سیر و سیاحتمذہبی مضامین

دیدِ سعید ( دوسری قسط)

سید شجاعت حسینی

شہر معظم سے شہر منور

مکۃ المعظمہ سے روانہ ہوکر  مدینہ منورہ  کی سمت، سفر جاری ہے۔

سفر، مقام تکبیر سے مقام تنویر 

ادھر تلبیہ وکلام ادھر درود و سلام۔ ۔

مدینہ النبی میں حاضر ہونامیرے لئے مقام  سعادت!  دل کا حال ناقابل بیاں۔ ۔

بڑا پلان کر رکھا تھا کہ جذبہ و احساس کی ہر سطح کو نوٹ کرتا چلا جاؤں گا۔محض اپنے لئیے۔ ۔ تاکہ عمر بھر یہ اثاثہ کام آئے۔ جب جب من چاہے پڑ ھ سکوں اور خود کو تصور کی سواری کے سہارے شہ بطحہ (ص) کے حضور پہنچادوں۔

لیکن سارا پلان دھرا ہے۔ زبان و قلم دونوں گنگ ہیں۔ آ ج تین روز ہوگئے، میں کچھ نہ لکھ سکا۔ بس روضہ رسول(ص)  اور ریاض الجنہ کے آس پاس منڈلاتا ہوں کہ قریب میں کہیں  دو فٹ جگہ مل جائے اور اس منظر کو اور وہاں کی سعادتوں کو دماغ کی ناقابل فراموش سلوٹوں میں محفوظ کرتا چلوں ۔

حاضری کے لئیےعجلت، واپسی کے لئیے تاخیر۔دل کے بس یہی دو تقاضے۔

یہ مقام ادب ہے۔ صحن میں قدم رکھتے ہی دل ٹوکتا ہے،

جھکاؤ نظریں، بچھاؤ پلکیں، ادب کا اعلیٰ مقام آیا

دیار پاک، بیک نظر

حرم نبوی بہت کشادہ اور بڑی حد تک یک منزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ کم و بیش مستطیل نما وسیع ترین احاطہ، بڑا آسان اور قابل فہم ہے۔

شمالی سمت (قبلہ کے مخالف سمت) سے داخل ہوں تو خواتین کیلیے بڑی سہولت، کہ شمالی صحن کا بیشتر حصہ مصلی النساء ( خواتین کا سیکشن )  کیلیے مختص ہے۔ حرم نبوی کی شمال مغربی دیوار سے ہماری ہوٹل کا قریب ہونا امی اورسلمیٰ کیلیے بڑا سہولت بخش ثابت ہوا اور میرے لئے اضافی پریڈ کے اجر کا سبب۔

مجھے اس مکمل احاطے کو خوب سمجھنا تھا کہ اگلے سات دن حرم نبوی اور مدینتہ النبی کے گوشے گوشے  کے  دیدار سے بھرپور فیضیاب ہونا ہے۔

جنوبی گیٹ نمبر 5…یعنی روزانہ قبا جانے کا آسان ترین راستہ

گیٹ نمبر 6۔۔۔مسجد غمامہ سے حجاز اسٹیشن کی مختصر  راہ

مغربی گیٹ نمبر 11—میوزیمس اور اسکے پرے سقیفہ بنی ساعدہ۔

گیٹ نمبر 21—حرم نبوی تا حرم کعبہ، ساڑھے تین  گھنٹے کی تیز ترین اور آسان کنکٹویٹی کے لئیے یہاں پہنچ جائیں۔

مشرقی گیٹ نمبر 37–  بقیع اور اس سے پرے اجابہ

شمالی گیٹ نمبر 20  تا 25–بچ کر چلیے کہ مالز کی چکا چوند آپکے قیمتی وقت پر ڈاکہ نہ ڈالے۔

منبر رسول (ص) اور روضہ رسول ( ص)   کے درمیان  چند اسکوائر میٹر کی یہ وہ پاکیزہ  جگہ ہےجسےرسول  اکرم (ص) نے  ریاض الجنہ  قراردیا۔ جس کا قرب بھی فردوس کا احساس دلاتا ہے۔ کشمیر اور سوئزر لینڈ کوآپ شوق سے جنت ارضی کہیں لیکن سچے رسول (ص) کا سچا فرمان یہ ہے کہ زمین پر جنت کا باغ (ریاض الجنہ) تو بس یہیں ہے۔ آج جب ریاض الجنہ میں سر بسجدہ  ہوا، تو اس شعر  کا حقیقی مفہوم سمجھ آیا کہ۔ ۔

اگر  فردوس  بروئے   زمین   است

ہمیں است ہمیں است و ہمیں است

جنت میں دھرنا

روضہ رسول کی زیارت کے ساتھ ریاض الجنہ میں  گز بھر جگہ پانا اور دو رکعت ادا کرنا، زائرین کا دیرینہ خواب ہوتا ہے۔ خواب کا حقیقت میں ڈھلنا خودسعادت ہے۔ لیکن یہ سعادت اس وقت خود غرضی بن جاتی ہے جب کوئی اس محدود رقبہ میں بس دھرنا دے کر بیٹھ جائے۔ ادھر کئ بزرگ عمر بھر کی تمنا کے برآنے کی مسرت سےسرشار قطار میں چوطرفہ دباؤ سنبھالے گھنٹوں کھڑے مایوس ہوئے جارہے ہیں۔ اور ادھر کچھ لوگ جگہ پاتے ہی یوں لگتا ہے جیسے قضائے عمری کا سلسلہ شروع کردیا۔

یہ کیسا تقویٰ اور کونسی مناجات کہ خدا کی یاد میں بندوں پر ستم۔ ۔

شرح محبت میں ہے عشرت منزل حرام

شورش طوفاں حلال، لذت ساحل حرام

(فقہ کی حلال وحرام کی اصطلاحات اور جائز و ناجائز کی بحث   کا یہاں اطلاق ظلم ہوگا۔)

جنت کے باغ میں  زندگی کے پرکیف اور قیمتی لمحات ضرور بتائیں لیکن کسی اور کی تمناؤں کی قیمت پر نہیں۔ ۔

پر وقار مسکن

روضئہ نبوی کے مشرقی سمت ہزاروں صحابہ اکرام نہایت سادہ ماحول میں اپنے آخری مسکن "بقیع غرقد” میں آرام پذیر ہیں۔ حضرت عثمان، عباس اور حسن(رض) بھی ہیں۔ اور امہات المومنین اور صاحبزادی رسول صلعم بھی۔

کون کہاں ہیں ؟ یہ ایک بڑا پیچیدہ سوال ہے۔اس سوال کے جواب کی نہ علماء حوصلہ افزائی کرتے ہیں نہ منتظمین حرم۔ آپ لاکھ پوچھیے۔ ۔۔۔ایک ہی جواب ملیگا۔

واللہ اعلم -!

کچھ تجسس پسند دوست بقیع غرقد کے چھوٹے بڑے نقشے نکال لاتے ہیں۔ انھیں وھاٹس ایپ پر شیر فرماکر ایک ایک صحابی کے مسکن  تک پہنچنے کی اپنی سی کوشش فرماتے ہیں۔ ہزار ہا قبروں کے درمیان یہ ہدف چیلنجنگ بھی ہے اور چند مزاروں کے علاوہ بیشتر تک  حقیقی رسائی کا بہت کم امکان۔

اصحاب رسول کی سادہ اور شفاف مزاجی کا عکس ہے بقیع -ایک جیسی مٹی اور پتھر کی ہزاروں قبریں –

تصور تو کیجیے، ادھر ان سعید روحوں کا یکساں سادگی سے آراستہ پروقار مسکن اور ادھر نت نئے ڈیکوریشن سے سجے ہمارے رنگ برنگے گورستان۔ دولت، رتبہ اور بزرگی  کی بےحس اونچ نیچ کے کھلے عکاس-

مادی کمپٹیشن زندہ جسموں کو فتح کرمردوں کے مسکن  تک پہنچ گیا۔ پکی قبروں کا فیشن اب پرانا ہوچکا، اب تو ہم کافی ترقی کرچکے ہیں۔ قیمتی کتبے، فولادی جالیاں، بیل بوٹوں کی تزئین،  المونیم کے اجلے نازک  ڈیکوریشنس اور پھر شاندار دعوت و تقریب۔ یہ ہے صاحب قبر کے سماجی رتبہ کی علامت۔ یہی نہیں  بلکہ لواحقین کی دولت و ثروت اوراپنے اپنےدنیاوی دھندوں  میں جٹ جانے سے پہلے مرحوم کےتئیں آخری شفقت کا ثبوت بن گئے ہیں۔ یہ مادی جلوے۔

بقیع غرقد کی سادگی، دلسوز  تزکیہ کا سبب ہے۔جسے دیکھ بے اختیار مسنون دعا لب پر جاری ہوجاتی ہے-

"اے مومن قوم تم پر سلامتی ہو ‘تمھارے پاس وہ چیز آگئی جسکا وعدہ تھا۔ کل تم اٹھائے جاؤگے اورہم انشاءاللہ تم سے ملینگے۔اے اللہ بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما”-(صحیح مسلم) –

 جمبو ٹفن کا راز

ہمارے کچھ مشترک دوستوں نے آج مجھےاوربرادرشاداب کو آپس میں فون پر متعارف کروادیا۔ اجنبیت کو انوکھی دوستی میں ڈھلتے دیر نہ لگی۔سرشام برادر شاداب کا فون آگیا کہ میں حرم پہنچ رہا ہوں فیملی میٹ بھی ہوگی اور ہمطعامی بھی۔

عشاء کے ساتھ اہل و عیال کے ہمراہ  وہ بڑےبڑےٹفن تھامے حاضرتھے، نہ انھیں پہچاننے میں مجھے دقت ہوئی  نہ مجھ تک پہنچنے میں انھیں۔

یہ ایک پر لطف اور بے تکلف ملاقات تھی۔میں نے پوچھا  میرے بھائی، کیا آپ نے ہمیں پہلوانوں کا کنبہ سمجھ لیا جو جمبو سائز ٹفنس ساتھ لے آئے۔ انھوں نے مسکرا کر  کہا  نہیں،  مجھے ایسی کوئی غلط فہمی نہیں تھی۔ ہاں، آپ حیران نہ ہوں، آپکو جمبو ٹفنس کے راز کا جلد ہی اندازہ ہوجائیگا۔ ادھر ٹفن کھلا ادھر دور بیٹھی عرب خواتین اٹھ آئیں۔ کسی لمبی تمہید کے بغیر بس ہاتھ دھوکر شامل ہوگئیں۔ مختصر تمہید کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمیں بھی آپکے ساتھ طعام میں شامل ہونا ہے۔ بس !

اچھا یہ راز ہے؟ اسکے بعد بھاری بھرکم لذیذ ترین دہلوی ٹفن میں کچھ بھی باقی نہ رہا۔

بے تکلف اور تصنع سے عاری  مہمان نوازی میں عرب  واقعی منفرد مقام رکھتے ہیں۔ با لخصوص حرمین کا ماحول اس حوالے سے بڑا بےتکلف اور بے مثل ہے۔برادر شاداب بھی ان پاکیزہ روایات کے ہندوستانی نمائندے ہیں۔ حرم کے شفاف  ماحول میں صحابیانہ  خلوص کے جلوے عام ہیں۔ یہاں کھانے سے نہیں کھلانے سے پیٹ بھرتا ہے۔

آج اس پر خلوص منظر نے روضہ نبی کے سائے میں خیالات کو پاکیزہ نبوی سماج تک پہنچادیا۔ وہ معاشرہ بھی کتنا شفاف تھا۔انکے ہاں ہمطعامی کا مطلب صرف ہمطعامی تھا۔ ہفتوں اور مہینوں کی تیاری پرمشتمل  تقریبات نہیں۔ ہمطعامی کے لئیے  نہ مصنوعی  بہانوں  کی ضرورت نہ دیگیں سجاکر وقت اور توانائی جھونکنے کی۔سچ تو یہ ہے کہ جنھیں اپنی مختصر عمر اور رسول ( ص) کے ناصحانہ مشن کا شعور ہو انھیں کیونکر کسی غیر ضروری "فنکشن  ” کا منچلا خیال سوجھے۔ کجا کہ شہر کا شہر "شہر تقریبات ” بن بیٹھے۔

نبوی معاشرے کا یہ عالم کہ حضرت عبدالرحمٰن اپنے نکاح میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وصلعم کو بلانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ادھر ہماری تقریبات، تخریبات کا جنجال بنی بیٹھی ہیں۔

خدایا ہمیں ان لاؤ لشکر والی تقریبات سے چھٹکارا دلانا، ہمارے دلوں کو قدم قدم پر اکساتے مصنوعی ” گارڈنس” اور” پیلیس ” کی قید سے رہائی نصیب فرمانا ، قلب ونظر کو  شہ بطحہ کے ” پیلیس ” (دیار  نبوی )   اور جنت کے ” گارڈن” ( ریاض الجنہ ) کا اسیر بنادینا  اور نبوی سماج جیسا بے تکلف، اور شفاف خلوص ہمیں  عنایت فرمانا۔ آمین !

ملزم کون؟ 

کل ہمارے میس کے مینیجمنٹ اور ہوٹل کے ہاؤز کیپنگ اسٹاف میں دلچسپ تکرارہوگئ۔

ہمارے میس کے دائیں جانب راجستھان اور بائیں جانب کیرالا کا میس ہے۔ ہوٹل کے اصولوں کے مطابق ناشتے کا ٹائم صبح 7 تا 9:30 طئے کیا گیا۔ دونوں جانب اولین وقت میں لوگ آتے ہیں اور 9 بجے تک سب فارغ ہوجاتے ہیں،  اسکے بعد درمیانی میس آباد ہونا شروع ہوتا ہے اور سلسلہ 11:30 تک جاری رہتا ہے۔ ہاؤز کیپنگ اسٹاف پریشان کہ وہ طئے شدہ وقت میں صفائی نہیں کرپارہے ہیں۔ میس مینیجمنٹ کی یہ صفائی کہ ہمارا بفیٹ 7 بجے لگا دیا جاتا ہے، اب تاخیر کے لئیے ہم ذمہ دار نہیں، یہ دلچسپ تکرار دیر تک ہوتی رہی لیکن کوئی ملزم ہاتھ نہ آیا۔

 ریاض الجنہ پر وقت نصیب ہوتو  ہماری ایک دعا یہ بھی ہونی چاہئیے کہ رب العزت حضرت خیرالانام (ص)  کی اس دعا کو ہمارے حق میں بھی قبول فرماکہ۔ ۔۔

"ائے اللہ برکت دے میری امت کو صبح صبح جانے میں۔ ۔ "

جنھیں میں ڈھونڈھتا تھا۔ ۔

سقیفہ  بنی  ساعدہ  مل نہیں پارہا تھا۔ مقامی لوگ بھی گائید نہیں کرپارہے تھے۔ میں نےقریبی  ہوٹل میں قیام پذیر اپنے ساتھی خالدقریشی صاحب کوکال کیا۔ انھیں بھی اس اس تاریخ ساز مقام  کی وزٹ میں خاص دلچسپی تھی۔ وہ آئے،ہم نے تلاش شروع کی۔سوچا گوگل میپ کی مدد لیں۔

گوگل میپ میں لوکیشن اسٹور کرکے حرم سے چلے۔ ایک نامعلوم راستہ سے گائیڈ کرتے ہوئے گوگل نے بالآخر وہاں تک پہنچادیا جو آج ایک چھوٹا سا پارک ہے۔ وہاں ٹھہرکر جو دائیں نظر ڈالی تو فضی الالیاس نظر آئی۔ یعنی ہماری رہائشی ہوٹل !

ہم پچھلے پانچ دنوں سے سقیفہ بنی ساعدہ سے متصل ہی رہ رہے ہیں۔

جنھیں میں ڈھونڈھتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں

وہ نکلے میرے "الفت ” خانہ دل کے مکینوں میں

( ہوٹل کی راجستھانی میس میں  جب اس مہم جوئی کا ذکر ہوا تو ایک  صاحب نے فوراً تصحیح فرمائی، کہ "وہ پارک  تو بغل میں ہے”۔ بغل کی وسعتوں کو جان کر ہمارے حیدرآباد ی ساتھی چونک گئے۔ ممکن تھا کہ وہ کوئی سخت اعتراض فرماتے لیکن فورا ہی خاموش ہوگئے، غالبا یہ سوچ کر کہ خواہ موصوف کا بغل کتنا ہی وسیع الاطراف ہو، ہمارے "پرسوں ” سے لازما چھوٹا ہی ہوگا۔ )

14 صدیاں بیت گئیں، لیکن تاریخ نے کسی حکمراں کے ایسے پاکیزہ انتخاب کا منظر کم ہی  دیکھا۔ سقیفہ  بنی  ساعدہ چھپر سے ڈھکا  وہ مقام تھا جو اہل مدینہ کے لئیے ایک  مشاورت گاہ  تھا۔  جہاں رسول پاک (ص)  کے وصال کے بعد صحابہ اکرام جمع ہوئے، کچھ اختلاف رائے بھی تھا، لیکن  جب اجتماعی فیصلہ ہوا  تو بالاتفاق اور تاریخ ساز۔ پھر  اس شخص کو قائد منتخب کیا گیا جسے قرآن ثانی اثنین (دو میں دوسرا)  قرار دیتا ہے۔

ابوبکر صدیق (رض)  صرف ثانی اثنین ہی نہیں ثانی فی الاسلام، ثانی فی الہجرہ،  ثانی فی عریش بدر، ثانی فی الامامہ بالصلوۃ،  ثانی فی روضۃ النبی اور ثانی فی داخل الجنہ  بھی ہیں۔

رضی اللہ تعالی عنہ۔ ۔

 قبا تا قبلتین

بے لاگ تقویٰ کی بنیاد پر قائم ہونیوالی عظیم مسجد قبا ء

بے لوث اطاعت کی مجسم علامت—مسجدقبلتین !

انہیں دو تاریخ ساز مساجد کے درمیان ہم محو سفر ہیں، برادر شاداب ہمارےرہبر  ہیں – وہ اپنی کار میں صبح سویرے ہمیں لیکر چل پڑتےہیں  اور مدینہ کے مبارک مناظر سے فیضیاب کراتے۔

پہلے قبا پہنچے۔ خطہ حجاز کی تیسری اہم ترین مسجد- کلام الٰہی بھی  جسکا ذکر بڑے اہتمام سے کرتا ہے۔

لَّمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ۔(،( التوبہ 108)

” مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عباد ت کے لیے) کھڑے ہو۔ "

اس مسجد کو یہ شرف حاصل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و صلعم نے مدینہ میں داخل ہونے کے بعد یہیں کچھ دن پڑاؤ کیا تھا۔

اتفاق کہ آج سنیچر تھا اور روایات کے مطابق ہفتہ کے دن قبا پہنچنا نبی(ص) کا معمول تھا۔ یہ سنت بھی ادا ہوئی۔صحیح حدیث کے مطابق گھر سے وضو کر قباء میں دو رکعت نماز عمرہ کے مساوی ہے۔یہ قیمتی سودا بھلا کون گنوانا چاہے۔حرم نبوی سے گیٹ 5 ایک آسان راستہ ہے، یہاں شئیرنگ ٹیکسیاں منٹوں میں قبا پہنچا تی ہیں اور واپس لےآ  تی ہیں۔ آپ روزانہ قباء پہنچ کر کئی عمروں کا اجر سمیٹ سکتے ہیں۔

حضرت ابراہیم (ع)کے پیروکاروں کی دونوں شاخیں بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل کیلیے بیت اللہ اور بیت المقدس بالترتیب محترم رہے۔ ہجرت مدینہ کے بعد بیت المقدس کو قبلہ ماننا بنی اسماعیل کیلیے آسان نہ تھا۔ اور دیڑھ سال بعد اچانک بیت اللہ کو قبلہ تسلیم کرنا بنی اسرائیل کے ان نفوس کیلیے کٹھن رہا ہوگا جو مسلمان ہوگئے تھے۔

لیکن قبلتین گواہ ہے کہ ذاتی خواہشات کی قربانی کیا ہوتی ہے۔ تحویل قبلہ یعنی   عین حالت نماز میں 180 درجے کا انقلاب، جس کے آگے نہ کسی کی ذاتی خواہش فصیل بن کرکھڑی ہوئی نہ سرداروں کی نجی رائے نے حجت و تکرار کا بازار گرم کیا۔

بے لوث اطاعت کی گواہ اور زندہ علامت ہے قبلتین۔

 انوکھا انوسٹمنٹ  

بخل کا مارا  ایک یہودی، اہل مدینہ کی بنیادی ضرورت ( پانی ) کا استحصال کر، اپنے کنویں سے دولت سمیٹنے میں مگن تھا۔ ایک صاحب نظر نے اس کربناک  صورتحال کو دیکھ کر کنواں خریدنے کی پیشکش کی۔ وہ تیار نہ ہوا۔ آپ نے معقول معاوضے  کے عوض کنویں کی صرف   آدھی ملکیت  کی تجویز پیش  کی۔ تجویز کیا تھی بس ایک حکیمانہ حل تھا۔ آدھی ملکیت کے لئیے وہ تیار ہوگیا۔ سودا ہوگیا۔ سوال یہ تھ کہ آدھا کنواں کیسے بانٹا جائے۔ حل یہ طئے پایا کہ ہر دوسرے دن کنویں کی ملکیت بدلتی رہی۔

پہلے دن پانی کے خریدار بندے ہوتے، دوسرے دن کا خریدار رب اعلیٰ۔۔

پہلے دن جب پانی اونچے دام فروخت ہوتا تب کسی خریدار کو کنویں سے کوئی سروکار نہ ہوتا اور جس دن کا خدا سے سودا ہوچکا ہے اس دن بندوں کا ہجوم امڈ پڑتا۔

اب یہودی کیلیے اسکے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ آدھی ملکیت بھی فروخت کردے۔عثمان غنی(رض)  نے یہ سودا بھی منظور کیا۔لیجیئے کنویں کے پانی میں برکت کی مٹھاس بھی  شامل ہوگئی۔اب کنویں کے پڑوس میں باغ بھی لہلہانے لگے۔خدا کے بندے ہی نہیں پیڑ پودے بھی سیراب ہوگئے۔

اس صاحب نظر نے انفاق کا جو چشمہ جاری کیا تھا وہ ترک دور میں پھیل کر ہزاروں درختوں پرمشتمل عظیم الشان پراپرٹی بن گیا اور آج اعلیٰ ترین کوالٹی کےکھجوروں کا وسیع ترین فارم۔آج بھی یہ باغ عثمان بن عفان(رض) کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔اسکی کئی ملین ریال کی آمدنی حضرت عثمان کی ملکیت ہے جس سے حکومت نے مدینہ میں ایک ہوٹل فندق عثمان بن عفان تعمیر کی جسکی آمدنی مزید لاکھوں ریال پر مشتمل ہوگی۔

یہ سارا خزانہ آج بھی حضرت  عثمان بن عفان (رض)کے ذاتی اکاؤنٹ میں مستقل جمع ہورہا ہے اور اس اکاؤنٹ سے انفاق کی  کئی تازہ اور شفاف نہریں مسلسل پھوٹ رہی ہیں۔ آج اس پھلتے پھولتے باغ کو دیکھکر یہ یقین مستحکم ہوا کہ لانگ ٹرم انو سٹمنٹ حقیقت میں کیا ہوتا ہے؟

ماضی تا حال کی جھلکیاں

مسجد نبوی کی جنوب اورمغربی دیوار سےمتصل کئی نمائشیں، میوزیمس اور لائبریری ہیں جنھیں وقت نکالکر ضرور دیکھنا چاہئیے۔

اسماءالحسنیٰ(کیلیگرافی)، سیرت،   تاریخ مسجدنبوی، قرآنیات ، استنبول کےتاریخی توپ کاپےمیوزیم کاعکس اورایک بیش قیمت لائبریری، ان میں کچھ چیزیں نایاب بھی ہیں۔ خوبصورت قیمتی اوربڑی معلوماتی بھی!

مشمولات کےاعتبارسےیہ میوزیمس مختصرہی کہلائیں گے۔ بڑےہالس کودیکھکر یوں محسوس ہواکہ شایدکافی نوادرات اورنایاب چیزیں اندرموجودہیں۔ لیکن بعدمیں اندازہ ہواکہ یہ نمائش ابھی ترقی کےمراحل سےگزررہی ہیں۔ ہر سیکشن کو دیکھکر نئے نئے آئیڈیاز بھی ذہن میں مچل رہے تھے۔ کئی ایکسپوز اور نمائشوں کی تیاری میں میَں عملا شریک رہ چکا ہوں۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ان نمائشوں کو موثر بنانے کی بیشمار گنجائشیں ہنوز موجود ہیں۔ یہاں  جدید آڈیو ویژول تکنیک  اور  انفو گرافکس کا  اچھاا ستعمال ضرور ہے لیکن موثر کریٹیویٹی کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔

البتہ پیشکش کا سلیقہ اور جدید وسائل کا استعمال شاندار اورلائق ستائش ہے۔

احد کی چوٹی، خندق کی کھائی

مدینہ دو تاریخ ساز معرکوں کی سرزمین بھی ہے۔

ایک فتح کے بعد نقصان سے عبارت، دوسرا وقتی نقصانوں  کے بعد سچی فتح۔

ایک کا تعلق پہاڑ کی چوٹیوں  سےدوسرے کا خندق کی گہرائیوں سے۔

 ایک حکم عدولی پر وارننگ دوسرااطاعت کا لازوال انعام۔

یوں تو مدینہ کی سرحدیں کئی معرکوں کی گواہ ہیں لیکن احد وخندق کی لڑائی اسلامی تاریخ کی انتہائی سخت اور صبر آزما گھڑیاں رہیں۔ سیرت کے ان دو اہم ابواب کو پڑھے اور تازہ کیے بغیر آپ میدان احد وخندق تک نہ جائیں۔

میدان احدکا منظران سخت گھڑیوں کےمناظرکومطا لعہ ویادداشت کےذخیرےسےنکالکر​فریم درفریم ذہن میں تازہ کرتا ہے۔ایمان کی تازگی کا سبب ہیں یہ عہد ساز مناظر۔

بدرکی پسپائی کے بعدمشرکین کاجوش انتقام حدیں پھلانگ رہا تھا۔  تجارت کےپورےمنافع کوجنگی تیاریوں میں جھونک دیا گیا۔ ادھر نبی کریم کی صحابہ سےمشاورت اوریہ فیصلہ کہ مدینہ سےباہر چل کرحملہ آوروں کادفاع کیاجائے۔

دفاعی معرکہ کی نبوی ہدایات کو یاد کرکے حفیظ جالندھری کے اشعار ذہن میں تازہ ہو گئے۔

مگر تم یاد رکھو صاف ہے یہ حکم قرآں کا

ستانا بے گناہوں کو نہیں شیوہ مسلماں کا

نہیں دیتا اجازت پیش دستی کی خدا ہرگز

مسلماں ہو تو لڑنے میں نہ کرنا ابتدا ہرگز

فقط ان سے لڑو جو لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں

فقط ان سے لڑو جو تم پہ جینا تنگ کرتے ہیں

اُدھر عورتوں کے ہاتھ میں کمان جو سولہ سنگھار کرکے دف اور رجزیہ اشعار کے اسلحہ سے اکساتی۔ اِدھر  رب کی نصرت کا یقین، قوت بازو پر اعتماد اور رسول کی اطاعت کا جذبہ

لیکن رسول اللہ ( ص) کی صرف ایک ہدایت سے روگردانی کیسے خسران کا سبب ہوتی ہے اس کی واضح علامت ہے غزوہ احد۔ 70 قیمتی جانوں کا ضیاع اور ایک واضح وارننگ بھی کہ  رسول ( ص) کو جھٹلانا، یا اطاعت شکنی تو بہت دور کی بات ہے، اگر معمولی حکم عدولی بھی ہوتو نقصان ہی نقصان مقدر ہوگا۔

اسکے بر خلاف غزوہ خندق اطاعت شعاری کے بیش بہا انعام کی علامت ہے۔

مدنی تاریخ کی سب سے سخت اور مشکل ترین گھڑیاں۔  کلام الہٰی نے بھی ان کٹھن گھڑیوں کی تصویر کھینچی۔

وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا)الاحزاب-10)

” آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منھ کو آگئے۔ اور اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے اس موقع پر ایمان والے آزمائے گئے اور وہ بری طرح ہلا مارے گئے۔ "

دس ہزار مخالفین کی ہتھیار بند فوج اور تین ہزار مومنین کی مختصر جماعت

اُ دھر کئی قبائل عرب کازبردست اتحاد، اِدھرتنہا  مومنین مدینہ کے دفاعی مورچے

تصور سے ہی آنکھیں کپکپا جاتی ہیں۔ دو کلومیٹر گہری خندق کھودتے کھودتے ہر فرد تھکن اور بھوک سے بے حال۔ رسول پاک ( ص) بھی اس مشقت میں شامل ہیں۔ ہموطن یہودیوں کی بغاوت۔ صورتحال کی سختی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ایک صحابی کے زبان سے یہ الفاظ بھی نکل گئے۔ "محمد (ص) ہم سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم قیصر  و کسریٰ کے خزانے کھائینگے اور آج ہمارا ایک شخص اتنا بھی محفوظ نہیں پاتا کہ وہ بیت الخلا جائے۔ "

آج یہاں وہ تاریخ ساز خندق موجود نہیں۔ گردش دوراں نے اس خندق کو پاٹ دیا۔ کھائی کی جگہ سڑک نمودار ہوگئی۔  لیکن سڑک پر دوڑتی گاڑیوں کے بیچ بھی اس خندق اور اس سے جڑے عہد ساز لمحات کا تصور زیادہ مشکل نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں رسول برحق ( ص)نے  اس بھاری چٹان کو ایک ہی ضرب میں توڑ دیا تھا جو خندق کی کھدائی کے دوران پہاڑ سی مصیبت بنی ہوئی تھی۔

یہ ضرب صرف ایک چٹان  پر نہیں تھی بلکہ تھکن اور چیلنجس سے بھرے مایوس ماحول پر امید و اطمینان کا ایک حتمی وار تھا۔

پہلی ضرب پر آپ نے شام کی کنجیاں ملنے کی نوید سنائی۔ دوسری ضرب پر سلطنت فارس ( ایران ) کی فتح کی خوشخبری سنائی۔ اور تیسری ضرب پر جب چٹان پوری ٹوٹ گئی آپ نے فرمایا، صنعاء کے دروازے بھی کھل گئے اور یمن کی کنجیاں بھی دے دی گئیں۔ "

یہ صرف مایوسی میں ڈھارس بھرے جملے ہی نہیں تھے بلکہ برحق پیشن گوئیاں تھیں جو ایک تسلسل کے ساتھ پوری ہوئیں۔

ہم مسجد فتح میں داخل ہورہے تھے۔ اس مسجد نے کبھی وہ منظر بھی دیکھا تھا کہ رسول اکرم ( ص)  خندق کی کھدائی اور تما م حربی منصوبوں کی تکمیل کے بعد یہاں مورچہ سنبھال کر دست بہ دعا ہوگئے۔  یہیں سے وہ سات ٹیلے ( جہاں آج سات مساجد موجود ہیں ) بھی صاف دکھائی دیتے ہیں جہاں صحابہ اکرام کے سات جری مورچے ایستادہ تھے۔ خندق کی اس سرزمین نے ان دو محسنین امت کی یاد بھی تازہ کردی جنکی حکمت عملی اور ذہانت نے فتح و کامرانی کی تاریخ لکھی۔ حضرت سلمان فارسی اور حضرت نعیم بن مسعود (رض)

جب ان جری و ذہین صحابیوں نے اپنے منصوبہ کی توثیق نبی کریم سے چاہی تو آپ (ص) نے اس مبارک ارشاد کے ساتھ اس جنگی پالیسی کو منظور فرمایا تھا۔

الحرب خدعۃ  ( لڑائی نام ہے تدبیر کا )

غمامہ سے اجابہ

مدینۃ النبی تاریخ ساز مسجدوں کا شہر ہے۔ یہاں کئی ایسی مساجد ہیں جنھوں نے تاریخ رقم کی اور تاریخ میں رقم ہوگئیں۔ آج شاداب صاحب کی رہبری میں تاریخ کے انھیں مسعود گوشوں کو ٹٹولنا ہمارا پروگرام تھا۔

مسجد غمامہ : حرم نبوی کے جنوب مغربی کنارے سے تین سو میٹر کے فاصلے پر ہے۔یہ مسجد اپنے قدیم اسٹرکچر(ترک دور) کیساتھ بڑا پیارا منظر پیش کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وصلعم نے وصال سے ایک سال قبل (631ع)اس میدان میں نماز عیدالفطر ادا فرمائی تھی۔جہاں عمر بن عبدالعزیز(رح)  کے دور میں یادگار مسجد تعمیر کر دی گئی۔

نبی کریم نے یہاں نماز استسقاء بھی ادا فرمائی تھی اسی وقت بادل گھر آئے اسی لئے یہ غمامہ (بادل) کہلائی۔یہاں رسول اللہ نے نجاشی کی نماز جنازہ بھی پڑھی تھی۔

مسجد جمعہ: یہاں رسول خدا نے ہجرت مدینہ کے بعد پہلی جمعہ ادا فرمائی تھی۔

مسجد ابوبکر مسجد عمر اور مسجد علی : حرم نبوی کے جنوب مغربی دیوار کے قریب واقع یہ وہ مساجد ہیں جو میدان عیدگاہ ہوا کرتی تھیں جہاں رسول اللہ (ص)نے مختلف موقعوں پر نماز عید ادا فرمائی تھی۔حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح)کے دور میں ان مقامات کی نشاندہی کرکے وہاں مساجد تعمیر کی گئیں۔

کون چاہے گا کہ حرم نبوی سے پرے فرض نماز ادا کرے اسلئے اکثر مساجد میں لوگ بس نفل ادائیگی کیلئے جاتے ہیں۔ جونہی اذان کی صدا بلند ہوئی دیار نبی(ص)  کی سمت دوڑے چلے آتے ہیں۔

مسجد بنی نضیر: یہ وہ تاریخی مسجد ہے جہاں رسول اللہ کی قیادت میں سرکش قبائل کا محاصرہ کیا گیا انھیں شکست دیکر مدینہ سے نکالا گیا اور پھر وہاں آپکی امامت میں نماز ادا کی گئی۔

مسجد اجابہ : رسول اللہ(ص)  بنو معاویہ کی مسجد سے گزرے وہاں ٹھہر کر دو رکعت نماز ادا فرما ئی اور رب کے حضور طویل دعا کی۔ فرمایا میں نے رب سے تین دعائیں مانگیں اور دو قبول ہو گئیں کہ میری امت قحط سالی سے تباہ نہ ہو۔ اور یہ کہ میری  امت غرق ہوکر تباہ نہ ہو۔

تیسری دعا یہ تھی، میری امت باہمی لڑائی سے محفوظ رہے۔

صحیح مسلم کی اس روایت کو پڑھکر کون ہوگا جس کے دل میں یہ حسرت نہ جاگے کہ کاش یہ تیسری دعا بھی قبول ہوجاتی۔

ہم اپنی محدود بینائی کے سہارے اتنا ہی دیکھ سکتے ہیں جتنی ہمارے آنکھوں کی سکت ہے،  اور مختصرعقل سےاتنا ہی سوچ سکتے ہیں جتنا ہمارا دماغ اجازت دے۔  محدود فکر  اور ویژن کافطری نتیجہ ہے ہماری  یہ حسرتیں۔ جس میں کوئی برائی بھی نہیں۔ لیکن رب کی حکمتیں وہ بہتر جانتا ہے۔ہاں ہم کوششوں کے مکلف ضرور ہیں۔

آئیے محسن اعظم۔کی تیسری تمنا کو بھی حقیقت کے سانچے میں ڈھالنے کا عزم کریں۔

 اخوت کی ٹوٹی کڑیاں  

سجد غمامہ سے کچھ دور چلے تو اچانک حجاز ریلوے ٹر منس نظر آیا۔ پتھروں کی قدیم عمارت دیکھکر ذہن میں تاریخ کا ایک منظر گھوم گیا۔تاریخ کا وہ باب جو عزت و وقار سے عبارت ہے، تاریخ کے ان صفحات کو الفاظ کے البم میں ضرور دیکھا تھا  لیکن ان کاحقیقی  نقش کبھی  نہ دیکھ سکے تھے۔ ترک دور کا یہ قدیم ریلوے اسٹیشن جدید ترین عمارتوں کے بیچ ایک سحر انگیز منظر پیش کرتا ہے۔ایک تاریخی سحر۔برادر خالد قریشی بھی ساتھ تھے۔  ہم نے آگے چل کر دیکھا ٹرمنس کی پٹریاں آج بھی سلامت ہیں۔ انھیں دیکھکر اندازہ ہوا یہ میٹر گیج ریلوے لائن رہی۔

حجاز ریلوے کی تاریخ کئی ابواب سمیٹے ہوے ہے۔ ترکوں کی حرمین سے والہانہ وابستگی، خطئہ حجاز کی ترقی کیلئے عثمانی ویژن، جنگ عظیم سے پہلے اور بعد سازشوں کے نرغے، اپنوں کی نادانی، نقصان، اور پھر زوال در زوال !

انیسویں صدی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ترکی، شام اور فلسطین سے نکلنے والے عازمین کی20 فیصدتعداد، دھوپ، سفر کی شدت، کم و بیش ڈیڑھ ہزار کلو میٹر سخت اور طویل راستہ، بھوک پیاس اور بیماریوں کا شکار ہوکر انتقال کرجاتی تھی۔اس سنگین مسئلہ کے پیش نظرعثمانی حکمرانوں نے سفرحرمین کو آسان بنانے کی خاطر حجاز ریلوے کا منصوبہ رکھا۔

جب یوروپ میں جنگ کے شعلے بھڑکنے لگے تو عثمانی حکمرانوں نے خطئہ حجاز کی حفاظت و سلامتی کی خاطر ریلوے لائنس کی تعمیر کو اپنی ترجیح قرار دی تاکہ کسی ناگہانی صورت میں ترک سلامتی دستے اور تیز کمک استنبول سے حرمین فوری پہنچ سکے۔حجاز ریلوے اسی خواب کی تعبیر تھی جس نے ترکی سے حرمین کے سفر کو 120 گھنٹے کم کر دیا۔

سلطان عبدالحمید ثانی نے جب اسکا اعلان کیا تو ترکوں نے اپنی جیبیں الٹ دیں۔ تیجتاً یہ ریلوے لائن محض عوامی جذبے کی طاقت پر تعمیر ہوئی جسکا کوئی اضافی بارسرکاری خزانہ پر نہ پڑا۔

بدقسمتی سے یہ ریلوے لائن  صرف بارہ سال (1920-1908)کارکرد رہی۔ ادھرعالمی جنگ ( ورلڈ وار) کے شعلے یوروپ سے نکل کر دنیا کے کونے کونے میں لپک رہے تھے۔ استعمار کو کچے کان والے مہروں کی ہر جگہ تلاش تھی۔ وہ یہاں بھی مل گئے۔ لیجیے، اب حجاز ریلوے کی تباہی کیلئے کسی بیرونی فوج کی ضرورت نہ تھی۔شریف مکہ کے حواری کبھی سلیپر اکھاڑ لے جاتے کبھی ریلوے ٹریکس چوپٹ کر جاتے۔رہی سہی کسر جنگ عظیم کی تباہی نے پوری کی اور پھر حجاز ریلوے تاریخ کا حصہ بن گئی۔

آج ہم نے جب اس ٹرمنس کا مشاہدہ کیا تو یوں لگا کہ یہ ریلوے کی ٹوٹی پٹریاں  نہیں بلکہ ملی اخوت کی ٹوٹی کڑیاں ہیں جس نے کبھی عرب و عجم کو آپس میں باندھ رکھا تھا۔ افسوس کہ جذبہ وحدت کی ان ٹوٹی کڑیوں سےسبق پانے کیلئےترکوں کے علاوہ یہاں بہت کم لوگ موجود تھے۔

آج بھی جذبہ اخوت کے مارے ترک یہاں پہنچ کر اپنی جڑیں ٹٹولنے سےنہیں چوکتے۔آج بھی وہ عرب وعجم کےاتحاد کا دیرینہ خواب دیکھنانہیں بھولتے۔ترک ٹرانسپورٹ منسٹر بنالی یلدرم نے 2009 میں اپنے اس دیرینہ خواب کا ببانگ دہل اعلان بھی کیا تھا۔

عثمانی سپوتوں کی تجسس بھری آنکھوں میں میں نے اسی مچلتے خواب کو دیکھا جسے وہ اپنی مخلص قیادت کے ہاتھوں شرمندہ تعبیر ہوتا دیکھنے کے آرزومند ہیں۔ شاید اقبال نے اسی منظر کو بہت پہلے دیکھ لیا تھا۔

اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم  ہے

کہ خون صدہزارانجم سےہوتی ہےسحرپیدا

 میزبان کی وارننگ

حج کے ایام ختم ہوچکے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ روزانہ لوٹ رہے ہیں۔ ہندوستانی حجاج عام طور پر لمبے پروگرام کے ساتھ آتے ہیں یہ انکی حرمین سے دلی وابستگی کا اظہار بھی ہے۔ ہندوستانی حجاج کی بڑی تعداد ابھی مکہ معظمہ میں ہے۔ انھیں اگلے ہفتہ یہاں آنا ہے اور 8 تا 10 دن قیام کرنا ہے۔ اگلے ہفتہ مسجد نبوی اپنے زائرین کی کثیر تعداد سموئے رہے گی۔

حج کے ساتھ ہی ادھر کچھ ہورڈنگز ابھر آئیں،  جن میں "پیارے حاجی” کو مخاطب کرتے ہوئے انکی آمد کو سعادت اور خدمت و راحت کو چاہت قرار دیا گیا، اس تنبیہ کے ساتھ، جس کا خلاصہ یہ کہ آپ کے لئیے یہ سرزمین 3 ماہ کشادہ اور چاہتوں سے بھر پور ہے، اسکے بعد نہ آپ "پیارے” نہ آپکی راحت۔۔

ظاہر ہے، یہ اس خدشہ کے پیش نظر کہ حج کے بہانے آکر کوئی مستقل ڈیرا نہ جمالے۔

انتظامی نقطہ نظر سے  زائرین  کی تعداد کو کنٹرول کرنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ان خاموش وارننگس کے پیچھے سخت گیر قومی تعصب کی ناگوار پرچھائیاں بھی صاف نظر آتی ہیں۔

خدا کی زمین کو سخت گیر سرحدوں میں بانٹ کر اسکے پرستار بن جانا مادہ پرست مغربی استعمار کا جدید دنیا کیلئے مکروہ تحفہ ہے۔لیکن آج اس آلودگی کو مغربی دنیا سے زیادہ ان ممالک نے اپنے لئے پسند کر رکھا ہے جہاں سے وحدت انسانی کی سب سے مضبوط آواز بلند ہوئی  تھی۔

آج مغربی ممالک، دنیا کے مظلوم  پناہ گزینوں اور صلاحیتوں سے مالامال افراد کیلئے اپنی سرحدیں کھول رہے ہیں وہیں دوسری طرف مشرق کی سرحدوں پر سخت گیر دربانوں کی صف بہ صف ایستادگی نظر آتی ہے۔ادھر انجیلا مارکیل یوروپ میں مادر مہربان بن کر ابھرتی ہیں تو دوسری طرف چھوٹی چھوٹی شہنشاہیتوں  میں نت نئے بابائے دربان۔۔۔!

کون سمجھائے کہ جس  کسی قوم نے انسانیت کو موجہ بیکراں مان کر انسانی وسائیل کا ستقبال کیا    وہی  ہر زمانے میں دنیا کی امام رہی۔ مرحوم عامر عثمانی  نے اسی کرب کا یوں اظہار کیا تھا۔

چند فرضی لکیروں کو سجدہ نہ کر چندخاکی حدوں کا پجاری نہ بن

آدمیت ہے اک موجئہ بیکراں ساری دنیا ہے انسانیت کا وطن

 وادئ غیر ذی زرع  کی سمت

مدینۃ النبی میں قیام مکمل ہوا۔ آج ہمیں رسول( ص) کے شہر کو الوداع کہنا ہے۔ نماز عصر کے بعد دیار پاک کے گوشے گوشے پر نظریں دوڑائیں۔ ہر منظر کو ذہن میں محفوظ کرلیا۔ اور مکہ معظمہ کی سمت روانہ ہوگئے۔

کار تیز ترین رفتار کے ساتھ چلی جارہی تھی۔ یہ شاہراہ پچھلے چودہ صدیوں سے آباد ہے۔ کبھی مشرکین کی ٹولیاں ناپاک ارادوں سے یہاں سے گذرتی تو کبھی موحدین کے قافلے مبارک عزائم کے ساتھ عزم سفر ہوتے۔

کبھی اس راستے کو طئے کرنے کے لئے چھ تا سات دن درکار ہوتے تھے، آج بمشکل 4 گھنٹے۔

چٹیل پہاڑیاں اور بنجر وادیاں بتارہی ہیں، مکۃ المکرمہ کی آمد آمد ہے۔ اسی پتھریلے بنجر پن سے بیزار آکر کبھی قریش مکہ نے نبی مکرم ( ص) سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ ” آپ جانتے ہیں لوگوں میں کوئی بھی نہیں جو ہم سے زیادہ تنگ شہر والا ہو۔ ہمارے یہاں پانی نہیں۔ ہم سے زیادہ تنگ زندگی والا کوئی نہیں۔ اس لئیے جس رب نے آپ کو بھیجا ہے اس سے دعا کریں کہ وہ ان پہاڑوں کو ہم سے ہٹادے  جو ہماری زندگی تنگ کئیے ہوئے ہیں۔ اور ہمارے شہروں کو کشادہ کردے اور ان میں شام اور عراق جیسی ندیاں جاری کردے۔ "

سوچتا ہوں انسانی عقل بھی کتنی مختصر  اور بینائی بھی کتنی محدود ہے۔ جسے وہ تنگ شہر سمجھتے تھے اسکی کشادگی کا عالم یہ ہے کہ ہر رنگ ونسل کے لاکھوں قافلے یہاں چلے آتے ہیں، لیکن نہ شہر کا دامن تنگ ہوتا ہے نہ ضیوف الرحمان کوئی تنگی محسوس کرتے ہیں۔ جن پہاڑوں کو  وہ ہٹانے کی بات کرتے تھے آج بس وہی پہاڑ اپنی اصل حالت میں تاریخ کے ہر صفحے کے گواہ بنے کھڑے ہیں۔ جن پر نظریں جما کر، جنکی بلندیوں پر سوار ہوکر اور جن کی چوٹیوں پر رات بتا کر لوگ اپنا ایمان تازہ کرتے ہیں۔ شام و عراق میں بہتے دریاؤں پر رشک کرنے والوں کو کیا پتہ تھا کہ دنیا تو اس بنجر وادی میں ( غیر ذی زرع ) میں پھوٹنے والے چشمہ کی پیاسی ہے۔ یہاں کے "دو گھونٹ ” دجلہ و فرات کے اچھلتے دھاروں سے کہیں قیمتی ہیں۔

اسی سوچ میں غرق تھا کہ ایک خاص خوشبو کا جھونکا حرم کعبہ سے قربت کی نوید لے آیا۔ یہ وہ مہک ہے جو حرم کعبہ کے گوشے گوشے میں بسی ہے۔ ہم باب السلام پہنچ چکے تھے۔

شمال و جنوب کی الجھن۔

حرم کعبہ کے باب عبدا لعزیز کے بالکل مقابل ایک سڑک شروع ہوتی ہے جو حرم سے پرے جاتی ہے۔ اس سڑک کا نام طریق الہجرہ ہے۔عتیق بھائی سے ملاقات کے لئیے ادھرآنا ہوا۔

 دیکھاکہ وہ جس ہوٹل میں مقیم ہیں اسکا نام ریاض الہجرہ اور کئ دکانیں بھی ہجرہ سے موسوم ہیں۔ معلوم ہوا، یہ وہی راستہ ہے جہاں سے رسول اللہ (ص) کا ہجرت مدینہ کے لئیے گذر ہوا تھا۔

ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ باب عبدالعزیز تو حرم کی جنوبی سمت ہے  اور مدینہ حرم مکہ سے شمال کی سمت۔ بھر مدینہ کی سمت ہجرت کا سفر جنوبی سمت کیسے ؟

سیرت رسول کا پاکیزہ مطالعہ اور حرم نبوی  میں دیکھی نمائش کا عکس تازہ ہے۔ یہاں رسول صلعم کی ہجرت مدینہ کی تمام تفصیلات مع نقشہ جات بڑے خوبصورت انفو گرافکس کے ساتھ پیش کی گئیں۔

واقعہ یہ ہے کہ کفار مکہ کے تعاقب کے پیش نطر رسول اللہ (ص)  نے ایک بالکل علیحدہ راستے کا انتخاب فرمایا تھا جو بظاہر جنوب کی سمت جاتا تھا لیکن ایک طویل چکر کاٹ کر شمالی سمت مدینہ کی گذر گاہ سے جا ملتا۔ رسول اللہ نے سفر کی انوکھی حکمت عملی اختیار کر مشرکین کے ناپاک منصوبوں کی حیثیت بتلادی تھی۔ آج بھی اس مبارک سفر کاڈائریکشن طریق ہجرہ پر کنفیوز کئیے دیتا ہے۔

حرمین آمد سے قبل سیرت کا گہرا مطالعہ بے پناہ مفید ہوتا ہے۔ جس نے اس پہلو کو نظر انداز  کیا وہ اس مبارک سفر کی روح اور اسکے حقیقی لطف سے محروم رہا۔۔

خیر الناس من ینفع الناس

ہم حرم کے صحن میں بیٹھے تھے کہ اچانک ایک انتہائی  لاغر، پریشاں حال،  احرام میں ملبوس ضعیف شخص ادھر آ پہنچا اور راست سیف اللہ  بھائی کو مخاطب کرکے اپنا دکھڑا بنگالی میں سنانے لگا۔۔ وہ پوچھتے کیا تکلیف ہے؟  چور ی ہوگئ، گروپ سے بچھڑ گئے؟  طبیعت بگڑ گئ؟  بھوک لگی ہے؟   ہر سوال کے جواب میں شدھ بنگالی میں آہیں و کراہیں۔ ۔ وہ بزرگ بنگالی انھیں کے سامنے بیٹھ بھی گئے۔ بڑا پیچیدہ معمہ تھا۔

سیف بھائی ڈھونڈ کر ایک بنگالی خادم حرم کو پکڑ لائے۔ اس نے مترجم  کا کام کیا۔ پوری بپتا سنی۔ معلوم ہوا کہ سخت طبیعت خراب ہے۔ ساتھی بھی بچھڑ گئے۔ مناسک ادا  کرنے ہیں۔  زبان کے  مسئلہ نے رہی سہی کسر پوری کردی ۔ ۔

اب وہ اوربرادر ذبیح انکی مدد میں جٹ گئے۔ دواخانہ لے گئے، چیک اپ کروایا،گلوکوز چڑھایا۔ کھانا دلوایا، ضروری کاروائی کے بعد واپس لوٹے  تاکہ طبیعت سنبھلنے کے بعد وہ بآسانی پہنچ سکے اور بقیہ مناسک ادا کرسکیں۔

میں سوچ رہا تھا کہ اس غریب ولاچار بزرگ کی نظر التجا اس لاکھوں کے مجمع میں آخر اس شخص پر ہی کیوں پڑی جو نہ اس کا ہم زبان ہے نہ ہم وطن۔۔؟ اور اس سے پہلے بھی وہ کونسی حِس تھی جس  نے ایک پریشان حال بیوہ کو حج کے دوران اپنے شوہر کے انتقال کے بعد شدید پریشانی کےعالم میں سیف بھائی کےمکان تک پہنچایا تھا کہ یہیں اللہ نے انکے لئیے ایک ماہ محفوظ آسرے کا نظم کررکھا تھا  تاوقتیکہ انکے رشتہ دار ایک لمبی کاروائی کے بعد ہندوستان سے مکۃ المعظمہ پہنچے ۔

رب العزت اپنے کچھ  بندوں کو ایسی خاموش اور بیش قیمت خدمت کےلئیے چنتا بھی ہے اور ضرورتمند بندوں کو ان سے منسلک بھی کرواتا ہے۔

سیف اللہ بھائی کا بے لوث جذبہ خدمت بڑا بے مثل ہے۔

خیر الناس من ینفع الناس( تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو انسانوں کے لئیے نفع بخش ہوں )

معراج  مسلمانی

 حج مکمل ہوا۔اب تبصرےاور تجزئیے جاری ہیں۔ ۔کچھ مطلوب اور کچھ نامطلوب بھی۔

کچھ لوگ معمولی کوتا ہیوں پر نادم ہیں، اور کچھ بے خبر۔۔!

جو نادم ہیں وہ گڑگڑاتے ہیں کہ لاکھ مصا ئب منظور، لیکن میرا رب میری ان چند روزہ کاوشوں کو قبول فرمالے۔۔

بے خبروں کی دنیا الگ اور انکی ترجیحات کی اڑانیں بھی کچھ اور ۔

 دل کو ٹٹونے کی کوشش کی، دیکھا کہ کہیں نالہ و شکوہ کی کثافتیں بہہ رہی تھیں اور کہیں کہیں تفاخر و امتیاز کی آلودگیاں بھی ابل رہی تھیں۔ ۔

کہیں اس بات کافخرتھا کہ منٰی کے خیمہ میں بھی وہ اپنے پسندیدہ مشروبات سے محروم نہ رہے۔ جہاں ٹینٹ میں تمام آسائشوں کے ساتھ سافٹ ڈرنکس کے فریزرز بھی عازمین کی سہولت کے لئیے ایستادہ تھے۔ کاش میں بھی کوئ سوپر، سلیبریٹی عازم ہوتا۔ ۔

ادھر ایک چبھن سی ہوئی، مانو کوئی اندرون سے للکار رہا ہو،

نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں

کہ پایا  میں   نے استغنا   میں  معراج  مسلمانی

دل کا ایک گوشہ تو،

نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم

کی مجسم تصویر بنا بیٹھا تھا۔

وطن کی دھول بھری سڑکوں پر دو دو فٹ اچھلتے پھسلتے جو یہاں پہنچا تو بس کا معمولی جھٹکہ طبع نازک کے لئے گراں بارہوا۔

اے سی کی پسندیدہ سیٹنگس کی چوائس پر بھی اسے تحمل گوارہ نہیں۔ بفیٹ کی تیرھویں ڈش کو لیکر یہ شکایت کہ اس نے ان ایک درجن لذیذ پکوانوں کا مزہ کرکرا کردیا جو شائد ہضم بھی ہوچکی ۔

بجا او ر بیجا شکایتوں کا انبار۔ ۔

حد تو یہ کہ ان نالوں کی باز گشت عین حرم نبوی میں بھی کھٹک جاتی۔۔

امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں

اسی کشمکش میں ایک خاموش تنبیہ سی سنائی دی، "کسی ٹور آپریٹر کی کیا اوقات کہ وہ کسی کو یہ سعادت بخشے۔ تمھیں تو  رب نے بلایا، تم تو فیوض الرحمان میں شامل ہو۔ رحمان کے مہمان، رحمان کے محبوب کے مہمان!

مہمان کی شکایت، راست میزبان کے نام ہوتی ہے۔ ۔

 خوب سوچ لینا اور اب شکایتوں کے پٹارے کھو لنا، من چاہے شکوے۔ ۔۔!! "

احرام تا اٹالین جیکیٹس

کل ہی کی بات ہے، دو سفید کپڑے لپیٹے تلبیہ وتکبیر کی صدائیں بلند کرتے خالی ہاتھ قافلے سوئے حرم چلے آرہے تھے، پتہ نہیں کس نے چند قافلوں کا رخ آج  چکاچوند مالز کی طرف موڑ دیا۔ فلک کی سمت بارگاہ رب میں جوخالی ہاتھ بلند ہوئےجارہے تھے اب وہ شاپنگ بیگس سے لد کر جھکے جارہے ہیں۔

 اب وھیل چیرس نہیں شاپنگ کارٹس دھکیلی جارہی ہیں۔

کل جو زبان رب کے حضور تلبیہ و تحمید میں رواں تھی آج مالز اور برینڈس کی مدح خواں۔ ۔

جس تن کو احرام کی دو پٹیوں میں لپیٹے ارض الحجاز لے آئے تھے اسے اٹالین لیدر جیکٹس سے سنوار کر وطن تک اڑانے کی تمنائیں انگڑائی لینے لگی۔

حج سے قبل شاپنگ اور حج کے بعد شاپنگ۔۔تمھاراحج تو دو مادی جلووں کے بیچ ایک روحانی توقف ہے۔ اور کیا؟

 کل تم نے جمرات میں شیطان کو ذلیل کیا اور آج اسی کے دربار کی سمت کشاں کشاں چلے جہاں وہ کرسی سجائے مسکرارہا ہے۔ ۔(روایت میں ہے کہ شیطان بازار میں اپنی کرسی بچھاتا ہے ).دل کے کسی گوشے سے اٹھتی اس صدا نے شرمسار کردیا۔۔

اس طرف فتنہ ابلیس، ادھر رب جلیل 

ابلیس لعین بھی بڑا ظالم ہے وہ کیوں چاہے گا کہ دنیا کے کونے کونے سے قافلے اسے ذلیل کرنے چلے آئیں۔ سو اس نے بھی دسیوں پھندے اپنے دفاع کیلئے بن رکھے ہیں۔ کہ اس  اہم فریضئہ سے نظر چوکتی رہے۔

پہلا پھندہ –زندگی پڑی ہے دوست – عمر کی چھ سات دہائیاں بیت جائیں پھر دیکھیں -افسوس کہ ہم ہندوستانیوں کی اوسط متوقع عمر (لائف اکسپیکٹنسی ) نسبتاً کم ہونے کے باوجود شیطان کا یہ پھندہ ہم پر ہی سب سے زیادہ کارگر ہے۔

ہم نے سن رکھا تھا کہ ہمارے مشرق بعید کے بھائی اپنی شادی سے قبل فریضئہ حج کی تکمیل کا ذوق رکھتے ہیں۔ عام مشاہدہ اس بات کی تصدیق کا مکلف نہیں۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہیکہ ہمارے یہ دوست شیطان کے اس پھندے سے بچنے کا گرخوب  جانتے ہیں وہ اپنے محسن سے ملاقات کیلئے ادھیڑ عمری یا بڑھاپے کا انتظار نہیں کرتے۔

ہمارے ہندوستانی قافلے یہاں ممتاز ٹھہرتے ہیں۔ ہم عمر کے اس مرحلے میں فریضئہ حج کی ادائیگی کے قائل ہیں جب طواف کے بجائے حرم۔کے کونے میں تلاوت زیادہ  بھلی معلوم ہوتی ہے۔دیار رسول کے بجائے ہوٹل کے روم میں  لیٹے  رہنا  اسلئیے ٹھیک   لگتا  ہے کہ  دھوپ سخت ہے، لفٹ تنگ ہے،   بھیڑ میں دھکے کھانا محال ہے اور حرم خود روم میں حاضر ہے ( ٹیلی ویژن کی مہربانی )۔

ایک جال ضرورتوں اور تمناؤں کے تانے بانے سے بنا ہے۔ لامتناہی ضرورتیں اور لامحدود آرزوئیں۔ پہلے ایک کار خرید لوں، سیر سپاٹا نہ ہو تو صحت کیسے سلامت رہے،  سر چھپانے گھر بھی ضروری ہے، اس زمانے میں پراپرٹی نہ جمائیں  تو "کل”  کا کیا ہوگا ، گھر کا انٹیریر سنور جائے بس  اسکے فوراً بعد۔ جب وہ سنور جائے تو کار بگڑ جاتی ہے۔یہ بڑا پیچیدہ جال ہے۔جتنی احتیاط سے نکلنا چاہیں اتنے ہی پھنستے چلے جائیں۔ ذرا دل پر جبر کرکے ان ابلیسی  تانے بانوں کوہی کاٹ ڈالیے پھر دیکھیے کہ کٹے پھٹے جال کیساتھ شیطان کیسے ذلیل ہوتا ہے۔

ایک اور پھندہ سطحی ویژن کا —حج کی دوڑ دھوپ کا  حاصل کیا ہے؟سفر سے پہلے   اس ایک ماہ کی "پروڈکٹوٹی”  کا کیلکیولیشن  بھی دیکھ لیجئیے !بھوکوں اور محروموں کی بھیڑ کے بیچ ہم حج کو چلے۔یہ کونسا انصاف۔ ؟

اگر خدانخواستہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا تو۔شیطان کے اس پھندے سے بچنے کیلیےزندگی کی مصروفیات سے شعور و فکر کی تعمیر کیلئے دو پل نکالنا ضروری ہے۔

یہ پھندا اسوقت موثر ہوتا ہے جب ہم انفرادی مفادات میں ایسے گم ہوجائیں  کہ اس سے آگے بس خلاء ہی خلاء نظر آئے۔ انسان صرف درہم و دینار اورکاروباری  حساب کتاب کا نام نہیں، وہ دھڑکتے جذبات اورزندہ نفسیات کا نام بھی ہے۔

جہاں انسانی  معاشرہ سے اسکا تعلق ہے وہیں خدا سے بھی گہرا تعلق ہے۔ یہ دونوں تعلق  اہم بھی ہیں اور محترم بھی۔ کسی ایک کی اہمیت دوسرے کی قیمت پرہی ہو  یہ ضروری نہیں۔  بات آسانی سے سمجھنے کے لئیے آئیے خود سے ہی سوال کریں۔ کیا  ماں کا حق ادا کرنے کے لئیے باپ سے لاپرواہی  ضروری ہے ؟

 جہاں یہ شعور  کمزور ہو چلے پھر حج ہی کیا ہر عبادت ابلیسی جھپٹے  کے دائرے میں آجاتی ہے۔ہر عمل مادی پروڈیکٹیویٹی سے جڑ جاتا ہے۔ نماز تو آفس کا ڈیڑھ گھنٹہ ضائع کردیتی ہے۔ روزہ تو اتنا نڈھال کئے دیتا ہیکہ میں کچھ کام ہی نہیں کرسکتا۔ ہر سال قربانی، نہ جانے ملک کی جی ڈی پی اور معیشت کو کہاں لڑھکا کر نکل جاتی ہے۔

یہی وسوسہ جب گہرائی تک گھر کر لیتا ہے تب دبی دبی زبان سے یہ توجیہ بھی سنائی دیتی ہیکہ حج کے ویزا کے بعد امریکہ کیلیے آن سائٹ اسٹامپنگ بڑی  کٹھن ہو جاتی ہے۔

لاحول ولا قوۃ۔۔۔!

کتنی  دشوار  ہے "دیدار” حرم  کی  منزل

اس طرف  فتنہ  ابلیس،  ادھر رب جلیل  

دو انتہائیں

حج کے حوالے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری ایک کثیر تعداد  دو انتہاؤں کے بیچ پھنسی ہے۔

ایک طرف ہمارے اہل ثروت، جنکے لئیے نفل حج کی پئے در پئے تکرار بڑی مقدم ہے۔ کبھی کبھی  تویوں محسوس  ہوتا ہے جیسے  خسروی عازمین کے لئےحج وعمرہ سالانہ لانڈری بن چکے ہیں۔ یہاں روحانی داغ دھلتے ہیں۔ سال بہ سال چلے آئیے اور اس لگژری ماحول میں زبردست پوترتا پائیے۔

ہم نے ان حجاج کو بھی دیکھا جو ہر سال پابندی سے نفل حج فرماتے ہیں انکے خلوص نیت اور جذبات کی قدر کرتے ہوئے میں مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی کے الفاظ یہاں پیش کرنا چاہوں گا۔

” دوسرا پہلو جو حج کے سلسلہ میں شدت کے ساتھ محتاج توجہ ہے اور اس سلسلہ میں ایک عالمگیر کوشش اور جدو جہد کرنے اور ایک مستقل مہم چلانے کی ضرورت ہے، وہ نفلی حج ہی نہیں، مختلف اغراض و مقاصد سے حج کرنے والوں کی کثرت ہے، جس نے فرض حج کرنے والوں اور حکومت دونوں کے لئے سخت دشواریاں اور ناقابل عبور مشکلات پیدا کردی ہیں اور حج کے تقدس اور حرمت ہی کو نہیں اس کی نیک نامی اور شہرت کو بھی سخت نقصان پہونچایا، بلکہ اسلام کی شہرت و عزت کو داغ لگایا اور اس کو خویش و اغیار کی نگاہ میں سخت بے وقعت اور مشکوک بنادیا ہے، ان بنیادی اغراض کے علاوہ (جن کے متعلق کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ) نفلی حج کا معاملہ کبھی قابل نظر ثانی  اور علماء اور اہل شعور کے لئے قابل غور اور قابل توجہ بن گیا ہے، وسائل سفر کی کثرت، دولت کی بہتات، سعودی عرب میں معیشت و حصول دولت کے ذرائع و مواقع کی فراوانی نے مسئلہ کو اور پیچیدہ بنادیاہے۔

امام غزالیؒ نے اپنی زندہ جاوید اور شہرۂ آفاق کتاب ’’احیاء العلوم الدین‘‘ میں اس نفلی اور دنیاوی مقاصد سے بار بار حج کرنے کے رجحان پر( جومعلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانہ میں پیدا ہوگیا تھا) بڑی حقیقت پسندانہ اور فقیہانہ تنقید کی ہے اور اس سلسلہ میں فقیہ امت، صحابی جلیل، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا ایک حکیمانہ قول نقل کیا ہے، جس کو پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اس زمانے کو دیکھ کر فرمارہے ہیں، امام غزالی ؒ لکھتے ہیں :

’’ان دولت مندوں میں بہت سے لوگوں کو حج پر روپیہ صرف کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے وہ بار بار حج کرتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنے پڑوسیوں کو بھوکا چھوڑ دیتے ہیں، اور حج کرنے چلے جاتے ہیں۔ "

دوسری طرف فرضیت کے باوجود مکمل بے رخی، بے حسی اور  ہزار حیلے بہانے ۔

اس رویہ  کے متعلق آئیے یہ دیکھیں کہ سرور عالم (ص) اور سیدنا عمر (رض) کی کیا نصیحت ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس شخص کو خرچ اخراجات سواری وغیرہ سفربیت اللہ کے لیے روپیہ میسر ہو ( اور وہ تندرست بھی ہو ) پھر اس نے حج نہ کیا تو اس کو اختیار ہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر۔ یہ سخت ترین  وعید ہے جو جو کسی مومن کے لئیے ہوسکتی  ہےاس تنبیہ کو جانتے ہوئے اور  استطاعت کے باوجود  جو لوگ حرم کعبہ کا رخ نہیں کرتے، جنھیں  مشرق و مغرب کے سیر سپاٹے  لبھاتے ہیں  لیکن حج کےنام سے ان کی جیب تنگ،  اور وقت  سکڑ جاتا  ہے، ایسے لوگوں کو بس اپنے ایمان کی خیر مانگنی چاہیے۔

سیدنا  عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں کھلا  پیغام جاری  کروایاتھا کہ ” میری دلی خواہش ہے کہ میں کچھ آدمیوں کو شہروں اور دیہاتوں میں تفتیش کے لیے روانہ کروں جو ان لوگوں کی فہرست تیار کریں جو استطاعت کے باوجود اجتماع حج میں شرکت نہیں کرتے، ان پر جزیہ مقرر کردیں۔ کیونکہ ان کا دعویٰ اسلام فضول وبیکار ہے وہ مسلمان نہیں ہیں۔ "

رب کعبہ ہمیں ان دونوں انتہاؤں سے محفوظ رکھے۔  توازن فکر  اور حج مبرور عطا فرمائے۔

مزید دکھائیں

سید شجاعت حسینی

مضمون نگار سافٹ ویئر انجینئر اور معروف قلم کار ہیں۔ آپ مختلف تخلیقی فورم پر فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ جدید ٹکنالوجی اور سماجی و تعلیمی مسائل آپ کے خاص موضوعات ہیں۔ ان دنوں موصوف حیدرآباد میں مقیم ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. ماشاءاللہ بہت خوب
    اللہ اس نیک کام کا مصنف کو بے پناہ اجر دے ۔ آمین

متعلقہ

Close