مذہبی مضامین

شبِ براءت میں رحمتِ الہی سے محروم رہنے والے!

اللہ تعالی نے اس امت کو معاف کرنے اور عطا کرنے مختلف مواقع دئیے ہیں ،جس میں بندہ اللہ تعالی کے حضور معافی مانگے تواللہ تعالی اس کے ساتھ رحم کا معاملہ فرمائے گا۔چناں چہ شبِ برات میں ان ہی عظیم مواقع میں سے ہے جس میں اللہ تعالی کی خصوصی رحمتیں متوجہ ہوتی ہیں اور عفو و درگزر کا معاملہ کیا جاتا ہے ۔شبِ برأ ت کے بارے میں امت میں افراط و تفریط پایا جاتا ہے ،کچھ لوگ سرے سے اس کی عظمت اور اہمیت ہی کا انکار کردیتے ہیں اورکچھ لوگ اس میں بہت سے خلافِ شریعت امور کو بھی انجام دینا ضروری سمجھتے ہیں ، ان دونوں کے درمیان راہِ اعتدال یہ ہے کہ جو فضیلت اس کی بیان کی گئی اس کو تسلیم کیا جائے اورجتنی وارد ہوئی اسی قدر مانی جائے ،اپنی جانب سے کمی بیشی کئے بغیر ۔شبِ برات سے متعلق بہت ساری حدیثوں کے پیشِ نظر علماء ومحدثین نے اس کی عظمت کا اعتراف کیا ہے اور اس رات کی خصوصی حیثیت کو تسلیم کیا۔چناں چہ علامہ مناوی ؒ نے حضرت ابن تیمیہ ؒ کا قو ل نقل فرمایا کہ :قال المجد ابن تیمیۃ لیلۃ نصف شعبان روی فی فضلھا من الاخبار و الاثار مایقتضی لھا مفضلۃ ومن السلف من خصھا بالصلاۃ ۔( فتح القدیر :2/317بیروت)یعنی نصف شعبان کی رات کی فضیلت میں اتنی احادیث اور آثار مرو ی ہیں جن سے معلوم ہوتا کہ اس کو فضیلت حاصل ہے اور بعض سلف نے اس رات کو نماز کے لئے خاص کیا ہے ۔عبد الرحمن مبارکپوری ؒ نے لکھا ہے کہ:اعلم أنہ قد ورد فی فضیلۃ لیلۃ النصف شعبان عدۃ أحادیث مجموعھا یدل علی أن لھا أصلا۔( تحفۃ الأحوذی :3/441دار الفکر)یعنی نصف شعبان کی فضیلت میں متعدد احادیث وارد ہوئیں ان احادیث کا مجموعہ اس کی اصلیت پر دلالت کرتا ہے ۔اسی طرح علامہ عبید اللہ مبارک پوری ؒ نے نصف شعبان سے متعلق مختلف احادیث کو نقل اور ان کی تشریح کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ :وھذہ الأحادیث کلھا تدل علی عظیم خطر لیلۃ نصف شعبان وجلالۃشأنھا،وقدرھا،وأنھالیست کاللیالی الأخر،فلاینبغی أن یغفل عنھا ،بل یستحب احیاء ھا بالعبادۃ والدعاء والذکر والفکر۔( مرعاۃ شرح مشکوۃ :4/ 342 جامعہ سلفیہ بنارس)بہر حال ان تمام اقوال اور دلائل کی روشنی میں اتنی بات کو واضح ہوچکی ہے کہ شبِ برات کی مستقل عظمت و اہمیت ہے ،اور اس رات میں انسانوں کے ساتھ خصوصی معاملہ کیا جاتا ہے ،اللہ تعالی کی طرف سے معافی کے فیصلے ہوتے ہیں اور دیگر امور طے پاتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے اس رات کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ:حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک رات انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو بستر پر نہ پایا تو پریشان ہوئیں اور تلاش کرتے ہوئے مدینہ کے قبرستان جنت البقیع کی طرف نکل گئیں ،وہاں دیکھا کہ آپ ﷺ موجود ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالی شعبان کی درمیانی شب میں آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور بنو کلب ( ایک قبیلہ جو عرب کے تمام قبائل میں سب سے زیادہ بکریاں پالتا تھا)کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔(ترمذی:حدیث نمبر669)حضرت عثمان بن ابی العاصؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالی کی طرف سے ایک پکا رنے والا پکارتا ہے کہ کوئی مغفرت کا طالب ہے کہ میں اس کی مغفرت کردوں ،ہے کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اس کوعطا کردوں ،اس وقت خدا سے جو مانگتا ہے اس کو ملتا ہے سوائے بد کار عورت اور مشرک کے ۔( فضائل الأوقات للبیہقی :۳۱ بیروت )اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا :شعبان کی درمیانی شب اللہ تعالی اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور سوائے کینہ پرور اور خود کشی کرنے والے کے تمام بندوں کو معاف کردیتے ہیں ۔(مسند احمد:حدیث نمبر؛6463)
مذکورہ بالا احادیث میں اس رات میں جو خصوصی معاملہ رحمت او رمعافی کا ہوتا ہے اس کو ذکر کیا گیا اسی طرح یہ بھی بتادیا کہ اس عظیم رات میں اللہ تعالی کی رحمت سے کون کون لوگ اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے محروم رہیں گے ۔اس موقع پر ہم ایک نظر ان گناہوں پر ڈالتے ہیں جو اس عظیم رات میں بھی محرومی کا سبب بنتے ہیں ۔مختلف احادیث میں ذکر کئے گئے گناہوں کو یکجا کریں تو درج ذیل گناہ ہیں جن کے مرتکب افراد مغفرت اور معافی سے محروم رہتے ہیں۔( 1)اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے۔(2)کینہ رکھنے والا۔(3)کسی انسان کا ناحق قتل کرنے والا ۔(4)بدکار عورت۔(5)قطع رحمی کرنے والا۔(6)تہبند ،یا پاجامہ ،ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا۔(7) والدین کا نافرمان۔(8)شراب نوشی کی عادت رکھنے والا ۔ان تما م گناہوں کی جو مذمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی اس کا ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں :
شرک کرنے والا:
اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنے والا اس رات میں رحمت الہی سے دور رہتا ہے ۔انسان کی زندگی کا سب سے بڑا گناہ شرک ہے ،اللہ تعالی کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانااور اس کی صفات میں کسی اور حصہ دار بنانا یہ انسان کی سب سے بڑی شقاوت اور بد بختی ہے اور ازلی محرومی کا ذریعہ ہے ۔قرآن کریم میں فرمایاگیا:ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضللا بعیدا۔( النساء:116)بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا یا جائے ،اور اس سے کمتر ہر گناہ کی جس کے لئے چاہتا ہے بخشش کردیتا ہے ۔ اور جوشخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے ،وہ راہِ راست سے بہت دور جاگرتا ہے ۔یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالی جب چاہے توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کرسکتا ہے ، لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کرکے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کرے اورتوحید پر ایمان لے آئے۔(توضیح القرآن:1/297)قرآن کریم میں حضرت لقمان کی نصیحتوں کو ذکر کیا گیاجن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو فرماتے ہیں کہ:یابنی لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم ۔( لقمان:۱۳)میرے بیٹے!اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا ۔یقین جانوکہ شرک بڑا بھاری ظلم ہے ۔حضرت معاذؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے دس باتوں کی نصیحت فرمائی (جن میں سے ایک یہ ہے کہ)اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا گو تو قتل کردیا جائے یا جلادیا جائے۔ (طبرانی:حدیث نمبر؛16613)یقیناًشرک انتہائی بدترین گناہ اور جرم ہے ،آج کل ہمارے معاشرہ میں شرک کے بہت سے دروازے کھلے ہوئے ہیں ،اعتقادی بگاڑاور توحیدی انحطاط بہت پھیلاہوا ہے ۔دنوں اور مہینوں کو منحوس سمجھنا،تاریخوں اور گھڑیوں کو نامبارک تصورکرناعام ہوگیا ،غیر اللہ پر یقین اور امیدیں وابستہ کرنا بھی پایا جارہا ہے ،یہ درحقیقت کہ اللہ تعالی کی صفات اور قدرت پر ایمان نہ ہونے کی علامت ہے اور اس کے تصرفات واختیارات مین کسی اور کو شریک بنانے کے مترادف ہے ۔اس لئے اس موقع پر ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ضرور ی ہے کہیں ہم ذات و صفات میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو تو شریک نہیں کررہے ہیں ۔ہر خیر و شر ،نفع و نقصان کا مالک اللہ ہے ،اس کی اجازت کے بغیر دنیا میں کوئی چیز پیش نہیں آسکتی اس لئے ایمان کو مضبوط کرنا اور شرک کے تمام چور دروازوں کو بند کرنا انتہائی ضروری ہے ورنہ عملی بگاڑ اور اعتقادی کمزوری اس عظیم رات میں محرومی کا سبب نہ بن جائے۔
قتلِ ناحق کا مرتکب:
شبِ برأت میں رحمت الہی سے محروم رہنے افراد میں قتل ناحق کرنے والا مجرم بھی ہے ۔شریعت کی نگاہ میں کسی انسان کا قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے ۔اور بہت سخت انداز میں اس کی مذمت کی گئی ہے ۔اللہ تعالی نے فرمایا:اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا،اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا ،اور اللہ نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کررکھا ہے ۔( النساء :۹۲) نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ:کسی مسلمان کو گالی دینا گناہ کاکام ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے ۔(بخاری:حدیث نمبر؛47)آپ ﷺ نے فرمایا کہ:سات ہلاک کرنے والے کاموں سے بچو!( جن میں سے ایک)کسی ایسے انسان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرمت بخشی ہے ۔( بخاری:حدیث نمبر؛2573)بہت سی آیتیں اور احادیث قتل ناحق کی مذمت اور قباحت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں ۔یقیناًیہ ایک خطرناک قسم کا گناہ اور جرم ہے ۔اللہ تعالی ایسے مجرموں کو شبِ برأت میں معاف نہیں فرماتے جو انسانوں کے خون کے پیاسے ہوں ۔ قتل کی گرم بازی آج کے ماحول میں چھائی ہوئی ہے اور لوگ انسانی جانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں ،مال و جائیداد ،عہدہ ومنصب اور عشق و محبت کے نشہ میں گرفتار ہوکر ایک دوسرے کوقتل کرنا اور خون بہانا آسان ہوگیا ،دن دھاڑے خون ریزی اور قتل و غارت ہوش ربا واقعات آئے دن اخبارات میں پڑھنے کو ملتے ہیں۔اس سخت گناہ اور جرم سے معاشرہ کو پاک ہونا اور افراد کو بچا نا ضروری ہے ۔
قطع رحمی کرنے والا:
شبِ برأت کی عظیم رات میں وہ انسان بھی اللہ کی رحمت سے محروم رہتا ہے جو قطع رحمی کرنے والا اور رشتوں کو توڑنے والا ہے ،قرآن کریم میں قطع رحمی کرنے والوں پر لعنت بھیجی گئی اور ان لوگوں کو خسارہ اٹھانے والا شمار کیا گیا ہے ۔چناں چہ ارشاد ہے کہ:وہ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پختہ کرنے کے بعد بھی توڑتے ہیں ، اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیاہے ، انہیں کاٹ ڈالتے ہیں ،اور زمین میں فساد مچاتے ہیں ،ایسے ہی لوگ بڑا خسارہ اٹھانے والے ہیں۔( البقرۃ:27)ایک جگہ فرمایا گیا:اور جو لوگ اللہ سے کئے ہوئے عہد کومضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں ،اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے ،انہیں کاٹ ڈالتے ہیں ،اور زمین میں فساد مچاتے ہیں ،ایسے لوگوں کے حصے میں لعنت آتی ہے ،اور اصلی وطن میں برا انجام انہی کا ہے ۔( الرعد:۲۵)نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ: رحم ( یعنی حقِ قرابت)مشتق ہے رحمن سے ( یعنی خداوندرحمن کی رحمت کی ایک شاخ ہے اور اس نسبت سے ) اللہ تعالی نے اس سے فرمایا کہ جو تجھے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا ،اور جو تجھے توڑے گا میں اس کو توڑ دوں گا۔( بخاری:حدیث نمبر؛5556) صلہ رحمی کرنے اور رشتوں کو جوڑنے کی ترغیب دیتے ہوئے اس کے فوائد کو بیان کیا کہ :جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت کی جائے اور اس کے نشانات قدم تادیر رہیں ( یعنی اس کی عمر دراز ہو) تو ( اہل قرابت کے ساتھ ) صلہ رحمی کرے ۔( بخاری:حدیث نمبر؛۱۹۳۵)آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ : رشتوں کو قطع کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔( بخاری:۵۵۵۲)اس کے علاوہ بھی ارشادت نبوی اور آیاتِ قرآنی ہیں جو اس کی اہمیت کو بیان کرتی ہیں کہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے ،اور رشتے توڑنے سے بچا جائے ۔اگر آج ہم معمولی معمولی باتوں اور بہانوں کی بنیاد ہر رشتے توڑیں گے اور رشتوں میں اختلاف پیدا کریں گے تو ایسے لوگ اس عظیم رات میں بخشش و معافی سے محروم رہیں گے ۔اس لئے ضروری ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں اور بے بنیاد افواہوں کی وجہ سے تعلقات میں دراڑ آنے نہ دیں ،ورنہ محرومی ہی محرومی ہاتھ آئے گی۔
والدین کا نافرمان:
شبِ برأت کی عظیم رات میں جو لوگ رحمت خدا سے محروم رہتے ہیں ان میں ایک والدین کا نافرمان بھی ہے ،جس نے ماں باپ کی نافرمانی کی اور ان کی اذیت کا سبب بنا وہ اس رات میں محروم رہے گا۔اللہ تعالی نے بہت اہتمام کے ساتھ ماں باپ کے حقوق بتائیں ہیں ،اور قرآن میں اکثر جہاں اپنی عبادت و بندگی کا حکم دیا وہیں والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اچھا معاملہ کرنے کی تعلیم دی ۔دراصل والدین انسان کے لئے جنت حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں ،اولاد کے لئے ان کی اطاعت و فرماں برداری دین و دنیا کی سعادت کا سبب ہے ۔قرآن کریم میں تاکید و اہتمام کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تلقین کی گئی ۔حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ سے ایک مرتبہ پوچھا کہ: اللہ تعالی کو سب کاموں میں کون سا زیادہ پسند ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا : وقت پر نماز پڑھنا۔پھر عرض کیا کہ اس کے بعد کونسا عمل زیادہ محبوب ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا : ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ۔( بخاری:حدیث نمبر۴۹۸)ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عر ض کیا کہ یا رسول اللہ !والدین کا ان کی اولاد پر کیا حق ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایاکہ وہ دونوں تیر ی جنت یا تیری جہنم ہیں۔( ابن ماجہ:حدیث نمبر؛3660) یعنی ان کی خدمت کرکے اور حسن سلوک کرکے جنت حاصل کی جاسکتی ہے اور اگر کوئی ان کی نافرمانی کرے گا تو جہنم میں داخل ہوگا۔نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ : اللہ کی رضا مندی ماں باپ کی رضا مندی ہے ،اور اللہ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے ۔(ترمذی:حدیث نمبر؛1817)نبی کریمﷺ نے اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا کہ:والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ،تمہاری اولاد اچھا سلوک کرے گی۔ (المستدرک:حدیث نمبر؛7324) بہر حال یہ ایک مستقل عنوان ہے ، اور اس باب میں قرآن کی بہت سی آیتیں اور بے شمار احادیث مروی ہے ۔اور بہت اہتمام کے ساتھ نبی کریم ﷺ نے ماں باپ کے حقو ق اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیمات دی ہیں۔یہ بھی ایک تلخ سچائی ہے کہ آج ہمارے معاشرہ میں والدین کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا جارہا ہے ،اور ان کے حقو ق کو تلف کیا جارہا ہے ۔اولاد دن بدن ماں باپ کی نافرمان ہوتی جارہی ہے اور ان کے ساتھ بد سلوکی کا معاملہ عام ہوتے جارہا ہے ۔نبی کریم ﷺ نے قرب قیامت رونماں ہونے والی جن نشانیوں کی پیشن گوئی فرمائی ہین ان میں یہ بھی ہے کہ:جب مرد اپنی بیوی کی فرماں برداری کرے اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے ،اپنے دوست کو قریب کرے اور باپ کو دور کرے۔۔۔۔اس وقت سرخ آندھی ،زلزلہ ،زمین میں دھنس جانے ،شکلیں بگڑجانے ،آسمان سے پتھر برسنے اور طرح طرح کے لگاتار عذابوں کا انتظار کرو ،جس طرح بوسیدہ ہار کا دھاگہ ٹوٹ جانے سے موتیوں کا تانتا بند ھ جاتا ہے ۔( ترمذی:حدیث نمبر؛2140)اس لئے ضروری ہے کہ والدین کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلہ میں کسی قسم کی کوتاہی یا ہاپرواہی ہونے نہ دیں ورنہ شبِ برأت کی عظیم رات میں والدین کا نافرمان خدا کی رحمت سے محروم رہے گا۔
کینہ پرور:
شبِ برأت میں محروم رحمت رہنے والوں میں سے ایک کینہ پرور بھی ہے جو دل میں کسی کی عداوت و دشمنی کو چھپائے رکھے ،اور نفرت وغصہ کو دبائے رکھے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ : جن لوگوں کے اندرتین بیماریاں نہ ہوں ،ان میں سے جسے چاہتے ہیں اللہ معاف فرمادیتے ہیں : (جن میں سے ایک) اپنے مسلمان بھائی سے بغض اور کینہ دل میں نہ رکھتا ہو۔حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ:چغل خوری اور کینہ دوزخ میں لے جانے والی ہیں اور یہ کہ مسلمان کے دل میں یہ دونوں جمع نہیں ہوسکتے ۔(جہنم میں لے جانے والے اعمال:۵۹۹)کینہ ایک سخت قسم کا گناہ ہے جو ایک طرف انسان کو دل ہی دل میں جلاتا اور تڑپاتا ہے اور دوسری طرف اس کی نیکیوں اور اجر وثواب کو ضائع کرتا ہے ۔اس لئے اس سے اجتنا ب ضروری ہے ۔آج ہمارے دلوں میں بغض و حسد اور کینہ کی بھر مار ہے ،ہم کسی کی ترقی اور شہرت ،بلندی اور عزت کو دیکھ نہیں سکتے اور نفرت کی آگ میں جلنے لگتے ہیں ۔نتیجہ صرف کینہ پرورکی تباہی کا ہی ہے اور حاسد کی بربادی کا ہے باقی جس کے مقدر میں جو اللہ تعالی نے لکھ دیا ہے وہ اس کو پاکر اور حاصل کرکے رہے گا ۔
شراب نوش:
شبِ برأ ت میں مغفرت الہی سے محروم رہنے والوں میں ایک شراب نوش بھی ہے ۔شراب تما م برائیوں کی جڑ اور گناہوں کی بنیاد ہے ۔شراب نوشی دینی اور دنیوی ،روحانی اور جسمانی ہر اعتبارسے نقصان دہ ہے ۔قرآن کریم میں شراب نوشی کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے اور اس سے دور رہنے کا حکم دیا گیا۔( المائدۃ : ۹۰)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:شراب سے بچو،بلاشبہ شراب برائیوں کی جڑ ہے ،جس نے اس سے پرہرہیز نہ کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، اور خدا و رسول کی نافرمانی کے ذریعہ عذاب کا مستحق ہوگیا۔( مصنف عبد الرزاق:حدیث نمبر؛)آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ :جو شخص دنیا میں شراب نوشی کرے گا اور اسی حالت میں بغیر توبہ کے مرے گا وہ آخرت میں شراب طہور نہ پی سکے گا۔( ترمذی:حدیث نمبر؛1780)اور ایک روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: نشہ میں مست شخص جب تک نشہ میں رہے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی اورنہ ہی اس کی نیکیاں اوپر پہنچتی ہیں۔(ترمذی:حدیث نمبر؛)الغرض شراب ہر اعتبار خرابیوں اور نقصانات کا مجموعہ ہے ،دین دنیا سب کچھ اس سے تباہ ہوتے ہیں۔اور شراب ہی کے نتیجہ میں معاشرہ بدنام ہوتا ہے اور شرابی سارے معاشرہ کے لئے ذلت و رسوائی کا ذریعہ ہوتا ہے ۔علاوہ ازیں شراب جسمانی لحاظ سے بھی حد سے زیادہ تباہ کن اور ہلاکت خیز ہے ۔شراب کی لعنت سے بچنا اور معاشرہ بالخصوص نوجوانوں کو محفوظ رکھنا ضروری ہے ۔آج نشہ کی مختلف چیزیں آگئی ہیں اور نوجوان نشہ کے دلدادہ بن گئے ان کی نشہ بازی کی عادت یقیناًبربادی کا پیش خیمہ ہے ،اس لیے اس ام الخبائث سے بچنا ازبس ضروری ہے اورپھر دوسری طرر معافی کی عظیم رات شبِ برأ ت میں شرابی رحمت الہی سے محروم بھی رہتا ہے ۔
بدکار عورت:
شبِ برأت میں رحمت الہی سے محروم رہنے والوں میں ایک بدکار عورت بھی ہے ۔جس نے اپنی عفت و عصمت کا سوداکیا ہوگا اور چادرِ عزت کو تارتار کیا ہوگا ۔زناکاری اور فحش بازاری کے ذریعہ برائی میں مبتلارہی ہو۔ نبی کریم ﷺ نے عورتوں سے عصمت و عفت کی حفاظت پر بیعت لی تھی ۔چناں چہ قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے :اور نہ وہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ افتراء باندھیں گی۔( الممتحنہ:۱۲)جہاں مردوں کو حفاظت نظر وغیرہ کا حکم دیا گیا وہیں عورتوں کو بھی تعلیم دی گئی کہ:ایمان والیوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔( النور:۳۱)قرآن وحدیث میں عورتوں کو اس سلسلہ میں بہت سی تعلیمات دی گئیں ہیں کہ وہ کس طرح اپنے آپ کو شرم وحیا اور حفاظت کے ساتھ رکھیں اور کیسے اپنی نسوانیت کی حفاظت کریں ۔ان تعلیمات پر عمل آوری کی صورت ہی میں عورت بدکاری اور گنہ گاری سے محفوظ رہ سکتیں ہیں ورنہ آج کے بے حیا ماحول اور خود غرض دنیا نے عورت کی تمام تر عفت و عصمت کو نیلام کردیا اور سامان عیش بناکر رکھ دیا جس کے نتیجہ میں جہاں ماحول ومعاشرہ پراگندہ ہوگیا وہیں عورت اپنی حیثیت اور عظمت بھی کھوبیٹھی ۔اب وہ عیش پرستوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنی ہوئی ہیں ۔ اس لئے پاکی اور پاکدامنی کی قرآنی تعلیمات پر عمل ہی انہیں قعر مذمت سے نکال سکتا ہے اور عظمت رفتہ بحال کرسکتا ہے ،ورنہ اتنی عظیم رات میں وہ محروم رحمت رہے گی۔
شلوار لٹکانے والا:
شبِ برأ ت میں رحمت الہی سے محروم رہنے والوں میں ایک تہبند یا پائجامہ کو ٹخنوں سے نیچے پہننے والا بھی ہے ۔اللہ ایسے بندے کو بھی
معاف نہیں کرتا جو اپنا ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ۔اس سلسلہ میں سخت وعیدیں بھی احادیث میں آئی ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:ٹخنوں کا جو حصہ تہبند کے نیچے رہے گا وہ جہنم کی آگ میں جلے گا۔( بخاری:حدیث نمبر؛5367)ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا :قیامت کے دن اللہ تعالی تین آدمیوں سے بات نہیں فرمائیں گے ،جن میں اسے ایک اپنی شلوار تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا۔( ابوداؤد:حدیث نمبر؛3567)تہبند کا ٹخنوں سے اونچا ضروری ہے لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نماز میں تک اس طرف دھیان نہیں دیتے اور جرم عظیم کے مرتکب ہوتے ہیں ،اس لئے اس کا اہتمام ضروری ہے کہ نماز اور عام حالات میں شلوار وغیرہ اونچا پہننے کے عادی ہوں۔ورنہ شب برأت ان بدنصیبوں کے لئے بھی محرومی ہی کا سبب ہوتی ہے ۔
آخری بات:
شب برات میں جو لوگ اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تعالی کی رحمت سے محروم رہتے ہیں ،ان کا ہم نے مختصر تذکرہ کیا ،ورنہ تو ان میں ہر ایک گناہ مستقل موضوع ہے اور تفصیل طلب عنوان ۔۔۔عام طور پر ہم شب برات کا اہتمام کرلیتے ہیں اور وقتی طور پر بیانات اور خطابات بھی سن لیتے ہیں لیکن عملی طور پر جن چیزوں کا جائزہ لینا چاہیے اور کمیوں و کوتاہیوں کی تلافی کرنا چاہیے اس کی جانب بہت کم توجہ دیتے ہیں ۔دراصل یہ بابرکت راتیں اور معافی و بخشش کے مواقع ہمیں محاسبۂ اعمال کی دعوت دیتے ہیں ،ان میں اصل چیز یہی ہے کہ بداعمالیوں سے توبہ کی جائے اور رحمت پرودگار سے دامن کو بھرا جائے ۔لیکن ہمارا معاشرہ شب برات کے موقع پر مختلف قسم کی بدعات و خرافات میں پھنسا ہوا ہے اور حقیقی پیغام ہی نگاہوں سے اوجھل ہے اسی کا نتیجہ ہے سالہا سال سے جن گناہوں کے عادی تھے اسی میں زندگی بسر ہورہی ہے ۔لہذا اس رات کو اپنے لئے غنیمت جانتے ہوئے اللہ تعالی کی رحمت اور بخشش کے حق دار بنیں اور لایعنی و خرافات سے احتراز کریں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close