مذہبی مضامین

روزہ کے احکام و مسائل

محمد عرفان شيخ يونس سراجی

روزہ کے احکام ومسائل سے آگہی صحت روزہ کے لیے بہت ضروری ہے۔ ان دنوں اکثر لوگ     عبادات کے احکامات ومقتضیات سیکھنےسے منہ چوراتے ہیں،تعلیم وتعلم کے اہتمام سے اعراض کرتے ہیں۔سردست لوگوں کی  قصے کہانیاں  سننے کی عادت بن گئی ہے اور اسلامی شریعت میں جو چیزیں ستون کی حیثیت رکھتی ہیں انہیں  سیکھ کر ان پرعمل پیرا ہونے کی بجائے مٹر گشتی  میں اپنا وقت ضائع  کرنے کا وطیرہ بن گیا ہے۔حیرت تو اس وقت زیادہ ہوتی ہے جب ایک کلمہ گو انسان اپنی اولاد اور دیگر افراد کو دینی  تعلیمات نیز فرمودات محمد ی  سیکھنے سے منع کرتاہے، ساتھ ہی علما ء  حق کے اقوال کے اخذکرنے سے روکتا ہے۔ میرےصفحات سیاہ کرنے کامقصد بالکل واضح ہے کہ لوگ دینی علوم اور عبادات کے احکام ومسائل  سیکھنے کے حریص بنیں، اوراپنے    اعزا واقارب کو  اسےسیکھنے  کے لیے برانگیختہ کریں،  کیوں کہ ارکان اسلام اورارکان ایمان کا اپنی زندگی میں نفاذ  واجب ہے۔ اگر کوئی شخص  ان میں سے کسی    رکن کا انکار کرے، تو بالاتفاق کافر ہے۔  لہذا باایں ہمہ مناسب سمجھتاہوں کہ روزہ کےاحکام ومسائل سے متعلق معلومات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کروں جو کہ مقتضی حال کے عین موافق ہیں، اوریہ میری سعادت مند ی ہوگی۔راقم السطور نے رمضان المبارک کے احکام ومسائل کو سوال وجواب کی شکل میں قلمبند کرنے کی حقیر  کوشش کی ہے تاکہ عام پڑھے لکھے لوگوں کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

س:۔رمضان کا روزہ کب فرض ہوا،  اوراس   کاکیا حکم ہے؟

ج:۔رمضان المبارک کا روزہ ہجرت کے دوسرےسال فرض ہوا۔اور نبی کریمﷺ نے بالاجماع  نو  رمضان  کے روزے رکھے ہیں۔

   حکم:روزہ  کی فرضیت کتاب وسنت اور مسلمانوں کےاجماع سےثابت ہے، جیساکہ اللہ کافرما ن ہے:”فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ“.(سورہ  بقرہ:۱۸۵)

ترجمہ:”تم سے جوشخص اس مہینے کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہیے“۔

اورنبی کریم ﷺکا فرما ن ہے: ”بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللهُ وَأَنَّ محمدًا رَسُولُ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيْتَاءِ الزَّكَاةِ، صَوْمِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ بَيْتِ اللهِ“.(سنن ترمذی،ح:2609،حکم الحدیث: صحیح)

ترجمہ: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پررکھی گئی ہے : گواہی دینا کہ نہیں کوئی معبود برحق مگر اللہ تعالی، اور بیشک نبی کریم ﷺ اللہ کے  رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ کی ادائیگی کرنا، ماہ رمضان کا روزہ رکھنا، اور اللہ کے گھر کا حج کرنا“۔

روزہ دین اسلام کا چوتھا رکن ہے۔

س:۔روزہ کس پر فرض ہے ؟

ج:۔ روزہ ہر مسلم، عاقل، بالغ اور قادر پر فرض ہے۔  کافروں پر روزہ فرض نہیں ہے اور اگر وہ روزہ رکھ بھی لے،  تو وہ درست نہیں ہوگا۔تاہم اگروہ  ماہ رمضان  کےکسی دن میں  مشرف بہ اسلام ہوجائے، تو اس دن کے روزہ کی قضا   اس پر واجب ہے۔

روزہ  پاگل اور نابالغ بچے پر فرض نہیں ہے اور مجنوں کی طرف سے روزہ کی  ادائیگی صحیح نہیں ہے۔البتہ باشعور نابالغ بچے کی طرف سے رکھا گیا روزہ شرعا درست ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  وہ روزہ کی قدرت رکھنےلگے، تو اس کے سرپرست کی ذمے داری بنتی ہے کہ اسےاس کا حکم دے اور وقت ضرورت تادیبا  مار لگائے تاکہ وہ  بھوک وپیاس برداشت کرنے کا عادی ہوسکے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی واولاد کو روزہ  رکھنےکا حکم دیتےتھے اور ساتھ ہی  روزےرکھنے کا عادی بنادیتے تھے۔ لیکن آج کا المیہ یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو روزےکا حکم دینے کی بجائے ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ  ابھی تمہاری روزہ رکھنے کی عمر نہیں ہے۔ اگر تم روزہ رکھو گے تونحیف ہوجاؤگے،  طبیعت خراب ہوجائے گی۔یہ سن کر بچے کی ساری ہمت جواب دے جاتی ہے۔

س:۔  روزہ کب سے کب تک ہے ؟

ج:ط۔روزہ طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک ہے۔روزہ داروں پرفرض ہے کہ  جب فجر کی طلو ع ہو جائے، تو اشیاءخورد ونوش  سے  قطعی طورسے روک جائیں  تااینکہ سورج غروب نہ ہوجائے، اور جب غروب ہوجائے تو افطار کرلیں۔

س: ماہ  رمضان کی آمد کیسے ثابت ہوگی؟

ج: ماہ  رمضان کی آمد تین امور سے ایک کی بابت  ثابت ہوگی:۔

1۔ ماہ رمضان کے چاند کی رؤیت۔ جو شخص ماہ رمضان المبار ک کا چانددیکھ لے تو اس پر روزہ فرض ہے، گرچہ اس کی بات ر د کیوں نہ کردی جائے،اللہ تعالی کافرمان ہے:”فمن شهد منكم الشهر فليصمه“۔(سورہ بقرہ:۱۸۵)

2۔  دیگر افراد کی رؤیت۔ جبکہ کسی ایک بھروسہ مند آدمی  کی گواہی  اس مسئلہ میں کافی ہے، نبی کریم ﷺکا فرمان ہے: ”عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضیَ اللهُ عنهُ قَالَ: تَراءَى النَّاسُ الهِلَالَ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَنِّي رَأَيَتُهُ، فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ“.(رواہ أبوداود)

ترجمہ:”حضرت ابن عمر رضی اللہ فرماتے ہیں : لوگوں نے ماہ رمضان کا چاند دیکھنے کی   اپنی مقدور بھر کوشش کی "لیکن چاند نظرنہیں آیا”، پس میں نے نبی  کریم ﷺ کو باخبرکیا کہ  یقینا میں نے چاند دیکھا ہے،چنانچہ نبی کریمﷺ نے خود روزہ رکھا اور اپنے صحابہ کرام کو روزہ رکھنے کا حکم دیا“.

علاوہ ازیں  ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ”ایک  بادیہ نشیں نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہو ا اور گویا ہواکہ اے اللہ کے رسول ﷺ!میں نے ماہ رمضان کا چاند دیکھا ہے، توتاجدار مدینہ ﷺنےفرمایا کہ کیا گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے ؟اس کہا ہاں، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد   (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا ہاں،  بعدازاں آپ ﷺنے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں  میں یہ اعلان کردو کہ کل روزہ رکھیں“۔(رواہ أہل السنن)

3۔ماہ شعبان کی تیس کی گنتی مکمل کرنا، نبی کریم  ﷺکا فرمان ہے : ”صوموا لرؤیته، وأفطروا لرؤيته، فإن غم عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين يوما“.(متفق علیہ)

ترجمہ: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو "یعنی عید کرو” اگر تم پر بدلی چھاجائے، تو ماہ شعبان کی تیس کی گنتی پوری کرو“۔

س:۔ کیا روزہ داروں پر  فجر سے قبل  روزہ کی نیت کرنا واجب ہے ؟

ج:۔ روزہ رکھنے والوں پرواجب ہے کہ رات کو یعنی فجر سے پہلے روزہ  کی نیت کریں،  چاہے وہ فرض روزہ ہویا نفل،  مثلا: رمضان کا روزہ،  قضا کاروزہ، نذر اور کفارہ کا روزہ ہویا  یوم عرفہ اور عاشوراکا۔ اوررہی بات "نفل مطلق "کی تو اس کےلیے رات کو نیت  کرنا جائزہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتےہیں : ”نفلی روزہ     کےلیے  اثناءدن   نیت کرنا جائز ہے اس  شرط کے ساتھ کہ  بعد فجرروزہ دار اکل وشرب   سے کنارہ کش رہا ہو، البتہ شوال کے چھے روزےاور ہر مہینے کے تین روزے کی ادائیگی کے لیے  فجر سے قبل نیت کرنا ضروری ہے تاکہ اس دن کا کمال حاصل ہوسکے“۔(مجموع  فتاوی ورسائل ابن عثیمین: 19/184)

مزید براں فرماتےہیں:”کسی نفلی روزہ کے مرتب  ثواب پر  کسی نے مکمل دن کاروزہ نہیں رکھابلکہ بعض دن کا  نیت کے ساتھ  روزہ رکھا، تواسے اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا، مثلا: کسی شخص نے  فجر کے بعد سے کچھ نہیں کھایا  اور نصف دن میں  شوال کے روزہ کی نیت کرلی، پھر اس دن کے بعد مزید پانچ دن کا روزہ رکھا، تواس نے پانچ دن سمیت  صرف نصف دن کا روزہ رکھا،بنابریں کہ  اعمال کا دارومدار نیت پر ہے،حدیث میں درج ہے کہ جس نے ماہ رمضان  کا روزہ رکھا اور پھر اسے شوال کےچھے روزے سے ملحق کردیا، توگویا کہ اس نے زمانہ بھر روزہ رکھا۔اس حدیث  میں چھے شوال   کے کامل روزےرکھنے کی شرط موجود ہے،لہذا اس نے شوال کے چھے مکمل روزے کا ثواب  نہیں حاصل کیا۔البتہ مطلق نفلی روزہ ہو،تو نیت کرتے وقت ہی ثواب مل جاتا ہے“۔(مجموع  فتاوی ورسائل ابن عثیمین: 19/184)

 س:۔ کیا رمضان کے ہرروزہ کےلیے فجرسے قبل  نیت کرنا واجب ہے؟

ج: راجح قول کے مطابق  رمضان کے ہرروزہ کےلیے  رات کو یعنی  فجرسے قبل نیت کرنا واجب نہیں ہے،  بلکہ رمضان کےپہلے د ن کی رات کی نیت کا فی ہوگی۔ یقینا نبی کریمﷺ عام حکم کے ذکر پر اکتفا کرتے تھے،  اوروہ نیت کا وجوب ہے،  اوررہی بات ہر روز کی نیت کی، تواس  تعلق سےاحادیث میں کوئی بات نہیں آتی،  اگر ہردن نیت کرنا واجب ہوتا، تو نبی کریم  ﷺ اس کی وضاحت ضرور فرماتے۔

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتےہیں: ”جس کے دل میں  یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ  کل روزہ رکھے گا، تو یقینا اس نے نیت کرلی“۔(الإختیارات الفقہیہ: 409)

مزید دکھائیں

محمد عرفان شیخ یونس سراجی

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

متعلقہ

Close