زنا: ایک سماجی ناسور

2

ابوعبداللہ اعظمی محمدی

 زنا کہتے ہیں شرم گاہ کو حرام شرم گاہ میں داخل کرنے کو، زنا یہ ہر مذہب میں ایک سنگین اور بھیانک جرم ہے، لیکن شریعت مطہرہ نے اس پر سب سے سخت پابندی عائد کی ہے، زانی پر اتنی شدید سزا نافذ کی ہے کہ جس کو سن کر یا دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، سوچیے شادی شدہ زانی کی اسلام میں سزا یہ ہے کہ اس کو مقتل میں لاکر پتھروں سے مار مار کر ہلاک وبرباد کر دیا جائے، جب تک اس کی قفص عنصری سے پرواز نہ کرائے تب تک مسلسل اس کو پتھروں سے مارا اور کچلا جائے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ونصیحت کا سامان بن جائے، اور اگر زنا کرنے والا غیر شادی شدہ ہے تو اس کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے شہر بدر کردیا جائے-

 شریعت مطہرہ نے زنا اور بےحیائی سے سختی سے روکا ہے، بدکاری سے کوسوں دور رہنے کی تعلیم دی ہے، جیسا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے:

"وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاء سَبِيلاً”[ الإسراء32 ]

تم لوگ زنا کے قریب مت جاؤ، کیونکہ زنا یہ بہت ہی گندا اور برا راستہ ہے-

مگر افسوس صد افسوس آج زنا بالکل عام ہے، ہر چہار سو اباحیت پسندی کا دور دورہ ہے، زناکاری وبدکاری اور فحاشی کی بہتات ہے، عریانیت اور ننگاپن کی کثرت ہے، شرم حیاء، عفت وپاکدامنی، عزت وشرافت، اور اچھے اخلاق وکردار کی گراوٹ ہے، حد ہو چکی ہے آج تو معصوم بچیاں اور نابالغ بچیاں بھی محفوظ نہیں ہیں ، مگر میرے بھائی یہ یاد رہے کہ زنا یہ شرفاء اور عزت دار کا کام نہیں ہے بلکہ یہ گھٹیا اور ذلیل لوگوں کی شناخت ہے، بےغیرت بےشرم بے حیا اور بے ایمان لوگوں کا مشغلہ ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهْوَ مُؤْمِنٌ”(صحيح بخاری:6772)

زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں رہتا ہے-

 اسی طرح زنا جس سماج میں پھیل جائے، جس شہر کے باشندوں کےلوگ اخلاقی بیماری میں ملوث ہوجائیں تو اس ظالم قوم پر ذلت و رسوائی مسلط کردی جاتی ہے، اور اسے رزق میں تنگی اور مال وعمر میں خیر وبرکت سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، متعدد جان لیوا بیماریاں جو ماضی میں ناپید تھیں وہ سماج کے ظالموں کو جکڑ لیتی ہیں ، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ، حَتَّى يُعْلِنُوا، بِهَا إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الطَّاعُونُ وَالْأَوْجَاعُ،الَّتِي لَمْ تَكُنْ مَضَتْ فِي أَسْلَافِهِمُ الَّذِينَ مَضَوْا”(سنن ابن ماجه:4009/حسن) جب جس قوم میں بےحیائی بدکاری اور زناکاری بالکل عام ہو جائے تو اس میں طاعون اور جان لیوا بیماریاں عام ہوجاتی ہیں جو کہ پہلے کے زمانے میں ناپید تھیں –

     حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "ما ظهر الربا والزنا في قرية إلا أذن الله بإهلاكها” جس قوم میں زنا اور سود عام ہو جائے تو اس کی تباہی بالکل مسلم ہے-

خلاصہ کلام یہ ہے کہ زنا  سماج کا ایک سنگین اور مہلک مرض ہے، اس سے کوسوں دور رہنا اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنا اہل ایمانی ذمہ داری ہے، مگر افسوس آج کتنے ایسے نوجوان ہیں جو عشق ومعاشقہ کی گندی لت اور بری روش میں مبتلا ہیں ، شب و روز عیاشی وبےحیائی میں اپنی زندگی کھپا رہے ہیں ، لہذا ضرورت ہے کہ زنا سے اجتناب کیا جائے تاکہ خواتین کی عزت وناموس کی حفاظت ہوسکے، نسل کی حفاظت ہوسکے، دعاہےرب العالمین سے کہ ہم سب کو زندگی کے مقصد کو اچھی طرح سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-

زنا کی کثرت قرب قیامت کی علامت

اسلام میں زنا ایک خطرناک اور بھیانک جرم ہے، گناہ کبیرہ میں شرک اور قتل جیسے سنگین جرم کے بعد سب سے بڑا اور سنگین جرم زنا کرنا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ جب کہ اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا ہے، اس کے بعد پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرو کہ تمہاری اولاد تمہارے ساتھ کھائے گی، اس کے بعد پوچھا گیا کہ اب کون سا گناہ بڑا ہے؟ تو آپ نے کہا”أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ”(صحيح بخاری:6001) کہ تم اپنے پڑوس کی بیوی سے بدکاری کرو-

 زنا کی قباحت وشناعت کا اندازہ اس بات سے ہم لگا سکتے ہیں کہ شریعت مطہرہ نے شادی شدہ زنا کار کو جان سے مار ڈالنے کا حکم دیا ہے وہ بھی پتھر سے بے رحمی اور بغیر مروت کے ساتھ، یعنی زنا روئے زمین کا اتنا بڑا پاپ ہے کہ اگر زانی شادی شدہ ہو تو وہ اب دنیا میں زندہ رہنے کے لائق نہیں ہے-

قارئین کرام! اس وقت تقریباً پوری دنیا میں زنا کی بہتات ہے، زانیوں کی کثرت ہے، نیک وصالح اور اچھے کردار کے حامل بہت خال خال نظر آتے ہیں ، واللہ زنا کی کثرت قرب قیامت کی علامت ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَكْثُرَ الْجَهْلُ وَيَكْثُرَ الزِّنَا، وَيَكْثُرَ شُرْبُ الْخَمْرِ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ”(صحيح بخاری:5231)

قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت عام ہو جائے گی، زنا کی کثرت ہوگی، خوب شراب پینے والے رونما ہوں گے، مرد کم جائیں گے اور عورتوں کی تعداد بیشمار ہوجائیں گی یہاں تک کہ ایک آدمی کی نگرانی اور ماتحتی میں پچاس عورتیں ہوں گی-

 دوسری حدیث میں ہے کہ بالکل قرب قیامت لوگ جانوروں اور گدھوں کی طرح سرعام جفتی کریں گے اور ایسے ہی بدبختوں پر قیامت قائم ہوگی(صحيح مسلم:7560) اور ایسے موقعے پر وہاں وقت کا سب سے بڑا پاکیزہ اخلاق اور اچھے کردار کا آدمی یہ کہے گا کہ تم یہ بدکاری دیوار کے پردے میں کیوں نہیں کرتے (سلسلة الأحاديث الصحيحة:481)

 ان روایات کا ماحصل یہ ہے کہ زنا کی کثرت قیامت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے، آج ہم اپنے گرد وپیش ذرا بغور جائزہ لیں تو بخوبی معلوم ہوگا کہ آج اس پرفتن وپر آشوب دور میں انسانیت پر حیوانیت ودرنگیت کا غلبہ ہے، آج چھوٹی چھوٹی نابالغ معصوم بچیاں بھی محفوظ نہیں ہیں ، یہ درندہ صفت انسان ان معصوم بچیوں پر اپنی ہوس اور شہوت کی پیاس بجھانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں ، اور آئے دن عصمت دری اور زناکاری کے واردات بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں ، اگر سردست ان خامیوں پر سخت گرفت اور فوری کاروائی نہ کی گئی اور مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا تو آنے والے دنوں میں موجودہ وقت سے زیادہ شرمناک اور خطرناک دن دیکھنا پڑے گا، لہذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم زنا سے کوسوں دور رہیں ، نیک اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی بھر پور کوشش کریں ، اپنے بال بچوں اور خواتین کی حفاظت کریں ، دعاہےرب العالمین سے مولائے کریم ہم سبھوں کو زنا جیسی مہلک مرض سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-

 اسلام میں زنا کی سزا

 زنا اسلام میں انتہائی قبیح اور بدترین فعل ہے، زنا کرنا گھٹیا اور ذلیل لوگوں کا شیوہ ہے، کیونکہ زنا کی وجہ سے عزت، اخلاق، حسب ونسب، شرم و حیا اور ایمان سب پامال ہوتا ہے، چنانچہ شریعت مطہرہ نے بےحیائی اور بدکاری کے سدباب کے لیے انتہائی سخت سزا کا نظام قائم کیا ہے، جیسے اگر زنا کرنے والا شادی شدہ ہے تو اس کی سزا رجم ہے، یعنی مجرم کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے، اس کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے، پتھروں سے مار مار کر ہلاک وبرباد کرنا ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یہ باب قائم کیا ہے، "بَابُ رَجْمِ الثَّيِّبِ فِي الزِّنَا ” شادی شدہ زانی کو زنا کرنے کی وجہ سے رجم کرنے کا بیان، پھر اسی باب میں یہ روایت ذکر کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے کہ:

"قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ قَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ فَأَخْشَى إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ مَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ وَإِنَّ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوْ الاِعْتِرَافُ”(4513)

عمر فاروق رضی اللہ عنہ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھ کر فرمایا سنو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور آپ پر کتاب کا نزول فرمایا اور جو آپ پر رجم کی آیت نازل کی گئی ہم نے اسے پڑھا یاد کیا اور اسے اچھی طرح سمجھا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود (زانیوں کو) رجم کیا اور ہم نے بھی آپ کے بعد (زانیوں کو) رجم کیا، مجھے اب خوف محسوس ہورہا ہے کہ کہیں طویل زمانہ گزر جانے کے بعد لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ ہم اللہ کی کتاب میں رجم کا حکم نہیں پاتے ہیں تو اللہ کے اس فریضہ کے ترک کرنے کی بنا پر گمراہ ہوجائیں ، جب کہ اللہ نے رجم کا حکم نازل کیا ہے اور رجم اللہ کی کتاب میں حق اور واجب ہے اس پر جس مرد یا عورت نے شادی کے باوجود بھی زنا کر لیا، (شادی شدہ زانی کو رجم اس وقت کریں گے) جب گواہی مکمل طور پر ثابت ہو جائے یا مجرم خود اعتراف کرلے یا عورت حاملہ ہوجائے-

اسی طرح آپ کے پاس مسجد نبوی میں ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے زنا کرلیا ہے، تو آپ نے اس کی طرف سے اپنا چہرہ پھیر لیا، وہ شخص اسی طرح تین مرتبہ یہی کہتا رہا کہ میں نے زنا کرلیا ہے، اور اس نے تین مرتبہ اپنے نفس کی گواہی پیش کی تو آپ نے کہا تم پاگل ہو گئے ہو کیا؟ اس نے کہا کہ نہیں ، تو آپ نے پھر پوچھا أَحْصَنْتَ؟ کیا تمہاری شادی ہو گئی ہے؟ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اس نے کہا ہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، تب آپ نے کہا "اذْهَبُوا فَارْجُمُوهُ”(صحيح بخاری:6825) اسے لے جاؤ اور رجم کردو-

 ان دونوں روایتوں سے صاف معلوم ہوا کہ شادی شدہ زانی کی سزا اسلام میں رجم ہے، یعنی ایسے پاپی آدمی کو دنیا میں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے-

 اور اگر زانی شادی شدہ نہ ہو تو اس کی سزا سو کوڑے مار کھانا ہے اور مکمل ایک سال جلاوطن ہونا ہے یعنی اپنے شہر سے باہر دوسری جگہ قیام کرنا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری شریف کی روایت میں ہے، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصِنْ بِجَلْدِ مِائَةٍ وَتَغْرِيبِ عَامٍ”(صحيح بخاری:2649) حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ جس نے زنا کیا اور وہ شادی شدہ نہیں ہے تو اسے سو کوڑے مارنا اور ایک سال جلاوطن کرنا-

خلاصہ کلام یہ ہے کہ زنا ایک بدترین اور گھٹیا عمل ہے، اور اس کی سزا اسلام میں نہایت سنگین ہے، شریعت مطہرہ نے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور غیر شادی شدہ کو سو کوڑے مارنے اور مزید ایک سال شہر بدر کرنے کی سخت تاکید کی ہے، لہذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر ہم اسلامی مملکت میں رہتے ہیں تو اسلام کے اس قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کریں تاکہ زانیوں سے معاشرہ پاک وصاف ہوجائے اور سماج کی خواتین کی عزت و ناموس محفوظ رہ سکے، دعاہےرب العالمین سے کہ مولائے کریم ہم سبھوں کو ہمیشہ زنا جیسے مذموم فعل اور گندے عمل سے بچائے آمین-

 زنا کے مفاسد

زنا کے مفاسد کا مطلب ہے زنا کے نقصانات مضرات، زنا کی تباہ کاریاں – زنا وبدکاری اور بدفعلی ایک مجرمانہ کردار کی شناخت ہے، دین ودنیا اور آخرت میں زنا کے بیشمار نقصانات ہیں ، جو اس بات کا ہم سارے انسانوں سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم سب زنا کاری جیسی بدترین خصلت سے ہمیشہ دور رہیں ، اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کی توفیق عنایت کرے آمین ثم آمین یا رب العالمین-

قارئین کرام! آئیے آج ہم آپ کو زنا کے نقصانات کو مختصر انداز میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے جا رہے ہیں –

اول: زنا کی وجہ سے ایمان کی روح مجروح ہوجاتی ہے، دل سے ایمان کی روشنی ماند پڑ جاتی ہے-

دوم: زنا کار سے اللہ سخت ناراض اور غضبناک ہوتا ہے-

سوم: زنا سے دل سخت اور سیاہ ہو جاتا ہے-

چہارم: زانی لوگوں کی نگاہ میں گر جاتا ہے، یعنی اس کی عزت خاک میں مل جاتی ہے-

پنجم: زنا کرنے سے زرق کی برکت اٹھ جاتی ہے، غربت وافلاس اور فقر وفاقہ سے انسان دوچار ہو جاتا ہے، دل سے سکون چھن جاتا ہے، گھر اختلاف وانتشار کا گہوارہ بن جاتا ہے-

ششم: دنیا میں زانی کو سخت سزاؤں سے دوچار ہونا پڑتا ہے-

ہفتم: زنا یہ شرم وحیا، عفت وپاکیزگی اور غیرت کی چادر کو انسان سے کھینچ کر قعر مذلت میں ڈھکیل دیتا ہے، اور پھر انسان بالکل بےشرم اور بےغیرت بن جاتا ہے-

ہشتم: زانی کا دل اللہ کی محبت اور اس کی یاد سے خالی رہتا ہے، وہ ہمیشہ اپنے نفس میں خباثت ہی کو جنم دیتا ہے، اور ہمہ وقت بدکاری کے لیے موقع کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے-

نہم: زنا یہ شادی جیسی عظیم عبادت سے بےنیاز کر دیتا ہے، اور یہی شیطان کی ایک بڑی چال ہے-

دہم: زنا سے دنیا میں سخت عذاب آتا ہے، اور متعدد خطرناک بیماریوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے، جیسے کثرت اموات، طاعون، ہارٹ اٹیک، کینسر وغیرہ وغیرہ-

ياز دہم: زنا سے نسب کا فقدان ہوتا ہے یا نسب خلط ملط ہو جاتا ہے-

دوازدہم: زنا کی وجہ سے ولد الزنا کا ایک آزمائش بھری زندگی کا جھیلنا-

سیزدہم: زنا پر خرچ ہونے والی دولت کا بےحساب خسارہ-

چہاردہم: زنا کی وجہ سے بیوی کا حق غبن کرنا-

پانز دہم: منی(مادہ تولید) کی بربادی-

شانزدہم: وقت کی بربادی-

ہفدہم: زنا کار کے لیے برزخ میں دردناک عذاب ہے وہ یہ کہ زانی مرد و عورت بالکل ننگے ایک تنگ آگ کے تنور میں تپیں گے-

ہجدہم: قیامت کے دن زانی کے لیے جہنم ہے-

نوزدہم: بوڑھے زانی سے اللہ بات نہیں کرے گا، اور عام زانی کو اپنی عظیم الشان نعمت جنت سے محروم کردے گا-

  زنا کے یہ تقریباً اُنیس بھیانک نقصانات ہیں جنہیں ابھی آپ سبھوں نے بغور مطالعہ کیا ہے، لہذا ہم سب مسلمانوں کی دینی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم زنا جیسے مہلک مرض سے خود دور رہیں ، اور اپنے گھر والوں اور اپنے بال بچوں کو بھی دور رکھنے کی بھر پور کوشش کریں ، دعاہےرب العالمین سے کہ ہم سب کو بے داغ زندگی گزارنے کی سعادت نصیب فرمائے آمین-

  زنا کے اسباب

 زنا کی حرمت ومضرت ہر مذہب اور دھرم میں مُسلم ہے، اور اس کے متعلق آپ نے دسیوں بار سنا اور پڑھنا ہوگا کہ زنا یہ دین، دنیا، آخرت، جان ومال اور عزت وآبرو کی ہلاکت وتباہی کا بہت بڑا ذریعہ ہے، لیکن اس کے باوجود بھی زنا کے واردات روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں ، معصوم اور نابالغ بچیوں کے ساتھ اجتماعی آبروریزی اور قتل کے حادثات میں شب و روز اضافہ ہوتا ہی چلا جارہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم زنا کی حرمت ومضرت کو تو سمجھتے ہیں ، لیکن زنا کے اسباب وعوامل پر گہری نظر نہیں رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں آج بےحیائی اور بدکاری کا دور دورہ ہے-

قارئین کرام! آئیے آج سرسری طور پر زنا کے اسباب وعوامل کو اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں تاکہ ہم سب زنا کے چور دروازوں کو اچھی طرح بھانپ لیں پھر ان سے بچنے کی بھر پور کوشش کریں اور شیطان کو بہکانے اور گمراہ کرنے کا موقع خود فراہم نہ کریں ، وباللہ التوفيق-

زنا کے چند اسباب درج ذیل ہیں :

(1) مردوزن کا اختلاط ہونا (2) عورت کا حجاب اور نقاب کا نہ لگانا (3) مخلوط تعلیم یعنی ایک ساتھ لڑکے لڑکی کا پڑھنا لکھنا (4) بغیر محرم کے عورت کا اپنے گھر سے باہر سفر پر نکلنا (5) شادی لیٹ سے کرنا (6) جدید وسائل کا ناجائز استعمال کرنا جیسے موبائل، اور انٹرنیٹ وغیرہ کا غلط استعمال کرنا (7) عورت کا گھر سے بےپردہ خوشبو لگا کر نکلنا (8) عورت کا اجنبی مرد کو اور مرد کا اجنبی عورت کو دیکھنا (9) بیوی کا اپنے شوہر کو ایک سے زائد چار شادی کرنے پر سخت پابندی لگانا (10) بنا ضرورت عام راستوں پر بیٹھنا (11) ایمان اور تقوی کی کمزوری (12) زوجین کا حق زوجیت کی ادائیگی میں خیانت کرنا (13) بےغیرت اور بےحیا نوجوانوں کی صحبت اختیار کرنا (14) فحش میگزین اور مجلات کا مطالعہ کرنا (15) نیم برہنہ تصاویر کا مشاہدہ کرنا (16) فحش فلم دیکھنا (17) گانے اور میوزک کا رسیا ہونا (18) نشہ آور اشیاء کا استعمال کرنا (19) سیر وسیاحت کے لیے اپنی اولاد کو بالکل آزاد چھوڑ دینا (20) پیسہ کمانے کے لیے عورتوں اور بچیوں کو دکان پر مقرر کرنا (21) آخرت کے حساب وكتاب اور آتش دوزخ سے بےخبر اور بےفکر رہنا (22) غیر محارم سے خلوت میں ملنا جلنا (23) عورت کا اجنبی مردوں سے نرم لہجے میں گفتگو کرنا (24) شرعی قانون (شرعی حدود) کا نفاذ نہ ہونا (25) اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے دور رکھنا اور ان کے اندر دینی مزاج نہ پیدا کرنا وغیرہ وغیرہ-

 یہ زنا کے چند محرک اسباب ہیں اگر ہم نے ان سے دوری اختیار کی تو زنا سے بچنا ہم سبھوں کے لیے نہایت آسان ہو جائے گا، رب العالمین سے دعا ہے کہ اللہ ہم جمیع مسلمانوں کو زنا سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-

تبصرے