مذہبی مضامین

زندگی کا وہ آخری لمحہ!

ابراہیم جمال بٹ

’’نماز ایسی پڑھو جیسے تمہاری زندگی کی آخری نماز ہو۔‘‘ خدا کے حضور جب ایک صالح وزندہ بندہ کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کی رگ رگ سے تھرتھراہٹ محسوس کی جاتی ہے لیکن اگر اسی انسان کو سمجھ آجائے کہ یہ اس کی زندگی کی آخری نماز ہے تو اس میں کتنا خشوع وخضوع ہو گا ؟بلکہ اس احساس کو ناپنا اور اس کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔ انسان فطرتاً کمزور پیدا ہوا ہے اور اس کی کمزوریوں میں سے ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ آخری لمحے کے بارے میں خیال نہیں لاتا اور اگر کبھی کبھار اس کے ذہن میں ایسا سوال آجاتا ہے تو اس پر ایک غمی طاری ہو جاتی ہے۔ لیکن عام انسان کے مقابلے میں ایک مومن بندہ کی جب بات کی جائے تو اس کا لمحہ لمحہ ذکر واذکار اور موت کی یاد میں گزرتا ہے۔ گویا اس کی زندگی خدا اور موت کی یاد میں گزر جاتی ہے۔ وہ ہر وقت اس خیال سے ذہن کو تازہ بہ تازہ رکھتا ہے کہ ’’موت کا وقت طے ہے‘‘۔

یہی وہ خیال خاص ہے جو اس کی زندگی کو سنوارتا ہے، اس کی زندگی کو پاکیزگی عطا کرتا ہے، اس کی زندگی کو ہر خوف سے آزاد کرادیتا ہے، ہر غلامی سے نجات کا دارومدار بن جاتا ہے،یہ جذبہ اور یہ خیال اس کی اصل زندگی ہے، کامیابی کے حصول میں یہی وہ خیال ہے جو اسے ہر وقت گناہوں کی ’’حقیرلذت‘‘ سے محفوظ رکھ کر ’’لذتِ حقیقی‘‘ کی طرف مائل کر دیتا ہے اور اسے اس قدر پاکباز اور پاکدامن بنا دیتاہے کہ نہ ہی اس کے ظاہری لباس پر کوئی داغ رہتا ہے اور نہ ہی اندرونی طور اس کی سیرت پر کوئی داغ لگ سکتا ہے۔ اس کی صورت بھی نرالی اور سیرت بھی دوسروں کے لیے نمونہ وخوشنما بن جاتی ہے۔ یہ جذبہ برابر آخری دن تک برابر رہے اس کے لیے ایک مومن ومسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ’’خدا کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا آخری عبادت کا لمحہ ہو۔‘‘ گویا مومن کو اس خزانے کی کنجی دی جاتی ہے جس میں اس کے دارین کی جمع پونجی باقی ہے ۔

  لذتِ حقیقی کا لمحہ پانے کے لیے ایک عام انسان کو اپنے خالق ومالک پروردگار کے سامنے اس طرح حاضر ہونا چاہیے کہ اسے محسوس ہو کہ وہ اس دنیا میں آخری مرتبہ حاضری دے رہا ہے۔ آخری لمحہ انسان کی زندگی کا اہم ترین لمحہ ہوتا ہے۔ مومن کی زندگی کا پورا سرمایہ اسی آخری لمحہ پر منحصر ہے۔ یہ آخری لمحہ خدا کی یاد میں گزر جائے اس سے بہتر کوئی نہیں ، اس لمحہ کو انسان عاجزی وانکساری کا مجسمہ بن کر رہ جائے اس سے بڑا کوئی خوش قسمت نہیں ۔ لیکن انسان کو یہ معلوم ہی نہیں میری زندگی کا آخری لمحہ کون سا ہے، جس کی وجہ سے وہ شیطان کی شیطانیت کا شکار ہو جاتا ہے۔البتہ اگر انسان مومن ومسلم بن کر اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی یاد میں گزار دے کہ ’’آخری لمحہ ہے‘‘ تو اس کی زندگی میں چار چاند لگ جائیں گے۔ اس کی عبادت، اس کا چلنا پھرنا، اس کی ذمہ داریوں کے تئیں حق ادا کرنا، اس کے معاملات، اس کا کاروبار، اس کا علم حاصل کرنا یا علم کا بھانٹنا، اس کے اخلاق واطوار، اس کی سیادت وقیادت یہ سب کچھ عبادت بن جائے گی… ایسی عبادت جس میں زیادہ سے زیادہ حسن ہو گا، کیوں کہ اس کا لمحہ لمحہ ’’آخری لمحہ‘‘ کی طرح گزرتا ہے۔

غرض آج جس تباہی وبربادی کے ہم شکار ہو رہے ہیں اس کی وجوہات خوف خدا کی کمی، جواب دہی کا فقدان، موت کی یاد سے غافل اور حقیر لذتوں کی فکر وغیرہ ہیں ۔ مذکورہ بالا حکم جو ایک مسلمان کو دیا گیا ہے کہ ’’نماز ایسی پڑھوجیسے زندگی کی آخری نماز ہو۔‘‘ سے یہی کچھ واضح ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا محاسبہ کر کے ہر وقت اور ہر لمحہ خدا کی یاد اور موت کے ذکر میں گزاریں تاکہ ہمارا ہر لمحہ عبادت میں شمار ہو جائے۔

مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close