مذہبی مضامین

خیالِ رزق ہے رزّاق کاخیال نہیں

جہاں گیر حسن مصباحی

اللہ رب العزت کے نام کو یا دکرو اور سب سے منھ موڑکر اُسی کےہو رہو۔ اللہ رب العزت کی ذات ہم مخلوقات کی سمجھ سےبالاترہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی ذات و صفات کا احاطہ محال ہے۔ ہم رات دن اللہ کی حمدوثنابیان کریں، اس کے باوجود ہم اللہ کی حمدوثنا کاحق ادا نہیں کرسکتے، کیوں کہ ایک مخلوق میں یہ مجال کہاں ؟چوں کہ مخلوق فانی ہے اوراللہ کی ذات باقی، پھر ایک فانی شئ ایک باقی ذات کی حمدوثناکاحق کس طرح اداکرپائے؟یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نےخود اپنی حمدبیان کرتے ہوئےسورۂ فاتحہ میں ارشادفرماتا ہے:
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(اللہ ہی کے لیے تمام حمدہےجوتمام جہانوں کارب ہے)
کیوں کہ ایک باقی ذات کی شایان شان حمدوثناصرف اورصرف باقی رہنے والی ذات ہی کرسکتی ہے اورہم بندوں پریہ اللہ کا عظیم الشان فضل واحسان ہےکہ اس نے ہمیں بھی حمدوثناکا سلیقہ سکھایا۔
اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت کے دو اسماآئے ہیں :
۱۔ اسم جلالت اللہ ۲۔ اسم صفت: رب
یہاں ہم بطور خاص اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کے حوالے سے غور وفکرکرنے کی کوشش کریں گے:
رب:اس اسم صفت سےمراد ایسی ذات ہے جو اپنی مخلوق کو بے کم وکاست جب جس چیز کی ضرورت وحاجت درپیش ہو، اُسی وقت بے مانگےحسبِ مقدار پوری کرنے والی ہو۔
مثال کے طور پرہمارایہ ایمان واعتقادہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کارب ہے، ان سب کی پرورش کااس نےوعدہ کررکھا ہےاور وہ اپناوعدہ پورا بھی کررہا ہے۔ ہم اپنی کھلی آنکھوں سے آئے دن یہ مشاہدہ کرتے رہتےہیں کہ مخلوقات میں جو احکام الٰہی کی تابعداری کرتا ہے اللہ اُسے بھی روزی دے رہاہے اور جو احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتا ہے اُسے بھی، حالاں کہ اللہ کے نافرمانوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اس کے باوجود ہم بندوں کا حال کچھ عجب ساہے، ہم یہ کہتے ہوئے کبھی نہیں تھکتے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے، وہی خلّاقِ عالم ہے اور وہی رزّاق حقیقی ہے مگر جب بات آتی ہے اعمال کی توہم اپنے آپ کوشرک خفی میں مبتلا پاتے ہیں۔
اس میں دورائے نہیں کہ ہم اللہ رب العزت کو قادرمطلق اورمختار کل مانتے ہیں، اس کے رب ہونے کااقرارکرتے ہیں لیکن اس کے باوجود جب کبھی ہم زندگی کی کسی منزل پر مصائب وآلام سے دوچارہوتے ہیں تو اللہ کے قادرمطلق اورمختارکل ہونے کوتقریباً نسیاًمَّنسیاً کردیتے ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں لولگانے کے بجائے دنیاداروں کے دربارمیں حاضری لگانےلگتے ہیں اور ہمارے عمل سے ایسا معلوم ہوتاہےکہ ہم نے سبب کو مسبب سمجھ لیا ہو، جب کہ مسبب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ نیزیہ جانتے ہوئے بھی کہ جو کچھ خیریاشر ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا ہے۔ ہم شکایت کی زبان کھول دیتے ہیں، بلکہ صبرکرنے، اپنے حالات کو درست کرنے صحیح اورمناسب اسباب اختیارکرنے کے بجائے کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتراض بھی کربیٹھتے ہیں۔ ایسے ہی اعمال وافعال سے پرہیزکرنے اور’ ’یک درگیرمحکم گیر‘ ‘پر زوردیتے ہوئےاللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا آمِنُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِهٖ(نسا:136)
ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ ورسول پر ایمان لاؤ۔
ایک دوسرے مقام پر ارشادفرماتاہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُواادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِيْنٌ(بقرہ:208)
اے ایمان والو!اسلام میں پورے طورپر داخل ہوجاؤ، اور شیطان کی راہ پر نہ چلو، بے شک وہ تمہارا کھلاہوا دشمن ہے۔
اگر ایمان داری سے غورکریں تو یہ آیت ہم مسلمانوں پر بھی صادق آتی ہے۔ وہ یوں کہ ہم عبادت میں تو ہوتےہیں لیکن ہمارا دل دنیا کی سیر کررہا ہوتاہے، ہم ایمان تو اللہ رب العزت پر رکھتے ہیں لیکن متوجہ، دنیاداروں کی جانب رہتے ہیں، اللہ کو رب کی طرح ماننے کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن عملی طورپر اپنے کاروبار، اپنی جاب اوراپنی کمپنی کے منیجر کورب مانتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔
آج ہم رزق کے حصول میں اس قدر مشغول ہوچکے ہیں کہ دین ودنیاکاہرفرق مٹ چکاہے۔ یہ تسلیم ہے کہ رزق کا حصول ہر مسلمان پر لازم وضروری ہے مگر رزق کے حصول میں رزّاق حقیقی کے حکم کے خلاف عمل کرناکہاں کا انصاف ہے؟فیکٹری اورکمپنی مالکان کی رضاوخوشنودی حاصل کرنے کےلیے واجبات وفرائض سے منھ موڑلیناکہاں کی عقلمندی ہے؟اورجانے انجانے میں عملی طورپرغیراللہ کو اپنارب مان لینا نادانی نہیں تواورکیا ہے؟کیا ہمارے یہ اعمال اس بات کی شہادت نہیں دیتے کہ ہمارے پاس زبانِ قال (زبانی جمع خرچ) توہے لیکن زبانِ حال(عمل) نہیں، ہم زبانی طورپر یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ موجود ہے، تمام جہانوں کا رب ہے، خالق کائنات ہے اورحساب کے دن کامالک ہے، مگرعملی اور قلبی طورپردنیاطلبی وجاہ طلبی میں گم رہتے ہیں اورچندوقتی چیزوں کے لیے اپنامقصدحیات بھول جاتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نےہم انسانوں کومحض اپنی عبادت واطاعت کے لیے پیدافرمایاہے۔
یہ جانتے ہوئےکہ دنیاایک مردارکی طرح ہے(کنزالعمال:8564)، دنیاکی پونجی بہت تھوڑی ہے(سورۂ نسا:77)، دنیاکی محبت تمام برائیوں کی جڑہے(شعب الایمان:10019)، دنیا کھیل کودکے سوا کچھ نہیں (سورۂ انعام:32)، پھر بھی ہم دنیا کے پیچھے بھاگنے سے نہیں تھکتے۔
جب کہ اللہ ہم سب کو ہمیشہ ایک سے بڑھ کر ایک نعمت سے نوازتارہتاہےاورہر لمحہ وہ ایک نئی شان کے ساتھ اپناجلوہ دکھاتا ہے(سورۂ رحمن:29)، وہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا (سورۂ رعد:31)، وہ دکھ میں بھی صبرکی تلقین فرماکراپنے سے قریب ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے(سورۂ بقرہ:153) اور خوشی میں بھی شکرکی توفیق دے کر اورناشکری سے بچاکرہمیں محبوب بندوں میں شامل ہونے کی راہ دکھاتاہے(سورۂ بقرہ:152)، پھر بھی ہم اپنے خالق، مالک اور معبود سے غافل رہتے ہیں، یہ کتنی افسوس ناک بات ہے؟
اب سوال یہ ہے کہ اس غفلت کے اسباب کیاہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مسلمان محض اس لیے ہیں کہ ہماراجنم مسلم گھرانے میں ہوا ہے، ہم نماز، روزہ، حج، زکاۃ اس لیے اداکرتے ہیں کہ یہ اعمال ہمارے آباواجدادکرتے چلے آرہے ہیں، گویا ہم جو کچھ عبادات کرتے ہیں وہ ایماناً، اعتقاداً، یا اخلاصاً نہیں ہوتیں، بلکہ ہم یہ سب کچھ محض رسماً کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم وہ تزکیہ نفس اورتصفیہ قلب نہیں حاصل کرپاتے ہیں جو ہمارا مطلوب ومقصودہےاور ایمان ہمارےقلب کی گہرائیوں میں نہیں اترپاتا۔
چنانچہ ہم سب کے لیے لازم وضروری ہے کہ سب سے پہلے اپنے آپ کو پہچانیں کہ ہم دنیامیں کیوں آئے ہیں اورہماری ذمےداری کیا ہے؟جب ہم خود کوپہچان لیں گے تو ہمارے لیے رب کی معرفت اوراس کی پہچان آسان ہوجائے گی، کیوں کہ جس نے خود کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ (حلیۃ الاولیاء، جلد:10، ص:208، شاملہ)
اورجو اپنے رب کوپہچان لیتاہے اس کا رشتہ ایمانی اتنامضبوط ہوجاتاہے کہ نہ تو اُسے دنیاکی کوئی خواہش ورغلاتی ہے اور نہ ہی شیطان اپنےمکروفریب میں پھانس پاتاہے، اس لیے کہ اب وہ اللہ کے بندے ہوچکے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر اس کا بس نہیں چل پاتا۔ (سورۂ حجر:42)
یہ بات ہر عقلمندانسان بخوبی جانتاہے کہ اگرہمیں کسی چیز کی حاجت ہے تواُس کو حاصل کرنے کے لیے، یاتوہمارے پاس طاقت وقوت ہونی چاہیے، یاپھر اس کے مالک کوراضی کرکے مطلوبہ چیز حاصل کرنی چاہیےاور ان دونوں میں سےکچھ بھی ہمارے پاس نہیں، پھربھی ہم دنیاکے طلب گارہیں، یہ توہماری بہت بڑی ناسمجھی ہے؟کیوں کہ ہم ایک ایسی چیز کی چاہت کررہے ہیں جسے نہ توخریدنے کی طاقت ہمارے پاس ہے اورنہ حاصل کرنے کی سکت۔ اولاً تو اس لیے کہ ہمیں خود یہ نہیں معلوم کہ اگلے لمحہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والاہے۔ دوم اس لیے کہ جس چیز کے ہم طالب ہیں، نہ تو اس کے مالک سے ہماری جان پہچان ہے اورنہ ہی مالک پر ہمارا کوئی زورچلتاہے، بلکہ ہم خودمالک کے رحم وکرم کےمحتاج ہیں۔
اب ایسی صورت میں بس ایک ہی راستہ بچتاہے کہ مالک کی مرـضی کواپنی مرضی بنالیاجائےاوراس کی خوشی میں خوش رہا جائے، تاکہ مالک کی نصرت وحمایت بھی حاصل ہواور ہمارامطلوب ومقصودبھی۔ جس کے لیے اِس نسخے کو اپنانے کی ضرورت ہےکہ:
وَاذْكُرِاسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيْلًا، رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا(مزمل:9-8)
ترجمہ:اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے منھ موڑکر اسی کے ہو کرر ہو۔ وہ مشرق و مغرب کا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم اسی کو اپناوکیل بناؤ۔

مزید دکھائیں

جہاں گیر حسن مصباحی

ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی۔ مدیرمسئول: ماہنامہ’’خضرراہ‘‘ الہ آباد۔ استاذ:جامعہ عارفیہ، سیدسراواں، الہ آباد۔ متعدد اسلامی سماجی سیاسی اور ادبی مقالات ومضامین اشاعت پذیر۔

متعلقہ

Close