مذہبی مضامین

شبِ قدر: امتِ محمدیہ کا خصوصی تحفہ!

مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری

اللہ تعالی نے اس امت کو مختلف بہانوں سے نوازا ہے ،اور اپنا فضل وکرم فرمایا ہے ،اس امت پر انعام فرماتے ہوئے ایسی بہت سی خصوصیتوں اور فضیلتوں سے مالامال کیا جو دوسری امتوں کو نہیں ملی ۔غفلتوں میں پڑے ہوؤں کو اور بداعمالیوں کا شکار بندوں کو معاف کرنے اور عفو درگزر کا معاملہ کرنے کے لئے مختلف اوقات اور گھڑیوں کو بابرکت بنایا اور دنوں اور راتوں کو فضیلت بخشی ،تاکہ ان مبارک لمحوں میں عبادت وبندگی انجام دے کر اپنے گناہوں کو صاف کرلے اور اپنی خطاؤں کو معاف کروالے ۔اس کے لئے رمضان المبارک جیساعظیم الشان پورا ایک مہینہ عطاکیا،جس کی ہر گھڑی رحمتوں اور برکتوں اور عفو درگزر کی ہے ،اور مزید انعام و احسان یہ فرمایا کہ اسی بابرکت مہینہ میں شبِ قدر جیسی عظیم رات رکھی جس عظمت و فضیلت کی کوئی انتہا نہیں ،شبِ قدر کانصیب ہونایہ اس امت کا امتیاز ہے ،اللہ تعالی نے بطور خاص اس امت کو یہ مبارک اور عظیم رات عنایت فرمائی ،جو سراپا رحمتوں اور عنایتوں والی رات ہے ۔حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ:ان اللہ وھب لامتی لیلۃ القدر لم یعطھا من کان قبلھم ۔(الدر المنثور:15/540)کہ اللہ تعالی نے بطور خاص میری امت کو شبِ قدر عطا فرمائی ہے ،اور اس امت سے پہلے کسی کو نہیں عطا فرمائی ۔
شبِ قدرعطا کئے جانے کی وجہ:
اتنی عظیم الشان رات جو گذشتہ امتوں میں سے کسی کو نہیں ملی اس کی وجہ کیا ہے ؟اس بارے میں مختلف روایتیں بیا ن کی گئی ہیں ۔ایک روایت میں ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے نبی اسرائیل کے ایک مجاہد کا حال بیان کیا جو ایک ہزارمہینے تک مسلسل جہاد میں مشغو ل رہا،کبھی ہتھیار نہیں اتارے ،مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب ہوا،اس پر اللہ تعالی نے اس امت کو یہ رات عنایت فرمائی۔(فضائل الاوقات للبیہقی:53)ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کو پہلی امتوں کی عمروں کا علم ہوا کہ بہت لمبی ہوئیں اور ان کے مقابلے میں میری امت کی عمریں بہت کم ہیں ،جس کی وجہ سے میری امت کے لوگ پہلی امت کے ساتھ اعمال میں برابر نہیں ہوسکتے ،اس پر آپ ﷺ کو صدمہ ہوا تو حق تعالی نے شبِ قدر عطا فرمائی کہ اس ایک شب میں عبادت ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے ۔(الجامع للقرطبی:22/394)ایک اور حدیث میں فرمایا کہ :نبی کریم ﷺ نے نبی اسرائیل کے چار حضرات حضرت ایوب ؑ ،حضرت زکریا، ؑ حضرت حزقیل ؑ ،حضرت یوشع بن نون ؑ کا ذکر فرمایا کہ ان حضرات نے اسیّ اسیّ سال اللہ کی عبادت انجام دی اور ایک پلک جھپکنے کے برابربھی اللہ کی نافرمانی نہیں کی ،اس پر صحابہ کرام کو بہت تعجب ہوا ،تو حضرت جبرئیل ؑ حضور ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کی امت کوان حضرات کی اسی اسی سال کی عبادت پر تعجب ہورہاہے ، اللہ تعالی نے اس سے بہتر چیز بھیجی ہے ،چناچہ سورۃ قدر پڑھ کر سنائی اور فرمایا کہ یہ اس سے بہتر ہے جس پر آپ اور آپ کی امت کو تعجب ہورہاہے یہ سن کر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام خوش ہوگئے ۔(الدرالمنثور :15/535)بہر حال واقعہ جو بھی بناہوا اللہ تعالی نے اس عظیم رات کو عطا فرماکر اپنا خاص فضل فرمایا ،اور یہ رات امت کو مل گئی کہ جس کی قدر دانی کے نتیجہ میں ہزارمہینوں کی عبادت کا اجر وثواب ملے گا۔
شبِ قدر کی عظمت :
شبِ قدر کی عظمت کو خود اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بیان فرمایا:ارشاد ہے :اناانزلنا ہ فی لیلۃ القدر الخ بیشک ہم نے اس ( قرآن ) کو شبِ قدر میں نازل کیا ۔اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا چیز ہے ؟شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔اس میں فرشتے اور اور روح اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لئے اترتے ہیں ،وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔شب قدر کی عظمت یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے اپنے مبارک کلام کونازل فرماکر انسانوں کو ہدایت کا گراں قدر نسخہ کیمیا عطا کیا ۔اس رات کو اللہ تعالی کی طرف سے خصوصی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے ،جبرئیل امین فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں ،اور جتنے اللہ کے بندے مرد و عورت کھڑے ہوئے یا بیٹھے ہوئے اللہ تعالی کے ذکر و عبادت میں مشغول ہوتے ہیں سب کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں ۔( بیہقی :رقم الحدیث،3434)ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ :من قام لیلۃ القدر ایمانا واحتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔(بخاری: 1777)یعنی جو شخص شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثوا ب کی نیت سے عبادت کے لئے کھڑا رہا اس کے تمام پچھلے ( صغیرہ) گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔اور جو اس رات سے محروم رہ گیا اور عبادتوں کو انجام دینے سے غافل رہا تو ایسے شخص کو نبی کریم ﷺ نے سب سے بڑا محروم القسمت فرمایا ہے ۔چناں چہ ارشاد ہے :تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے ،جس میں ایک رات ہے جوہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا وہ ساری ہی خیر سے محروم رہ گیا اور اس کی بھلا ئی سے محروم نہیں رہتامگر وہ شخص جو حقیقتا محروم ہی ہے ۔( ابن ماجہ:1634)
شبِ قدر کب ہوتی ہے؟
اللہ تعالی نے کسی ایک متعین رات کے بجائے شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتو ں میں رکھ د یا تاکہ بندے پورے عشرے کا اہتمام کرکے اس رات کو تلاش کرنے میں اور اس کو پانے کی کوشش میں لگے رہیں ۔اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ :شبِ قدر کو کو تلاش کرو رمضان کی آخری دس میں سے طاق راتوں میں۔(بخاری:رقم الحدیث؛1887)اس حساب سے آخری عشرے کی طاق راتیں 21،23،25،27،29 کی ہوں گی۔شبِ قدر جو نہایت عظمتوں والی اور رحمتوں والی رات ہے جس مین عبادت کرنے والے کو بے پناہ اجرو ثواب ملتا ہے ،اتنی عظیم رات ہونے کے باوجود اللہ تعالی نے اس کی تعیین کو اٹھا دیا اور کسی مخصوص رات میں عبادت کرنے کے بجائے پورے عشرے کو عبادتوں سے گذارنے اور تلاش شب قدر کی فکر میں لگے رہنے کا حکم دیا ۔بعض روایتوں میں بیان کیا گیا کہ نبی کریم ﷺکو شبِ قدر کی تعیین بتلادی گئی تھی اور آپ ﷺ امت کو اس سے باخبر کرنے کے لئے نکلے تھے لیکن باہر دو مسلمان آپس میں جھگڑرہے تھے :آپ ﷺ نے فرمایا کہ :انی خرجت لاخبرکم بلیلۃ القدر فتلاحی فلان و فلان فرفعت وعسی ان یکون خیرا لکم فلتمسوھا فی السبع والتسع والخمس۔(بخاری: رقم الحدیث ؛48)یعنی میں اس لئے نکلا تھا کہ تم کو لیلۃ القدر کے بارے میں خبردوں ،فلاں فلاں نے جھگڑا کیا تو ئی اٹھا لی گئی ،اور شائد یہی تمہارے لئے بہتر ہو ، پس ( آخری عشرہ ) نویں ،یا تویں یا پانچویں رات مین اس کو تلاش کرو۔اس کی علماء نے بہت سی حکمتیں بیان کی ہیں ۔جن میں چند یہ ہیں: جتنی راتیں اس کی طلب اور جستجو میں خرچ ہوتی ہیں ان سب کا مستقل علیحدہ ثواب ملتا ہے ،اگر رات کو متعین کردیا جاتاتو بہت سے ناقص طبیعتیں دوسری راتوں کا اہتمام چھوڑدیتی اور کئی راتوں میں عبادت کے ثواب سے محروم ہوجاتی ،وغیرہ وغیرہ ۔( شبِ قدر:28)اس رات سے محروم رہنے والے کو نبی کریم ﷺ نے سارے خیر و بھلائی سے محروم رہنے والا قرار دیا ۔( ابن ماجہ:1634)ایک مکمل عشرہ اللہ تعالی نے عبادتوں کو انجام دینے اور جی لگا کر اعمال خیر کرنے کے لئے رکھا ،اب عشرۂ اخیرہ کا حقیقی تقا ضا یہی ہے کہ اس کو اس رات کے تلاش میں گذارا جائے ،اور امکان بھر عبادتوں میں لگے رہیں ۔شب قدر سے محروم رہ جانے والے کو نبی کریم ﷺ نے حقیقی محروم قرار دیا ہے ،شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ لکھتے ہیں کہ:حقیقۃ اس کی محرومی میں کیا تامل ہے جو اس قدر بڑی نعمت کو ہاتھ سے کھودے ،ریلوے ملازم چند کوڑیوں کی خاطر رات رات بھر جاگتے ہیں اگر اسّی برس کی عبادت کی خاطر کوئی ایک مہینہ تک رات میں جاگ لے تو کیا دقت ہے اصل یہ ہے کہ دل میں تڑپ ہی نہیں اگر ذرا سا چسکہ پڑجائے تو پھر ایک رات کیا سینکڑوں راتیں جاگی جا سکتی ہیں ۔( فضائلِ رمضان:604)رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو شبِ قدر کے ہونے کے بارے میں بعض روایتیں وارد ہوئی ہیں۔صحیح مسلم میں حضرت ابی ابن کعبؓ سے مروی ہے کہ : وہ فرماتے ہیں شبِ قدر ستائیسویں شب ہو تی ہیں۔( مسلم:2006)حضرت معاویہؓ سے مروی ہے کہ : لیلۃ القدر لیلۃ سبع و عشرین۔( ابوداؤد:1180)مگر چوں کہ نبی کریم ﷺ نے حتمی طور پر اس کو متعین شب میں بیان نہیں کی اور آخری طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا اس لئے یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا ،ہاں مگر امکانات اور امیدیں ستائیسویں شب میں ہونے کے زیادہ ہے اس لئے اس کا زیادہ اہتما م بھی کیا جاتا ہے۔
شبِ قدر کی خصوصیت:
شبِ قدر کی خصوصیت کواللہ تعالی نے خود قرآن کریم میں بیان کیا ۔ایک :نزولِ قرآن ؛قرآن مجید میں اللہ تعالی نے نزول قرآن کے لئے مہینہ کا ذکر کیا تو رمضان المبارک کو بیان کیا اور رات کے لئے شب قدر کا تذکرہ کیا کہ اس رات میں قرآن مجید نازل ہوا ۔مفسرین نے ان آیتوں کی روشنی لکھا ہے کہ : رمضان کے مہینہ میں شبِ قدر میں پورے قرآن کو آسمانِ دنیا پر نازل کیا اور پھر بوقت ضرورت اور حسبِ موقع تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا ۔ (الدرالمنثور:2/234)دوسری خصوصیت:ہزارمہینوں سے افضل؛یعنی یہ رات اتنی عظیم الشان ہے کہ اس رات میں عبادت کرنے والے کو ہزار مہینوں کی عبادت کا ثواب ملتا ہے ،اس لحاظ سے جو شب قدر میں عبادت کرے گا اس کو تراسیّ سال چار ماہ عبادت کرنے کا اجر وثواب ملے گا۔تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس رات جبرئیل امین فرشتوں کو کے ساتھ زمین پر آتے ہیں ۔علامہ آلوسی ؒ نقل کرتے ہیں کہ :اللہ کے حکم سے جبرئیل ؑ سدرۃ المنتہی کے ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ زمین پر آتے ہیں اور ان سب کے ہاتھوں میں نور کی جھنڈیاں ہوں گی ،یہ فرشتے ان جھنڈیوں کو چارمقامات پر نصب کرتے ہیں ،1۔کعبۃ اللہ 2۔قبرِ ِ رسول ﷺکے پاس 3۔بیت المقد س 4۔کوہِ طور کے پاس ،پھر جبرئیل ؑ حکم دیتے ہیں زمین میں منتشر ہوجاؤ اور یہ فرشتے زمین میں پھیل جاتے ہیں اور ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں ،کوئی گھر ،کوئی پتھر،کوئی کشتی نہیں چھوڑتے ہیں جہاں کوئی مومن بندہ یا بندی ہو ،مگر اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا خنزیر ہو ،یا شرابی یا زانی ہو یا جاندار کی تصویر ،یہ فرشتے اللہ کی تسبیح وپاکی بیان کرتے ہیں اور امت محمدیہ کے لئے استغفار کرتے ہیں، جب صبح ہوتی ہے تو آسمانوں کی طرف چلے جاتے ہیں ، آسمان پر ان فرشتوں کا استقبال کیا جاتا ہے اور پوچھا جاتا ہے کہ کہاں سے آرہے ہو؟فرشتے کہیں گے کہ آج کی رات امت محمدیہ کی شبِ قدر تھی ،آسمان والے فرشتے کہیں گے کہ اللہ نے امت محمدیہ کے لئے کیادینے کا فیصلہ فرمایا ہے معلوم ہے؟پھر کہیں گے کہ اللہ نے ان کی نیکوں کی مغفرت کردی ۔( روح المعانی :30/195)چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اس رات بندوں کی تقدیر کے فیصلے فرشتوں کے حوالہ کیے جاتے ہیں اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ یہ رات سراپاسلامتی ہوتی ہے صبح کے طلوع ہونے تک اور انوار و رحمت نازل ہوتے ہیں ۔(مستفاد:لیلۃ القدر او رعید الفطر:19)
شبِ قدر اور ہماری ذمہ داری:
شبِ قدر جو اللہ تعالی کی خصوصی عطا ہے اس امت کے لئے ،جس کے ذریعہ اللہ اپنے بندوں کو نوازنا اور معاف کرنا چاہتے ہیں اور قصوروارں کو بخشنا اور عفو ودرگزرکامعاملہ فرماناچاہتے ہیں اس کے لئے یہ رات بھی ایک بہانہ ہے ۔حضرت عائشہؓ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تھا کہ اگر شبِ قدر نصیب ہوجائے تو کونسی دعا مانگنا چاہئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی کے ذریعہ دعا مانگو۔حسن بصری ؒ فرماتے ہیں اس رات دعاؤں کا اہتمام بھی کرنا چاہیئے،ذکر و تلاوت ،نماز و دعا مختلف عبادتوں کو اس رات میں انجام دیناچاہیے۔لیکن موجودہ مسلم معاشر ہ کی صورت حال بالکل بگڑی ہوئی ہے ،روایتی انداز میں ان متبرک راتوں کو منائے جانے کا مزاج عام ہوگیا،رسمی طور پر کچھ دیر بیا نات سن لئے اور پھر فضول و لایعنی مشاغل میں وقت کو ضائع کیا جاتا ہے ،ہوٹلوں ،سڑکوں ،گلی کوچوں اور چوراہوں کو آباد کیا جاتا ہے۔جاگنے کی رات سے چوں کہ یہ راتیں مشہور ہوگئیں اس لئے جاگنے اور نیند کو بھگانے کے مختلف حیلے بہانے تلاش کر رات کو گذارا جاتا ہے ،عبادت اور اعمالِ صالحہ کی طرف بہت کم لوگ ہوں گے جو توجہ دیتے ہیں باقی اکثریت کی صور ت حال صرف وقت کو ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتی ۔اور سحری سے فارغ ہوکر فجر پڑھے بغیر سوجاتے ہیں۔جب کہ علما ء نے لکھا ہے کہ جو عشا ء وفجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرلے گااس کو رات جاگنے کا ثواب ملتا ہے ،بعض لوگ صرف ایک ہی رات یعنی ستائیسویں شب ہی کو یقینی طور پر شبِ قدر سمجھ کر کچھ عبادت کرلیتے ہیں باقی راتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے جبکہ پانچ راتوں میں شبِ قدر کو تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔الغرض ضرور ت ہے اس بات کی کہ اس عظیم اور قیمتی رات کی قدر دانی کی جائے ،اور پروردگار کی رحمتوں سے وافر حصہ پانے کی کوشش کی جائے، رسمی اور رواجی انداز کو چھوڑ کر حقیقی قدر وعظمت کے ساتھ رات کو گذارا جائے اورحتی المقدور عبادتوں کا اہتما م کیا جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close