مذہبی مضامین

دجال

ریاض فردوسی

اور ان لوگوں کو ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔(سورہ کہف آیت۔۔4)

شان رحمٰن کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے۔ (سورہ مریم آیت۔92)

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: جو شخص سورہ کہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کرےگا اور اس کو پڑھے گا تو وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ {صحیح مسلم}

یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے کہ اس کے ذریعہ ان کو ڈرایا جائے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹا بنا لیا۔پس دجال کا فتنہ اور مسیح کا فتنہ ایک ہی شے ہے کیونکہ علاج بیماری کے مطابق ہوتا ہے اگر دجالی فتنہ مسیحی فتنہ سے علیحدہ ہوتاتو ممکن نہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا حکیم انسان دجال سے بچنے کے لئے ایسی آیات پڑھنے کا حکم دیتا جن میں اس کا ذکر تک نہیں۔

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے۔ترجمہ۔۔۔اے اللہ قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ زندگی کے اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہوں سے اور قرض سے۔ کسی ( یعنی ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو قرض سے بہت ہی زیادہ پناہ مانگتے ہیں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی مقروض ہو جائے تو وہ جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلاف ہو جاتا ہے۔(صحیح بخاری۔حدیث۔832)

اور اسی سند کے ساتھ زہری سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے سنا۔ (بخاری حدیث نمبر 833)

۔ حرملہ بن یحییٰ ‘ عبد اللہ بن حرملہ بن عمران تجیبی ‘ ابن وہب ‘ شراحیل بن یزید کہتے ہیں : مجھے مسلم بن یسار نے بتایا کہ انہوں نے ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’آخری زمانے میں ( ایسے ) دجال ( فریب کار ) کذاب ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے۔ تم ان سے دور رہنا ( کہیں ) وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔ (صحیح مسلم۔حدیث۔16)

شعبہ نے ا بو قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا : میں نے ابو عالیہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے : مجھے تمہارے نبی ﷺ کے چچا کے بیٹے، یعنی حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث سنائی، کہا : رسول اللہ ﷺ نے اسراء کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا : ’’ موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ گندمی رنگ کے اونچے لمبے تھے جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں اور فرمایا : عیسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ گٹھے ہوئے جسم کے میانہ قامت تھے۔ ‘ ‘ اور آپ نے دوزخ کے داروغے مالک اور دجال کا بھی ذکر فرمایا۔(صحیح مسلم حدیث۔418)

نبی کریم ﷺ نے کہ آخری زمانہ میں جب دجال اپنے دوستوں (مختلف ایجنٹس جیسے انگریزحاکم، دوسرے مذاہب کے لوگ اور نام نہاد مسلمان حکمران جو کہ اسکے ساتھ ہوں گے) کے ساتھ احد پہاڑ پر چڑھے گا تو میری مسجد (یعنی مسجد نبوی ﷺ) کو دیکھے گا تو انہیں کہے گا کہ احمد کے اس سفید محل کو دیکھو۔اس وقت تو نبی کریم ﷺ کی مسجد کجھور کے شہتیروں اور کھجوروں کی تعمیر شدہ تھی، لیکن آج ہم مسجد نبوی کی تصاویر دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ کیا اب مسجد نبوی ﷺ سفید محل بن چکی ہے یا نہیں؟

دجال لفظ کا اصل مادہ د، ج، ل۔ دجال کا لفظ اس مادے سے فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ دجل کا معنی ہے ڈھانپ لینا، لپیٹ لینا۔ دجال اس لیے کہا گیا کیونکہ اس نے حق کو باطل سے ڈھانپ دیا ہے یا اس لیے کہ اس نے اپنے جھوٹ، ملمع سازی اور فریب کاری کے ذریعے اپنے کفر کو لوگوں سے چھپا لیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اپنی فوجوں سے زمین کوڈھانپ لے گا اس لیے اسے دجا ل کہا گیا ہے اس لقب میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ (دجال اکبر بہت بڑے فتنوں والا ہے) وہ ان فتنوں کے ذریعے اپنے کفر کو ملمع سازی کیساتھ پیش کریگا اور اللہ کے بندوں کو شکوک و شبہات میں ڈال دیگا نیز یہ کہ اس کا فتنہ عالمی فتنہ ہوگا۔”دجال” عربی زبان میں جعل ساز، ملمع ساز اور فریب کار  کو بھی کہتے ہیں۔ "دجل” کسی نقلی چیز پر سونے کا پانی چڑھانے کو کہتے ہیں۔حدیث شریف میں دجال کے فتنہ کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے۔ (مسلم کتاب الفتن باب فی بقیہ احادیث الدجال)

 ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا:’’اے لوگو!بلاشبہ زمین میں دجال کے فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں‘‘۔ (سنن ابن ماجہ؍4077، اسے شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔)

 حذٰیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا:’’فتنہ دجال سے زیادہ مجھے تم لوگوں کے آپس میں لڑائی جھگڑا کرنے کا زیادہ خطرہ ہے۔پہلے لوگوں میں سے جو کوئی اس فتنے سے محفوظ رہا وہ دراصل محفوظ ہے اور آج تک دنیا میں جوکوئی چھوٹا یا بڑا فتنہ ظاہر ہوا ہے وہ دجال کے فتنے کی وجہ سے ہے‘‘۔ (مسند احمد؍3082، صحیح ابن حبان؍6807، ملاحظہ ہو: سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ؍3082)

 فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یادرکھو! دجال شام یا یمن کے سمندر میں ہے۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی جانب ہے، وہ مشرق کی جانب ہے، وہ مشرق کی جانب ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ساتھ مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔ (صحیح مسلم؍2942سنن ابوداود؍4325)

 نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’دجال خلہ سے نکلے گاجو ملک شام اور ملک عراق کے درمیان ایک راہ ہے، وہ فساد پھیلاتا پھرے گا دائیں طرف اور بائیں طرف زمین، چنانچہ اے اللہ کے بندوں! مضبوط رہنا۔۔۔۔۔‘‘۔ (صحیح مسلم؍2937، مسند احمد؍17779)

 دجال سے متعلق زیادہ تر روایات کو احمد بن حنبل رحمتہ اللہ  نے اپنی کتاب مسند میں، ترمذی نے اپنی کتاب سنن میں، ابن ماجہ  نے اپنی کتاب سنن میں، مسلم بن حجاج نے اپنی کتاب صحیح میں۔ نیز ابن اثیر نے اپنی کتاب "النہایۃ فی غریب الحدیث” میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبداللہ انصاری سے رضی اللہ عنہ کی روایتیں نقل کی ہیں۔

 روایات میں دجال کے لئے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں

ا۔امامت،نبوت اور آخر میں ربوبیت اور الوہیت کا دعوی کرے گا۔

طویل عمر کا مالک ہے۔

اپنے ماننے والوں کی ہر خواہش پورا کرے گا۔

اس کے پاس پانی اور آگ ہے اور اس کا پانی آگ ہے۔

اندھے کو بصارت لوٹاتا ہے اور مبروص کو شفا دیتا ہے۔

اس کے پاس جنت اور آگ ہے اور وہ بارش برساتا ہے اور مردے کو زندہ کرتا ہے۔

وہ لوگوں کو قتل کرے گا اور پھر زندہ کرےگا۔

اس کے پاس سفید پانی کی ایک نہر اور آگ کی ایک نہر ہوگی ہے۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’دجال مشرق کی ایک سرزمین خراسان سے خروج کرے گا۔ اس کی پیروی ایسی قومیں کریں گی جن کے چہرے موٹی ڈھالوں کی طرح چپٹے ہوں گے‘‘۔ (سنن ترمذی؍2237، سنن ابن ماجہ؍4123، اسے شیخ البانی نے ’’الصحیحۃ؍1591‘‘ میں صحیح قرار دیا ہے۔)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،۔پس مسلمان شام کے جبل دخان کی طرف بھاگ جائیں گے اور دجال وہاں آکر ان کا محاصرہ کرلے گا۔ یہ محاصرہ بہت سخت ہو گا اور ان کو بہت سخت مشقت میں ڈال دے گا۔ پھر فجر کے وقت عیسیٰ ابن مریم نازل ہونگے۔ وہ مسلمانوں سے کہیں گے : “اس خبیث کذاب کی طرف نکلنے سے تمہارے لیے کیا چیز مانع ہے؟ مسلمان کہیں گے کہ یہ شخص جن ہے لہٰذا اس کا مقابلہ مشکل ہے۔“

حضرت محجن ابن ادرع فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ایک دن) لوگوں سے خطاب کیا چنانچہ تین مرتبہ (یہ) فرمایا یوم الخلاص و ما یوم الخلاص یوم الخلاص و ما یوم الخلاص۔ کسی نے پوچھا یہ یوم الخلاص کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دجال آئے گا اور احد پہاڑ پر چڑھے گا پھر اپنے دوستوں سے کہے گا کیا اس قصر ابیض (سفید محل) کو دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد کی مسجد ہے۔ پھر مدینہ منورہ کی جانب آئے گا تو اس کے ہر راستے پر ہاتھ میں ننگی تلوار لیے ایک فرشتہ کو مقرر پائے گا۔ چنانچہ سبخۃ الجرف کی جانب آئے گا اور اپنے خیمے پر ضرب لگائے گا۔ پھر مدینہ منورہ کو تین جھٹکے لگیں گے۔ جس کے نتیجے میں ہر منافق مرد و عورت اور فاسق مرد و عورت مدینہ سے نکل کر اس کے ساتھ چلے جائیں گے۔ اس طرح مدیبہ (گناہ گاروں سے) پاک ہوجائے گا۔ اور یہی یوم الخلاص (چھٹکارے یا نجات کا دن) ہے۔(او کما قال صلی اللہ علیہ وسلم )

حضرت ابوسعید خدری کی روایت ہے،ایک وقت آئے گا مسلمان کا بہترین مال وہ بھیڑ بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑ کی چوٹی اور بارش کے مقامات پر چلا جائے گا تاکہ وہ اپنے دین کو لے کر فتنوں سے بھاگ جائے۔ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے علامہ ابن حجر نے اپنی مشہور تصنیف "فتح الباری” میں لکھا ہے: سلف الصالحین میں اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ فتنوں کے زمانے میں صاحب ایمان آدمی عام لوگوں سے کنارہ کش ہوکر علیحدگی اختیار کرے یا نہ؟ بعض حضرات ایمان بچانے کیلئے گوشہ نشینی یا پہاڑوں میں نکل جانے کی اجازت دیتے ہیں اور بعض فرماتے ہیں کہ شہروں میں رہ کر فتنوں کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے۔۔۔۔ لیکن یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب فتنہ عام نہ ہو، لیکن اگر فتنہ عام ہوجائے تو پھر فتنہ زدہ لوگوں سے علیحدگی اور تنہائی کو ترجیح دی گئی ہے۔

دجال روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ساتھ لے کر چلے گا۔ اور بڑی تیزی سے دنیا میں پھیلے گا۔ اور ہر طرف فتنہ و فساد اور تباہی پھیلائے گا اور جسے چاہے گا قتل کرے گا اور جسے چاہے گا زندہ کرے گا اس کے حکم پر بارش بھی برسے گی اور زمین کھیتی اگائے گی اور اپنے خزانے نکال باہر کرے گی۔(مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال)اس حدیث کے ظاہری معنوں کی رو سے دجال کو خدا یا خدائی طاقتیں رکھنے والی ہستی ماننا پڑتا ہے جو اسلام کے بنیادی عقیدہ توحید کے خلاف ہے پس اس حدیث کا یہ مطلب لئے بغیر چارہ نہیں کہ دجال اپنی خصوصیات اور کارگزاریوں سے خدا کے کاموں پر ہاتھ ڈالے گا اور کوشش کرے گا کہ بارش برسانا، بارش بند کرنا، پانی بکثرت پیدا کرنا اور خشک کرنا تمام نظام طبعی پر اسے تصرف حاصل ہوجائے روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہر ساتھ ہونے میں ایک تو ان طاقتور مغربی قوموں کے کل دنیا پر اقتصادی اور معاشی ا قتدار اور غلبہ کا ذکر ہے۔(تقریبا یہ مرحلہ پورا ہو چکا ہے)

دجال نوجوان، گھنگھریالے بال والا، انتہائی سفید اور چمکدار،پستہ قد،چلنے میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان فاصلہ ہوگااور اس کا سر افعی سانپ کے مثل ہوگا: نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’دجال نوجوان گھنگھریالے بالوں والا ہوگا، اس کی آنکھ پھولی ہوئی ہوگی، وہ عبدالعزی بن قطن سے انتہائی مشابہ ہوگا‘‘۔ (صحیح مسلم؍7373)   عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا:’’دجال کانا، انتہائی سفید اور چمکدار ہوگا، اس کا سر افعی سانپ کے مانند ہوگا، وہ لوگوں میں سے عبدالعزی بن قطن کے مشابہ ہوگا‘‘۔ (التعلیقات الحسان علی صحیح ابن حبان؍6758مسند احمد۱؍299، ملاحظہ ہو : الصحیحۃ؍1193)بخاری، رقم : 7131,3439,1882، مسلم، رقم : 7375,7363,425)

آخر میں سیدنا عیسی(مسیح موعود)دجال کو باب لد کے پاس قتل کریں گے۔ (مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال،سنن ترمذی6؍513۔514) لدکے معنی ہیں بحث کرنے والے جھگڑنے والے افراد۔جو اس وقت اسرائیل کی فضائیہ کا ایئربیس ہے)قرآن کے درجہ میں یقینی نہ سہی(میری ناقص علمی معلومات کے بنیاد پر )، تاہم ‘صحیح’ احادیث کی بنیاد پر قیامت سے پہلے دجال کا خروج قابل اطمینان ذرایع سے ثابت ہوتا ہے۔

چنانچہ علامہ شوکانی لکھتے ہیں: ترجمہ: ’’چنانچہ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مہدی منتظر کے بارے میں وارد شدہ احادیث بھی متواتر ہیں اور حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں وارد شدہ احادیث بھی متواتر ہیں۔ ‘‘(الاذاعہ۔77)

اور حافظ عسقلانیؒ فرماتے ہیں:ترجمہ:’’ابوالحسن خسعی ابدیؒ نے مناقب شافعی میں لکھا ہے کہ احادیث اس بارے میں متواتر ہیں کہ مہدی اسی امت میں سے ہوں گے اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ابوالحسن خسعی نے یہ بات اس لئے ذکر فرمائی ہے۔ تاکہ اس حدیث کا رد ہوجائے جو ابن ماجہ نے حضرت انس ؓسے روایت کی ہے۔ جس میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ہی مہدی ہیں۔‘‘(فتح الباری۔ج۔4۔۔358)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گھٹنوں کے متعلق ارشاد فرمایا ! ”دجال کے نکلنے سے پہلے، پہلے حق اور باطل کے لشکر الگ، الگ ہوجائیں گے، دنیا کی ہوس رکھنے والے دجال کو اپنا خدا تسلیم کرلیں گے۔ اور اسلام پر جان قربان کرنے والے امام مہدی کے لشکر میں شامل ہو جائیں گے“۔آج کے دور میں جان بوجھ کر ایسے ایسے فتنے پھیلائے جارہے ہیں جن کے ذریعہ مسلمان الگ اور منافقین الگ نظر آئیں۔ حضرت عمر بن ہانی نے فرمایا کہ: میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھا کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نبی کریم اکی خدمت میں حاضر تھے، آپ انے فتنوں کو بیان فرمایا اور تفصیل سے بیان فرمایا، یہاں تک کہ احلاس کے فتنہ کو بیان کیا، کسی نے پوچھا: ”یہ احلاس کا فتنہ کیا ہے؟“ آپ ا نے فرمایا:

”یہ فتنہ گھربار اور مال کے لٹ جانے کا ہوگا، پھر خوشحالی وآسودگی کا فتنہ ہوگا، ا سکا دھواں ایسے شخص کے قدموں کے نیچے سے نکلے گا جو یہ گمان کرتا ہوگا کہ وہ مجھ میں سے ہے، حالانکہ وہ مجھ میں سے نہیں، بلاشبہ میرے اولیاء تو متقی ہیں پھر لوگ ایک نااہل شخص پر متفق ہوجائیں گے پھر تاریک فتنہ ہوگا، یہ فتنہ ایسا ہوگا کہ امت کا کوئی فرد نہ بچے گا جس کے تھپیڑے اس کو نہ لگیں، جب بھی کہا جائے گا یہ فتنہ ختم ہوگیا تو وہ اور لمبا ہوجائے گا، ان فتنوں میں آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا، لوگ اسی حالت پر رہیں گے یہاں تک کہ دو خیموں میں بٹ جائیں گے، ایک ایمان والوں کا خیمہ جس میں نفاق بالکل نہ ہوگا اور دوسرا نفاق والوں کا خیمہ جس میں ایمان بالکل نہ ہوگا، تو جب تم لوگ اس طرح تقسیم ہوجاؤ تو بس دجال کا انتظار کرنا آج آئے یا کل آئے۔(او کما قال صلی اللہ علیہ وسلم )

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ کبھی یہ خیال ظاہر فرمایا کہ دجال خراسان سے اٹھے گا، کبھی یہ کہ اصفہان سے اور کبھی یہ کہ شام اور عراق کے درمیانی علاقہ سے۔ پھر کبھی آپ نے ابن صیاد نامی اس یہودی بچے پر جو مدینہ میں (غالباً۔2 یا3ھ میں) پیدا ہوا تھا یہ شبہ کیا کہ شاید یہی دجال ہو اور آخری روایت یہ ہے کہ 9ھ میں جب فلسطین کے ایک عیسائی راہب(تمیم داری) نے آکر اسلام قبول کیا اور آپ کو یہ قصہ سنایا کہ ایک مرتبہ وہ سمندر میں (غالباًبحر روم یا بحرعرب میں)سفر کرتے ہوئے ایک غیر آباد جزیرے میں پہنچے اور وہاں ان کی ملاقات ایک عجیب شخص ہوئی اور اس نے انہیں بتایا کہ وہ خود ہی دجال ہے، تو آپﷺ نے ان کے بیان کو بھی غلط باور کرنے کی کوئی وجہ نہ سمجھی، البتہ اس پر اپنے شک کا اظہار فرمایا کہ اس بیان کی رو سے دجال بحر روم یا بحر عرب میں ہے مگر میں خیال کرتا ہوں کہ وہ مشرق سے ظاہر ہوگا۔(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2885 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 11 متفق علیہ 4​۔۔صحیح مسلم حدیث: 7028، روایت فاطمہ بن قیس رضی اللہ عنہا)۔ان مختلف روایات پر جو شخص بھی مجموعی نظر ڈالے گا وہ اگر علم حدیث اور اصول دین سے کچھ بھی واقف ہو تو اسے یہ سمجھنے میں کوئی زحمت پیش نہ آئے گی کہ اس معاملہ میں حضور اکرمﷺ کے ارشادات دو اجزا پر مشتمل ہیں۔

جزو اول یہ کہ دجال آئے گا، ان صفات کا حامل ہوگا اور یہ فتنے برپا کرے گا۔ یہ بالکل یقینی خبریں ہیں جو آپ نے اللہ کی طرف سے دی ہیں۔ ان میں کوئی روایت دوسری روایت سے مختلف نہیں ہے۔

علی کورانی اپنی کتاب معجم احادیث المہدی علیہ السلام، ،،میں خطیب بغدادی کی کتاب المتفق المفترق سے اور وہ سیوطی کی کتاب الحاوی للفتاوی سے اور سیدنا  ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: "جب قسطنطنیہ کے غنائم تقسیم ہونگے دجال کے خروج کی خبرحضرت  مہدی اور آپ کے انصار و اصحاب کو پہنچے گی”۔

شیخ حر عاملی سید ہبۃ اللہ موسوی کی کتاب مجموع الرائق کے حوالے سے اور وہ ابو سعید خدری، وہ جابر بن عبداللہ انصاری رضوان اللہ تعالی علیھم  اور وہ امیرالمؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہ سے نقل کرتے ہیں کہ ظہور سے قبل بہت سی نشانیاں ظاہر ہونگی جن میں سے ایک دجال ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: دجال کے پیروکاروں کی اکثریت یہودی اور عورتیں ہوں گی۔دجال کے ساتھ اصفہان کے ستر ہزار یہودی ہوں گے جو ایرانی چادریں اوڑھے ہوئے ہونگے۔جزو دوم یہ کہ دجال کب اور کہاں ظاہر ہوگا اور وہ کون شخص ہے، اس میں نہ صرف یہ کہ روایات مختلف ہیں بلکہ اکثرروایات میں شک و شبہ اور گمان پر دلالت کرنے والے الفاظ بھی مروی ہیں۔ مثلاً ابن صیاد کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عمرؓ سے یہ فرمانا کہ ’’اگر دجال یہی ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو۔ اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو تمہیں ایک معاہد کو قتل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے‘‘۔ یا مثلاً ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ’’اگر وہ میری زندگی میں آگیا تو میں حجت سے اس کا مقابلہ کروں گا ورنہ میرے بعد میرا رب تو ہر مومن کا حامی و ناصر ہے۔ ‘‘

دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے نبی کہے گا، پھر خدائی کا دعویٰ کریگا۔ اپنے پیدا کردہ زبردست شکوک و شبہات میں انسانیت کو پھانستا چلا جائے گا۔ اپنے آپکو دجال نہیں بلکہ خدا کہے گا۔

دجال کا ذکر کم سے کم تیس روایات میں موجود ہے، جس کی تصدیق بخاری شریف، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، شرعی السنہ بیہقی کے ملاحظہ سے کی جاسکتی ہے۔

احادیث صلی اللہ علیہ وسلم  کے حوالے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اس کا قبضہ تمام  تر زندگی بخش وسائل پر ہوگا، آگ، پانی، غذا وغیرہ اس کے پاس بے تحاشا دولت اور زمین کے خزانے ہوں گے وہ زندگی اور موت پر ظاہری طور پر قدرت رکھے گا۔ بارش، فصلیں، قحط اور خشک سالی پر بھی اس کی دسترس ہوگی، لیکن یہ سب کچھ وقتی ہوگا۔ چوں کہ  تھوڑے ہی عرصے بعد اس کی موت واقع ہوجائے گی۔

اسما ءبنت یزید بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر فرمایا کہ اس کے ظہور سے پہلے تین قحط پڑیں گے ایک سال آسمان کی ایک تہائی بارش رک جائے گی اور زمین کی پیداواربھی ایک تہائی کم ہو جائے گی دوسرے سال آسمان کی دو حصے بارش رک جائے گی اور زمین کی پیداوار دوحصے کم ہو جائے گی اور تیسرے سال آسمان سے بارش بالکل نہ برسے گی اور زمین کی پیداوار بھی کچھ نہ ہو گی حتیٰ کہ جتنے حیوانات ہیں خواہ وہ کھر والے ہوں یاڈاڑھ سے کھانے والے سب ہلاک ہو جائیں گے اور اس کا سب سے بڑا فتنہ یہ ہو گا کہ وہ ایک گنوار آدمی کے پاس آ کر کہے گا اگر میں تیرے اونٹ زندہ کر دوں تو کیا اس کے بعد بھی تجھ کو یہ یقین نہ آئے گا کہ میں تیرارب ہوں ؟وہ کہے گا ضرور، اس کے بعد شیطان اسی کے اونٹ کی سی شکل بن کر اس کے سامنے آئے گا جیسے اچھے تھن اور بڑے کوہان والے اونٹ ہوا کرتے ہیں اسی طرح ایک اور شخص کے پاس آئے گا جس کا باپ اور سگا بھائی گزر چکا ہو گا اور اس سے آ کر کہے گا بتلا اگر میں تیرے باپ بھائی کو زندہ کر دوں تو کیا پھر بھی یہ یقین نہ آئے گا کہ میں تیرا رب ہوں وہ کہے گا کیوں نہیں ؟بس اس کے بعد شیطان اس کے باپ بھائی کی صورت بن کر آ جائے گا۔ حضر ت اسماءکہتی ہیں کہ یہ بیان فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت سے باہر تشریف لے گئے اسکے بعد لوٹ کر دیکھا تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیان کے بعد سے بڑے فکر و غم میں پڑے ہوئے تھے۔ اسماءکہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کے دونوں کواڑ پکڑ کر فرمایا اسماءکہو کیا حال ہے ؟میں نے عر ض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دجال کا ذکر سن کر ہمارے دل تو سینے سے نکلے پڑتے ہیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ میری زندگی میں ظاہر ہوا تو میں اس سے نمٹ لوں گا ورنہ میرے بعد پھر ہر مومن کا نگہبان میرارب ہے میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا حال جب آج یہ ہے کہ ہم آٹا گوندھنا چاہتے ہیں مگر غم کے مارے اس کو اچھی طرح گو ندھ بھی نہیں سکتے،کہ روٹی پکاسکیں بھوکے ہی رہتے ہیں تو بھلا اس دن مومنوں کا حال کیا ہو گا جب یہ فتنہ آنکھوں کے سامنے آ جائے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس دن ان کو وہ غذا کافی ہو گی جو آسمان کے فرشتوں کی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتقدیس۔(مسنداحمدابن حنبل رحمتہ اللہ علیہ۔ ۔او کما قال صلی اللہ علیہ وسلم)

(صحیح مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال و صفہ وما معہ، حدیث نمبر : 2937۔۔صحیح مسلم جلد سوم:حدیث نمبر 2872۔۔۔ بخاری، حدیث نمبر: 84۔۔۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2866۔۔۔۔۔۔ مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر : 2934۔۔۔ ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ الدجال و خروج عیسیٰ حدیث نمبر : 4077۔۔۔۔۔۔۔ الحاکم، حدیث نمبر : 8768۔۔ صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر: 6709۔۔۔۔مستدرک حاکم، حدیث نمبر : 8768۔۔۔۔۔ مسند احمد، مسند جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر : 14954۔۔۔۔ سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، حدیث نمبر : 321۔۔۔ مسند احمد، مسند شامیین، حدیث نمبر : 17226۔۔۔ صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب فی بقیہ احادیث الدجال، حدیث نمبر : 2944۔۔صحیح البخاری، کتاب الانبیاء، باب ماذکر عن بنی اسرائیل، حدیث نمبر : 3266۔۔۔۔ صحیح المسلم، کتاب الآداب، باب جواز قولہ لغیر ابنہ، حدیث نمبر : 2152۔۔۔صحیح بخاری، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر : 6705۔۔۔۔۔۔ابو داؤد، کتاب الفتن، باب ذکر الفتن ودلائلھا، حدیث نمبر : 4246۔۔۔ صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر : 2937۔۔۔ ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ دجال و خروج عیسیٰ، حدیث نمبر : 4075۔۔۔۔ مسند احمد، مسند جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر : 4954۔۔۔۔۔الماخذ المذکور تحت رقم : 86۔۔۔ ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ دجال، حدیث نمبر : 4077۔۔ صحیح البخاری، کتاب الحج، ابواب فضائل المدینہ، باب لاید خل الدجال المدینۃ، حدیث نمبر : 1783۔۔ صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ، باب قصۃ الجساسہ، حدیث نمبر : 2942۔۔۔۔نعیم بن حماد، الفتن، باب خروج الدجال و سیرۃ، حدیث نمبر: 1527۔۔۔ نعیم بن حماد، الفتن، بدایۃ الجزء الرابع، حدیث نمبر : 720۔۔۔۔۔ صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب التعرب فی الفتنہ، حدیث نمبر : 667۔۔۔۔فتح الباری، کتاب الفتن، باب التعرب فی فتنہ، تحت حدیث رقم : 6677۔۔۔۔سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب الامر ونہی، حدیث نمبر : 4344۔۔۔۔مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند عبداللہ بن عمرو وضی اللہ عنھما، حدیث نمبر : 7049۔۔۔۔ مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند عبداللہ بن عمرو وضی اللہ عنھما، حدیث نمبر : 7063۔۔۔

 ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب التثبت فی الفتنہ، حدیث نمبر : 3957۔۔ سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، حدیث نمبر : 4323۔۔ صحیح مسلم، باب فضائل القرآن و مایتعلق بہٖ، باب فضائل سورۃ الکہف و آیت الکرسی، حدیث نمبر : 809۔۔۔ المستدرک للحاکم، حدیث نمبر : 8768۔۔۔ طبرانی، حدیث نمبر : 7529۔۔۔۔ المعجم الکبیر للطبرانی، باب ص، حدیث نمبر : 7644۔۔۔۔ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال۔۔۔۔، حدیث نمبر : 4077۔۔۔نعیم بن حماد، الفتن، باب المعقل من الدجال، حدیث نمبر : 1578۔۔۔مسند احمد، حدیث رجل من اصحاب النبیؐ، حدیث نمبر : 23684۔۔

علیٰ الصحیحین، ج 4، صفحہ نمبر : 546۔۔۔۔۔نعیم بن حماد، الفتن، باب ما بقی من الاعماق و فتح القسطنطینیہ، الجزو 2، حدیث نمبر: 1382۔۔۔۔۔ نعیم بن حماد، الفتن، باب ما بقی من الاعماق و فتح القسطنطینیہ، الجزو 1، حدیث نمبر: 1252۔۔۔ مصنف عبدالرزاق، کتاب الجامع، للامام معمر، باب الدجال، حدیث نمبر : 20834۔۔۔۔۔۔تفسیر ابن کثیر۔ترجمان القرآن۔ربیع الاول 25ھ؍ فروری۔26ء،)

فتنہ عربی لفظ ہے جس کا عام معنی کسی کا امتحان اور کسی کی جانچ کی جائے۔اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے،ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اورمکمل طور پر اللہ کا دین نافذ ہو جائے۔اس سے معلوم ہوا کہ فتنہ دین کے مقابل ہے۔ حضرت خذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا فتنے دلوں پر یلغار کرتے ہیں، سو جو دل اس (فتنے) کو بُرا جانتا ہے تو اس دل میں ایک سفید نکتہ پڑ جاتا ہے اور جو دس اس (فتنے ) میں ڈوب جاتا ہے تو اس دل میں ایک کالا نکتہ پڑجاتا ہے۔( السنن الواردۃ فی الفتن، جلد 1،صفحہ۔227، مستدرک، جلد۔2،صفحہ۔ 515 )

حضرت عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایااللہ کے نزدیک سب سے محبوب لوگ غربا ء ہونگے۔ پوچھا گیا غرباء کون ہیں؟ فرمایا اپنے دین کو بچانے کیلیے فتنوں سے دور بھاگ جانے والے۔ اللہ تعالیٰ ان کو عیسیٰ ابن مریم ؑعلیہ السلام کے ساتھ شامل فرمائے گا۔

(حلیہ الاولیاء ابو نعیم، جلد۔1، صفحہ۔25 ، کتاب الزاہد الکبیر، جلد۔2، صفحہ۔114)

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور یہ بیان فرمایا اس امت میں کچھ ایسے لوگ ہونگے جو رجم (سنگسار) کا انکار کرینگے، عذاب قبر کا انکار کریں گے اور دجال (کی آمد) کا انکار کریں گے اور شفاعت کا انکار کریں گے اور ان لوگوں (یعنی گنہگار مسلمانوں ) کے جہنم سے نکالے جانے کا انکارکریں گے۔(فتح الباری، جلد 11، صفحہ۔426)

دجال کےعوامل (یہودی، عیسائی وغیرہ اور انہی کے مال پر پلنے والی این۔جی۔او اور اسلام دشمن عناصر) اپنے حقیقی آقائوں کے اشاروں پراسلامی قوانین کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں اور انکو تبدیل یا ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ کئی نام و نہاد کی مفکر ہیں جو رجم اور دیگر اسلامی قوانین کو (نعوذباللہ)پرانی روایات قرار دے چکے ہیں، نیز دجال کی آمد کا انکار کرنے والے لوگ موجود ہیں۔کئ لوگ دجال کا مکمل انکار کرتے ہیں اور قصے کہانیاں قرار دیتے ہیں، جبکہ چند حضرات مان بھی لیں تو کہتے ہیں دجال کوئی بندہ نہیں ہوگا۔۔ غرضیکہ ان کے نظریات اسلامی قوانین کےخلاف ہیں۔

خروج دجال کی نشانیوں میں سے اہم نشانی یہ ہے کہ وقت میں برکت نہیں رہے گی،اور قرب قیامت کے  آثار میں شامل ہے۔

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا اس وقت تک قیامت نہیں

آسکتی جب تک زمانہ آپس میں بہت قریب نہ ہوجائے۔ چنانچہ سال مہینے کے برابر، مہینہ ہفتے کے برابر، ہفتہ دن کے برابر، دن گھنٹے کے برابر اور گھنٹہ کھجور کی پتی یا شاخ کے جلنے کی مدت کے برابر ہوجائے گا۔(ابن حبان، جلد۔15، صفحہ۔256۔

او کما قال صلی اللہ علیہ وسلم )

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے جب سے مجھے بھیجا اس وقت سے جہاد جاری ہے اور (اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ) میری امت کی آخری جماعت دجال کے ساتھ قتال کرے گی۔ اس جہاد کو نہ تو کسی ظالم کا ظلم ختم کر سکے گا اور نہ ہی کسی انصاف کرنے والے کا انصاف۔( ابو داؤد، جلد۔3 ، صفحہ۔18 ، کتاب السنن، جلد 2، صفحہ۔176 )

 آپﷺ نے فرمایا یہ دین باقی رہے گا۔ اسکی حفاظت کیلیے مسلمانوں کی ایک جماعت قیامت تک قتال کرتی رہے گی۔( مسلم، جلد۔3، صفحہ۔1524)

حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تک آسمان سے بارش برستی رہے گی تب تک جہاد تروتازہ رہے گا (یعنی قیامت تک)۔ اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب ان میں پڑھے لکھے لوگ بھی یہ کہیں گے کہ یہ جہاد کا دور نہیں ہے، لہذا ایسا دور جس کو ملے تو وہ جہاد کا بہترین زمانہ ہوگا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ کیا کوئی (مسلمان) ایسا کہہ سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں (ایسا وہ پڑھے لکھے کہیں گے) جن پر اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام انسانوں کی لعنت ہوگی۔ ( السنن الواردۃ فی الفتن، جلد۔3، صفحہ۔751)

حضرت ابورجاء الجزری حضرت حسن سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ کہیں گے کہ اب کوئی جہاد نہیں ہے، تو جب ایسا دور آجائے تو تم جہاد کرنا، کیونکہ وہ افضل جہاد ہوگا۔( کتاب السنن، جلد۔2   صفحہ۔176)

دجال کے  معاوینین دراصل اسی طرح کے افراد ہیں جن کے اوصاف کا تذکرہ، مذکورہ والا احادیث پاک صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوا ہے۔ جو ایسے نظام کو پروان چڑھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جو مسلمان کواللہ سے دور کردیتاہے۔

یوحنا کے مکتوب اول میں ہے: "جھوٹا کون ہے سوا اس شخص کے جو عیسی کے مسیح ہونے کا انکار کرے، وہ  دجال ہے جو باپ بیٹے کا انکار کرتا ہے”۔ اسی رسالے میں مذکور ہے کہ "کیا تم نے سنا ہے کہ دجال آئے گا؛ اس وقت بھی بہت سے دجال ظاہر ہوچکے ہیں اور یہیں سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ آخری گھڑی ہے”۔ اسی رسالے میں کہا گیا ہے: "جو شخص اس روح کا انکار کرے جو عیسی میں مجسم ہوا ہے اس کا خدا سے تعلق نہیں ہے اور یہی ہے دجال کی روح جس کے بارے میں تم نے سنا ہے کہ وہ آئے گا اور اس وقت بھی دنیا میں ہے”۔صاحب کتاب قاموس کتاب مقدس” سمیت بعض عیسائی علماء، دجال کو اسم عام سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں دجال وہ لوگ ہیں جو مسیح کو جھٹلاتے ہیں اور انجیل کی عبارات سے بھی  یہی بات سامنے آتی ہے۔ نیز کہا گیا ہے کہ "دجال یا دشمنِ مسیح وہ شخص ہے جو آخر الزمان میں اٹھے گا اور مسیح رجعت کرے گا اور اس کو ہلاک کر ڈالے گا۔

لفظ دجال عبرانی (یا عبری) نیز یہودی تعلیمات میں  "دشمنِ خدا” کو کہا جاتا ہے اور دو الفاظ "دج” (دشمن، معاند اور ضد) اور "ال” (خدا) سے مرکب ہے۔ (عبری میں "ال” اور "ایل” کے معنی خدا کے ہیں بطور مثال لفظ "اسرائیل” کے معنی "خدا کا دوست” کے ہیں گوکہ یہودیوں کی تفسیر میں اس کے معنی "خدا پر غلبہ پانے والے شخص” کے بھی ہیں!)۔

دجال کی داستان عیسائیوں کی مقدس کتابوں کے درمیان صرف مکتوبات یوحنا میں مذکور ہے۔ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا ہے کہ "دجال کا تذکرہ سابقہ امتوں کے ہاں ہوا ہے لیکن وہ آئے گا مستقبل میں”

انجیل میں یہ لفظ یوحنا کے مکتوبات میں مذکور ہے اور کہا گیا ہے کہ جو شخص مسیح یا "باپ اور بیٹے” کا انکار کرے وہ دجال ہے۔ اسی بنا پر عیسائیوں کی مقدس کتب کے انگریزی تراجم میں اس کو [antichristt] (دشمن مسیح) کے عنوان سے متعارف کرایا گیا ہے جو یونانی اصطلاح [antichristos] کا مترادف اور ہم معنی ہے۔ جیسا کہ یوحنا کے مکتوب اول آیت 18 میں کہا گیا ہے:

"اے بچو! یہ آخری گھڑی ہے اور جیسا کہ تم نے سنا ہے دجال آرہا ہے، فی الحال بھی بہت سے دجال ظاہر ہو چکے ہیں اور میں اس حقیقت کو جانتا ہوں کہ یہ آخری گھڑی ہے”۔ اسی رسالے کی آیات 22 اور 23 میں ہے کہ "اس شخص کے سوا کون جھوٹا ہے جو عیسی کے مسیح (نجات دہندہ) ہونے کا انکار کرے اور وہ دجال ہے جو باپ اور بیٹے کا انکار کرتا ہے”

’’باب الد‘‘ یعنی لد کا دروازہ کہلاتاہے۔

یہاں پر اسرائیلی انتظامیہ نے یہ تحریر لکھی ہے ’’ھنا یخرج ملک السلام‘‘ سلامتی کا بادشاہ دجال یہاں ظاہر ہوگا۔ دجال کو لانے کے لیے تیاریاں زور شور سے ہو رہی ہیں۔اور تعجب کی بات ہے کہ تمام یہودی یہی اکٹھا ہر رہے ہیں جیسے کہ انہوں حضرت عیسی علیہ السلام کا کام آسان کر دیا ہے۔

بقول مفتی محمد شفیع صاحبؒ کہ حضرت عیسیٰ ؑ پوری دنیا میں انھیں کہاں کہاں تلاش کرتے، یہودی دجال کو اپنا پیشوا مانتے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی مقام پر منتظر ہیں جہاں اس کا قتل ہونا رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق لازم ہوچکا ہے۔

مزید دکھائیں

ریاض فردوسی

الشفاء کلینک سکہ ٹولی عالم گنج (نزد سکہ ٹولی مسجد )پٹنہ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close