مذہبی مضامین

روزہ اور اس  كےروحانی وجسمانی  فوائد

ڈاكٹر ظل  الرحمن تیمی 

رمضان المبارك   كا عظیم وبابركت مہینہ سایہ فگن ہوچكا ہے، یہ صیام وقیام اور تلاوت قرآن  كا مہینہ ہے،  یہ جہنم سے چھٹكارے اور مغفرت كا مہینہ ہے، صدقات واحسان كا مہینہ ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس میں جنت كے دروازے  كھول دیے  جاتے ہیں ، اس مہینہ میں نیكیوں میں اضافہ  كیا جاتاہے، دعائیں قبول كی جاتی ہیں، درجات بلند ہوتے ہیں، گناہ معاف كیے جاتے ہیں ، اس مہینہ میں اللہ تعالی اپنے بندوں پر نوع بہ نوع نوازشیں كرتا ہے، اس مہینہ كے روزہ كو اسلام كے اركان میں سے ایك  ركن قرار دیا گیاہے ، ہمارے آخری نبی  نے اس مہینہ میں روزہ ركھا اور لوگوں كو اس میں روزہ ركھنے  كا حكم دیا۔ نبی اكرم نے فرمایا كہ  جس نے اس مہینہ میں ایمان اور ثواب كی نیت  سے  روزہ ركھا  تو  اللہ تعالی اس كے سابقہ گناہوں  كو معاف كردیتا ہے ، جس نے اس میں ایمان اور نیت ثواب سے قیام كیا تو اس كے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں،  یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایك رات ہزار مہینوں كی رات سے بہتر ہے،  جس نے  اس مہینہ كے مبارك لمحات كی قدر كی تو اسے بخش دیا  جائے گا، چنانچہ اس مہینہ  میں  صيام وقیام كا پورا اہتمام كریں،  نیكیوں میں ایك  دوسرے پر سبقت لے جائیں،  تمام گناہوں اور برائیوں سے توبہ نصوح كرنے میں جلدی كریں،  آپس میں ایك دوسرے كو خیرخواہی ونصیحت  كریں، نیكی وتقوی  كے كاموں میں تعاون كریں، امربالمعروف والنہی عن المنكر كی تلقین كریں اور ہر طرح كی بھلائی اور نیكی كی طرف لوگوں كو بلائیں۔

ماہ رمضان

رمضان كا مہینہ ہجری كلینڈر كا نواں مہینہ ہے، سن دو ہجری میں روزہ فرض قرار دیا گیا، اللہ كے رسول نے نو سالوں تك روزہ ركھا ، ایك سال غزوہ بدر الكبری كے دوران بھی روزہ ركھا۔ رمضان كا روزہ اسلام كے اركان میں سے چوتھا ركن ہے، علماء كا اس بات پر اتفاق ہے كہ جس نے اس كے وجوب كا انكار كیاتو اس نے كفر كیا۔

روزہ كا وقت صبح صادق سے شروع ہوكر غروب شمس پر ختم ہوتاہے، صبح صادق سے مراد وہ سفیدی ہے جو  فجر كے وقت افق میں ہوتی ہے۔

روزہ كےروحانی  فوائد

روح ونفس ،سماج ومعاشرہ  اور انفرادی واجتماعی زندگی پر روزے كےبےشمار فوائد ہیں،  روزہ نفس كے تطہیر وتزكیہ  اوراسے مہذب وشائستہ بنانے  میں كلیدی رول ادا كرتا ہے، وہ مذموم صفات سے بچنے اور بری عادتوں سے محفوظ رہنے میں مؤثر كردار ادا كرتاہے،  روزہ كی بركت سے انسان انانیت وكبر ، بخالت وكنجوسی، خود ستائی وریاكاری سے  محفوظ ہوكر صبر، بردباری، سخاوت، تواضع  اور نفس سے مجاہدہ كا  عادی ہوجاتا ہے جو اسے اللہ كے قریب كرتاہے اور  جس سے اس كا رب راضی ہوتاہے۔

روزہ كے فوائد میں سے یہ بھی ہے انسان اپنے نفس اور ب كے حضور میں اپنی ضروریات وحاجات اور ضعف وفقر   كا ادراك كرتاہے ،  وہ اسے اپنے ضرورت مند بھائیوں  كی ضرورت كا بھی احساس دلاتا ہے،چنانچہ بندہ اپنے رب كا شكر بجالاتا ہے، اس كی نعمتوں سے اس كی اطاعت پر استعانت كرتا ہے ،  اپنے غریب ومحتاج بھائیوں  كی غمخواری  كرتاہے اور ان كے ساتھ حسن سلوك كرتا ہے،  اللہ تعالی نے ان فوائد كی طرف اشارہ كیا ہے، ارشاد ربانی ہے۔
"اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو” (البقرة-183)

گویا روزے كا اہم مقصد تقوی ہے،  اور تقوی یہ ہےكہ اللہ ورسول اللہ نے جن چیزوں كا حكم دیا ہے پورے خلوص كے ساتھ انہیں كیا جائے اور جن چیزوں سے منع كیا ہے ان سے مكمل طور پر ركا جائے،روزہ كے فوائد كو بیان كرتے ہوئے اللہ كے رسول نے فرمایا۔  ” اے نوجوانوں كی جماعت تم میں سے جو نان ونفقہ كی صلاحیت ركھتا ہے اسے چاہیے كہ وہ شادی كرے، وہ نگاہوں كو نیچی ركھنے والی  اور شرمگاہ كی حفاظت كرنے والی ہے،  اور جو اس كی استطاعت نہ ركھے اس پر روزہ ركھنا ہے ،وہ اس كے لیے ڈھال ہے۔” تو اللہ كے رسول نے بیان فرمایا كہ روزہ ڈھال ہے، وہ طہارت وپاكدامنی كا وسیلہ ہے،  اور وہ اس لیے كہ شیطان ابن آدم كے خون كی رگوں میں دوڑتا رہتا ہے، اور روزہ ان رگوں كو تنگ كرتاہے،  اور اللہ اور اس كی عظمت كی یاد دلاتا ہے، چنانچہ شیطان كا غلبہ كم ہوتاہے۔

روزہ ایسا عظیم وصالح عمل ہے جس كا ثواب دوسرے اعمال كے مقابلہ میں  زیادہ ہے خاص طور پر ماہ رمضان میں، روزہ كے متعلق صحیح میں ایك حدیث واردہوئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔ "اللہ تعالی فرماتا ہے كہ ابن آدم كے ہر عمل كا ثواب دس گناسے لے كر سات سو گنا تك ہو جاتا ہےلیكن روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس كا بدلہ دیتا ہوں، بندہ نے اپنی شہوت، كھانے  اور پینے كو میری وجہ سے چھوڑا۔ روزہ دار كےلیے دو خوشیاں ہیں، ایك خوشی افطار كے وقت ہے او ر ایك خوشی اس كے رب سےملنے كے وقت ہے، روزہ دار كے منہ كی خوشبو اللہ كے نزدیك مشك كی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے”۔

صحیح كی ایك دوسری روایت میں ہےكہ ( جب رمضان كا مہینہ آتاہے تو جنت كے دروازے كھول دیے جاتے ہیں اور جہنم كے دروازے بند كردیے جاتے ہیں، اور شیطانوں كو جكڑ دیا جاتا ہے”۔

روزہ  كے اخلاقی فوائد

ایك مسلمان روزہ كے دوران اپنی شہوات پر قابو ركھنے كی تربیت  وقوت حاصل  كرتاہے،  وہ اپنی ناجائز خواہشات كو كچلتا ہے اور  اس پر غلبہ پاتا ہے،  او راس طرح  وہ  ایك صالح معاشرہ كی تشكیل میں مثبت ومؤثر رول ادا كرتاہے اور سماجی برائیوں كے خاتمہ كا سفیر بنتاہے۔

روزہ اور سخاوت

مسلمان اپنے مال كے ذریعہ محتاج وفقرا  كو نوازتا ہے او ران كی ضرورتوں كو پورا كرتا ہے، وہ خود بھوكا رہ كر ان كے بھوك وپیاس كا ادراك  كرتاہے،چنانچہ وہ دوسروں كی مدد كرتاہے اور ان كی طرف محبت وشفقت كا ہاتھ بڑھاتاہے۔رمضان میں اپنے اموال كی زكاۃ نكال كر غریبوں میں تقسیم كرتا ہے، عیدالفطر سے قبل فطرہ نكال كر خوشیوں میں اپنے غریب بھائیوں كو بھی شریك كرتا ہے،  اس طرح اس كے دلوں میں ضرورت مندوں  اور پریشان حال لوگوں كے تئیں جذبہ بڑھتا ہے اور  وہ ان كے دكھ درد میں خود كو شریك كرنے میں راحت وسكون محسوس كرتا ہے۔

روزہ كے جسمانی فوائد

روزہ كا ایك اہم فائدہ یہ ہےكہ وہ بدن كو آلائشوں  اور نقصان دہ مادوں سے پاك كرتاہے او راسے صحت وقوت عطا كرتاہے، جس كا اعتراف بہت سارے ڈاكٹروں نے كیا ہے جو بہت سارے امراض كا علاج كرتے ہیں، طبی تحقیقات كے مطابق روزہ انسانی  جسم میں زبردست تبدیلیاں لاتاہے، آج كے نظام زندگی نے جن بیماریوں كو پروان چڑھایا ہے جن میں شوگر، بلڈ پریشر، كولیسٹرول، موٹاپا وغیرہ قابل ذكر ہیں ،ان پر قابو پانے او ران كے اثرات كو كم كرنے میں روزہ اہم رول ادا كرتاہے۔

پورے دن كھانے پینے سے ركنا جسم  كے لیے كافی مفید ہے ، ایسی صورت میں جسم داخلی طور ذخیرہ كیے گئے  مادوں سے خود كو غذا پہچاتا ہے،  او رزائد چربیوں كو جلاتا ہے،  دل اور اعصاب اس عمل سے مستثنی رہتے ہیں او ران پر كوئی منفی اثر نہیں پڑتا، جسم میں اگر ذخیرہ كیے گئے مادوں كی مقدار 40 سے 45٪ فیصد تك  ہو تو یہ نقصان دہ نہیں ہے، لیكن  اس سے زائد ذخیرہ شدہ مادے  انسانی صحت كے لیے نقصان دہ ہیں،  روزہ ركھنے سے یہ فالتو مادے خود بہ خود زائل ہونے لگتے ہیں، ایسا كرنے سے سرخ خون كے خلیے جو بڑی عمر كے ہوجاتے ہیں  زائل ہونے لگتے ہیں ان كی جگہ جوان خلیے تیار ہوجاتے ہیں۔

روزہ دونوں گردوں كے حجم  كی حفاظت  كرتا ہے،  جسم كا خود سے ذخیرہ شدہ مادوں كے ذریعہ غذا بہم پہنچانے كی وجہ سے  جسم كے اندر  گلائیكو جین  كے مقدار میں كمی ہوتی ہے، اور اس كی وجہ سے جگر كا سائز تھوڑا چھوٹا ہوتاہے، لیكن اس  كی وجہ سے جگر كے خلیوں  كی تركیب پر كوئی منفی اثر نہیں پڑتا او رنہ ہی اسے كوئی نقصان پہنچتا ہے بلكہ اس كی فالتو  چربی كے ازالہ میں معاون ہی ہوتاہے۔

روزہ كی مدت میں دل كو  عام دنوں كے مقابلہ میں زیادہ راحت نصیب ہوتی ہے، دل كی دھڑكنیں كم ہوكر 60تك پر آجاتی ہیں،  چنانچہ پورے 24 گھنٹے میں دل كی دھڑكن  28800 بار ہوتی ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے كہ وہ ہمیں اس مبارك مہینہ كے قیمتی لمحات كے قدر كرنے اور پورے اخلاص سے صیام وقیام كی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مزید دکھائیں

ظل الرحمن تیمی

مضمون نگار امام محمد بن سعود یونیورسٹی، ریاض میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور ان دنوں مسجد الحرام مکۃ المکرمہ میں امام حرم کے خطبات کی ترجمانی نیز مکہ میں اردو ریڈیو کی نشریات پر مامور ہیں۔ آپ نئی دہلی میں اپنی طرز کے پہلے اسکول رحیق گلوبل اسكول کے مینیجنگ ڈائریكٹر بھی ہیں جس میں ملت کے نونہالوں کوجدید ٹکنالوجی کے ذریعے عصری و دینی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے۔

متعلقہ

Close