مذہبی مضامین

زکوٰۃ اور صدقہ فطر کا بیان

جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کی گردن میں ڈال دیا جائے گا۔

ریاض فردوسی

ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتًا اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے غلاموں کو آزاد کرے نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرے جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچّے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔ (سورہ البقرہ آیت۔ 177)

ایمان کا ایک پہلو اس پاک آیت میں صحیح عقیدے اور راہ مستقیم کی تعلیم ہو رہی ہے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی، انہوں نے پھر سوال کیا حضور نے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی پھر یہی سوال کیا آپ نے فرمایا سنو نیکی سے محبت اور برائی سے عداوت ایمان ہے (ابن ابی حاتم) لیکن اس روایت کی سند منقطع ہے، مجاہد حضرت ابو ذر سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں حلانکہ ان کی ملاقات ثابت نہیں ہوئی۔ ایک شخص نے حضرت ابو ذر ؓ سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرما دی اس نے کہا حضرت میں آپ ؓسے بھلائی کے بارے میں سوال نہیں کرتا میرا سوال ایمان کے بارے میں ہے تو آپ ؓنے فرمایا سن ایک شخص نے یہی سوال حضور ﷺسے کیا آپ ﷺنے اسی آیت کی تلاوت فرما دی وہ بھی تمہاری طرح راضی نہ ہوا تو آپ نے فرمایا مومن جب نیک کام کرتا ہے تو اس کا جی خوش ہو جاتا ہے اور اسے ثواب کی امید ہوتی ہے اور جب گناہ کرتا ہے تو اس کا دل غمیگین ہو جاتا ہے اور وہ عذاب سے ڈرنے لگتا ہے (ابن مردویہ) مومنوں کو پہلے تو حکم ہوا کہ وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں پھر انہیں کعبہ کی طرف گھما دیا گیا جو اہل کتاب پر اور بعض ایمان والوں پر بھی شاق گزرا پس اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان فرمائی کہ اس کا اصل مقصد اطاعت فرمان اللہ ہے، وہ جدھر منہ کرنے کو کہے کر لو، اہل تقویٰ اصل بھلائی اور کامل ایمان یہی ہے کہ مالک کے زیر فرمان رہو، اگر کوئی مشرق کیطرف منہ کرے یا مغرب کی طرف منہ پھیر لے اور اللہ کا حکم نہ ہو تو وہ اس توجہ سے ایماندار نہیں ہو جائے گا بلکہ حقیقت میں باایمان وہ ہے جس میں وہ اوصاف ہوں جو اس آیت میں بیان ہوئے، قرآن کریم نے ایک اور جگہ فرمایا ہے۔ ” تمہاری قربانیوں کے گوشت اور لہو اللہ کو نہیں پہنچتے بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ (سورہ۔ الحج:37)

حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ تم نمازیں پڑھو اور دوسرے اعمال نہ کرو یہ کوئی بھلائی نہیں۔ یہ حکم اس وقت تھا جب مکہ سے مدینہ کی طرف لوٹے تھے لیکن پھر اس کے بعد اور فرائض اور احکام نازل ہوئے اور ان پر عمل کرنا ضروری قرار دیا گیا، مشرق و مغرب کو اس کے لئے خاص کیا گیا کہ یہود مغرب کی طرف اور نصاریٰ مشرق کی طرف منہ کیا کرتے تھے، پس غرض یہ ہے کہ یہ تو صرف لفظی ایمان ہے ایمان کی حقیقت تو عمل ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں بھلائی یہ ہے کہ اطاعت کا مادہ دل میں پیدا ہو جائے، فرائض پابندی کے ساتھ ادا ہوں، تمام بھلائیوں کا عامل ہو، حق تو یہ ہے کہ جس نے اس آیت پر عمل کر لیا اس نے کامل اسلام پا لیا اور دل کھول کر بھلائی سمیٹ لی، اس کا ذات باری پر ایمان ہے یہ وہ جانتا ہے کہ معبود برحق وہی ہے فرشتوں کے وجود کو اور اس بات کو کہ وہ اللہ کا پیغام اللہ کے مخصوص بندوں پر لاتے ہیں یہ مانتا ہے، کل آسمانی کتابوں کو برحق جانتا ہے اور سب سے آخری کتاب قرآن کریم کو جو کہ تمام اگلی کتابوں کو سچا کہنے والی تمام بھلائیوں کی جامع اور دین و دنیا کی سعادت پر مشتمل ہے وہ مانتا ہے، اسی طرح اول سے آخر تک کے تمام انبیاء پر بھی اس کا ایمان ہے، بالخصوص خاتم الانبیاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ مال کو باوجود مال کی محبت کے راہ اللہ میں خرچ کرتا ہے، صحیح حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں افضل صدقہ یہ ہے کہ تو اپنی صحت اور مال کی محبت کی حالت میں اللہ کے نام دے باوجودیکہ مال کی کمی کا اندیشہ ہو اور زیادتی کی رغبت بھی ہو (بخاری ومسلم) مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے(آیت۔ البقرۃ:177) پڑھ کر فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے تم صحت میں اور مال کی چاہت کی حالت میں فقیری سے ڈرتے ہوئے اور امیری کی خواہش رکھتے ہوئے صدقہ کرو، لیکن اس روایت کا موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے، اصل میں یہ فرمان حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہے، قرآن کریم میں سورۃ دھر میں فرمایا آیت (۔ اور اللہ تعا لیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین یتیم اور قیدیوں کو،ہم توتمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکرگزاری۔ الدھر:8تا9) آیت، جب تک تم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام نہ دو تم حقیقی بھلائی نہیں پاسکتے۔ (آل عمران:92)

 اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا، باوجود اپنی حاجت اور ضرورت کے بھی وہ دوسروں کو اپنے نفس پر مقدم کرتے ہیں پس یہ لوگ بڑے پایہ کے ہیں (الحشر:9)

کیونکہ پہلی قسم کے لوگوں نے تو اپنی پسندیدہ چیز باوجود اس کی محبت کے دوسروں کو دی لیکن ان بزرگوں نے اپنی چاہت کی وہ چیز جس کے وہ خود محتاج تھے دوسروں کو دے دی اور اپنی حاجت مندی کا خیال بھی نہ کیا۔ ذوی القربیٰ، انہیں کہتے ہیں جو رشتہ دار ہوں صدقہ دیتے وقت یہ دوسروں سے زیادہ مقدم ہیں۔ حدیث میں ہے مسکین کو دینا اکہرا ثواب ہے اور قرابت دار مسکین کو دینا دوہرا ثواب ہے، ایک ثواب صدقہ کا دوسرا صلہ رحمی کا۔ تمہاری بخشش اور خیراتوں کے زیادہ مستحق یہ ہیں، قرآن کریم میں ان کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم کئی جگہ ہے۔ یتیم سے مراد وہ چھوٹے بچے ہیں جن کے والد مر گئے ہوں اور ان کا کمانے والا کوئی نہ ہو نہ خود انہیں اپنی روزی حاصل کرنے کی قوت وطاقت ہو، حدیث شریف میں ہے بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی مساکین وہ ہیں جن کے پاس اتنا ہو جو ان کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کا کافی ہو سکے، ان کے ساتھ بھی سلوک کیا جائے جس سے ان کی حاجت پوری ہو اور فقر و فاقہ اور قلت وذلت کی حالت سے بچ سکیں، بخاری ومسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو مانگتے پھرتے ہوں اور ایک ایک دو دو کھجوریں یا ایک ایک دو دو لقمے روٹی کے لے جاتے ہوں بلکہ مسکین وہ بھی ہیں جن کے پاس اتنا نہ ہو کہ ان کے سب کام نکل جائیں نہ وہ اپنی حالت ایسی بنائیں جس سے لوگوں کو علم ہو جائے اور انہیں کوئی کچھ دے دے۔ ابن السبیل مسافر کو کہتے ہیں، اسی طرح وہ شخص بھی جو اطاعت اللہ میں سفر کر رہا ہو اسے جانے آنے کا خرچ دینا، مہمان بھی اسی حکم میں ہے، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مہمان کو بھی ابن السبیل میں داخل کرتے ہیں اور دوسرے بزرگ سلف بھی۔ سائلین وہ لوگ ہیں جو اپنی حاجت ظاہر کر کے لوگوں سے کچھ مانگیں، انہیں بھی صدقہ زکوٰۃ دینا چاہئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار آئے (ابوداؤد)

آیت (فی الرقاب) سے مراد غلاموں کو آزادی دلانا ہے خواہ یہ وہ غلام ہوں جنہوں نے اپنے مالکوں کو مقررہ قیمت کی ادائیگی کا لکھ دیا ہو کہ اتنی رقم ہم تمہیں ادا کر دیں گے تو ہم آزاد ہیں لیکن اب ان بیچاروں سے ادا نہیں ہو سکی تو ان کی امداد کر کے انہیں آزاد کرانا، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال میں زکوٰۃ کے سوا کچھ اور بھی اللہ تعالیٰ کا حق ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی، اس حدیث کا ایک راوی ابو حمزہ میمون اعور ضعیف ہے۔ پھر فرمایا نماز کو وقت پر پورے رکوع سجدے اطمینان اور آرام خشوع اور خضوع کے ساتھ ادا کرے جس طرح ادائیگی کا شریعت کا حکم ہے اور زکوٰۃ کو بھی ادا کرے یا یہ معنی کہ اپنے نفس کو بیمعنی باتوں اور رذیل اخلاقوں سے پاک کرے جیسے فرمایا آیت (الشمس:9) یعنی اپنے نفس کو پاک کرنے والا فلاح پا گیا اور اسے گندگی میں لتھیڑنے (لت پت کرنے والا) تباہ ہو گیا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت،،مشرکوں کو ویل ہے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے یا یہ کہ جو اپنے آپ کو شرک سے پاک نہیں کرتے،(فصلت:6)

 پس یہاں مندرجہ بالا آیت زکوٰۃ سے مراد زکوٰۃ نفس یعنی اپنے آپ کو گندگیوں اور شرک وکفر سے پاک کرنا ہے، اور ممکن ہے مال کی زکوٰۃ مراد ہو تو اور احکام نفلی صدقہ سے متعلق سمجھے جائیں گے جیسے اوپر حدیث بیان ہوئی کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا اور حق بھی ہیں۔ پھر فرمایا وعدے پورے کرنے والے جیسے اور جگہ ہے آیت (۔ یہ لوگ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور وعدے نہیں توڑتے، (الرعد:20)

وعدے توڑنا نفاق کی خصلت ہے، جیسے حدیث میں ہے منافق کی تین نشانیاں ہیں، بات کرتے ہوئے جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، امانت میں خیانت کرنا، ایک اور حدیث میں ہے جھگڑے کے وقت گالیاں بکنا۔ پھرفر یایا فقر و فقہ میں مال کی کمی کے وقت بدن کی بیماری کے وقت لڑائی کے موقعہ پر دشمنان دین کے سامنے میدان جنگ میں جہاد کے وقت صبر و ثابت قدم رہنے والے اور فولادی چٹان کی طرح جم جانے والے۔ صابرین کا نصب بطور مدح کے ہے ان سختیوں اور مصیبتوں کے وقت صبر کی تعلیم اور تلقین ہو رہی ہے، اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے ہمارا بھروسہ اسی پر ہے۔ پھر فرمایا ان اوصاف والے لوگ ہی سچے ایمان والے ہیں ان کا ظاہر باطن قول فعل یکساں ہے اور متقی بھی یہی لوگ ہیں کیونکہ اطاعت گزار ہیں اور نافرمانیوں سے دور ہیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ  جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کی گردن میں ڈال دیا جائے گا۔ )راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک کی آیت کا مصداق ہمیں سمجھایا اور یہ آیت تلاوت کی جس کا ترجمہ یہ ہے (اور ہرگز خیال  نہ کریں ایسے لوگ جو ایسی چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے کہ یہ بات کچھ ان کے لیے اچھی ہوگی بلکہ یہ بات ان کی بہت بری ہے وہ لوگ قیامت کے روز طوق پہنادیے جائیں گے اس کا جس میں انہوں نے بخل کیا تھا۔ (جامع الترمذی)

جس مرد یا عورت کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونایا ساڑھے باون تولہ چاندی یا نقدی مال یا تجارت کا سامان یا ضرورت سے زائد سامان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچوں چیزوں یا بعض کامجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو ایسے مردو عورت کو صاحب نصاب کہا جاتا ہے۔ جن زیورات کی مالک عورت ہو خواہ وہ میکے سے لائی ہو یا اس کے شوہر نے اس کو زیورات دیکر مالک بنادیا ہو تو ان زیورات کی زکوٰۃ عورت پر فرض ہے اور جن زیورات کا مالک مرد ہو یعنی عور ت کو صرف پہننے کے لئے دیا گیا ہے مالک نہیں بنایا تو ان زیورات کی زکوٰۃ مرد کے ذمہ ہے عورت پر نہیں۔ والدین نے بیٹی کو زیورات کا مالک بنا دیا ہے اور بیٹی بالغہ ہے تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوٰۃ فرض ہے اور اگر نا بالغہ ہے تو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں، بیٹی کو اگر مالک نہیں بنایا گیا ہے تو زیورات والدین کی ملکیت شمار ہوں گے اور والدین پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔ قیمت فروخت کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنا ہوگا۔

مال تجارت سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو خریدتے وقت آگے بیچ کر نفع کمانے کا ارادہ ہو اور اب تک بیچنے کی نیت بھی برقرار ہو، لہٰذا مکان، پلاٹ یا دیگر سامان جو بیچنے کے لیے خریدے گئے ہوں اور اب بھی یہی ارادہ ہو تو ان پر زکوٰۃ فرض ہوگی، ہاں اگر یہ سامان ذاتی استعمال کے لیے ہو، یا تجارت کے لیے خریدا گیا ہو لیکن بیچنے کا ارادہ نہ ہو یا مکان اس نیت سے خریدا ہو کہ کرایہ پر دے کر نفع حاصل کریں گے تو ان صورتوں میں زکوٰۃ فرض نہ ہوگی۔ تجارتی مال اور سامان کی قیمت لگائی جائے گی اس سے اگر سونے یا چاندی کا نصاب پورا ہو تو اس کے حساب سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔ اگر سونا چاندی نہ ہو، نہ مال تجارت ہو بلکہ صرف نوٹ اور روپے ہوں تو کم سے کم اتنے روپے پیسے اور نوٹ ہوں کہ بازار میں ان سے ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی خریدی جاسکتی ہو تو وہ صاحب نصاب ہے اور اس شخص کو نوٹ اور روپے پیسوں کی زکوٰۃ نکالی جائے۔

معلوم رہے کہ چرنے والے مویشیوں پر بھی زکوٰۃ فرض ہوتی ہے، اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری، ہر ایک کا الگ مستقل نصاب ہے، مقامی علمائے اکرام سے پوچھ کر اس پر عمل کیا جائے۔

روپے پیسوں کی زکوٰۃ میں روپے پیسے ہی دینا ضروری نہیں بلکہ جتنے روپے زکوٰۃ کے نکلتے ہیں اگر ان کا غلہ، کپڑا، کتابیں یا کوئی بھی سامان خرید کر مستحق زکوۃ کو دے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ کرایہ پر اٹھانے کے لئے ویگنیں، موٹریں، بسیں، ٹرک اسی طرح دیگیں، دریاں، گدے، کرسیاں، میزیں، پلنگ، مسہریاں یا کرایہ پر اٹھانے کے لئے مکانات اور دکانوں سے حاصل شدہ آمدنی اگر بقدر نصاب ہو اور اس پر سال گزر جائے تو پھر اس پر زکوٰۃ نکالنی ہوگی۔

ائمہ مساجد کو زکوٰۃ، صدقات واجبہ بطور تنخواہ دینا اور لینا دونوں جائز نہیں، اگر کسی نے ان کو زکوٰۃ یا صدقات واجبہ بطور تنخواہ دے دیے تو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، اس لیے کہ اگر یہ ائمہ غنی اور صاحب نصاب ہیں تو تمام کتب فقہ میں تصریح موجود ہے کہ غنی کو زکوٰۃ دینا درست نہیں، اگر صاحب نصاب نہ ہوں، تو عدم جواز کی وجہ یہ ہے کہ ان کو امامت کے عوض اجرت میں زکوٰۃ و صدقات واجبہ دیے جارہے ہیں، جبکہ زکوٰۃ و صدقات واجبہ کسی کو چیز کے عوض اور اجرت میں دینا جائز نہیں، زکوٰۃ ادا ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ دینے والے کی کوئی منفعت اس مال سے متعلق نہ ہو۔

زکوٰۃ کی رقم سے دوائیں خرید کر مستحق مریضوں کے درمیان مفت تقسیم کی جائیں، مال زکوٰۃ سے ہسپتال کی تعمیر اور اس کے لیے آلات خریدنا ڈاکٹروں کو فیس اور ہسپتال کے عملہ وغیرہ کو تنخواہیں دینا جائز نہیں۔

البتہ اگر زکوٰۃ کی رقم پہلے مستحق مریضوں کو دی جائے پھر مریض ہسپتال والوں کے واجبات اس سے ادا کریں تو ہسپتال کے منتظمین جہاں چاہیں اس کو استعمال کرسکتے ہیں۔

 میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ یونہی کوئی شخص اپنے والدین، اوپر تک اور اپنی اولاد کو نیچے تک زکوٰۃ، عشر، فطرانہ اور فدیہ کفارہ کی رقم یا جنس وغیرہ نہیں دے سکتا۔ ان کے علاوہ غریب رشتہ داروں مثلاً بہن بھائی اوران کی اولاد، چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ اور ان کی اولاد اگر غریب ومستحق ہوں تو ان کو زکوٰۃ وعشر فطرانہ، فدیہ وغیرہ دینا دوگنا ثواب ہے۔ اوّل فرض ادا کرنے کا دوم صلہ رحمی اور رشتہ داری کا لحاظ کرنے کاجب یہ تسلی ہوجائے کہ یہ شخص غریب ومستحق ہے اس کو بقدر ضرورت دیدیں۔ دیتے وقت یہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ وعشر وغیرہ ہے بلکہ نہ بنانا بہتر ہے تاکہ اس کی عزت ونفس مجروح نہ ہو۔

 زکوٰۃ و صدقات میں افضل یہ ہے کہ پہلے اپنے اقرباء کو دے پھر ان کی اولاد، پھر دوسرے رشتہ داروں کو پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے پیشہ والوں کو پھر اپنے گاؤں اور شہر کے رہنے والوں کو۔ (عالمگیری وغیرہ)

زکوٰۃ جائداد اور کمائی کو پاک کرتا ہے،انہیں بڑھاتا ہے اور نقصاندہ نجاست سے بچاتا ہے۔ زکوٰۃ دولت میں اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اس کے احکام  کی عزت و احترام کی نعمتوں کو ڈالتا ہے۔ یہ انسان کی روح کو لالچ،کنجوس اخلاق،حرص اور خود غرضی کی بیماری سے بچاتا ہے۔ زکوٰۃ غریب،ضرورت مند اور محروم کی مدد توسیع کرتا ہے۔ یہ دلوں کو ایمان اور اسلام پر ایک کرتا ہے۔ یہ کمزور ایمان اور برے خیالات کے اندھیروں سے دلوں کو آزاد کرتا ہے اور انہیں پختہ ایمان اور یقین پر لاتا ہے۔

اللہ تبارک و تعالی ارشادفرماتا ہے:’’اور جو لوگ اس چیز پر بخل کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے وہ یہ خیال نہ کریں کی بخل ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ یہ ان کے حق میں براہے قیامت کے دن وہ مال طوق بنا کر ان کے گلوں میں ڈالا جائے گا جس میں وہ بخل کرتے تھے اور اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا وارث ہے اور جو کچھ تم کرتے ہے۔ اللہ اسے جانتا ہے۔ ‘‘(آل عمران:۸۱)

چند اہم شرائط:

 1۔ مسلمان ہونا

2۔  نصاب کا پورا ہونا

3۔  عاقل بالغ ہو

 4۔  اس پر سال گزر جائے

جس شخص کی ماہانہ آمدنی معقول ہے لیکن سال بھر تک اس کے پاس نصاب کی مقدار جمع نہیں رہتی اور اس پر زکوۃ واجب نہیں۔

 اگر ادھار کی رقم نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو وصول ہونے کے بعد زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا اگر ادھار کی رقم وصول ہونے میں چند سال کا عرصہ گزر گیا تو گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ دینا لازم ہوگا۔ بچہ اگر صاحب نصاب ہے تو نابالغ ہونے کی وجہ سے اس کے مال وغیرہ پر زکوۃ واجب نہیں اور ولی کے لیے نابالغ کے مال سے زکوۃ ادا کرنا لازم نہیں ہوگا دوسری عبادات کی طرح بچہ پر زکوۃ بھی واجب نہیں۔

زکوۃ کی رقم سے مکانات بناکر مستحق لوگوں میں تقسیم کرنے سے زکوۃ ادا ہوگی البتہ مستحق لوگوں کو مکمل طور پر مالک بنا دینا ضروری ہے مکان کا قبضہ بھی دیدیں رجسٹرڈ کراکر کاغذات بھی ان کے حوالے کر دے  تاکہ وہ اپنے اختیار سے جس قسم کا جائز تصرف کرنا چاہے کرسکیں۔

جو رقم زکوٰۃ کی نیت کے بغیر اد اکی جائے اور جس کو دی جائے وہ خرچ بھی کرلے اب اگر اس مال کو زکوۃ میں شمار کیا جائے تو وہ درست نہیں اور زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔

دین اسلام میں زکوٰۃ ہر مالدار صاحبِ نصاب پر فرض ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے تقریباً 32 مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کو ذکر فرمایا ہے۔ جس سے اس کی اہمیت معلوم ہو سکتی ہے۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی بے شمار احادیث میں زکوٰۃ کی فضیلت، ترغیب اور افادیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ زکوٰۃ کو دین میں بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کو سخت عذاب کی وعید بتلائی گئی ہے۔

زکوٰۃ کی معاشرتی حیثیت  ایک مکمل اور جامع نظام کی ہے۔ اگر ہر صاحبِ نصاب زکوٰۃ دینا شروع کر دے تو مسلمان معاشی طور پر خوشحال ہو سکتے ہیں اور اس قابل ہو سکتے ہیں کہ کسی غیر سے قرض کی بھیک نہ مانگیں اورزکوٰۃ ادا کرنے کی وجہ سے بحیثیت مجموعی مسلمان سود کی لعنت سے بچ سکتے ہیں۔

 صدقہ فطر

صدقہ فطر کا حکم بھی ماہِ رمضان کے ساتھ فرض ہوا یعنی ہجرت کے دوسرے سال مدینہ منورہ میں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے خواہ وہ غلام ہو یا آزاد، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا۔ بخاری، مسلم، دارقطنی

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخرمیں ارشاد فرمایا کہ اپنے روزوں کا صدقہ نکالو۔ (ابو دائود)

ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کی گلیوں میں ایک منادی کو  اعلان کرنے کے لئے بھیجاکہ صدقہ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا۔ ترمذی

جو مسلمان اتنا مالدار ہے کہ ضروریات سے زائد اُس کے پاس اُتنی قیمت کا مال و اسبات موجود ہے جتنی قیمت پر زکواۃ واجب ہوتی ہے تو اُس پر  صدقہ فطر واجب ہے، چاہے وہ مال و اسباب تجارت کے لئے ہو یا نہ ہو، چاہے اُس پر سال گزرے یا نہیں۔ غرضیکہ صدقہ فطر کے وجوب کے لئے زکواۃ کے فرض ہونے کے فرض ہونی کی تمام شرائط پائی جانی ضروری نہیں ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک صدقہ فطر کے وجوب کے لئے نصاب زکوٰۃ کا مالک ہونا بھی شرط نہیں ہے، یعنی جس کے پاس ایک دن اور ایک رات سے زائد کی خوراک اپنے اور زیر کفالت لوگوں کے لئے ہو تو وہ اپنی طرف سے اور اپنے اہل و اٰعیال کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے۔

حضرت ابن عباس رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر فرض فرمایا تاکہ روزہ دار فضول اور نازیبا اور بُری باتوں سے پاک ہوجائے اور مسکینوں کو (کم ازکم عید کے دن اچھا کھانا پینا) میسر آجائے جس نے اس کو عید کی نماز سے پہلے اداء کیا تو وہ ایک قبول ہونے والا صدقہ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ صدقوں میں سے ایک صدقہ ہے۔(أخرج، أبو داود وابن ماجہ والدار قطني والحاکم)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ  فطر نماز کے لئے جانے سے قبل ادا کر دیا جائے۔ بخاری ح ۹۰۵۱، مسلم ح ۵۸۲۲۔

حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ گھر کے چھوٹے بڑے تمام  افراد کی طرف سے صدقہ فطر دیتے تھے حتی کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی دیتے تھے اور ابن عمر ان لوگوں کو دیتے تھے جو قبول کرتے اور عیدالفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہی ادا کرتے تھے، بخاری ح ۱۱۵۱۔

صدقہ فطر کے واجب ہونے کے دو مقصد ہیں (ایک) روزہ کی کوتاہیوں کی تلافی (دوم) امت کے مسکینوں کے لیئے عید کے دن رزق کا انتظام کرنا اور یہ دونوں مقصد جب ہی حاصل ہوں گے کہ ہم صدقہ فطر کی اہمیت وحکم جاننے کے بعد بخل سے کام نہ لیں بلکہ کھلے دل سے خوشی خوشی اس کو اداکریں ایک روایت میں ہے کہ آج کے دن مساکین کو ادھر ادھر پھرنے سے اورسوال کرنے سے غنی کرو(وفي روايۃ  اغنوھم عن الطواف في ھذا اليوم ».اخرج ھذ ا ہ لروا یۃابن عدي والدارقطني والبھیقي والحاکم وابن زنجویہ، في الأموال » وابن حزم جمیعھم  من طریق ابي معشر عن نافع عن ابن عمر رضي اللہ عنھما، وفي آخرہ اغنوھم فيھٰذاالیوم۔ اواغنوھم (یعنی مساکین) من طواف ھٰذاالیوم، کما ھو لفظ الحاکم والبیھقی۔

زکوٰۃ اور صدقہ فطر کے نصاب میں فرق

 جس آدمی پر زکوٰۃ فرض ہے اس پر صدقہ فطر بھی ادا کرنا واجب ہے، فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ کے نصاب میں سونا، چاندی یا مال تجارت ہونا ضروری ہے، صدقہ فطر میں یہ ضروری نہیں۔

جس شخص کے پاس اپنی استعمال اور ضروریات سے زائد اتنی چیزیں ہوں کہ اگر ان کی قیمت لگائی جائے تو ساڑھے باون تولے چاندی کی مقدار ہوجائے تو یہ شخص صاحبِ نصاب کہلائے گا، اور اس کے ذمہ صدقہ فطر واجب ہوگا (چاندی کی قیمت بازار سے دریافت کرلی جائے)۔

ہر اس شخص پر جو صاحبِ نصاب ہو اس کو اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے،

 صدقہ فطر کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ یعنی جہاں جہاں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے انہیں جگہوں میں صدقہ فطر دینا بھی جائز ہے اور جہاں جہاں زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے، ان جگہوں میں صدقہ فطر دینا بھی جائز نہیں۔

فطرہ کی رقم سے مسجد، مدرسہ، ہسپتال، ہسپتال کی مشینریاں یا آفس یا راستہ وغیرہ بنانا جائز نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر فقیر صدقہ فطر ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس سے زیادہ عنایت فرماتا ہے، جتنا اس نے صدقہ فطر کے طور پر دیا ہے۔ (او کما قال صلی اللہ علیہ وسلم)

 عمدہ قسم کی کشمش، کھجور، جو یا گندم سے فطرہ ادا کردیا جائے یا اپنے ملک کی قیمت کے حساب سے مذکورہ چیزوں میں کسی ایک چیز کی قیمت ادا کی جائے۔ (بعض جگہوں میں چاول زیادہ مقدار میں کھائی جاتی ہے وہ اس کی دریافت کر لیں )صدقہ فطر زیادہ حساب سے ادا کرے تاکہ صدقہ فطر لینے والے غریبوں کا فائدہ ہو۔

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہم ایک صاع (چار کلو گرام) اناج (بطور صدقہ فطر) ادا کرتے تھے؛ یا ایک صاع کھجوریں یا ایک صاع جَو یا ایک صاع کشمش ادا کرتے تھے۔ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو گندم کا آٹا آگیا۔ جو کہ اُس وقت نسبتاً سب سے مہنگا تھا۔ تو نصف صاع (دو کلو) گندم کو ان چیزوں کے چار کلو کے برابر قرار دے دیا گیا۔ ‘‘ (بخاری، الصحیح، کتاب صدقہ الفطر، باب صاع من زبب، 2:  548، رقم:  1437)

ایک اور حدیث مبارکہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :  ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اَقدس میں ہم ایک صاع اناج بطور صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔ ہمارا اناج جَو، کشمش، پنیر اور کھجور پر مشتمل ہوتا تھا۔ ‘‘(بخاری، الصحیح، کتاب صدقہ الفطر، باب الصدقہ قبل العيد، 2:  548، رقم:  1439)

لہٰذا مختلف آمدنی رکھنے والے طبقات اپنی اپنی آمدن اور مالی حیثیت کے مطابق دو کلو گندم کی قیمت سے لے کر چار کلو کشمش کی قیمت تک کسی بھی مقدار کو صدقہ فطر کے طور پر ادا کریں گے تاکہ غرباء و مستحقین کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔

صدقہ فطرعید سے دو روز قبل ادا کیا جائے، مالکیہ، حنابلہ اسی طریقے کو مانتے ہیں انہوں نے ابن عمر ؓ کی ر وایت کردہ حدیث سے استدلال کیاہے:

ابن عمر ؓ  بیان کرتے ہیں:

” اور وہ عید فطر سے ایک یا دو دن قبل فطرانہ ادا کیا کرتے تھے۔(صحیح بخاری حدیث نمبر (1511)

امام مالک ؒ فرماتے ہیں :

” مجھے نافع نے بتایا کہ ابن عمرؓ  فطرانہ دے کر فطرانہ جمع کرنے والے کے پاس عید سے دو یا تین دن قبل بھیجا کرتے تھے” (المدونۃ :1 / 385).

شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے یہی قول اختیار کیا ہے.

مجموع الفتاویٰ  ابن باز (14 / 216)

رمضان المبارک کے شروع میں ہی فطرانہ ادا کرنا جائز ہے،احناف کے یہاں اس کا فتویٰ ہے۔ اور شافعیہ کے ہاں بھی یہی صحیح ہے۔

کتاب الام (2 / 75) المجموع (6 / 87) بدائع الصنائع (2 / 74)

تفسیر ابن کثیر، فیوض الرحمان،تفسیر کبیر، کنزایمان، تلخیص تفہیم القرآن،معارف القرآن، قانون شریعت،فتاویٰ دار العلوم دیو بند، اسلامی انسائکلوپیڈیا اور دیگر اہم مضامین سے ماخوذ۔

مزید دکھائیں

ریاض فردوسی

الشفاء کلینک سکہ ٹولی عالم گنج (نزد سکہ ٹولی مسجد )پٹنہ۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close