مذہبی مضامین

دورِ جدید میں تکبّر کا نیا انداز

شہباز رشید بہورو

انسانی زندگی تین اہم ترین شعبہ جات پر مشتمل ایک نظام ہے۔ ان تین شعبہ جات میں ہر انسان خوشحال، پر امن اور پر سکون رہنے کا طلبگار  اور متمنی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے  انسانوں کے ان تینوں شعبہ جات میں انسان کی اس فطری طلب کے جواب میں دینِ اسلام کی تعلیمات کو انبیاء، رسل او کتابوں کے ذریعے ارسال کیا تاکہ انسان اس دین کے مطابق زندگی گذار کر مطمئن اور پر امن رہے۔ پوری انسانی تاریخ اس پر شاہد اور گواہ ہے کہ جن لوگوں نے بھی اسلام کا دامن تھاما وہ واقعتاً امن و سکون کی کیفیت سے دوچار ہوئے اور جنہوں نے اس سے منھ موڑا وہ فساد اور بدامنی کی لپیٹ میں آگئے۔ اس کے برعکس شیطان مردود انسانی زندگی کے ان تینوں شعبہ جات میں بگاڑ، فساد اور بدامنی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ شیطان نے انسانی زندگی کو فساد کی نذر کرنے کے لئے اپنے آپ کو تخلیق آدم کے دور ہی سے  وقف کیا ہے اور اپنے مشن سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہیں ہے۔ ہر دور میں شیطان نے انسان پر نت نئے انداز کی برائیوں سے حملہ کیا۔ سابقہ ادوار کی مختلف انداز کی برائیوں پر ہم بات نہیں کریں گے لیکن دورِ جدید میں جو جدید طرز کی برائیاں پھیلائی ہیں ان میں سے ایک خطرناک برائی پر کچھ رقم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ابلیس نے دورِ جدید میں کچھ ایسی خطرناک برائیوں کا انتخاب کیا ہے جن کو وہ اپنے اپنے متعلقہ (respective )حلقوں میں عیاری کے ساتھ داخل کر کے ان حلقہ جات کے نظم کو گھمبیر قسم کے بگاڑ سے دوچار کرنے پر تلا ہوا ہے۔ انسان کے سیاسی پہلو میں تکونی کوانٹم ( Three dimensional quanta) کی برائی بشکلِ جمہوریت، سیکولرزم اور قومیت داخل کی جس کے وجہ سے سیاسی حکمرانوں نے پوری دنیا کی سیاست کو بدنظمی میں مبتلا کرکے رکھ لیا ہے۔ اس ناقص طرز حکمرانی کی وجہ سے پوری دنیا قتل وغارت کی آمجگاہ بن چکی ہے۔ حکومت کے جو جس منصب پر کھڑا ہے وہ فرعونیت، نمرودیت اور چنگیزیت کی نمائندگی کر رہا ہے۔ حکومت کی کرسیوں پر ایک چھوٹے سے آفیسر سے لے کر صدرِ مملکت تک بس یہی تین شکلیں دکھتی ہیں۔ آج کی پوری دنیا کا منظر نامہ اس پر شاہد اور گواہ ہے کہ متکبر لوگ جو گرچہ زبان سے خدائی دعوی تو نہیں کرتے لیکن ان کے اعمال اس مہلک مرض کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ غرور وگھمنڈ ایسے تو اپنے وجود میں ہی مہلک ہے لیکن اگر یہ معاشرے کے ذمہ دار اشخاص کی شخصیات پر قابو پاتا ہے تو وہ اشخاص معاشرے کے لیے بھیڑیے سے کم نہیں۔ وہ لوگوں پر رعب جمانے کے ساتھ ساتھ ان کی عزت، جان اور مال پر بھی ہاتھ مارتے ہیں، ان کو ہر اعتبار سے ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ عوام کہیں ابھر کر ان کے تکبر کا تاج اپنے پاؤں تلے نہ روند ڈالیں۔ سیاسی ذمہ دار لوگ جس تکبر کی بیماری میں مبتلا ہیں وہ آیے دن ان کےمختلف بیانات اور چال چلن سے عیاں ہوتا ہے عاجزی و انکساری نام کی شئے ان کے ہاں کوئی وجود نہیں رکھتی۔ ابلیس ملعون نے جو گناہِ کبیرہ کیا تھا وہ تکبر کا ہی تھا اس گناہ کے علاوہ دوسرا کوئی گناہِ کبیرہ ابلیس سے سرزد نہیں ہوا تھا۔ اس نے نہ چوری، نہ قتل، نہ زنا، نہ جھوٹ نہ ہی اور کوئی گناہ کیا تھا لیکن صرف اس گناہ نے اسے زندان لعنت میں ہمیشہ کے لیے گرفتار کروادیا بقولِ شیخ سعدی؛ تکبرِ اعزازیل را خارنکرد۔ بہ زندانِ لعنت گرفتار کرد۔ یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تکبر کرنے والا  ابلیس کے ہم پلہ ہوتا ہے، اس کا ہم مزاج وہم عمل بنتا ہے۔

سیاسی بے ضابطگیوں کے تمام معاملات میں غیر محسوس طریقے سے جو مہلک عنصر اپنا کام کر رہا ہے وہ یہی تکبر کا ذرہِ خبیثہ ہے۔ یہ عنصر جمہوریت، سیکولرازم اور قومیت کے ساتھ مخلوط ہے۔ جمہوریت نے لوگوں کی قانون سازی کے ظمن میں آزاد و خود مختارطبعیت کی گویا گرہ کھول دی  ہے جس کے نتیجے میں جمہوری نمائندوں نے کبر و غرور کا لبادہ پہن کر خدا اور مذہب کے خلاف قوانین مرتب کیے۔ ان قوانین کے ذریعے صرف انسانی خودمختاری وخودسری کا اعلان ہوتا ہے۔ تصور قومیت نے اجتماعی غرور کو فروغ بخشا جس کا رنگ ہمیں کبھیفاشزم اور فسطائیت میں دکھتا تھا اور آج صیہونیت کی شکل میں بھرا ہوا نظر آتا ہے۔

دورِ جدید میں تکبر کی تخم ریزی خواص کو چھوڑ کر عموم میں بھی کی گئی ہے۔ جس کو جو کچھ ملا ہے وہ اسے الله کا فضل ماننے کے بدلے اپنی محنت کا ثمر قرار دے رہا ہے، اپنی ہنرمندی کا نتیجہ مانتا ہے اور خود کو ہی پورے ماحول کا مرکز مانتا ہے۔

کبر وغرور کی وجہ سے لوگوں میں ایک عجیب قسم کی بیماری پیدا ہو رہی پے وہ ہے شدید تنگ نظری اور اس تنگ نظری نے اس اتنےچھوٹے سے وجود کے انسان کو الله تعالیٰ کا باغی بنایا۔ انسان کو خالق کائنات نے اپنی حیثیت سے واقف کرنے کے لیے قرآن میں مختلف مقامات پر دعوت فکر وتدبر دیا ہے تاکہ انسان اپنی اصل کو پہچانے اور ایک بہت بڑے مرض سے (یعنی تکبر سے )اپنے آپ کو محفوظ کر لے۔ جیسے سورۃ المئمنون میں الله تعالیٰ فرماتا ہے؛

” اور ہم نے انسان کو مٹی کے سَت سے پیداکیا۔ پھر ہم نے اسے ایک محفوظ مقام (رحم مادر)میں نطفہ بنا کر رکھا۔ پھر نطفہ کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کو بوٹی بنایا پھر بوٹی کو ہڈیاں بنایا پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر ہم نے اسے ایک اور ہی مخلوق بنا کر پیدا کر دیا۔ پس بڑا بابرکت ہے، اللہ جو سب بنانے والوں سے بہتر بنانے والا ہے”

قرآن مجید انسان کو ایک مکرم و برگزیده مخلوق قرار دینے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی اصلی حیثیت کو ہمیشہ یاد رکھنے کی تلقین کرتا ہے تاکہ یہ انسانی مخلوق اپنی تقویم احسن کے زیر اثر استکبار کی روش اختیار نہ کرلے۔ قرآن مجید نے انسان کو اس کے مادی وجود کی پستی اور روحانی وجود کی رفعت کے مابین ایک فکروفہم کا توازن برقرار رکھنے کا ایک بہترین نسخہ کیمیا عنایت کیا ہے۔ لیکن آج کا انسان اس آخری ہدایت نامہ سے کوسوں دور رہ کر ایک غیر متوازن زندگی گذار رہا ہے اور اس غیر متوازن زندگی میں وہ ہر حد کو پھلانگنے کی ایک زبردست تحریک کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس جسارتِ تجاوز میں مجموعی طور پر انسان کے اندر جو محرکِ خبیثہ کام کر رہا ہے وہ ہے کبر و نخوت۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین طرح کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا، نہ ہی ان کو ( گناہوں سے ) پاک کرے گا اور ایک روایت میں ہے کہ نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ ان میں سے ایک فقیر متکبر ہے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہیکہ جس شخص کے دل میں ایک ذرےکے برابر بھی کبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ ایک اور حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”تکبر میری چادر ہے اور عظمت و بڑائی میرا ازار۔ پس لوگوں میں سے جو شخص ان دونوں چیزوں میں سے ایک بھی مجھ سے کھینچنے کی کوشش کرے گا( یعنی وہ عادت اپنانے کی کوشش کرے گا) میں اسے جہنم میں داخل کر دوں گا۔ “ ( رواہ مسلم) ان احادیث سے کبر و غرور کا قبیح تر اور شنیع تر فعل ہونا معلوم ہوتا ہے۔ تکبر کرنے والا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ناکام و نامراد ہے۔ یہ ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کو ایک فریبی عمارت کا مکیں بناتا ہے جس کی ہر چیر مکر کے مواد سے تیار ہوئی ہے، جہاں کی ہر چیز گناہ پر ابھارتی ہے اور جہاں پر ابلیس کا ڈیرہ لگا رہتا ہے۔ متکبر انسان اپنے آپ کو وہ کچھ سمجھتا ہے جو وہ کبھی نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔

انگریزوں نے جب برصغیر کے روایتی نظام حکومت کو درھم برھم کیا تو ایک نئے طرز کی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ حکومت کے ہر منصب کا نام بدل کے رکھ دیا پورے نظامِ حکومت کو فرنگیت کے رنگ سے رنگا۔ ان تمام عہدوں کو زمہ داری کے مناصب کے بدلے قوت و جبروت کا مسکن بنا کے رکھ دیا۔ سول سروسز کی تمام آسامیوں کو ایک اسپیشیلٹی speciality کے زمرے میں لا کر ان کے ساتھ بیہودہ protocolsکو جوڑ دیا جن پروٹوکولز کے تحت ان کی پوری شخصیت کو ایک پر تعیش، نازک اور جداگانگی کے شکنجہ میں پوری طرح کس کے رکھ دیا۔ بیروکریٹس (Beaurucrates) تمام کے تمام ان بیہودہ نوازشات کی وجہ سے اپنے متکبراور ظالم سیاسی آقاؤں کے غلام اور خادم بنتے گئے اور عوام کے لئے وہ متکبر حکام۔ آفسری ایک ذمہ داری سنبھالنے کا نام ہے یہ لوگوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ اختیار کرنے کا نام ہر گز نہیں ہے۔ ہمارے تمام لوگ جو بڑے عہدوں پر براجمان ہیں ایک  ذہنی بیماری میں مبتلا کر دئے گئےہیں وہ ہے بڑھتی ہوئی احساس برتری۔ احساس کمتری ہی ایک ذہنی مرض نہیں ہے بلکہ احساس برتری اس سے بھی خطرناک مرض ہے۔ یہ احساس برتری داخلی نوعیت کا نہیں ہے کہ سارا کا سارا زور  داخلی عوامل پر دیا جائے بلکہ یہ داخلی کم لیکن خارجی جارحیت کا زیادہ شکار ہے۔ یہ خارجی جارحیت باطلانہ نظام حیات کی صورت میں ہمارے ارد گرد ایک compelling ماحول  تیارکیے ہوئے ہے جو ہر انسان کے اندر اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کے لیے اکساتا ہے اور اس اکساہٹ کی وجہ سے ایک دوسرے سے آگے جانے کی تحریک جاری  ہے۔ ماہانہ تنخواہ کے علاوہ لوٹ کھسوٹ، رشوت، حساب کتاب میں بڑے پیمانے پر خرد برد  آج کے چھوٹے سے چھوٹے ملازم کو بھی اس مقابلہ میں لے آیا ہے۔ بدقسمتی سے یہ مقابلہ اب مساجد اور دینی اجتماعات کے اندر بھی کیا جاتا ہے۔ نام نہاد دین دار لوگ بھی اس جال میں پھنس چکے ہیں۔ تفاخر بینکم والے مقابلہ نے انسان کے اندر جوہرِ انسانیت کھینچ کر باہر کہیں مٹی کے اندر دفن کر دیا ہے۔

 امت مسلمہ کا جہاں تک تعلق ہے اس موجودہ نظام کے تحت ہمارے ذہین نوجوانوں کو چن کر امت کے عموم سے علیحدہ کردیا گیا۔ ان کو special quarters میں بند کرکے گویا قید کر دیا گیا ہے۔ ان کی آزادی کو چھینا گیا ہے اور ان کی آزادی اظہار پر ایک قدغن عائد کر دی گئی ہے، ان کا جینا اور مرنا صرف متکبر آقاؤں کی زندگیوں کو پرتعیش برقرار رکھنے کے لیے ٹھہرایا گیا ہے۔ ان کا عوام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا کیونکہ اس نظام  نے انھیں اپنا ایک مخصوص ماحول فراہم کیا ہے جس ماحول کا ان کی زندگی پر گہرا اثر پڑتا ہے وہ ان  کی ماتھے کی لکیروں سے انداز کیا جا سکتا ہے۔ عوام کی خدمت کے جذبے کی بدلے ان کے اندر افسری کا رعب جھلکتا ہے۔ یہ ایک خاص قسم کی شخصیات کی تعمیر ہے جو عمر کے آخری ایام میں انھیں مایوسی اور افسردگی کے سوا اور کچھ نہیں دیتی کیونکہ اطمینان قلب انسان کو صرف لوگوں کی خدمت اور الله کی عبادت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ جن کاموں کے لیے یا تو ان کے پاس نام نہاد وقت کی قلت ہوتی ہے یا پھر انانیت سے مجبور ہو کر وہ علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں۔ اس علیحدگی کی نتیجے میں یہ حضرات ایک محدود دائرے میں بند رہتے ہیں جہاں انھیں صرف تفاخر بینکم کی تحریک حاصل ہوتی رہتی ہے۔ ان حضرات کا اپنے سینئرز کا ان سے بڑھا ہوا معیارِ زندگی متاثر کرتا ہے، جس معیار  کو حاصل کرنا ان کا مقصد بن جاتا ہے۔ مغرب نے ہر معاملے میں شیطانی شکنجہ کسنے کی ٹھان لی ہے۔ مغرب کے یہ خوبصورت نام اور اعزاز غیر محسوس طریقے سے انسان کو انسانیت کے مقام سے ہٹائے جا رہی ہیں۔ عوام کو بے لگام چھوڑ کر ان کو ایسے ایسے گھٹیامسائل میں الجھا کے رکھا گیا ہے کہ انھیں اپنے حقیقی حقوق حاصل کرنے کی نہ ہمت رہے اور نہ ہی ان کو اپنی طاقت کا اندازہ ہو کہ جس کے ذریعے سے وہ متکبر حکمرانوں کو ان کی اپنی حیثیت بتلا دیں۔ امت کے عموم کی راہنمائی کے لیے اسی لیے اکثر ناہل قائیدین رہ جاتے ہیں جو جمہوریت کی مدد سے اپنی عوام کے لئے خادم ہونے کے برعکس آقا بن کر آتے ہیں۔ یہ ہے وہ شیطانی کھیل جس کو سمجھنے میں اکثریت بیگانہ ہے۔ شیطان تو چاہتا ہے کہ حکمران نااہل ہو آفیسرز عیاش اور ان کے خدام جابر ہوں اور عوام بھیڑ بکریوں کی طرح گھومتی پھرتی رہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close