مذہبی مضامین

زکوٰۃ کے صحیح حقدار اور تقسیم کار

مدرسوں کے مہتمم و متولی و اساتذہ کو زکوٰۃ کی رقم نہیں دی جاتی ہے ان کی تنخواہیں عطیات کے فنڈ سے دی جاتی ہیں۔

مسعود جاوید

جذباتی انداز میں قلم چلانے سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔ کیا مسجد کے متولی، امام اور مؤذن زکوٰۃ کی رقم لیتے ہیں؟  جب بیت المال کا نظام اس ملک میں نہیں ہے تو ایسی صورت میں زکوٰۃ کی رقم ایک جگہ اکٹها کرنا ممکن نہیں ہے۔ دیگر یہ کہ بیت المال کے لئے زکوٰۃ کی رقم وصول کرنے والوں کی تنخواہ بهی اسی زکوٰۃ کی رقم سے ادا کی جاتی ہے یعنی وہ بهی مستحق زکوٰۃ ہیں۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: والعاملين علیہا۔ ۔ ہاں کمیشن پر زکوٰۃ وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ یہ بهی ایک حقیقت ہے کہ اس شرعی قباحت کے باوجود بہت سارے مولوی اور مولوی نما حضرات کمیشن پر کام کرتے ہیں۔

مدارس کے یتیم و نادار طلبہ مستحقین زکوٰۃ میں سے ایک ہیں۔ مدرسوں کے مہتمم و متولی و اساتذہ کو زکوٰۃ کی رقم نہیں دی جاتی ہے ان کی تنخواہیں عطیات کے فنڈ سے دی جاتی ہیں۔  زکوٰۃ کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل باتیں ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔

زکوٰۃ کی رقم کسے نہ دی جائے:

1- جو سخص صاحب نصاب  ہو یعنی جس کے پاس اسکی  ضروریات سے اضافہ مال میں پسماندہ رقم یا زیورات 87۔48 گرام سونا  یا اس کی قیمت کے برابر نقد ہو یا 612۔36 گرام چاندی یا اس کی قیمت کے برابر نقد ہو۔

612۔36 گرام پر %2۔5@  کے حساب سے  15۔309 گرام چاندی یا اس کی قیمت ادا کرنا فرض ہے
نہ ادا کرنے کی صورت میں گنہ گار ہوگا۔

2- زکوٰۃ اصول یعنی family tree میں  اپنے سر کے اوپر والوں جیسے ماں باپ دادا دادی نانا نانی اور ان کے اوپر والوں کو نہیں دے سکتے۔ ان کی دیکھ ریکھ  اپنی رقم سے( نہ کہ  غریبوں کے لئے مختص رقم سے )  کرنا ہماری ذمہ داری ہے

3- فروع یعنی family tree میں اپنے نیچے والوں جیسے بیٹا بیٹی پوتا پوتی نواسہ نواسی وغیرہ کو نہیں دے سکتے وہ ہماری ذمہ داری ہیں dependent ہیں۔

4- ان مذکورہ بالا کے علاوہ، اپنا بهائی اپنی بہن اور دیگر قریبی یا دور کے رشتہ دار اگر محتاج ہو اور صاحب نصاب نہ ہو تو ایسے لوگوں کو فوقیت دینی چاہیئے اس لئے کہ اس سے دو گنا اجر ملے گا ایک تو زکوٰۃ کی ادائیگی کا اور دوسرا صلہ رحمی کرنے کا۔ عموماً اس نمبر 4 کے سلسلے میں لوگوں میں غلط فہمی پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ  ماں باپ اور اولاد کے زمرے بهائی بہن کو بهی شامل کرلیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے خونی رشتہ دار یا تو  مقروض پہ مقروض ہوتے چلے جاتے ہیں یا سود کی لعنت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

5- اپنے رشتہ داروں کے بعد اپنے پڑوس اور دوست احباب کی خبر گیری لازم ہے۔ بسا اوقات ان کی عزت نفس اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ان کی مفلوک الحالی پر جو پردہ اللہ نے ڈال دیا ہے اسے وہ اٹهائے اور اللہ کے علاوہ کسی اور کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ اس لئے ایسے لوگوں کی خبر گیری اور اگر مقروض اور مستحق ہوں تو ان کی خودداری کو ٹهیس پہونچائے بغیر زکوٰۃ کی رقم ان تک پہنچا دیں۔

6- زکوٰۃ کی رقم بہتر ہے کہ اہنے شہر گاؤں قصبہ کے مستحقین کو دی جائے اگر مستحق نہ ملے تو دوسرے علاقے میں بهیجے۔

7- زکوٰۃ کے مستحقین میں سے ایک طبقہ ایسے لوگوں کا ہے جن کی گردنیں قرض میں پھنسی ہوئی ہوتی ہیں اور قرض کی ادائیگی روز مرہ کی آمدنی سے ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کو زکوٰۃ کی رقم دے کر ان کو اس مصیبت سے آزاد کرنا ہے۔

8- زکوٰۃ کا ایک مصرف اور مستحق عابر السبیل ہے اس سے مراد  ایسا مسافر جو دوران سفر لٹ گیا ہو  گرچہ وہ اپنے گهر پر صاحب نصاب اور غنی ہو۔ اب چونکہ بینک کی سہولیات میسر ہیں اس لئے شاذ و نادر ایسے لوگ ملیں جو صاحب ثروت ہونے کے باوجود زکوۃ کی رقم لیں۔

9- الله کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اور غالبا بخاری شریف کی پہلی حدیث ہے : انما اﻻعمال بالنيات۔ یعنی ہر عمل کا دار و مدار نیت پر ہے۔ تو زکوٰۃ کی ادائیگی اگر خالصاً اللہ کے لئے ہے تو اس کا اجر اللہ دے گا اور اگر نام و نمود کے لئے ہے تو لوگوں کی طرف سے تعریفی کلمات واہ واہی حاصل ہو گئی اب دوبارہ اللہ کے یہاں کیوں ؟ اسی طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن میں فرمادیا کہ اپنے صدقات کو لینے والے پر احسان جتا کر یا اسے تکلیف دے کر ختم نہ کرو۔ بسا اوقات لوگ اپنے گھروں میں کام کرنے والوں کو زکوٰۃ کی رقم دیتے ہیں اور ان سے یہ امید رکهتے ہیں کہ زیادہ اور بہتر کام کریں یا زکوٰۃ کی رقم کا بار بار تذکرہ کرکے اسے ختم کردیتے ہیں اب اللہ کے یہاں اجر کی امید نہیں رکهنی چاہیئے۔ ﻻ تبطلوا صدقاتكم بالمن واﻻذى۔ (قرآن)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close