مذہبی مضامین

زکوٰۃ ایک اجتماعی عمل

اسلام دولت کو سمیٹ کر رکھنے کے خلاف ہے کیونکہ اس سے سماج میں نا برابری پیدا ہوتی ہے اس کی وجہ سے چوری، ڈاکہ زنی، لوٹ مار، رشوت اور دوسری برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

دولت مندوں کے مال میں غریبوں کا حق، اسلام کا ستون فرائض میں سے ایک فرض زکوٰۃ، قرآن حکیم میں اس کا ذکر نما زکے ساتھ کیا گیا ہے۔ اسے ایمان کی علامت اور رحم کئے جانے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔اس کی ادائیگی پر آخرت کی کامیابی اور انحراف پر خدا کے غضب کی بشارت۔ اسلامی معیشت کی بنیاد اور سماجی فلاح کا سرچشمہ ہے۔ رمضان المبارک کے با برکت مہینہ میں زکوٰۃ کی اہمیت افادیت اور ادا کرنے کی تمام مساجد کے ممبروں سے ترغیب دلائی جاتی ہے۔

زکوٰۃ کا قرآن میں نماز کے ساتھ ( نماز قائم کرو زکوٰۃ دو )ذکر کیا جانا اس کے اجتماعی عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔نما ز کے قیام کا جماعت کے بغیر تصور نا ممکن ہے تو پھر زکوٰۃ کی انفرادی ادائیگی قابل غور۔اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ میں زکوٰۃ کے معاملہ کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔

ٍ ’’ یہ صدقات تو در اصل فقیروں ، مسکینوں کے لئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جو صدقات کے ( وصولیابی کے )کام پر معمور ہوں۔ اور ان کے لئے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو۔نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا ( فی سبیل للہ) میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لئے ہیں۔ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا دانا و بینا ہے۔ :‘‘ (التوبہ 60)

یہاں زکوٰۃکا بہت تفصیل سے ذکر ہوا ہے۔اس کی تقسیم کی ترتیب بھی واضح کردی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان مدوں میں توازن اور تناسب کیسے قائم ہو۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ زکوٰۃ کا اجتماعی نظام قائم کیا جائے اور یہ حضرات مقامی ضرورتوں کے لحاظ سے اس کا فیصد مقرر کریں۔ یعنی زکوٰۃ کی تنظیم ہونی چاہئے اور یہی تنظیم زکوٰۃ کی تقسیم کا کام کرے۔اس کا اشارہ خود مندرجہ بالا آیات کریمہ میں موجود ہے۔

یہاں فقیر ان لوگوں کو کہا گیا ہے، جو اپنی معیشت کیلئے دوسروں کی مدد کے محتاج ہوں۔ یہ لفظ تمام حاجب مندوں کے لئے عام ہے۔ اس سے مراد یتیم بچے، بیوہ عورتیں ، بے روزگار لوگ، اور وقتی حوادث کے شکار لوگ بھی ہیں۔ سماج میں عام طور پر انہیں لوگوں کوزکوٰۃ کا مستحق سمجھا جاتا ہے اور مساکین میں بھی انہیں کو شامل کر لیا جاتا ہے جبکہ مسکنت کے لفظ میں عاجزی، درماندگی اور ذلت کے مفہومات بھی شامل ہیں۔ اس اعتبار سے وہ لوگ مساکین ہیں جو عام حاجت مندوں کی بہ نسبت زیادہ خستہ حال ہوں۔ لیکن ان کی خودداری کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہ دیتی ہو اور نہ ان کی ظاہری حالت ایسی معلوم ہو کہ کوئی انہیں حاجت مند سمجھ کر ان کی مدد کے لئے ہاتھ بڑھا سکے۔ زکوٰۃ کی تنظیم قائم نہ ہونے کی وجہ سے یہ مستحق نظر انداز کر دےئے جاتے ہیں یا ہو جاتے ہیں اور اس طرح انہیں اپنا حق نہیں مل پاتا۔

اس آیت میں عاملین کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عامل سے مراد وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ کی رقوم وصول کرنے پر مامور ہو ں۔ اس کی حفاظت کرنے کے ذمہ دار ہوں۔ حسابات رکھنے اور زکوٰۃ کی تقسیم کرنے کی خدمت انجام دیتے ہوں۔ ان کے فرائض میں زکوٰۃ کے مستحقین کی تلاش بھی شامل ہے۔ ان سب کو زکوٰۃ کی رقوم میں سے ہی تنخواہ دی جائے گی۔ چاہے وہ فقیر یا مسکین نہ ہوں ، نیز دفتری امور میں بھی زکوٰۃ کا ہی پیسہ خرچ ہوگا۔ اگر زکوٰۃ کی تنظیم ہی قائم نہ ہو تو پھر یہ مد بے معنی ہو جاتی ہے۔ اس مد کی موجودگی اجتماعی نظام کے قیام کی دعوت دیتی ہے اور اگر نظم قائم ہے تو اس کے چلانے کی اور آفس وغیرہ پر خرچ کرنے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

تالیف قلب یعنی دل کو موہنے کیلئے بھی زکوٰۃ کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تالیف قلب کا حکم ان لوگوں پر صادق آتا ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت میں سرگرم ہوں اور مال دے کر ان کا جوش عداوت کو ٹھنڈا کیا جا سکتا ہو یا جو لوگ کفار کے کیمپ میں ایسے ہوں کہ مال سے انہیں مسلمانوں کا مدد گار بنایا جا سکتا ہے یا وہ لوگ جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہوں اور ان کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے یہ اندیشہ ہو کہ اگر مال سے ان کی مدد نہ کی گئی تو وہ پھر کفر کی طرف پلٹ جائیں گے، وہ غریب ہوں یا مالدار، انہیں مستقل یا وقتی وظائف یا عطیہ دے کر اسلام کا حامی و مددگار، مطیع و فرمابردار بنایا جا سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ مد مفقود ہو گئی جبکہ اس کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کو انفرادی طور پر پورا نہیں کیا جا سکتا۔

قرآن میں گردنوں کو چھڑانے میں زکوٰۃ کو خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بظاہر اس سے مراد غلام ہیں لیکن ہندوستانی سماج میں بندھوا مزدور بھی غلاموں کی ایک جدید شکل ہے۔ قدیم زمانے میں لوگوں کو پکڑ کر غلام بنایا جاتا تھا اور ان کی خرید و فروخت دوسروں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی لیکن آج ایک مزدور اپنی ضرورت کیلئے کسی کاشتکار یا ٹھیکیدار سے پیشگی رقم لے کر خود کو اس کی غلامی میں دے دیتا ہے۔ٹھیکیدار یا کاشتکار کی غلامی کا طوق خود سے اپنے گلے میں پہن لیتا ہے۔ اس کے بعد ٹھیکیدار یا کاشتکار اس مزدور کا استحصال کرتے ہیں۔ اس کو رائج الوقت مزدوری سے کم پیسے دیتے ہیں نیز زیادہ وقت تک اس سے غریب سے کام لیا جاتا ہے۔زکوٰۃ کی مد سے ایسے ہزاروں غریب انسانوں کو ٹھیکیداروں اورکاشتکاروں کے استحصال سے بچا کر انہیں آزادی دلائی جا سکتی ہے۔لیکن یہ کسی اجتماعی کوشش کے بغیر ممکن نہیں۔ آزاد لوگوں کی یہ انسانی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ غلاموں کو آزاد کرائیں۔ اسلام نے تو زکوہ میں ان لوگوں کا حصہ رکھ دیا ہے تاکہ کسی ایک پر اس کا بار نہ پڑے۔

ایسے قرض مند لوگ جو اپنی ضرورت کیلئے قرض تو لے لیتے ہیں لیکن ان میں قرض ادا کرنے کی سکت نہیں ہوتی، قرض پر سود اور سود پر سود اتنا ہو جاتا ہے کہ ان کے لئے اس کی ادائیگی ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے نتیجہ میں وہ مہاجنوں کے یرغمال بنتے ہیں۔ اپنا گھر بار بھی مہاجنوں کے سپرد کرکے قرض سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پاتے۔ یہاں تک کہ یہ قرض ان غریبوں کو موت کے منھ میں ڈھکیل دیتا ہے اور ان کی اولاد بھی قرض مند ہی پیدا ہوتی ہے۔ زکوٰۃ کی رقم سے ان لوگوں کو قرض سے نجات دلا کر ان کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب زکوٰۃ کا اجتماعی نظام قائم ہوتو ہو سکتا ہے کہ انہیں اپنی ضرورت کے لئے قرض لینا ہی نہ پڑے بلکہ ان کی ضرورت زکوٰۃ سے ہی پوری ہو جائے۔

فی سبیل للہ کی مدد بہت وسیع ہے۔بنیادی طور پر اسلام کا دفاع کرنے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے، اس کی تیاری کرنے، شہداء کے بال بچوں کی کفالت کرنے، اجتماعی فلاح و بہبود کے کام بھی اس مد میں شامل ہیں۔ سماجی تحفظ بھی اسی مد کے تحت آتا ہے، اس میں کا ہر کام مضبوط اجتماعیت کا مطالبہ کرتا ہے۔فی سبیل للہ کی مد خودزکوٰۃ کی تنظیم کی اہمیت و افادیت واضح کرتی ہے۔ تنظیم کے بغیر اس مد کو عملی جامہ پہننا ممکن نہیں۔

مسافر بھی زکوٰۃ کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ مسافر نوازی کے انتہائی محدود معنی ہی آج لئے جاتے ہیں لیکن چاہے جتنے محدود معنی لئے جائیں ، اس میں یہ بات ضروت شامل کرنی پڑے گی کہ اس کا مطلب جہاں مسافر کو کھانا کھلانا۔ اس کے سفر خرچ کا بندوبست کرنا ہے وہیں اس کی اجنبی شہر میں پوری رہنمائی بھی کرنا۔جس مقصد کیلئے وہ آیا ہے، اس کے حصول کیلئے تدبیریں بتائی جائیں۔ مناسب قیام گاہوں کی طرف رہنمائی کی جائے۔کھانے پینے کی چیزوں ، سواریوں کی تفصیل اور ایک مقام سے دوسرے مقام کے کرایوں کی تفصیل بھی بتائی جائے۔ضروری فون نمبر وغیرہ اسے نوٹ کرا دےئے جائیں۔ اگر کوئی مسافر حادثہ کا شکار ہو جائے یا اس کے پیسے ختم ہو جائیں تو ایسی صورت میں ہر ممکن مدد زکوٰۃ کی مد سے کی جائے۔اگر زکوٰۃ کا اجتماعی نظام قائم ہو تو مسافروں کی رہنمائی کے لئے زکوٰۃفنڈ سے ریلوے اسٹیشن اور بس اڈوں پر ایسے لوگوں کو متعین کیا جا سکتا ہے جو باہر سے آنے والے مسافروں کی بہتر رہنمائی کر سکیں۔

ہندوستان میں زکوٰۃ کا حال بھی دوسری عبادات کی طرح ہے۔جن پر زکوٰۃ فرض ہے ان میں اکثر ادا نہیں کرتے اور جو ادا کرتے ہیں وہ اللہ کی رہنمائی کے مطابق خرچ نہیں کرتے۔زکوٰۃ کی بڑی رقم خرد برد ہو جاتی ہے۔ کچھ حضرات مدارس کے سفراء کو یہ رقم دے کر سمجھتے ہیں کہ ان کا فرض پورا ہو گیا جبکہ تعلیم کا مسئلہ فی سبیل اللہ کی مد میں شامل ہے اور یہ مد ترتیب میں بہت بعد میں آتی ہے۔در اصل اسلام پورے سماج کو معاشی اعتبار سے مضبوط بنانا چاہتا ہے۔سماج مضبوط ہوگا تو وہ اپنی تعلیم کا انتظام خود کر لے گا۔ میرا ماننا ہے کہ مدارس دینیہ زکوٰۃ کی رقم کے بجائے مقامی لوگوں کی مالی مدد سے چلنے چاہئیں تاکہ لوگوں میں مدرسہ سے محبت پیدا ہو اور وہ اپنے بچوں کو مدرسہ بھیج سکیں۔

اسلام دولت کو سمیٹ کر رکھنے کے خلاف ہے کیونکہ اس سے سماج میں نا برابری پیدا ہوتی ہے اس کی وجہ سے چوری، ڈاکہ زنی، لوٹ مار، رشوت اور دوسری برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ہر آدمی دولت مند بننے کی خواہش کرنے لگتا ہے بلکہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے جبکہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ جو رزق تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو اسے سمیٹ کر نہ رکھو بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں کو دو تاکہ ان کی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ جو جتنا کمائے وہ اتنا ہی زیادہ دوسروں پر خرچ بھی کرے۔ذرا تصور کیجئے ایسی سوسائٹی کا جہاں یہ خصوصیات ہوں کیا وہاں بھائی چارہ اخوت و محبت اور اخلاص نہ ہوگا ؟ کیا وہاں لوگ بھوک سے مر سکتے ہیں ؟ کیا وہاں ٹھنڈ سے ٹھٹھر سکتے ہیں ؟ کیا دانے دانے کی محتاجی نظر آسکتی ہے۔ ظاہرہے کہ آپ کا جواب ہوگا نہیں۔ تو یہ بھی غور کر لیجئے کہ یہ خصوصیات زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کی برکت سے مسلسل کوشش کے بعد ہی پیدا ہو سکتی ہے۔زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کو قائم کرنے کی شروعات کرنی ہوگی چاہے وہ اپنے محلہ سے ہی کیوں نہ ہو تبھی اس کے وہ فوائد مل سکیں گے جو اللہ دینا چاہتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close