مذہبی مضامین

رمضان: باہمی اخوت ومحبت کا مظہر

تحریر: شیخ عائض القرني

ترجمانی: وصی اللہ قاسمی

تمام مسلمان ایک ہا تھ، ایک دل، بلکہ ایک ڈھانچہ ہیں !قر آن کے مطا بق تمام مسلما ن جسدواحد کی حیثیت رکھتے ہیں، اخو ت واتحا د تو اسلا م کا خا صہ ہے:

  ’’وَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ، لَوْ أَنْفَقْتَ مَافِي الْأَرْضِ جَمِیْعًا مَا أَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ أَلَّفَ بَیْنَہُمْ إِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ‘‘ (الانفال: ۶۳)

اسلام میں زبا ن، خون، رنگ، نسل ونسب یاوطن کی بنیا د پر اتحا د کا پیغام نہیں دیاجا تا ؛بلکہ مسلمانوں کو ان کا دین ایک پلیٹ فا رم پر جمع کر تاہے، ’’لاالہ الا اللّٰہ محمدرسول اللّٰہ ‘‘کاعَلم انہیں ایک سایے میں رکھتاہے،تقو ی مسلما نوں کا امتیازی وصف ہے، علم شرف وفضیلت کی دلیل ہے، قرآ ن نے بڑے واضح اندا ز میں کہا ہے:

’’یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ أَتْقَاکُمْ، إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ ‘‘۔ (الحجرات:۱۳)

اسلا م کے پیغا مِ محبت واخو ت کی دلیل اس سے بڑھ کر اور کیا چا ہیے کہ جب آپ ؐنے دعو ت کا آغاز کیا تو حبشہ سے مؤذن ’’لبیک اللہم لبیک‘‘کی صدا ئیں لگا تا ہوا آیا، سلما ن فارسی ؓکے متعلق آپ نے خود فرمایا !’’سلمن منا آل البیت‘‘ حضرت صہیب ؓنے روم سے’’اللہ اکبر اللہ اکبر ‘‘کی ندا ء لگائی، جب کہ خو د اپنی قو م اور قبیلہ کے لوگ پیچھے رہ گئے، جن میں ولید بن مغیرہ، ابو جہل، ابو لہب کا نا م لیا جا سکتا ہے،ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د فرما یا! ’’یَا بَنِی ہَاہِم لَیَأْتِیَنَّ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِأَعْمَالِہِمْ وَتَأْتُوْنِي بِأَنْسَابِکُمْ ‘‘یعنی اے بنوہا شم !لو گ قیا مت کے دن تواپنے اعمال لے کر حاضر ہوں گے جب کہ تم لو گ اپنے نسب کے سا تھ آوگے، ایک اور حدیث میں آپ ؐنے فر مایا! ’’مَنْ أَبْطَأَبِہٖ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعْ بِہٖ نَسَبُہُ ‘‘یعنی جس نے اپنے عمل میں تا خیر کی، اس کانسب اس کے سا تھ جلدی نہیں کر سکتا، مطلب یہ ہے کہ جس نے عمل نہ کیاتونسب اس کے کام نہ آسکے گا، ایک عر بی شا عر کہتا ہے کہ :اگر تمہیں اپنے آبا واجداد کی شریعت پر فخر ہے توبجاہے،لیکن یہ (عمل سے قطع نظر صر ف شریعت پر فخر کرنے والے )بد تر ین اولا د کی فہرست میں دا خل ہیں، ایک او ر عر بی شاعر نے کہا ہے کہ:بہادر وہ نہیں جو یہ کہے کہ میرے والد بہا در تھے ؛بلکہ بہادر تو وہ ہے جو کہے کہ لو! تم اب میر ی بہا دری دیکھ لو۔

تمام مسلمان ایک بڑی جمعیت کی حیثیت رکھتے ہیں، ہر نیک و صا لح مسلما ن اس جمعیت کا رکن ہے، اسلام کسی قو م کے ساتھ خا ص نہیں، اسلا م تو عر ب، ہند وستا ن، پاکستا ن، تر کستا ن اور افریقہ ؛بلکہ پو ری دنیا کے لیے ہے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ قریشی تھے، حضرت بلا ل رضی اللہ عنہ حبشی تھے، حضر ت صہیب ؓروم کے تھے، حضرت سلما ن ؓفا رس کے تھے، سلطا ن محمد فاتح ؒتر کی کے تھے، اقبا لؔ ہندوستان کے تھے، اور صلاح الدین ایوبیؒ قبیلہ کردسے تھے، لیکن سب کے سب ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے جھنڈے کے نیچے جمع تھے۔

ما ہ رمضا ن اس اتحا د کاعظیم مظہرہے، چنا ں چہ مہینہ ایک ہے، ایک ہی قسم کا روزہ ہے،ایک ہی قبلہ ہے،اور ایک ہی طریقہ ٔکا ر بھی ہے، ہم سب ایک امام کی اقتدا ء میں نماز میں پڑھتے ہیں، اور اللہ تعا لی ہما رے متعلق ارشا د فر ما تے ہیں! ’’وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ‘‘ (البقرۃ: ۴۳)دوسری جگہ فر ماتے ہیں: ’’وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ ‘‘ (البقرہ: ۲۳۸) اللہ تعا لی نے ہم سب کو ایک صیغہ میں شا مل فر ما کر روزے کا حکم دیا!

’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمْ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ‘‘ (البقرہ: ۱۸۳)

ہمارا حج بھی ایک ہے،حج کاوقت بھی ایک ہے، اور جگہ بھی ایک ہی ہے، ’’فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْکُرُوْا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ہَدَاکُمْ ‘‘ (البقرہ: ۱۹۸) اللہ عزو جل نے ہمیں اپنی رسی مضبو طی سے پکڑنے اور اختلا ف وانتشا رکے خاتمہ کا پیغام دیا ہے:

’’وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَلاَ تَفَرَّقُوْا، وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ أَعْدَائً فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ إِخْوَانًا‘‘ (آل عمران: ۱۰۳)

منازعت اور مخالفت سے منع فر ما یا ہے:

’’وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَا جَائَ ہُمُ البَیِّنَاتُ، وَأُوْلٰئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ‘‘۔ (آل عمران: ۱۰۵)

اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم نے تواضع کا حکم دیا ہے،ایک دوسرے پر ظلم اور فخرو مبا ہات سے روکا بھی ہے، فر مایا! ’’إِنَّ اللّٰہ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتَّی لاَ یَبْغِيَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ، وَلاَ یَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أحدٍ‘‘۔

ایک شا عر کہتا ہے کہ:اگر ہمارا نسب مختلف اورعلیحدہ ہے تو کوئی با ت نہیںہما رے والد (آدم علیہ السلا م )ایک ہی ہیں، اور اگر نیچے نسب میں کچھ اختلا ف ہے،توبھی کوئی بات نہیں ’’دین ‘‘ہما رے ما بین اتحادپیدا کردے گا، دین ہی کو ہم والد کے درجہ میں رکھ لیں گے۔

اتحا د ہی کی تعلیم دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!

’’اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِن کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہُ بَعْضًا‘‘

دوسرے مقا م پر تما م مسلما نوں کوایک دوسر ے کابھائی قر ار دیا ہے:

’’اَلْمُسْلِمُ أَخْوْا الْمُسْلِمِ، لاَ یَظْلِمُہُ وَلاَ یَخْذُلُہُ وَلاَ یَحْقِرْہَ بِحَسَبِ الْمُسْلِمِ مِنَ الشَّرِّ أَنْ یَحْقِرَ أَخَاہُ الْمُسْلِمَ، کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلٰی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُہُ، وَمَالُہُ، وَعِرْضُہُ ‘‘

با ہمی اخوت ومحبت کا تقا ضہ یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے احوا ل اور خیریت کے متعلق دریافت کرتا رہے، اس سے ملا قا ت بھی کر ے، بیما ری کے وقت، عیا دت بھی کرے، ملا قات کے وقت سلام بھی کرے، ہروقت خندہ پیشا نی سے پیش آئے، چھینک کا جو اب دے، دعو ت کو قبول کرے، جنا زے کی مشا یعت کرے، عدم مو جو دگی میں اس کے لیے دعا کرے، اس کی عزت کی حفا ظت کرے، اس کی ضرورت پو ری کرے، اس کی مو افقت کرے، اس پر ظلم کیا جائے تو مدد کرے، اس کے سا تھ خیر خو اہی کا معا ملہ کرے، ان کے علا وہ اور بھی بہت سے حقو ق ہیں۔

روئے زمین پر موجو د ہر مسلما ن دوسرے مسلمان کاایمانی بھائی ہے، چناں چہ اللہ تعالی نے اس کے متعلق ہر مسلمان کوعہد وپیمان دیا ہے، اور آپؐنے مومن کی تعریف کی ہے، رمضا ن کے اس با بر کت مہینہ میں ہم اپنے دل سے حسد وعدا وت اور بغض و کینہ نکا ل کر ایک دوسرے کے بھائی اور دوست بن جا ئیں، اجر پر اجر ہے ہی، زندگی کی آسانیاں اس پر مستزا د۔

خدا یا!ہما ری صفوں میں اتحا د پیدا فر ما !ہمارے دلو ں کو نر م فرما!۔ ۔۔۔۔۔ آمین

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close