مذہبی مضامین

رب کی بارگاہ میں سر بسجود ہو جا ئیں

محمد شاہنواز ندوی

ابتلاء و آزمایش فطرت انسانی میں داخل ہے۔ جس سے کسی بھی فرد بشر کو خلاصی و مفرحاصل نہیں ہے۔ نسل انسانی کی شروعات سیدنا آدم علیہ السلام سے ہوئی ہے اور سب سے پہلے خالق کائنات نے انہی کو ابتلاء و آزمایش کے راستہ سے گزارا۔ شجر ممنوعہ سے کنارہ کش رکھنے کی وجہ اسی آزمایش کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ابتلاء و آزمایش کی دلدل میں پھنسانے کے لئے شیطان لعین کی سازشانہ ہمدردی بے حد کارگر ثابت ہوئی۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کے بعد جتنے بھی اللہ کے محبوب ترین اور برگزیدہ بندے کی دنیا میں تشریف آوری ہوئی سبھوں کو آزمایش کی پر خطر اور پر پیج راہ سے ضرور گزرنا پڑا ہے۔ ظاہر ہیکہ اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بندے انبیاء علیہم السلام ہیں۔ تاریخ اسلامی اس بات پر شاہد و گواہ ہے کہ ان رہبران اسلام کو سب سے زیادہ اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن یہ بات بھی ناقابل فراموش ہے کہ اپنے  ایمانی طاقت و قوت پہاڑ جیسی صلابت کے مالک تھے جس کے نتیجہ میں وہ  ہر طرح کی دنیاوی پریشانیوں کو جھیلتے ہوئے کبھی بھی حکم خداوندی کی تعمیل میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی مشکلات بھری زندگیاں کئی جلدوں پر مشتمل ضخیم کتابیں تصنیف و تالیف کے عمل سے گزر چکی ہیں۔ انہی انبیاء علیہم السلام پر ہمارا ایمان ہے، اور تمام نبیوں کے امام سید الانبیاء ماہ طیبہ نیر بطحی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں۔ مصائب و آلام، کلفت و اذیت اور ابتلاء و آزمایش کے بارے میں ان کا فرمان یہ ہے کہ‘‘وَلَقَدْ أُوذِیتُ فِي اللَّہِ وَمَا یُؤْذَی أَحَدٌ” مجھے اللہ کے راستہ میں ایسی تکلیفیں پہنچائی گئی ہیں کہ اس طرح کسی کو نہیں پہنچائی گئیں۔ (سنن ترمذی ح 2472 صححہ الالبانی)

اللہ تعالی نے زندگی اور موت کی پیدایش کے سلسلہ میں فرمان جاری کر دیا کہ ان کی وجہ پیدایش ہی انسانوں کی آزمایش ہے، تاکہ وہ انسانوں کو جانچے اور پرکھے کہ رب کے سلسلہ میں انسانوں کی مرضی کیا ہے۔ اس کی عبادت کو لیکر انسان کتنا فکرمند اور کوشاں ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ (الذی خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا: الملک، 2) وہی وہ ذات ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں جانچے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے۔ اگر آزمایش و ابتلاء اس زندگی کا حصہ نہیں ہوتے تو دوسری زندگی میں مقام و مرتبہ کا تصور ہی نہیں ہوتا۔ جہاں اللہ تعالی کی جانب سے انسانوں کے لئے اعلی سے اعلی مراتب اور مناصب طے کئے گئے ہیں۔ جہاں دنیا کی ساری الجھن  و پریشانی سے آزاد و رہا کر کے ہمیشہ ہمیش کی سدا بہار زندگی دینے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ جن کے پاس نعمتیں ہوں گی ان کی زندگی کی رعنائی اور برنائی کی کوئی انتہا نہیں ہوگی۔ سچ تو یہ ہے کہ  جن چیزوں کو آج دنیا میں خواہش نفسانی کے نام پر کر گزرنے سے منع کیا جارہا ہے۔ ان کے قریب جانے سے روک لگائی جارہی ہے، طرح طرح کی دھمکی و تہدید آمیز وعیدوں سے ڈرایا اور دھمکا یا جارہا ہے وہ تمام حدود و قیود بہشت سے اٹھالئے جائیں گے۔ نہ تو شراب کی حرمت کی آیتیں تلاوت کی جائیں گی۔ نہ ہی ریشمی ملبوسات، سونے اور چاندی سے بنے کپڑوں پر کوئی گرفت ہوگی۔ بلکہ دنیا میں اپنے آپ کو تعلیمات اسلامی اور آیات قرآنی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے پاداش میں جو آزادی جنتیوں کو حاصل ہوگی وہ رب دو جہاں کی طرف سے سب سے بڑی بخشش اور عطیہ ہوگی۔ سورۃ الکھف(107) ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی اچھے کئے یقینا ان کے لئے الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے۔

آج ہم اور آپ جن معمولی پریشانیوں کے سبب اللہ ذولجلال کی عبادت کرنے سے کوسوں دور ہیں در اصل یہی وہ چیزیں ہیں جو ہمیں رحمت الہی سے ہزاروں میل دور کردیتی ہیں۔ بلاشبہ حصول دولت کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ بلکہ وہ عین ضروریات زندگی ہیں۔ لیکن کب اور اس طرح اس کو حاصل کیا جائے یہ سبق ہمیں اور آپ کو طریقہ مصطفوی اور اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لینا ہوگا۔ در اصل جب ہم اور آپ زندگی کے اصل مرحلہ سے گزرنے لگتے ہیں، جہاں سے ہمارے اوپر شرعی امور کا نفاذ ہوجاتا ہے، جس کے بعد ہم شریعت کی نگاہ میں اوامر و نواہی کے مکلف اور پابند ہوجاتے ہیں وہیں سیزندگی کی مقصدیت اور لامقصدیت کے بیچ حسن انتخاب میں خطا کر جاتے ہیں۔ ایک طرف ہمارے اوپر عائد گھریلو ذمہ داریوں کی بوچھار ہوتی ہیں  تو دوسری طرف شریعت الہی کی قید و بندش کی بیڑیاں ہوتی ہیں۔ ایک طرف فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے مطابق جنت کی خوشخبریاں ہوتی ہیں تو دوسری طرف شیطانی وساوس کے پیش نظر دنیا کی رنگینیاں ہوتی ہیں۔ اب انسان کرے تو کیا کرے۔ آیا وہ لذت دنیا کی چاہت میں منہمک ہو جائے یا پھر لذت آخرت کی حصولیابی کے لئے اعمال صالحہ کی ادائیگی میں مصروف رہے۔ جس نے ان دونوں میں تمیز پیدا کر لی، انجام و نتیجہ کے اعتبار سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دے دی وہی شخص کامیاب اور بامراد ہے۔

 دنیا کی سرمستی میں مبتلا ہو کر حقیقت دنیا کو  فراموش کرنے والے ذرا جنت و جہنم کے سیر کرنے والے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کیجیے، آخر وہ کیا بات تھی جس کی وجہ سے خاندانی قدر و منزلت کے باجود، دولت و ثروت کے باجود شہرت و ناموری کے باجود فقر و فاقہ کی زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔ اسی پر بس نہیں بلکہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو لیکر غمگساری کا عالم یہ ہے کہ جہنم کی آگ سے بچانے کے لئے اپنی جان جوکھم میں ڈال دیتے ہیں۔ طائف کے موقع پر پورا بدن خون سے لت پت اور لہو لہان ہوجاتا ہے، احد کے موقع پر دندان مبارک شہید ہوجاتے ہیں اور خندق کے موقع پر پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنی امت کو بچانے کے لئے سرگرداں و پریشان نظر آتے ہیں۔ وہیں دوسری طرف شیطان مردود کی کوشش یہ ہے کہ خواہشات کو نہایت ہی رنگ و روغن کے ساتھ جاذب نظر بنا کر نفس کو برائی پر آمادہ کر کے گناہوں کے ارتکاب میں انسانوں کے جسم میں خون کی تیز رفتاری سے بھی بڑھ کر گردش کرتا نظر آتا ہے۔ . ( بلا شبہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی گردش کی مانند گردش کرتا ہے۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی برے خیالات ڈال دے۔ متفق علیہ )

ذرا غور کیجئے کہ آخر  نبوی مشن کیا  ہے؟ یہی نہ کہ وہ انسانوں کو راہ راست کی طرف لائے، جس پرچلنے والوں کو دنیا کی عزت و شہرت، پیار ومحبت ملنے لگے۔ رب کی نگاہ میں محبوب و پسندیدہ بن جائیں اور یہ بات بھی معلوم ہونی چاہئے کہ جو رب کی نگاہ میں محبوب ہوگیا رب تعالی اس سے اپنی محبت کا اظہار فرشتہ جبریل علیہ السلام  کے پاس کرتا ہے ان کے ذریعہ ملاء اعلی میں اس کی محبت کا اعلان کیا جاتا ہے پھر پوری دنیا میں یہ صدا لگائی جاتی ہے۔ اس کی عظمت و وقعت کی لہر چلا دی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں۔ ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا کہ اللہ تعالٰی جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل کو بلاتا ہے پھر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، تم اس سے محبت کرو چنانچہ جبریل اس سے محبت کرتے ہیں۔ آسمان میں اعلان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی فلاں سے محبت کرتا ہے۔ تم لوگ اس سے محبت کرو، تو اس سے آسمان والے محبت کرتے ہیں،  پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے، اور جب رب تعالٰی کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو فرماتا ہے کہ میں فلاں سے ناراض ہوں تو تم بھی اس سے ناراض ہوجاؤ۔ فرمایا کہ جبرئیل اس سے ناراض ہوجاتے ہیں پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی فلاں سے ناراض ہے تم لوگ بھی اس سے ناراض ہوجاؤ۔ فرمایا پھر وہ لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں پھر زمین میں اس کے لیے نفرت رکھ دی جاتی ہے۔ (رواہ مسلم )

.جولوگ دائرہ شریعت الہی  اور حلقہ لا الہ الا اللہ سے آزاد ہیں، وجود ذات باری تعالی کے سلسلہ میں غلط فہمی کے شکار ہیں۔ اخروی زندگی کے منکر ہیں، جنت و جہنم کے منکر ہیں ایسے لوگوں کے لئے خوف خدا اور یاد الہی جیسی چیزیں دنیا میں کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں۔ لیکن انہیں بھی علمی انداز میں شریعت اسلامی کی حقانیت سے واقف کرانا چاہئے، اور جن دلائل کی بنیاد پر وجود باری تعالی کے مکرک ہیں انہیں مفکرین کے ملحدانہ نظریات سے توجیہ کائنات کی اصل حقیقت سے روشناس کرانے کی کوشش کی جائے۔ یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ جن لوگوں نے کائنات کی توجیہ میں دیانت داری اور فطرت سلیمہ کا سہارا لیا ہے انہیں اسلام کی بیش بہا نعمتیں حاصل ہوئی ہیں  اور اپنی تحقیق و جستجو میں مثبت رویہ کے پیش نظر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں۔ عصر جدید میں ایسے سپوتوں کی بے شمار مثالیں پائی جارہی ہیں، اور مغربی ممالک میں اسلام کی طرف لوگوں کے بڑھتے رجحان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شریعت مطہرہ سے وہی لوگ بے بہرہ ہیں جو اپنے دلوں میں اسلام کے بارے میں حد سے زیادہ متنفر ہیں۔ لیکن  جن لوگوں نے کسی طرح سے ایک بار تعلیمات اسلامی کا مطالعہ صدق دل سے کیا ہے وہ ان کے دل میں اسلام کے تئیں کشادگی پھیلتی چلی گئی ہیں۔

لیکن افسوس صد افسوس ہمارے کلمہ گو بھائیوں کے طرز زندگی اور رہن سہن پر ہے۔ جو ایک طرف اس بات کے مدعی بھی ہیں کہ ہم کلمہ گو مسلم ہیں، ہم اللہ تعالی کے وجود کے قائلین ہیں، ہم رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نمونہ اور قدوہ تسلیم کرتے ہیں۔ اس طرح کے دعویدار ایک نہیں بلکہ امت مسلمہ کی اکثریت  کا حال یہ ہے کہ وہ کردار کے غازی بن نے کی بجائے صرف اور صرف گفتار کے غازی بن کر رہ گئی ہے۔ امت کا بیشتر کا حصہ جس قدر اپنے ایمانی دعووں کے ارد گرد نظر آتا ہے عملی میدان میں ان کی  جانب سے حد درجہ کسل مندی اور تساہلی  کا پایا جانا نتائج کے طور پر بڑے خسارہ کی بات ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایمان کی بندش میں بندھ جانے کے بعد پھر ایسی  لاپرواہی کیوں برتی جارہی ہے۔ کیا انہوں نے صدق دل سے اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار نہیں کیا ہے۔ کیا انہیں اس بات پر یقین نہیں کہ اللہ تعالی ان سے بے حد قریب ہے، ان کی ایک ایک چیز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔  ان کی گرفت سے کوئی بھی چیز باہر نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں  سورہ ملک میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے:( تم اپنی باتوں کو چھپاو یا ظاہر کرو وہ تو سینوں کی پوشیدگیوں کو بھی بخوبی جانتا ہے۔ کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ پھر وہ باریک بین اور باخبر بھی ہو۔ سورہ الملک آیت ۱۳۔ ۱۴۔ اگر انسان کے دلوں میں ذرہ برابر بھی خوف خدا ہو اور آیات قرآنی پر یقین و اعتماد ہو تو وہ مذکورہ آیات کے پیش نظر ہمیشہ اپنے اعمال کی جانچ پڑتال کریگا، ہر قدم کو پھونک پھونک کر رکھے گا۔ اپنے ہر کام کو رب کی مرضی کے مطابق کرے گا۔ ٹھیک اسی طرح جب ایک انسان بینک یا کسی سرکاری دفتر میں پہنچتا ہے جہاں وہ سی سی ٹی وی کیمرہ کے سامنے اپنے آپ کو انتہائی محطاط طریقہ سے رکھتا ہے۔ کوئی ایسی اوچھی حرکت نہیں کرتا جس سے اس کی ذات شک و شبہ کے دائرہ میں گھر جائے۔ جب ایک انسان کے ذریعہ بنائے گئے مشین پر انسان کا اتنا اعتماد اور یقین ہے تو پھر خالق کائنات اور اس مشین کے بنانے والے خالق کے بارے میں کتنا یقین اور ایمان ہونا چاہئے ؟۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اللہ یعلم خائنۃ الاعین ” اللہ تعالی نگاہوں کی خیانت سے باخبر ہے۔

حکم عدولی کی جرآت نہ جانے انسانوں میں کہاں سے آگئی جو مخالفت کے میدان میں ساری مخلوقات کو پس پشت چھوڑے ہوئے ہے۔ حالانکہ انسان کے مشاہدہ میں دیگر مخلوقات کی حرکات و سکنات بھی ہیں، اللہ تعالی نے جن امور پر انہیں مامور کر دیا ہے روز اول سے لیکر آج تک اپنی تابعداری اور وفاداری کا ثبوت دے رہی ہیں، کہیں سے بھی کوئی ایسی خبر نہیں کہ ایک ذرہ کے برابر بھی کسی نے رب کے فرمان کی مخالفت کی ہو۔ جس کی بین ثبوت یہی تو ہے کہ سورج اپنے مشرق و مغرب کے مقررہ وقت میں اس قدر پابند حکم ہے کہ آج تک ایک سیکنڈ کے برابر بھی تقدیم و تاخیر سے کام نہیں لیا۔ نہ ہی تا قیامت حکم عدولی کا شکار ہوگا، بظاہر یہ بات  معمولی سی لگ رہی ہے لیکن دائمی کلینڈر کے مطابق  دن، اور مہینہ کے حساب  ریکارڈ کئے گئے وقت مقررہ کے مطابق کسی بھی سال کے کسی بھی دن کے وقت کے مطابق اپنے امور کو انجام دے سکتے ہیں۔ جس میں ایک سیکنڈ کا بھی ردو بدل نہیں ہوگا۔ اسی سورج کے اپنے محور میں متعین شدہ دائرہ حرکت میں گردش کرنے کی وجہ سے موسم کی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ یہ نظام بھی اپنے آپ میں اتنا محکم اور مستحکم ہے کہ موسم سرما، موسم گرم اور برسات اپنے متعینہ اوقات سے کبھی ہٹ کر نہیں آتے ہیں۔ قدرت کے نظام میں جس طرح کا استقرار اور دوام پایا جاتا ہے اس سے یہ بات صاف طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ یہ محض اللہ کے حکم کے سامنے سرنگوں ہیں۔ انسانوں کے  درس عبرت کے لئے یہی بات کافی ہے۔ اللہ تعالی نے اسی مستحکم نظام کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے: لا تبدیل لخلق اللہ:سورہ الروم آیت 30)

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیاوی مشاغل میں الجھے رہنے سے بہتر ہے کہ آخرت کے بارے میں فکر کی جائے، اس دنیا کو اتنا ہی حاصل کیا جائے جس سے زندگی کا گزر بسر آسان ہوجائے۔ ایسا نہ ہو کہ دن و رات کی ساری تگ و دو صرف اور حصول دنیا میں لگا دی جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جس کے دل کے اندر دنیا کی محبت اور مال کی حرص پیدا ہوجائے وہ آخرت کے بے پرواہ ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کی زندگی دنیا کی عیش و عشرت، تن پروری اور سہولت پسندی کے ارد گرد گھومتی رہتی ہے۔ اللہ تعالی سے محبت و الفت کا مادہ دل سے نکل جاتا ہے۔ رب کی رحمتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ جس کا ٹھکانہ آخرت میں بہت برا ہونے والا ہے۔

مزید دکھائیں

محمد شاہنواز ندوی

نائب مدیر، پیام توحید نئی دہلی۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close