جھنکارکا اظہارکرتی ہوئیں ،سوئے ہوئے شہوانی جذبات اُبھارتے اوراکساتے نہ پھریں ،ارشادِباری عزوجل ہے:اوروہ اپنے پاؤں (زمین پر)نہ ماریں کہ وہ جو اپنی زینت چھپائے ہوئے ہیں پہچان لی جائیں ۔(النور:31)

4۔ اورعورتوں کو نرم لب ولہجہ کے اختیارکرنے لوچ ولچک کے ساتھ بات کرنے سے بھی منع فرمایا کہ اس روحانی امراض میں مبتلادل لالچ کرنے لگیں گے۔ ارشادباری عزوجل ہے:ائے نبی کی بیویوں !تم کسی عام (عورتوں ) کی طرح نہیں ہو،تم پرہیزگاری اختیارکرو تو گفتگو میں ملائمت نہ کروکہ تاکہ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ لالچ (خیال فاسد)نہ کرے۔(الأحزاب32)

مطلب یہ ہے کہ جب عورتیں اجنبی مردسے مخاطب ہوں توگفتگوکا اندازنرم نہ ہو؛کہ اس کی وجہ سے مردوں کی شہوت بھڑکے گی،اور ان کے دل برائی کی تمناکرنے لگیں گے،جب لہجہ اور تخاطب میں اجنبی کے ساتھ نرم رویہ اختیارکرنے کو اسلام نے منع کیا ہے تو اسے برائی اور خباثت کے دروازے کھول دینے کے مترادف کہا ہے،جو لڑکیاں اجنبی لڑکوں سے اشاروں کنایوں میں بات کرتی ہیں آپس میں مزاج ومذاق ہوتاہے،آپس میں چھیناچھپٹی ہوتی ہے،دیرسویریہ چیزیں بدکاری کی راہوں پر لے جائیں گی،کہاں گئی امت مسلمہ کی ماں بہنوں کی وہ غیرت وعفت جو ہر جگہ اجنبیوں کے ساتھ اپنی مسکراہٹیں بکھیرتی اور دعوت ِگناہ دیتی نظرآتی ہیں ۔حضرت اسماء ؓبنت ابوبکرؓایک دفعہ پیدل ایک کھیت سے واپس آرہی تھیں ،تو راستے میں حضوراکرم اسے سامناہوا،تو آپ انے ان سے فرمایا:سواری پر پیچھے سوارہوجاؤ،تو انہوں نے حضوراکرم اسے معذرت کی؛چونکہ ان کے شوہر عبداللہ بن زبیرؓنہا یت ہی غیرت اور حیاء دارشخص تھے،وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے جذبات کو کسی بھی طرح ٹھیس پہونچے؛ بلکہ انہوں نے حضوراکرم اسے چہرے سے چہر ہ ملانااور بات کرنا تک گوارہ نہیں کیا، جن سے کسی طرح گفتگوکا موقع مل جائے یہ حضرات صحابہ کرام کی تمنا ہواکرتی تھی،ایک طرف تو یہ عفت وحیاء کی مجسمِ پیکر ہماری مائیں او ربہنیں ہیں ، اوردوسری ہماری آج کل کی مائیں بہنیں ہیں جو بے محابااجنبی مردوں سے اختلاط رکھتی ہیں ،ان سے دل لگیاں کرتی ہیں ۔

آج کل نوجوان اجنبی لڑکے اور لڑکیاں پارکوں میں ناشائستہ حرکات وسکنات میں ملوث نظرآتے ہیں یا کسی جگہ محوگفتگونظرآتے ہیں ،اگر اسلامی قانون کا نفاذہوتا اوراسلامی سزائیں جاری کی جاتیں تو وہ اس بے محابااختلاط اور میل جول میں ہر گزنظرنہ آتیں ۔حضرت امام مالک ؒفرماتے ہیں :اگر دواجنبی مردوعورت کے مابین خلو ت غیرشرعیہ ہوجائے اور دونوں ایک بندکمرے میں پائے جائیں اور وہ دونوں اپنے کپڑوں میں موجودہوں تو ان کو تیس کوڑے مارے جائیں گے ،اور ایک اجنبی مردوعورت کسی راستے میں ایک دوسرے سے محوگفتگونظرآئیں تو دونوں کو بیس کوڑے مارے جائیں گے اور اگر کوئی شخص کسی لڑکی کے پیچھے چلتاہوانظرآئے اور وہ اس لڑکی کو اشارہ کررہا ہو، اور وہ اس کی جانب اشارہ کررہی ہو،تو ان دونوں کو دس کوڑے لگائے جائیں گے ،اور اگر زناکے شروع کرتے ہوئے نظر آئیں ، تو ساٹھ کوڑے مارے جائیں (اور زنامیں ملوث نظرآئیں سوکوڑے غیر دی شدہ کواوررجم شادی شدہ کو)

5۔   اسلام نے عفت و عصمت کی حفاظت،برائی اوربدکاری کے دروازوں کوبندکرنے کے لئے نکاح کی ترغیب وتعلیم دی ہے،اسلام نے تجردوتنہائی اور غیرازواجی زندگی کو ناپسند کیا ہے اسلئے مسلمان کو اگر شادی کی قدرت اوراستطاعت ہوتو اس سے ہرگزاعراض نہیں کرناچاہیے ،صرف یہ کہتے ہوئے کہ میں عبادت کے لئے فارغ ہونا چاہتا ہوں ،بالکل دنیاسے الگ تھلگ ہوکر یکسوئی کے ساتھ متوجہ الی اللہ ہوناچاہتاہوں ،اس راہبانہ اورتجردانہ زندگی اور اس کی کارگذاریوں کو ملاحظہ کیجئے:برطانیہ کے ’’ڈیلی میل‘‘اخبارکے مطابق ۸۰فیصد پادری اور نن انحراف اور بے راہ روی کے شکارہیں اور 20فیصد توبری طرح جنسی شدوذمیں مبتلا ہیں ،(جریدۃ المسلمون: شمارہ 357،جمادی الآخر1412)جب بعض صحابہ کرام میں اس قسم کی راہبانہ، زاہدانہ زندگی کے رجحانات نظرآئے تو آپ ا  سختی سے منع کیااور فرمایا یہ دراصل اسلام کے طریقہ کاراورسنتِ نبوی اسے انحراف کے مترادف ہے۔آپ ا نے ان سے فرمایا:میں تم میں اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ جاننے والااور اس سے ڈرنے والا ہوں ، لیکن میں نماز بھی پڑھتاہوں اور سوتابھی ہوں ،روزہ بھی رکھتاہوں ،افطاربھی کرتا ہوں ،عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ،جو شخص میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں ۔ (بخاری:باب الترغیب فی النکاح: حدیث506)

اسی لئے نبی کریم انے نوجوانوں کو مخاطب کرکے فرمایا:ائے نوجوانوں کی جماعت!جو تم میں سے نکاح کی استطاعت رکھے نکاح کرلیں ، چونکہ نکاح نگاہوں کو نیچی کرتاہے اور شرمگاہ کی عفت وعصمت کاضامن ہے۔  ( باب من لم یستطیع الباعۃ فلیصم:حدیث 40261)اس لئے علماء نے کہا ہے کہ:نکاح اگر انسان کرسکتاہو تو اس پر نکاح کرنا فرض ہے،محض تنگیٔ معاش،اخراجات کے نا کافی کو بہانابنا کر نکاح سے رکا نہیں جاسکتا،اللہ عزوجل نے عفاف وپاکیزگی کے طالب نکاح کرنے والے اپنی جانب سے رزق کے مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ارشادباری عزوجل ہے:اورتم نکاح کرو اپنی بیوہ عورتوں اور اپنے نیک غلاموں اور اپنی کنیزوں کا،اگر وہ تنگ دست ہوتواللہ انہیں غنی کردے گا اپنی فضل سے۔(النور:32)اور ایک دفعہ رسول اکرم  انے ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ نے تین اشخاص کی امدادکا اعلان کیا ہے،ایک پاکیزگی اور عفت کے لئے نکاح کرنیوالے کی دوسرے مکاتب جو ادائیگی کاارادہ رکھتاہواور تیسر ے اللہ عزوجل کے راستہ میں جہادکرنے والے کی۔(ترمذی:باب ماجاء فی المجاہد :حدیث:1455)

بہرحال اگر جنسی اس بے راہ روی کے سیلاب پر بند لگانا ہے تو مسلم معاشرہ کوبھی آگے آنا ہوگا جونوجوان معاشی کمزوری کی وجہ سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کی امدادواعانت کرنی ہوگی،زکاۃ اور دیگر اسلام کے مالی واجبات کے ذریعہ ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرناہوگا، ان کوآمادۂ نکاح کرنا ہوگا،اسطرح معاشرہ عفیف اور پاکیزہ ہوگا،جس کے اچھے اثرات نہ صرف اس فردِواحد سے وابستہ ہونگے،بلکہ سارامعاشرہ ان اچھے اثرات سے مستفید ہوگا،خودمسلمانوں کی فلاحی اور رفاہی تنظیموں کوبھی اجتماعی شادیوں کے نظم کے ذریعے سماج اور معاشرہ کی ایک بڑی ضرورت کو پوراکرناہوگا۔

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. ہمارے ہاں عورت ہی کیوں اپنی پاک دامنی ثابت کرنے کی ذمہ دار ٹھہرائی جاتی ہے ؟ کیوں مرد اس جاہلانہ روایات سے مستثنی’ہے؟
    ہمارےیہاں شادی کے بعد سہاگ رات کو دولہا دلہن کو ایک سفید کپڑا دیا جاتا ہے, جس سے دلہن کو اپنی پاک دامنی یا ورجنٹی ثابت کرنے کیلئے اس سفید کپڑے کو خون سے رنگنا ہو گا ، میرے سامنے یہ ایک بہت بڑی جاہلانہ رسم یا روایت ہے جس سے صرف اور صرف عورت کی تذلیل ہوتی ہے, کیونکہ مرد اس رسم اور روایت سے باالکل آزاد ہے ,
    ہمارے معاشرے میں عموما دیکھا جا سکتا ہےکہ مردکونا ویسے اپنی پاک دامنی یا ورجینٹی ثابت کرنی پڑتی ہے اور نہ ہی ویسے اس ذہنی کوفت سے گزرنا پڑتا ہےجیسےعورت گذرتی ہے
    ۔ ہمارےمعاشرےمیں اگر مردوں کو بھی شادی کی رات اپنی ورجنیٹی ثابت کرنے پڑے تو یقین کریں آدھے سے زیادہ مرد شادی ہی نہیں کریں گے۔۔ یہی وہ منافقانہ رویہ ہے جس میں مرد ہمیشہ اپنی بالادستی ثابت کرنے کیلئے عورت کو ہی ہمیشہ سولی پر چڑھا دیتا ہے چاہے وہ سولی نام نہاد غیرت کی ہو یا پھر نام نہاد عزت و وقار کی ہو ، میں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوں میں نے بھی بچپن سے انہیں جاہلانہ رسومات کو دیکھا ہے تب مجھے بھی ان پر یقین تھا لیکن جب میڈیکلی اس پراسس کے بارے میں پڑھا کہ خواتین کی ورجینٹی یا پردہ بکارت ایک انتہائی نازک پردہ ہے جو معمولی سے بے احتیاطی سےبھی پھٹ جاتا ہے. اسپیشلی اُن خواتین کو جو جسمانی کام زیادہ کرتی ہیں یا اُن بچیوں کو جو بچپن میں کھیل کود زیادہ کرتی ہوں اس سے بھی اس پردےکا متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے, لیکن پردہ بکارت کا نہ ہونے سے وہ لڑکی یا عورت کبھی فاحشہ نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس کو اس نام نہاد رسومات کی بھینٹ چڑھایاجاسکتاہے,کیونکہ عورت کے وجود سے ہی حسن فطرت ہے لہذا اس کو خراب نہ کریں اور نہ ہی اس کو اپنی جاہلانہ سوچ کی بھینٹ چڑھائیں..

متعلقہ

Back to top button
Close