مذہبی مضامین

دستورِ مدینہ کے تحت عدلیہ

ترتیب: عبدالعزیز
(پانچویں قسط)
بنو نضیر کی غداری: بنو نضیر یہود مدینہ کا دوسرا بڑا قبیلہ تھا ان کا ایک رہنما اور معروف شاعر کعب بن اشرف دسترِ دینہ کو پامال کرتے ہوئے غزوۂ بدر
کے بعد مکہ گیا۔ اس نے آگ لگنے والے اشعار پڑھے اور قریش کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا بھی منصوبہ بنایا اور بالآخر مارا گیا۔
دستور مدینہ میں ایسی دفعات موجود تھیں جن کے مطابق وفاق کی ہر وحدت اپنے سابق رواج کے مطابق خوں بہا کے معاملے طے کرسکتی تھی۔ اس پر عمل درآمد ریاست کی ذمہ داری تھی۔ عمرو بن امیہ الضمری نے بنو عامر کے دو آدمیوں کو ایک مسلمان کے بدلہ میں جو بئر معونہ میں قتل ہوا تھا، ہلاک کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیف جسٹس کی حیثیت سے عمرو بن امیہ کے اس فعل کو پسند نہیں فرمایا اپنا فیصلہ سنایا کہ اس کا خوں بہا ادا کیا جائے۔ بنو عامر بنو نضیر کے حلیف تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سربراہِ ریاست کی حیثیت سے اس فیصلہ کے نفاذ کا اہتمام کیا۔ آپؐ اس خوں بہا کی ادائیگی اور دیگر معاملات کو طے کرنے کیلئے بذاتِ خود بنو نضیر کے پاس تشریف لے گئے مگر یہودی اپنی فطرت سے مجبور تھے۔ انھوں نے ریاست مدینہ کی عدالتی اور انتظامی اعلیٰ کارکردگی کو سراہنے کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے خلاف سازش کی۔
دستور کی پامالی: بنو قینقاع کی جلا وطنی، کعب بن اشرف کی دغا بازی اور بنو نضیر کی طرف سے دستور کی پامالی نے یہودیوں سے تجدید معاہدہ کی ضرورت پیدا کر دی۔ بنو قریظہ تجدیدِ معاہدہ کیلئے تیار ہوگئے مگر بنو نضیر دستور کی پابندی سے نہ صرف منحرف ہوگئے بلکہ انھوں نے نیا معاہدہ کرنے سے بھی انکار کردیا۔ ان کا یہ رویہ اعلانِ جنگ کے مترادف تھا؛ چنانچہ انھوں نے اپنے مضبوط قلعوں میں مورچہ بندی کرلی۔ مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کرلیا۔ آخر کار وہ مسلمانوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے۔
فیصلہ: دستور سے غداری اور ریاست کے خلاف سازش جیسے جرائم سزائے موت کے متقاضی تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سزائے موت دینے کے بجائے صرف جلا وطن کرنے کا فیصلہ کیا۔ بنو نضیر نے آپؐ کے اس فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کیا اور انھوں نے اسے بخوشی قبول کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ دستور کے مطابق انھیں سزائے موت دی جاسکتی تھی مگر آپؐ نے صرف ان کی جلا وطنی پر اکتفا فرمایا جس پر وہ بہت خوش تھے۔
بنو قریظہ کی غداری : ریاست مدینہ میں ایک سیاسی وحدت تھے۔ انھوں نے غزوۂ احد کے بعد دستور مدینہ سے وفا کی تجدید بھی کی تھی۔ غزوۂ خندق کے دوران کعب بن اسد، قریظہ کے رہنما نے حملہ آوروں کی مدد سے انکار کر دیا اور انھیں مسلمانوں کے ساتھ اپنا عہد ید دلایا۔ حُیّی بن اخطب، بنو نضیر کا ایک جلا وطن رہنما بنو قریظہ کو اپنے زیر اثر لانے میں کامیاب ہوگیا جس سے بنو قریظہ دستور سے غداری کرنے اور مسلمانوں کے مقابلے میں حملہ آوروں کی امداد کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعدؓ بن معاذ اور سعدؓ بن عبادہ کو ان کے پاس بطور سفیر بھیجا کہ وہ انھیں دستور کے ساتھ وفا اور عہد کی پاسداری یاد دلائیں۔
چونکہ وہ آئین سے غداری اور دشمنوں کی فوج سے مل جانے کا فیصلہ کرچکے تھے، اس لئے انھوں نے جواب دیا: ’’ہم نہیں جانتے محمدؐ کون ہے اور معاہدہ کیا ہے‘‘۔
وہ ریاست کے خلاف علی الاعلان جنگ میں شریک ہوئے اور شکست کھائی۔ شکست کے بعد وہ اپنے قلعوں میں پسپا ہوگئے اور اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن حیی بن اخطب کو بھی لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ بن ابی طالب کو ہراول دستہ کے طور پر بنو قریظہ کی طرف بھیجا۔ جب وہ ان کے قلعوں کے قریب پہنچے تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور ان کو برے ناموں سے پکارا۔ حضرت علیؓ یہ برداشت نہ کرسکے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع بھیج دی کہ یہود جنگ پر آمادہ ہیں۔ اس کے بعد ان کا محاصرہ کرلیا گیا جو پچیس دن جاری رہا۔ جب وہ محاصرہ کو برداشت نہ کرسکے تو انھوں نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے مسلمانوں کی افواج کے سپہ سالار کو پیغام بھیجا اور ان سے درخواست کی کہ ریاست مدینہ اور ان کے معاملے کا فیصلہ کرنے کیلئے ان کے پرانے حلیف حضرت سعدؓ بن معاذ کا ثالث مقرر کر دیا جائے۔ ان کی درخواست پر حضرت سعدؓ کو ثالث بنا دیا گیا اور یہ مقدمہ فیصلہ کیلئے اس کے سپرد کردیا گیا۔
فیصلہ کا اعلان: حضرت سعدؓ بن معاذ ثالثی کیلئے سب سے اہل آدمی تھے۔ انھوں نے دستورِ مدینہ کی تدوین میں نمایاں حصہ لیا تھا۔ اور اس امر کے گواہ تھے کہ بنو قریظہ نے اپنی آزادی رائے سے دستور کو تسلیم کرلیا تھا۔ وہ اس امر کے بھی گواہ تھے کہ بنو قریظہ نے بغیر کسی اندرونی یا بیرونی دباؤ کے معاہدہ کی تجدید کی تھی۔ وہ یہود کے با اعتماد حلیف تھے اور ان کے مذہبی قانون، قواعد و عادات اور سماجی رسم و رواج سے کما حقہ آگاہ تھے۔ متذکرہ پس منظر، بنو قریظہ کے جرم اور دستور کی متعلقہ دفعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے حضرت سعدؓ نے اپنا مندرجہ ذیل فیصلہ سنایا جو تورات کے قانون کے عین مطابق تھا:
’’میں ان کے متعلق اپنا فیصلہ سناتا ہوں کہ ان کے مرد قتل کر دیئے جائیں، ان کی املاک تقسیم کر دی جائیں، ان کے بچے اور عورتیں جنگی قیدی بنا لئے جائیں‘‘۔ ریاست اور یہود دونوں نے اس فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور حکومت نے اسے نافذ کر دیا۔
یہودیت قبول کرنے والوں پر تنازعہ: بنو نضیر کی جلا وطنی پر یہود اور انصار میں اس بات پر تنازعہ پیدا ہوگیا کہ آیا انصار کے وہ نوجوان جنھوں نے یہودیت اختیار کرلی تھی یہودیوں کے ساتھ جائیں گے یا اپنے والدین کے پاس رہیں گے۔ مقدمہ ریاست مدینہ کے چیف جسٹس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش ہوا۔ یہ کوئی سیاسی یا سماجی مسئلہ نہ تھا۔ یہ خالصتاً ایک مذہبی مسئلہ تھا جس پر وحی الٰہی کی ہدایت کی ضرورت تھی جس پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: ’’لَا اِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْن‘‘ (دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں)۔
یہودیوں کے قرضے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ انسانیت میں سب سے پہل حکمران تھے جنھوں نے تحریری آئین بنایا، آئینی حکومت قائم کی اور خود سختی سے آئین کی پابندی کی۔ دستور سے غداری کرنے والے اور ریاست مدینہ سے جنگ کرنے والے یہودیوں کے ساتھ آپؐ نے جو سلوک فرمایا وہ قیامت تک حکمرانوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ آپؐ نے اپنے شکست خوردہ دشمنوں کو وہ قرض حق و انصاف کے مطابق دلائے جو انھوں نے مختلف لوگوں کو دے رکھے تھے۔
مندرجہ ذیل دو مقدمات اس حقیقت کا ثبوت پیش کرتے ہیں:
بنو قینقاع کی غداری ثابت ہوچکی تھی۔ آئین کے مطابق ان کے اخراج کا فیصلہ سنایا جاچکا تھا۔فیصلہ سن کر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں یہ دعویٰ دائر کیا کہ ان کے وہ قرضے انھیں دلائے جائیں جو ان کی طرف سے مختلف لوگوں کے ذمے ہیں۔ اس میں انھوں نے استدعا کی کہ انھوں نے وہ قرض بھی وصول کرنے ہیں جن کی تاریخ ادائیگی ابھی نہیں آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقدمہ سنا۔ شہادت لی اور مدعا علیہان کو بھی سنا۔ یہودیوں کا حق ثابت ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فیصلہ سنایا: ’’کٹوتی پر ان (قرضوں) کی تشخیص کرو‘‘۔
بنو نضیر کی جلا وطنی پر بھی یہی صورت دہرائی گئی۔ انھوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں درخواست دی: مختلف لوگ ہمارے مقروض ہیں جن کی ادائیگی کی تاریخ ابھی نہیں آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت لینے کے بعد حکم دیا: ’’کٹوتی پر ان (قرضوں) کی تشخیص کرو‘‘۔
مندرجہ بالا مباحث سے واضح ہوتا ہے کہ جب تک وفاق مدینہ کی تمام وحدتیں دستورِ مدینہ کی وفادار رہیں انھیں مساوی طور پر انصاف ملتا رہا۔ جب انھوں نے دستور کو پامال کیا اور ایک آئینی حکومت کے خلاف تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہوئیں تو مجرموں پر مقدمہ چلایا گیا اور انھیں باقاعدہ عدالت میں پیش کیا گیا، ان کے مقدمات کی سماعت ہوئی۔ آئینی، عدالتی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان کے خلاف سازش اور انتہائی غداری کا جرم ثابت کیا گیا۔ ہم اس موقع پر اس حقیقت کو پورے وثوق سے بیان کرتے ہیں کہ اگر مدینہ کے یہودی متفق علیہ دستور سے غداری نہ کرے، آئینی حکومت کے خلاف سازش کا ارتکاب نہ کرتے، سربراہِ ریاست کو جان سے مار دینے کے منصوبے نہ بناتے تو انھیں مدینہ سے جلا وطن نہ کیا جاتا اور نہ انھیں موت کی سزا دی جاتی۔ بنو قینقاع اور بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا۔ صرف اس لئے کہ انھوں نے دستورِ مدینہ سے غداری کی اور ریاست کے خلاف سازش کے مرتکب ہوئے۔ ان جرائم کی سزا آئین کے مطابق موت تھی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان کی جلا وطنی پر اکتفا کیا۔ اس طرح بنو قریظہ نے آئین کو توڑا، دستور کو پامال کیا، ریاست کے خلاف کھلم کھلا دشمن کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے جنگ کی۔ ان گھناؤنے جرائم کے ارتکاب کے باوجود انھوں نے اپنے پرانے من پسند اور پراے حلیف حضرت سعدؓ بن معاذ کو حَکم (منصف) بنانے کی درخواست کی، جسے حکومت نے تسلیم کرلیا۔ حکم نے جو فیصلہ دیا حکومت نے اسے بھی مان لیا۔ اتنے واضح، بیّن اور کھلے دلائل اور تاریخی حقائق کے باوجود بعد کے یہودیوں نے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے خلاف کی گئی آئینی کارروائی کو ظلم قرار دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئین اور دستور میں مقرر کردہ سزاؤں سے بھی کم سزا دی مگر اس کے باوجود آپؐ پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ اگر چہ یہ ساتویں صدی عیسوی کی بات ہے مگر ہم چیلنج کرتے ہیں کہ آج بیسویں صدی عیسوی میں بھی عیسائی دنیا کی کوئی جدید سے جدید ریاست بھی آئین اور قانون کے اس معیار پر پورا اتر کر دکھائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں صدی عیسوی میں قایم کیا تھا۔ آپؐ کا معیار تھا کہ حکومت آئینی ہوگی جس کے آئین میں تمام سیاسی وحدتوں کے حقوق و فرائض وضاحت کے ساتھ بیان ہوں گے۔ کسی شہری یا سیاسی وحدت کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی جب تک اس کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلاکر عدالت میں جرم ثابت نہ کر دیا جائے۔ ریاست کے ہر فرد کی جان، مال اور عزت و آبرو محفوظ ہوگی اور کسی شہری کو جرم بتائے بغیر گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ سی سیاسی وحدت پر ثبوت کے بغیر سازش اور غداری کا الزام نہیں لگایا جائے گا۔ اب ہم ان امور کا ثبوت دستورِ مدینہ سے پیش کرتے ہیں۔
دستور کی دفعہ 14 کا متن یہ ہے : ’’مومنین متقین اپنے میں سے ہر اس شخص کے خلاف ہوں گے جو بغاوت کرے گا یا جو مومنین کے درمیان ظلم یا غداری یا عدوان یا فساد کا ارتکاب کرے گا ایسے شخص کے خلاف مومنین کے ہاتھ ایک ساتھ اٹھیں گے خواہ وہ ان میں سے کسی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو‘‘۔
دستورِ مدینہ کی یہ دفعہ اتنی واضح اور بین ہے کہ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ اس میں ’’ظلم‘، ’غداری‘، ’عدوان‘‘ اور ’’فساد‘‘ جیسے جرائم کا ذکر ہے۔ اس میں یہ امر بھی مذکور ہے کہ ریاست کے شہریوں میں سے جو کوئی ان جرائم کا ارتکاب کرے گا غدار قرار پائے گا۔ اس دفعہ میں اس بات کی اس حد تک وضاحت کردی گئی ہے کہ اگر غداری کا ارتکاب کسی کا بیٹا ہی کیوں نہ کرے وہ بھی مجرم ہوگا (ولو کان ولد احدہم)، اسی دفعہ میں ان جرائم کی سزا موت بیان ہوئی ہے خواہ کوئی شہری ان کا مرتکب ہو یا وفاقِ مدینہ کی کوئی سیاسی وحدت ان کا ارتکاب کرے، دفعہ کے الفاظ ’’ان ایدیھم علیہ جمیعاً‘‘ (مومنین کے ہاتھ ایک ساتھ اٹھیں گے) کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اپنی پوری قوت کے ساتھ ایسے غدار کا خاتمہ کر دے گی؛ یعنی غدار کی سزا موت ہوگی۔ گزشتہ صفحات میں مستند تاریخی شواہد سے ثابت ہوچکا ہے کہ یہودیوں کے تینوں قبیلوں نے ظلم، غداری، عدوان اور فساد کا ارتکاب کیا تھا، جب یہ مسلمہ حقیقت ہے تو ان کے خلاف انہی کے متفقہ آئین کے مطابق سزا کا اجراء ظلم کیسے ہوا؟
اب ہم دستورِ مدینہ کی دفعہ 17کا حوالہ پیش کرتے ہیں: ’’یہودیوں میں سے جو بھی ہماری اتباع کرے گا اسے مدد اور مساوات حاصل ہوگی جب تک اس سے مسلمانوں کو ضرر نہ پہنچے گا اور نہ ہی وہ ان کے خلاف دوسروں کی مدد کرے گا‘‘۔
اس دفعہ میں یہودیوں کو مسلمانوں کے ساتھ مساوی مدد اور حقوق دیئے جانے کا ذکر ہے۔ ’’النصر‘‘ اور ’’الاسوہ‘‘بغیر کسی ابہام کے بتا رہے ہیں کہ آئین مدینہ کی ترتیب میں یہودیوں کی رضا شامل تھی، ان کی شرکت اور شمولیت کا سبب یہ تھا کہ انھیں دوسری سیاسی وحدتوں کے ساتھ مساوی اور یکساں حقوق حاصل ہورہے تھے۔ (جاری)
مزید دکھائیں

متعلقہ

Close